سوشل میڈیا کی بھی ایک عجب کہانی ہے۔ جن باتوں کا کہانی میں بظاہر کوئی ذکر تک نہیں ہوتا وہی بات کہانی کا مرکزی خیال بن جاتی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا جو کچھ دیکھا رہا ہوتا ہے اور جس کی بنیاد پر وہ کہانی کے تانے بانے بن رہا ہوتا ہے وہی بات آگے چل کر کہانی کے زندہ و جاوید کرداروں کا روپ دھار لیتی ہے اور وہ ساری قوتیں، افراد اور ادارے جو کہانی میں بیان کردہ پہلوؤں کی تکذیب کر رہے ہوتے ہیں، نہ صرف اس کے اقراری بن جاتے ہیں بلکہ اپنی اس تکذیب کی توجیہات بھی پیش کر رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کی جس کی تردید میں ساری حدیں پار کرچکے ہوتے ہیں اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے نظر آتے ہیں۔
زبان کا وزن بے شک دو تولہ ہی ہوتا ہے لیکن اس کی طاقت پہاڑوں کو ہلا سکتی ہے اور آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی ہے۔ یہ نہایت غلیظ شے کو پاکیزہ ترین بنا کر پیش کر سکتی ہے اور ایک بہت شریف، نیک اور فرشتہ صفت انسان کا چہرہ دنیا کے سامنے ابلیس سے بھی بڑھ کر بھیانک بنا کر دکھا سکتی ہے۔
میں نے ایک کالم لکھا تھا جس میں ایک نوجوان کا بس ایک ہی عیب بیان کیا تھا اور وہ عیب یہ تھا کہ وہ پیاز کھاتا ہے۔ پھر یہ کہ وہ پیاز جب کھاتا ہے جب کباب کھاتا ہے، کباب جب کھاتا ہے جب شراب پیتا ہے، شراب جب پیتا ہے جب شباب ساتھ ہو اور شباب و شراب کی محفل جب سجتی ہے جب وہ ڈاکا ڈالتا ہے اور غضب یہ ہے کہ وہ کبھی اکیلا یہ کام نہیں کرتا، اس کاباپ، دادا، چاچا ماما تایا غرض خاندان کا خاندان ڈاکا ڈالنے میں شریک ہوتا ہے۔
بالکل اسی طرح سوشل میڈیا میں بھی بس ایک ہی عیب ہے کہ وہ خبر بریک کردیتا ہے۔ پھر اس پر سب کو اپنی اپنی توانائیاں صرف کرنے، ایک دوسرے پر رکیک حملے کرنے، گالیاں دینے اور سات پشتوں تک کے عیب گنوانے کیلئے چھوڑدیتا ہے۔ اس میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جن جن افرا اور جس جس محکموں کے متعلق کوئی خبر ہوتی ہے وہ تو اپنی زبانوں پر تالے لگا کر اور اپنے ہونٹوں کو سی کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان کے بچونگڑے میڈیا کی پشت پر سوار ہوکر ایک دوسرے پر خوب آوازے کس رہے ہوتے ہیں اور مخالفین کے پیٹوں کے اندر سے چھپی باتیں اور عیب باہر نکال نکال کر پھینک رہے ہوتے ہیں۔ پھر اچانک ہوتا یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بریک ہونے والی خبر جس کی تردید و تکذیب کی جاتی رہی ہوتی ہے وہ سچ ثابت ہوجاتی ہے۔ سچ سامنے آتے ہی وہ سارے محکمے اور افراد جو خبر کو فیک اور جھوٹ ثابت کرنے کی تگ و دو میں لگے رہے ہوتے ہیں، اس خبر کے سارے عیبوں میں چھپی اچھائیوں کو ایسے نمایاں کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ خبر نشر ہونے پر اس کی عیب جوئی کرنے والے شرمندہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ایسی ہی کسی بات پر ان کی تردید کا ‘یوٹرن’ ایسا ہی لگتا ہے جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ عیب کی کیا بات ہے، لڑکا پیاز ہی تو کھاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر آج کل ایک مبینہ اسرائیلی طیارے کی اسلام آباد آمد کی خبر گرم ہے اور اس پر مختلف چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ کئی لوگ سوالات بھی پوچھ رہے ہیں جن میں نامور صحافی بھی شامل ہیں۔ جیو نیٹ ورک سے منسلک صحافی طلعت حسین نے سوال کیا کہ’اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد اور مبینہ مسافروں کی واپسی کی خبر سوشل میڈیا پر پھیلتی جا رہی ہے۔ سرکار کو اس کی وضاحت کرنی ہے یعنی اقرار یا انکار، کیونکہ خاموشی بڑے مسائل کو جنم دے گی۔ ایران اور دوسرے ممالک کھڑے کانوں کی ساتھ اس افواہ نما خبر کو سن رہے ہوں گے۔
جیو نیوز سے عام طور پر مصدقہ خبریں ہی نشر ہوا کرتی ہیں شاید اسی لئے خبر نشر کرنے والے کا لب و لہجہ محتاط پسندی کا مظہر تھا۔ جیو نے یہ نہیں کہا کہ خبر واقعی درست ہی ہو گی البتہ جس ذریعے کا حوالہ ہے، وہ ذریعہ بھی بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کیونکہ خبر کی نوعیت بہت اہمیت کی حامل ہے اس لئےخبر کی تردید یا وضاحت جتنی جلد ممکن ہو پیش کردی جائے کیونکہ اس خبر کے ساتھ ہماری ایران اور ترکی کی دوستی میں فرق پڑ سکتا ہے۔
خبر کی تصدیق یا تردید تو حکومت کی جانب سے نہیں آئی البتہ فواد چوہدری کی جانب سے ایک غیر سنجیدہ سا بیان ضرور آیا جس کو اقرار یا انکار سمجھنا بہت مشکل ہے اور یہی بات اس بات کی گواہ ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ وزیر اطلاعات جناب فواد چوہدری نے فرمایا کہ “حقیقی صورت حال یہ ہے کہ عمران خان نواز شریف ہے نہ اس کی کابینہ میں آپ جیسے جعلی ارسطو ہیں، ہم نہ مودی جی سے خفیہ مذاکرات کریں گے نہ اسرائیل سے، آپ کو پاکستان کی اتنی فکر ہوتی جتنی ظاہر کر رہے ہیں تو آج ہم ان حالات میں نہ ہوتے، اس لیے جعلی فکر نہ کریں، پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے”۔
جیو نیوز کے اینکر کا کہنا ہے کہ ” ان خبروں کے سامنے آنے پر میں نے اس طیارے کے بارے میں چھان بین شروع کی جس سے معلوم ہوا کہ اس ساری گفتگو کے تانے بانے ایک اسرائیلی صحافی ایوی شراف کی اُس ٹویٹ سے ملتے ہیں جہاں انھوں نے جمعرات 25 اکتوبر کو صبح دس بجے یہ ٹویٹ کیا تھا۔ اس ٹوئیٹ کے مطابق یہ تصدیق ہوئی کہ ایک طیارے نے اسلام آباد لینڈ کیا۔ پروازوں کی آمدورفت یا لائیو ایئر ٹریفک پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار پر اس پرواز کے اسلام آباد آمد اور دس گھنٹے بعد پرواز کے ثبوت موجود ہیں”۔ اس آمد اور روانگی پر کئی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں اور بہت سے لوگ سوالات کر رہے ہیں کیونکہ ایک ‘اسرائیلی طیارے’ کی پاکستان آمد یقیناً بہت سے سوالات کو جنم دیتی۔
بی بی سی سے نشر کی جانے والی رپورٹ میں ایک بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات نہیں ہیں اس لیے دونوں ممالک میں کیے گئے رجسرڈ طیارے ایک دوسرے کی فضائی حدود میں نہیں آ جا سکتے۔
جب اسرائیل کا کوئی جہاز بھی پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہو سکتا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی بھی اسرائیلی طیارہ پاکستان کی حدود میں داخل ہونے میں کیونکر کامیاب ہوا؟۔ اس سوال کے جواب میں اسرائیلی صحافی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی طیارہ تل ابیب سے اڑکر پہلے اردن کے دارالحکومت عمان میں ‘کونین عالیہ’ کے ہوائی اڈے پر اترا اور اترنے کے بعد اسی رن وے سے پاکستان کی جانب روانہ ہوا۔ اس طرح یہ پرواز تل ابیب سے اسلام آباد کے روٹ پر جانے کے بجائے اس ‘چھوٹی سی چالاکی’ کی مدد سے تل ابیب سے عمان کی پرواز بنی اور پانچ منٹ کے اترنے اور واپس پرواز کرنے سے یہ پرواز عمان سے اسلام آباد کی فلائٹ بن گئی۔ اپنی بات کی وضاحت کرنے کے لیے ایوی شراف نے اسی طرح کی ایک اور پرواز کا ثبوت اپنے ٹوئٹر پر دے رکھا ہے جو ابوظہبی سے تل ابیب سعودی عرب کے اوپر سے پرواز کر کے آئی مگر براستہ عمان، جہاں طیارہ اترا، پھر نئے کوڈ کے ساتھ پرواز کر گئی۔
اگر بیان کی گئی بات کو سامنے رکھا جائے تو پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی اس تردید کو ماننا پڑے گا کہ پاکستان کی حدود میں اسرائیل کا کوئی بھی طیارہ کسی بھی پاکستانی ایئر پورٹ پر نہیں اترا اس لئے کہ پاکستان کی حدود میں کوئی بھی پرواز اسرائیل سے بل الواسطہ یا بلا واسطہ پاکستان کی جانب نہیں کیوں کہ تکنیکی طور پر یہ پرواز اسرائیلی نہیں تھی بلکہ اردنی تھی لہٰذا پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارتی کا یہ کہنا کہ اسرائیل سے آنے والی کوئی بھی پرواز پاکستان کے کسی بھی ایئر پورٹ پر نہیں اتری، بے جا نہیں لیکن سوال کا اپنی جگہ موجود رہنا بہر صورت بنتا ہی بنتا ہے کہ وہ طیارہ جو اسرائیل سے اڑان بھر کر پہلے عمان پہنچا اور وہاں سے کوڈ کی تبدیلی کے بعد پاکستان کے دارالحکومت آیا اس کے مسافر کون تھے اور پھر وہ 10 گھنٹے کیا کرتے رہے اور پھر سب کے سب 10 گھنٹوں کے بعد واپس اسرائیل کیوں چلے گئے۔
اس کے ساتھ ہی کئی اور سوالات ہیں جو مزید وضاحت طلب ہیں جن میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا عمان (اردن) کی یہ فلائٹ شیڈولڈ تھی یا اچانک اس پرواز کو پاکستان آنا پڑا۔ اگر یہ فلائٹ شیڈولڈ تھی تو پھر اس کے سوار کیا صرف اسلام آباد کا ایئر پورٹ دیکھنے آئے تھے؟، شیڈولڈ فلائٹ ہونے کے باوجود بھی کیا پاکستان سے عمان جانے والا کوئی مسافر موجود نہیں تھا؟۔ اس طیارے میں جو جو بھی مسافر موجود تھے وہ پاکستان میں کیوں نہیں اترے اور پاکستان سے عمان یا اسرائیل جانے والا کوئی مسافر پاکستان سےاس جہاز میں سوار کیوں نہیں ہوا۔
اکثر یہ باتیں سامنے آتی رہیں ہیں کہ جن باتوں کی تردیدیں شدت کے ساتھ سامنے آیا کرتی ہیں بعد میں ان ہی باتوں کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ فی الحال ابھی تک تو حکومت جانب سے کمزور اور مبہم تردیدیں ہی آرہی ہیں اور وہ بھی اس حوالے سے کہ پاکستان میں کوئی بھی اسرائیلی طیارہ پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر نہیں اترا۔
یاد رہے کہ جب تک اٹھنے والے سوالوں کے جوابات مسخرے پن کی بجائے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اور اور وزیر اطلاعات کی بجائے براہ راست وزارت دفاع اور داخلہ کی جانب سے بہت واضح الفاظ میں قوم تک نہیں پہنچیں گے اس وقت تک قوم شاید ہی مطمئن ہو سکے۔ علاوہ از ایں دنیا میں جو چند ممالک جس میں ایران اور ترکی جیسے ممالک شامل ہیں، ممکن ہے کہ ہم ان کو بھی مطمئن نہ کر سکیں۔
یاد رہے کہ اس اہم وقت میں صدر پاکستان کا اچانک ترکی کا دورہ بڑی اہمیت کا حامل بن گیا ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ ایسی وضاحتیں ہوں جو منھ در منھ ہی سامنے رکھی جاسکتی ہوں اور ترکی کو حالیہ صورت حال کے پیش نظر اعتماد میں لینا مقصود ہو مگر ہمیں (پاکستان کو) یہ بات کسی صورت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ امریکہ ہو یا اسرائیل، ترکی ان دونوں کی جانب اپنی دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتا نیز وہ عوامی طاقت اور رائے کو ہر طاقت پر فوقیت دیتا ہے جبکہ پاکستان کی پالیسیاں ترکی سے کافی حدتک مختلف ہیں اس لئے ترکی کو اسرائیل کیلئے ہمدردانہ گوشہ دل میں رکھ کر اس کا اعتماد حاصل کرنا شاید آسان نہیں ہوگا لہٰذا صدر پاکستان کا دورہ اگر اس تناظر میں ہے تو کامیابی کی بہت توقعات وابستہ کر لینا مناسب نہیں ہوگا۔
