پاکستان کا اور پاکستان میں رہنے والوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو ایک ایک کر کے بھولتے جا رہے ہیں۔ بھول کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی بہت شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ ہم پاکستان بنانے والوں میں شامل بڑی بڑی ہستیوں کو متنازع بنانے سے بھی دریغ نہیں کر رہے۔ جو قوم اپنے محسنوں اور ہیروؤں کو فراموش کرنے لگتی ہے یا ان کی شخصیت کو مسخ کرنا شروع کر دیتی ہے وہ لازماً زوال پزیر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ جس قوم نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور ان کی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ تک کی شکل و صورت کو مسخ کرنا شروع کر دیا ہو اس قوم کی زبوں حالی، پستہ قامتی، سوچوں کی پراگندگی اورتنگ نظری کا کیا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
بانی پاکستان، محمد علی جناحؒ کی شخصیت کوکئی حیثیتوں مجروح کرنے کی کوشش کی گئی، ان کی جائے پیدائش کو مشکوک کیا گیا، ان کے مسلمان ہونے پر انگلیاں اٹھائی گئیں، ان کی نماز جنازہ کو مسالک کا شکار کیا گیا، ان کی تدفین کو مسئلہ بنایا گیا اور پہلی بار کراچی میں آگ بھی بھڑکائی گئی اور املاک کو پھونکا گیا۔ ان کی جائیداد کی تقسیم کو بھی دینی مسئلہ بناکر پیش کیا گیا اور ایسا ماحول تخلیق کیا گیا جس کی وجہ سے ان کا خاندان پاکستان میں نہ تو قیام کرنے کے قابل رہا اور نہ ہی رہ جانے والوں کو آج تک کوئی عزت کا مقام مل سکا اور شاید ہی کسی کو یہ معلوم ہوکہ بانی پاکستان کی کوئی اولاد بھی تھی، نواسہ نواسیاں بھی تھیں اور بہنیں بھی ہوا کر تی تھیں۔
محترمہ فاظمہ جناحؒ جو بانی پاکستان کی بہن تھیں، جو ساری زندگی ان کے ساتھ سائے کی طرح رہیں، بہن ہوتے ہوئے بھی ایک مشفق ماں کا کردار اداکرتی رہیں، مادر ملت کہلانے کے باوجود ایک آمر، فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے نہ صرف ان کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا بلکہ ان کی کتاب کی اشاعت، ان کی تحریروں اور تقریروں پر بھی ایسی پابندی لگائی کہ آج تک ان کی کتاب پاکستان میں فروخت نہیں کی جاسکتی۔
مادر ملت محترمہ فاظمہ جناحؒ کی وفات پر بھی ایک تنازع کھڑا کیا گیا اور ان کی نماز جنازہ پر بھی مسالک کی بحث کو ابھارا گیا۔ یہی نہیں، قائد اعظم محمد علی جناحؒ ہوں یا مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ، دونوں کی اموات میں بھی ابہام پیدا کیا گیا اور آج تک ان کی اموات کی تحقیقات کو منظر عام پر لانے سے گریز کیا گیا۔ یہ وہ قومی المیے ہیں جس کے بعد یہ سمجھ لینا کہ قوم ترقی کے منازل طے کرتی ہوئی اوج ثریا سے بھی آگے نکل جائے گی، مجزوب کی بڑ کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔
یہ ساری باتیں اپنی جگہ، پھر المیوں سے بڑھ کر المیے یہ ہوتے چلے گئے کہ ان کے “دنوں” کو بھی منانا، ان کے احسانوں کو گنانا، ان کی جہد و جہد اور قربانیوں کو اجاگر کرنا، ان کی تعلیمات کو بیان کرنا بھی معدوم سے معدوم تر ہوتا جا رہا ہے۔ اب نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ ان کا ذکر بھی کچھ یوں کیا جاتا ہے جیسے کوئی گناہ کر رہے ہوں ۔ حکمرانوں نے ان کے مزار پر آنا ترک کردیا ہے۔ غیرملکی وفود کو بھی مزار اقبالؒ سے آگے لاناگناہ عظیم تصور کیا جانے لگا ہے۔
یہ تو وہ ہستیاں ہیں جو نہ ہوتیں تو پاکستان نہ ہوتا۔ جب ان کے ساتھ سلوک کا یہ عالم ہے تو “مولانا محمد ظفر احمد انصاری” کے ساتھ یہ قوم جو بھی سلوک کرے وہ کم ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری 1908ءکو منڈارہ، الٰہ باد، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے اور 1991، 20 دسمبر کو اسلام آباد(پاکستان) میں ان کا انتقال ہوا، حنفی مسلمان تھے، عالم دین تھے، سیاستدان تھے اور قابل ماہر قانون میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کا خاص شعبہ عمل اسلامی نظام حکومت تھا۔ کارہائے نمایاں میں انصاری کمیشن رپورٹ، اسلامی آئین کی تیاری جیسے کارناموں کے علاوہ پاکستان کے آئین میں “قرارداد مقاصد” جیسی اہم دستاویز کو شامل کرنا ہے جس کی موجود گی کی وجہ سے آج تک کسی جابر سے جابر حکمران کو بھی یہ ہمت نہیں ہو سکی کہ وہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون بنا سکے جو اسلام کے کسی قانون سے ٹکراتا ہو۔
مولانا ظفر احمد انصاری نے الٰہ آباد یونیورسٹی(ہندوستان)سے 1930ءمیں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی، 1933ء میں اسی یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا اور سرکاری ملازمت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ تقسیم ہند سے قبل 1942ءمیں ان کی ملاقات نوابزادہ لیاقت علی خان سے ہوئی جن کی تحریک پر آپ نے سرکاری ملازمت سے مستعفی ہوکر خود کو قیام پاکستان کی جدوجہد کے لئے وقف کردیا۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے سینٹرل پارلیمانی بورڈ کے سیکریٹری اور آل انڈیا مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری کے عہدوں پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہیں قرارداد مقاصد کا متن تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1951ء میں ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے جید علمائے کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور انہیں مشہور 22نکات پر متفق کرنے کا مشکل کام بھی ان کا زندہ جاوید کارنامہ ہے۔ 1956ءاور 1973ءکے دساتیر کی تدوین اور تسوید میں بھی انہوں نے فعال کردار کیا۔ 1970ءکے عام انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے آزاد رکن منتخب ہوئے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہ وہ زمانہ ہے جب ہر زبان پر بھٹو بھٹو ہی ہوا کرتا تھا۔ کراچی کے حصے میں قومی اسمبلی کی صرف سات نشستیں ہواکرتی تھیں۔ تمام تر شہرت اور دہشت کے باوجود پی پی پی کراچی کی سات نشستوں میں سے صرف دو ہی نشستوں پر کامیاب ہو سکی تھی۔ دو نشستیں پر جماعت اسلامی نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ ایسے زمانے میں مولانا ظفر احمد انصاری نے آزاد امید وار ہونے کے باوجود کامیابی حاصل کی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھیں جماعت اسلامی کی بھرپور حمایت حاصل تھی لیکن ان کی شخصیت کا احترام دیگر سیاسی و مذہبی لوگوں کی نگاہوں میں بھی بہت تھا اور ان کی کامیابی میں ایسے تمام سچے پاکستانیوں کا بھرپور ہاتھ تھا۔
1983ء میں انہیں پاکستان کے سیاسی نظام کے تعین کے لئے دستوری کمیشن کا سربراہ مقرر کیا، ضعیف العمری کے باوجود انہوں نے دن رات ایک کرکے یہ رپورٹ مکمل کی۔ یہی وہ رپورٹ ہے جو انصاری کمیشن رپورٹ کے نام سے مشہور ہوئی۔ بلاشبہ یہ مولانا محمد ظفر احمد انصاری کا ایک عظیم کارنامہ تھا۔ اس رپورٹ میں انہوں نے ان اقدامات کی سفارش کی جو مستقبل کی حکومت کے لئے بنیاد بن سکتے تھے مگرصد افسوس کہ اس وقت کے صدر، صدر پاکستان جنرل محمد ضیاءالحق نے اس کمیشن کی رپورٹ سے کوئی استفادہ نہیں کیا اور یوں مولانا ظفر احمد انصاری کی یہ محنت رائیگاں گئی۔
قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا آئین نہیں تھا آئین 1935ءمیں ترامیم کرکے عبوری آئین کے طور پر نافذ کیا گیا پاکستان اس وقت لاتعداد مسائل میں گھرا ہوا تھا لاکھوں مہاجرین ہندوستان سے پاکستان میں پناہ لے رہے تھے ان کی رہائش اور خوراک کا بندوبست ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ مغربی پاکستان میں غیر مسلموں کی تعداد تقریباً 3 فی صد جبکہ مشرقی پاکستان میں غیر مسلموں کی تعداد 22 فی صد تھی اس لئے بہت سے ایسے سیاست دان تھے جو مطالبہ کررہے تھے پاکستان کا آئین سیکولر ہونا چاہیے جبکہ علمائے کرام کا ایک گروہ اس نقطہ پر زور دے رہا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے لہٰذا پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا نواب زادہ لیاقت علی خان ان حالات سے آگاہ اور باخبر تھے وہ بھی علماءکے خیالات سے متفق تھے اس لئے انہوں نے علمائے کرام کے تعاون سے ایک قرارداد تیار کی جسے قرارداد مقاصد کا نام دیا گیا ۔ یہی وہ کارنامہ ہے جس کے روح رواں مولانا محمد ظفر احمد انصاری تھے۔ قراردادِ مقاصد ایک قرارداد تھی جسے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے 12 مارچ 1949ءکو منظور کیا۔ یہ قرارداد 7 مارچ 1949ءکو وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان نے اسمبلی میں پیش کی۔ اس کے مطابق مستقبل میں پاکستان کے آئین کا ڈھانچہ یورپی طرز کا قطعی نہیں ہوگا، بلکہ اس کی بنیاد اسلامی جمہوریت و نظریات پر ہوگی۔ اس قرار داد کے چیدہ چیدہ نقاط یہ تھے
اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکتِ غیرے حاکمِ مطلق ہے۔ اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اِختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
مجلس دستور ساز نے جو جمہور پا کستان کی نما ئندہ ہے، آزاد و خود مختار پا کستان کے لیے ایک دستور مرتب کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔جس کی رو سے مملکت اپنے اختیارات و اقتدار کو جمہور کے منتخب نما ئندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔
جس کی رو سے اسلام کے جمہوریت،حریت،مساوات،رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں کا پورا اتباع کیا جائے گا۔
جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنا دیا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتما عی طور پر اپنی زندگی کو قرآن و سنت میں درج اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔
جس کی رو سے اس امر کا قرارواقعی اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں،اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھنے،عمل کر نے اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کے لیے آزاد ہوں۔
جس کی رو سے وہ علاقے جو اب تک پا کستان میں داخل یا شامل ہو جا ئیں،ایک وفاق بنا ئیں گے۔ جس کے صوبوں کو مقررہ اختیارات واقتدار کی حدتک خود مختاری حاصل ہو گی۔
جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جا ئے گی اور ان حقوق میں جہاں تک قانون واخلاق اجازت دیں، مساوات،حیثیت ومواقع کی نظر میں برابری،عمرانی،اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہارِ خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور جماعت کی آزادی شامل ہوگی۔
جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقات کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا۔
جس کی رو سے نظام عدل گستری کی آزادی پو ری طرح محفوظ ہوگی۔
جس کی رو سے وفاق کے علاقوں کی آزادی اور جملہ حقوق، بشمول خشکی و تری اور فضا پر صیانت کے حقوق کا تحفظ کیا جا ئے گا۔ تاکہ اہل پاکستان فلاح وبہبود کی منزل پا سکیں اور قوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام حاصل کریں اور امن عالم اور بنی نوع انسان کی تر قی و خوش حالی کے لیے اپنا بھر پور کر دار ادا کر سکیں۔
2 مارچ 1985ءکو صدر پاکستان محمد ضیاالحق کے صدارتی فرمان کے ذریعہ آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم کی گئی جس کے مطابق قراردادِ مقاصد کو آئین پاکستان میں شامل کرلیا گیا۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ انصاری کمیشن رپورٹ اور قرارداد مقاصد جیسے کارناموں کے عوض مولانا محمد ظفر احمد انصاری کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عنایت کرے اور ان کی کوششوں کے طفیل پاکستان کو اسلام کا مرکز بنا اور یہاں ان لوگوں کو حکومت پر متمکن فرما جو تیرے محبوب کی لائی ہوئی شریعت کو نافذ کر سکیں(آمین)۔
