حکومت اور اندرونی بیرونی خطرات

خبر ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ “وقت بدل گیا ہے پاکستان اب مغرب کا محبوب نہیں رہا، امریکی حکام کو ہمارے تقاضے سمجھنے ہوں گے”۔

 یہ کہنا اپنی جگہ کہ پاکستان اب مغرب کا محبوب نہیں رہا، بے شک بہت درست ہو لیکن درست یہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ اس خود فریبی میں مبتلا رہا ہے کہ وہ مغرب کا لاڈ لا تھا۔ یہ محبوبیت اور لاڈلا پن کبھی ملکوں اور ملکوں کے درمیان نہ تو ہوا کرتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی حقیقت ہے۔ ملکوں اور ملکوں کے درمیان جو چیز کسی محبوبیت کو فروغ دینے والی ہوتی ہے وہ صرف اور صرف دو طرفہ مفادات ہوتے ہیں اور ان مفادات کی پاسداری میں بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی ہی درمیان کی وہ شے ہوتی ہے جس پر اس کی مضبوطی یا کمزوری کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر پاکستان میں حکومتوں کو استحکام حاصل ہوتا تو تعلقات بھی مستحکم تر ہوتے لیکن ایک طویل مدت سے حکومتیں غیر مستحکم رہنے کی وجہ سے اب پاکستان کے وہ حالات ہوگئے ہیں کہ ملک کی نئی منتخب حکومت کو اپنے پہلے ہفتے میں ہی حالات کی سنگینی کا احساس ہو چلا ہے جس کا غماز پاکستان کی نئی حکو مت کے وزیر خارجہ کا حالیہ بیان ہے۔

گزشتہ ۔جمعہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے وزیر اعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے درمیان ہونے والی فون کال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے ٹیلی فون کال پر جو بیان جاری کیاتھا، وہ حقیقت کے برعکس ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے محفوظ ٹھکانوں سے طالبان کو دھکیل کر باہر کرے۔ ان کے خیال میں طالبان محفوظ ٹھکانوں میں اپنے آپ کو منظم کرنے کے بعد افغانستان پر حملہ آور ہو کر ان کی افغانستان میں امن پالیسیوں اور کوششوں کو شدید نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔ شاید ان کا اشارہ ان تازہ اور شدید کارروائیوں کی روشنی میں کیا گیا جس کی لہر آج کل پورے افغانستان میں اٹھی ہوئی ہے اور طالبان کے تابڑتوڑ حملوں کی وجہ سے افغان حکومت شدید مشکلات کا شکار ہے۔

وزیر خارجہ درست فرماتے ہیں کہ پاکستان سے متعلق امریکی وزارت خارجہ کا یہ بیان حقیقت کے خلاف ہے اس لئے کہ پاکستان نے اب اپنے ملک میں کوئی ایسا مقام نہیں چھوڑا جہاں تخریب کاروں کا کوئی ٹھکانہ باقی بچا ہو اور اگر کسی وقت کوئی ایسا عارضی ٹھکانہ ان کے علم میں آجاتا ہے تو پاک افواج بروقت کارروائی کرکے اسے تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔ اب یہ ٹھکانے افغانستان ہی میں بنے ہوئے ہیں اور ان کو معلوم کرنے کے بعد ان کو تباہ کرنے کی ذمہ داری افغان حکومت کی ہے لیکن امریکہ اس حقیقت کو ماننے کیلئے تیار و آمادہ نہیں اسی لئے پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ 5ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا دورہ پاکستان متوقع ہے، وہ آئے تو دوطرفہ تعلقات پر بات ہوگی۔ امید ہے کہ اس بات چیت میں صورت حال واضح ہو جائے اور امریکہ کی رائے میں کوئی مثبت تبدیلی آجائے۔

اسی طرح بھارت کے ساتھ بات چیت کا مسئلہ بھی ہے جس پر ان کا بیان پہلے گزر جانے والی حکومتوں کے بیانات سے مختلف نہیں۔ پہلی حکومتیں بھی اس مسئلے کو دو طرفہ مسئلہ قرار دیکر یہی کہتی رہی ہیں کہ “تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجا کرتی” اور یہی بات آج کے وزیر اعظم بھی دہرانے پر مجبور ہیں۔ جب تالی بجتی ہی دو ہاتھوں سے ہے تو پاکستان اور بھارت، دونوں کو اپنے اپنے رویوں میں تبدیلی دکھانا ہوگی۔ اب پاکستان کا کام یہ ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ اگر بھارت اپنے مؤقف میں کوئی لچک پیدا کرنے کیلئے تیار ہے تو پاکستان کہاں تک لچک پیدا کر سکتا ہے۔ اس بات پر بہر حال بہت غوروفکر کی ضرورت ہے اور وہ بھی نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس لئے کہ خطے میں امن و امان کی جو ضرورت اب ہے وہ شاید پہلے کبھی نہیں رہی تھی۔

ایک اور خبر کے مظابق وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ کی ٹیلی فون کال کا تنازع شدت اختیار کرگیا اور امریکا کا کہنا ہے کہ وہ مائیک پومپیو اور پاکستانی وزیراعظم کی بات چیت سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہے۔ گزشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس کے دوران انہوں نے پاکستان میں سرگرم تمام دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے فیصلہ کن کارروائی کی اہمیت پر زور دیا۔

عجیب بات یہ ہے کہ ایک جانب جب بھی دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کا ذکر آتا ہے، تمام دنیا بشمول امریکہ، ہمیشہ پاکستان کی دہشتگردوں کے خلاف کی جانے والی کوششوں، کاوشوں اور قربانیوں کی نہ صرف تعریف کی جاتی ہے بلکہ اسے خوب سراہا جاتا ہے لیکن تعریفی جملوں کے تبادلوں کے فوراً بعد جو مطالبہ سامنے آتا ہے وہ “ڈومور” کا ہوتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی بچے کے کام کی تعریف تو کی جائے لیکن ساتھ ہی اس کی کاپی پر درج کردیا جائے کہ شاباش اپنی کوشش جاری رکھو۔

اب اس میں دوہی باتیں ہو سکتی ہیں کہ پاکستان اپنی سی تو بہت کر رہا ہے لیکن شاید اس معیار کی نہیں کر رہا جس کی توقع پاکستان سے کی جا رہی ہے یا پھر دنیا پاکستان پر اپنا دباؤ بر قرار رکھنا چاہتی ہے۔ جو بھی صورت حال ہو، پاکستان کوبھی چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی کا از خود بھی جائزہ ضرور لیتا رہے اس لئے کہ ماضی میں ایسی بہت سارے باتیں سامنے آتی رہی ہیں جس کی جانب بیرونی دنیا نے پاکستان کو اشارتاً اور واشگاف انداز میں آگاہ کیا لیکن پاکستان ارادتاً یا سہواً انکار کرتا رہا مگر وقت نے ثابت کیا کہ پاکستان کی جانب سے انکار یا لاعلمی کا اظہار درست نہیں تھا۔ لہٰذا پاکستان کو بھی مطالبات پر ضد کی بجائے غور کی پالیسی کو اختیار کرتے ہوئے پاک امریکہ تعلقات کو بہتری کی جانب لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

جیسا کہ خود امریکا کا کہنا ہے کہ افغان امن عمل کو بڑھاوا دینے میں پاکستان کا اہم کردارہے۔ گویا امریکہ بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ خطے میں امن کیلئے پاکستان بہت اہم ہے۔ امریکہ کی نظر میں اس اہمیت کا پاکستان کس طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے، یہ پاکستان کے سمجھنے اور فائدہ اٹھانے کیلئے بہت ضروری ہے۔  بے شک یہ مجھ خاکسار کی رائے ہے لیکن پاکستان نے وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق جاری کردہ امریکی بیان کو حقائق کے منافی قرار دیکر مسترد کردیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان پاکستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، لہذا اسے درست کیا جانا چاہیے۔ جبکہ اس کے برعکس ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان کو جمعرات کو ٹیلی فون کیا تھا جس کے دوران تمام دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی کی اہمیت پر بات کی گئی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھی بات چیت ہوئی۔ راقم الحروف کی خواہش ہے کہ بیانات کے ان تضادات کو دور ہونا چاہیے اس لئے اس قسم کے ابہام حالات کی خرابی کا سبب تو بن سکتے ہیں حالات کو بہتری کی جانب نہیں لے جا سکتے۔

ایک جانب پاکستان پر بیرونی دباؤ ہے کہ بڑھتا جارہا ہے اور ہر آنے والا لمحہ خطرے کی گھنٹیوں پر گھنٹیاں بجا رہا ہے دوسری جانب ہماری غیر سنجیدگیاں ہیں کہ وہ ختم ہو کر نہیں دے رہی ہیں۔ ہم اپنے اندرونی معاملات میں اتنے زیادہ ملوث ہو گئے ہیں کہ ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہو پارہا کہ سرحدوں کے پار خطرات کے بادل کتنے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے قیمتی وقت کو اسی میں ضائع کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ ہفتے میں چھٹیاں دو ہونی چاہئیں یا ایک، دن کا آغاز کار 8 سے ہونا چاہیے یا 9 بجے سے، گزشتہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے اپنے اپنے ہاؤسز میں رہتے ہوئے کس کس مد میں کیا کیا اخراجات کئے اور بڑے بڑے منصوبوں میں کس نے کتنا کمایا اور کتنا کھایا۔ جب اندرون ملک یہ صورت حال ہو اور میڈیا پر بیٹھ کر اپنے ہی ملک کے حالات کو پوری دنیا میں پھیلایا جائے تو پھر کسی اور دشمن کو ہمارے خلاف دشمنی کرنے کی ضرورت ہی کیا رہ جائے گی۔ جب وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں مستقبل کی منصوبہ بندی کی بجائے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ ملک میں گزشتہ دور کیا کیا ہوتا رہا، کس کس منصوبے میں کتنا گھپلا ہوا وغیرہ وغیرہ اور اجلاس کا سارا وقت اسی گہما گہمی میں گزار دیا جائے تو مستقبل کی منصوبہ بندی کیسے اور کب کی جا سکے گی۔ گزشتہ دور کی کارکردگی کا جائزہ ضروری ہے لیکن اس کیلئے ملک میں بڑے بڑے محکمے اسی کام کی روک تھام کیلئے بنائے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے اجلاسوں میں ان باتوں پر اپنا وقت برباد کرنے کی بجائے یہ کام ذمہ دار محکموں کے حوالے کرے اور اپنے اجلاسوں میں ملک کی تعمیر نو کی غور و فکر کرے۔ اس سے ایک جانب اوقات کا استعمال بھی بہتر ہو جائے گا اور یہ تاثر بھی ختم ہو جائے گا کہ حکومت انتقامی کارروائیوں پر کمر بستہ ہے۔

امید کی جاتی ہے کہ جس تبدیلی کا ذکر ہر دو جملوں کے بعد دہرایا جارہا ہے اس کو مثبت سمت کی جانب بڑھایا جائے گا اور اس انداز میں بڑھا یا جائے گا کہ مخالفین بھی اس تبدیلی کو ماننے سے انکار نہیں کر پائیں گے۔ اگر موجودہ حکومت ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئی تو بہت خوب ورنہ تو حکومتیں آتی جاتی رہی بھی ہیں اور جب تک پاکستان ہے آتی جاتی رہیں گی۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here