جب میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا تو میرےمحترم استاد نے ایک بات ہم طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہی جو مجھے آج بھی یاد ہے۔ یہ بات کچھ یوں بھی یاد ہے وہ بچے جو پانچویں جماعت میں ہوں ان کی کہی گئی بات شاید ہی کسی کی سوچ اور عقل کی سطح کے برابر ہو اس لئے کہ ایسی باتیں کچھ بڑے بچوں کے ذہن سے مطابقت رکھتی ہیں۔ جو بات انھوں نے کہی وہ ایک بات کی طرح تو یاد رہ گئی لیکن جب سوچ و سمجھ میں پختگی آئی تب کہیں جاکر اس کا مفہوم سمجھ میں آیا۔ جب سے میں سوچ رہا ہوں کہ ان کی بات کتنی سچی اور درست تھی۔ چاہتا ہوں کہ ان کی کہی بات میں آپ سب سے بھی شیئر کرلوں۔
استاد محترم نے فرمایا تھا کہ “قرض دینے والا اگر بد صورت ہو تب بھی وہ بہت خوبصورت لگتا ہے۔ جو ممالک پاکستان کو قرض دے رہے ہیں ان میں بسنے والے لوگ تو ویسے بھی بہت خوبصورت ہیں”۔ یہ بات انھوں نے کس سیاق اور سباق کے پس منظر میں کہی تھی وہ سب مجھے یاد نہیں لیکن میں آج بھی اس بات کی حقانیت کا معترف ہوں اس لئے کہ جن خوبصورت اقوام کی ہم ہمدردی اور خوش شکلی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے آج ان ہی کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔ وجہ بہت معمولی سی ہے کہ ہم ان اقوام سے قرض لینے سے نہ تھکے اور انھوں نے بھی ہاتھ کھول کر رکھے۔ جب تک وہ قرض پر معترض نہ ہوئے ہاتھ ہمارے بھی پھیلے ہی رہے لیکن جب سے انھوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے سینوں کے گرد لپیٹنا شروع کیا ہے وہ سارے حسین اور خوبصورتی کا شاہکار چہرے ہمیں بھوت پریت سے لگنے لگے ہیں۔
پاکستان کے ساتھ ہمدردیوں کی پینگیں بڑھانے والا سب سے بڑا ملک شاید امریکا ہی تھا۔ جنگ کا ساتھی، امن کا ساتھی، افغان وار میں پاکستان پر صدقے واری، روس کی دشمنی میں پاکستان پر ڈالروں کی بارش برسادینے والا امریکا آج کل پاکستان سے بہت خفا ہے۔ محبت میں کسی کی شرکت ویسے بھی حسن ہو یا عشق، دونوں میں سے کب کسی کو گوارہ ہوتی ہے۔ جب ایک طویل عرصہ سے پاکستان امریکا کی فریب محبت میں آیا ہوا تھا تو چین کی رفاقت میں جذبہ رقابت کا ابھرنا تو بنتا ہی تھا۔ جب سے پاکستان نے اپنی خارجہ یا یوں سمجھیں کہ “قارضہ” (قرض لینے والی) حکمت عملی میں چین کو شامل کیا ہے اس وقت سے “سائیں” امریکہ اکھڑا اکھڑا سا ہے کیونکہ وہ اس بات کو برداشت نہیں کرسکتا کہ پاکستان سے “سی پیک” جیسا معاہدہ کرکے وہ (چین) اقتصادی لحاظ سے اور مضبوط ہو جائے اور کہیں اس مضبوطی کا فائدہ پاکستان بھی حاصل کرنے کے بعد محبت کی پرانی کہانی کے معنی و مفہوم ہی بدل کر رقیب رو سیاہ کی زلفِ گرہ گیر کا اسیر ہوجائے۔
پاکستان کوبھی یہ بات خوب اچھی طرح جان لینی چاہیے تھی کہ
مفت کی پیتے تھے مے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
پاکستان کو معلوم ہونا چاہیے کہ مفت کے جام کے جام یونہی پیش نہیں کئے جاتے ان کے پیچھے محبوب کو پورے کا پورا حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جب تک محبوب مرضی کے مطابق انگلیوں پر رقصیدہ رہتا ہے اس وقت تک تک جام اور جام جمشید لندھائے جا یا کرتے ہیں لیکن جونہی محبوب یہ سمجھنے لگے کہ اس کو شیشے میں اتارنے والا خود اس کی زلفوں کا اسیر ہو چکا ہے وہیں سے کہانی ایک اور رخ اختیار کرلیتی ہے اور ساری محبوبیت غرق مینا و جام ہو جایا کرتی ہے۔
پاک امریکا محبت کی کہانی ایک نیا موڑ مڑ چکی ہے۔ خبر کے مطابق ” امریکا نے پاکستان کو خبر دار کیاہے کہ اگر پاکستان امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے تو پھر اسے ہماری خواہش کے مطابق ہی کام کرنا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی حکومت اور نئی پاکستانی حکومت کے تعلقات میں تلخیاں آنے کے بعد واشنگٹن کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے تو اسے افغانستان کے حوالے سے امریکی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا پڑے گا”۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی حکمت عملی یہ ہے کہ افغانستان میں امن کے حصول کے لیے طالبان کو فوجی اور سفارتی دباؤ کے ذریعے کابل کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا جائے۔اس حوالے سے واشنگٹن کو یقین ہے کہ طالبان اور کابل کے ساتھ مل کر کام کرنے سے امریکی فوج کی افغانستان سے باعزت واپسی ممکن ہوسکے گی۔اس ضمن میں امریکی حکومت نے پاکستان کو گزشتہ ہفتے واضح الفاظ میں پہلا پیغام پہنچا دیا تھا جب امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان میں موجود تمام دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ابتدا میں پاکستانی حکومت نے اس گفتگو کے بارے میں امریکی موقف کو مسترد کردیا تھا لیکن بعد میں اپنے موقف سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔اس حوالے سے دوسرا پیغام اس وقت دیا گیا جب رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس نے واشنگٹن میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھاکہ امریکی سیکرٹری مائیک پومپیو اور امریکی ملٹری چیف اسلام آباد جا کر پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف موثر کردار ادا کرنے کے لیے زور دیں گے۔
بات یہاں پر ہی نہیں رکی کہ پاکستان کو بات چیت کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی جاتی اور افغانستان میں اپنے امن منصوبے کو پاکستان کے سامنے رکھ کر اسے اپنی حکمت عملی سے آگاہ کیا جاتا اور اس بات کی جانب راغب کیا جاتا کہ وہ اگر ان کے منصوبے کے مطابق عمل پیرا ہوگا تو افغانستان کا امن بہت سرعت کے ساتھ بحال ہوگا۔ افغان امن کا فائدہ پورے خطے کو پہنچے گا اور سب سے زیادہ فائدہ خود پاکستان ہی کو ہوگا۔ بات چیت ہی ایسا راستہ ہوتا ہے جس سے بہت بڑے بڑے مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں لیکن ایسا کئے بغیر اور پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر امریکا ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا اور پاکستان کو دی جانے والی امداد جو بحالی امن کیلئے پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کے صلے میں ایک معاہدے کے مطابق پاکستان کو دی جارہی تھی پہلے اس میں سے 50 کروڑ ڈالرز روکے گئے اور پھر رواں ماہ ملنے والے مزید 30 کروڑ ڈالرز کو روک لیا گیا۔ اس پورے دورانیے میں پاکستان دہشتگردی کے خلاف مسلسل برسر پیکار رہا ہے۔
بات سب ملاکر 80 کروڑ ڈالرز کی امداد روک لئے جانے تک ہی محدود رہتی تو قابل برداشت ہو سکتی تھی لیکن امریکہ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اب ساری بین الاقوامی اور اخلاقی حدود کو بھی توڑنے پر آمادہ نظر آرہا ہے۔ ہر ملک کو سارے معاملات نہایت آزادی سے کرنے کا حق ہوتا ہے لیکن وہ ہر قسم کی بندش اور حدود کو توڑتے ہوئے یہ چاہتا ہے کہ ہر وہ ملک جو طاقت میں اس کی برابری کا نہیں اس کو امریکا کی ہدایات پر ہی چلنا ہوگا۔ چنانچہ امریکہ نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کو وہی کچھ کرنا ہوگا جس کا وہ اس سے مطالبہ کر رہا ہے۔ لہٰذا واضح موقف اپناتے ہوئے امریکی اسسٹنٹ آف ڈیفنس فار ایشیئن اینڈ پیسِفک سیکورٹی افیئرز ’ ’رینڈال جی شیریور‘ ‘ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی جنگ ختم ہونے سے قبل امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی سیکورٹی امداد کی بحالی ممکن نہیں اور اس سلسلے میں مزید پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں کیوں کہ واشنگٹن کو چین کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات پر سخت تشویش ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امداد میں کٹوتی کرنے اور پاکستان پر طالبان سے تعلقات کے حوالے سے دباؤ بڑھانے کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس سے دہشت گردی کے نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے انہیں مذاکرات کی میز پر لانا ممکن ہوسکے گا۔دوسری جانب ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی حکومت پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو پالیسی کی تشکیل دینے کے لیے مناسب وقت دینا چاہتی ہے۔امریکی حکومت کی افغانستان میں جنگ ختم کرنے کی خواہش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 17برس ایک طویل عرصہ ہوتا ہے کسی جنگ کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اب اسے ختم کردیا جائے،ہم چاہتے ہیں کہ اسے ختم کردیا جائے۔
طاقت کا نشہ اس وقت تک نہیں اترا کرتا جب تک سر کسی پہاڑ سے نہ ٹکرا جائے۔ امریکہ کا رویہ پاکستان کے کئی اداروں کیلئے یقیناً بہت اذیت کا باعث ہوگا۔ یہ بات اپنی جگہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ضد اور زبردستی سے طاقتور اپنی بات منوانے میں کامیاب تو ہوجایا کرتا ہے لیکن جونہی اس کی گرفت کمزور ہوتی ہے، وہی کمزور اس کیلئے لقمہ اجل بن جایا کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ ایک بڑی طاقت ہے لیکن وقت ثابت کرتا جارہا ہے کہ اب بہرحال وہ “سپر پاور” نہیں رہا ہے۔ پہلے کی طرح وہ ہر ملک کو ڈرانے دھمکانے میں کامیاب نہیں ہے۔ ترکی، ایران اور کوریا اس کی اعلیٰ مثالیں ہیں اور اگر دنیا کے کمزور ممالک سے الجھنے کا یہی سلسلہ جاری رہا تو وہ اپنی ساری طاقت کھو بیٹھے گا۔ جب امریکہ اپنی طاقت گنوانتا جا رہا ہے تو پاکستان میں بھی یہ بات کچھ اداروں کیلئے بڑی نشانیاں رکھتی ہیں۔ طاقت کا غلط استعمال پاکستونیوں کی سوچوں میں جس تیزی کے ساتھ تبدیلیاں لا رہا ہے وہ اداروں کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں۔ جس طرح امریکہ کی ضد زبردستی دنیا کی سوچوں اور خیالوں کی تبدیلی کا سبب بنتی جا رہی ہے اسی طرح پاکستان میں چلنے والی ہواؤں کے رخ پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
آخری چند سطور میں ریاست میں موجود ہرفرد اور ادارے کیلئے بڑی نشانیاں ہے لیکن غور کرنے والوں کیلئے۔
