بس اب بہت ہو چکا

ایک مرض ہوتا ہے ‘مالیخولیا’ جس کا مطلب ہے خام خیالی، خفقان، پاگل پن، جنون، دماغی خلل۔ اس مرض کا شکار مریض گو کہ پوری طرح پاگلوں کی فہرست میں شمار نہیں کیا جاتا لیکن وہ لواحقین کو پاگل کرکے رکھ دیتا ہے۔

بظاہر ایک نارمل دکھائی دینے والا انسان اندر سے کتنا جنونی ہوگا، اس کا اندازہ اس کی کسی حرکت، معمول کے کاموں، عام گفتگو یا شکل و صورت سے نہیں لگایا جاسکتا۔ یہ سن کر اکثر لوگوں کو حیرت ہوگی کہ اس کو اتنا نارمل رکھنے کیلئے بس اتنا کرنا پڑتا ہے کہ اس کی ہر فرمائش پوری کردی جائے۔ اس کے منھ سے نکلی ہوئی کسی بات کا کم از کم یہ کہہ کر انکار نہیں کیا جائے کہ اس بات کا پورا کرنا ممکن نہیں۔ گویا ایسی کوئی بات نہ کی جائے جو ضد یا نفی میں آتی ہو۔ لواحقین کا جی حضوری والا رویہ ایسے پاگل کو اس درجہ مطمئن اور خوش رکھتا ہے کہ کوئی اس کے دماغی مریض ہونے کے متعلق گمان بھی نہیں کرسکتا بلکہ اگر اس کے لواحقین کسی سے بطور شکایت یا مشورہ اسے دماغی مریض کہہ دیں تو سننے والے شکایت کرنے والے کو ہی پاگل سمجھنے لگتے ہیں۔

مرض جوں جوں بڑھتا جاتا ہے فرمائشیں دراز سے درازتر ہوتی جاتی ہیں یہاں تک کہ چاندستارے توڑ کر لانے تک کی فرمائشیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس قسم کی مشکل فرمائشیں کیوں کہ پوری نہیں کی جاسکتیں اس لئے بات چیخم دھاڑ سے آگے نکل کر اشیا کی توڑ پھوڑ اور ماردھاڑ تک جا پہنچتی ہے تب کہیں جاکر سننے والوں کو یقین آتا ہے کہ بظاہرایک نارمل دکھائی دینے والا انسان نارمل نہیں بلکہ واقعی پاگل ہے۔

بی بی سی سے نشر ہونے والی تازہ ترین خبر کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار (18 نومبر) کو امریکی ٹیلی ویژن چینل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں رکھا ہوا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘پاکستان میں ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ (اسامہ بن لادن) فوجی اکیڈمی کے قریب رہتے ہیں اور ہم انھیں 1.3 ارب ڈالر سالانہ امداد دے رہے ہیں۔ ہم اب یہ امداد نہیں دے رہے۔ میں نے یہ بند کر دی تھی کیوں کہ وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ہمارے رہنماؤں کو بےوقوف سمجھتے رہے ہیں۔ وہ ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں جن کا ہم افغانستان میں ان کی نہ ہونے کے برابر مدد سے تعاقب کر رہے ہیں۔اب ایسا نہیں چلے گا۔

امریکی صدر ٹرپ کی یہ بات کوئی ایسی نہیں جس پر چونکا جائے اس لئے کہ جب سے وہ آئے ہیں تب سے ان کے پیٹ میں پاکستان کے خلاف مروڑ اٹھتا ہی رہتا ہے اور ان کو وہ امداد جو وہ (امریکا) دہشت گردوں کی سر کوبی کیلئے پاکستان کو دیتے رہے ہیں ان کیلئے سوہان روح بنی ہوئی ہے جس کے متعلق سوچ سوچ کر ان کی راتوں کی نیند اور دن کا سکون برباد ہو کر رہ گیا ہے۔ ان کا فرمانا ہے کہ ‘امریکہ نے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بےوقوفی کی۔ ان کے اس بیان کے بعد امریکا کے محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اس کی تقریباً تمام سکیورٹی امداد روک رہی ہے تاکہ پاکستانی حکومت کو بتایا جا سکے کہ اگر وہ امریکہ کے اتحادی نہیں بنتے تو معاملات پہلے کی طرح نہیں رہیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق جب تک اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا امداد کی فراہمی کا سلسلہ منجمد رہے گا۔

بات وہی مالیخولیا ہی کی ہے۔ پاکستان امریکا کی جتنی بات مانتا جارہا ہے اس کی فرمائشیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ دنیا میں کوئی ایک پیسہ بھی کسی کو بلا غرض و غایت نہیں دیا کرنا۔ کسی فقیر یا کسی بابے پر بھی اگر کوئی خرچ کرتا ہے تو اس میں بھی دلی مرادیں پوری ہونے کی تمنائیں دل میں ٹھوکریں مار رہی ہوتی ہیں۔ یہ بات صدر ٹرمپ نے ٹھیک نہیں کی کہ پاکستان امریکا کو بیوقوف بنا رہا ہے اس لئے کہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔ ملکوں اور ملکوں کے درمیان انسانوں جیسی محبت کے رشتے یا تعلقات نہیں ہوا کرتے۔ ایک دوسرے کے مفادات ملکوں کو ملکوں سے قریب لے کرآیا کرتے ہیں۔ ہم (پاکستانی) ویسے بھی بہت خوبصورت تو تھے نہیں کہ امریکا کے گورے اور گوریاں ہم پر فداہونے لگتیں۔ بات مفادات کی ہی رہی ہوگی تب ہی تو 11 ہزار میل دور بیٹھا امریکا پاکستان کی قربت کا خواہاں رہا ہوگا اور یقیناً پاکستان بھی بلا مفاد اس کا دوست نہیں رہا ہوگا۔

امریکی صدر جس امداد کا رونا رو رہے ہیں اور بار بار اس کا تذکرہ اس طرح کررہے ہیں جیسے وہ پاکستان پر احسان کرتے رہے ہیں تو ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر امریکا نے پاکستان میں ایسا کیا کچھ دیکھ لیا تھا جس کی وجہ سے وہ ڈالر پر ڈالر برسا رہا تھا اور اب اسے ایسا کیا نقص نظر آنے لگا ہے کہ وہ اس برسات کو روک رہا ہے۔ کیا دنیا میں کوئی بھی فرد ایسا ہے جو بنا کچھ دیکھے کسی پر پاگل ہوجائے؟۔ اگر امریکا بنا کچھ دیکھے پاکستان پر، بقول صدر ٹرمپ، ڈالروں کی بارش کئے ہوئے تھا تو پھر ضروری ہوجاتا ہے کہ پورا امریکہ کسی ذہنی مریض کے ماہر سے رجوع کرے اور اگر امریکا کی کوئی گوٹ پاکستان سے پھنسی ہوئی تھی تو احسان جتانے کی بجائے اسے پاکستان کا شکریہ اداکرنا چاہیے کہ ایک پسماندہ اور اس کے مقابلے میں ایک بہت چھوٹے ملک نے اس کے کسی عظیم مقصد کے حصول کیلئے اس کا ساتھ دیا۔

امریکی صدر جس رعونت کے ساتھ امداد دینے اور پھر اسے بند کرنے کا ذکر کررہے ہیں تو وہ آج بھی اپنے اس عمل کو کرکے دیکھ لیں اور پھر نتایج پر بھی نظر ڈالتے جائیں اس لئے کہ جن جن مقاصد کے حصول کیلئے وہ پاکستان کو امداد دیتے رہے ہیں وہ مقاصد اب بھی تشنہ تکمیل ہیں اور ان کی تکمیل پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ جو اہداف وہ اس خطے میں حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اہداف اس وقت تک حاصل نہیں کئے جاسکتے جب تک پاکستان اس میں شرکت نہ کرے۔

دنیا جانتی ہے کہ جس امداد کا کم ظرفی کے ساتھ امریکا مسلسل ذکر کررہا ہے اس امداد سے کہیں زیادہ پاکستان اپنا نقصان کرا بیٹھا ہے۔ پاکستان امداد سے کئی گناہ نقصان محض اس لئے گوارہ کررہا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام پیدا ہو۔ خطے کا امن ہی پاکستان کا مفاد ہے کیوں کہ امن و امان اور اس کا استحکام ہی پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا سبب بن سکے گا۔ پر خطر اور امن و امان کا عدم استحکام پاکستان کو ترقی کی راہوں پر نہیں لیجا سکتا۔

امریکا شوق سے اس رقم کو روک لے جس کو وہ امداد کا نام دیتا ہے اور پھر وہ ان مقاصد اور اہداف کو حاصل کرکے دکھائے جن کی تکمیل اب اس کی ناک کا مسئلہ بن چکی ہے۔

اگر پاکستان آج بھی اس بات پر ڈٹ جائے کہ کہ وہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعاون نہیں کریگا تو مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکنا شروع ہو جائے گی لیکن افسوس یہی ہے کہ امریکی صدر کی اتنی رعونت آمیزباتیں سننے اور بار بار کی طعنہ زنی کے بعد بھی پاکستان کی جانب سے کوئی سخت مؤقف سامنے نہیں آرہا۔ یہ نرم رویہ اور معذرت خواہانہ انداز امریکہ کی مالیخولیت میں اضافے در اضافے کا سبب بنا ہوا ہے اور وہ ہر ہر مقام پر پاکستان کو ذلیل کرنے پر تلا ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ کی حالت اب اس خاتون کی سی ہو کر رہ گئی ہے جس نے اپنا مقصد و مدعا ہی محلے کی کسی شریف خاتون کو بدنام کرنا بنا لیا ہو۔ پاکستان کو امداد نہیں دینی نہ دے لیکن کٹنیوں کی طرح ہر مقام پر بار بار طعنہ زنی کونسا سلجھا ہوا طرز عمل ہے۔

میں نے ‘مالیخولیا’ والی بات محض بر بنائے طنز نہیں کی بلکہ اگر تجزیہ کیا جائے تو امریکی صدر کی تمام علامات اسی مرض کی عکاسی کرتی نظر آرہی ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف مسلسل اٹھائے جانے والے اقدامات کے باوجو بھی ‘ڈو مور ڈومور’ کا تقاضہ اس کی بہت بڑی دلیل ہے۔ یہ مرض ہی ایسا ہوتا ہے کہ مریض ایک فرمائش پوری ہونے کے بعد دوسری فرمائش رکھتا چلا جاتا ہے۔ پاکستان نے جس انداز میں دہشتگردوں اور دہشتگردی کے خلاف آپریشنز کئے ہیں وہ دنیا میں اپنی مثال آپ ہیں۔ پاکستان کی اس کاوش کو دنیا کے بیشمار ممالک نے سراہا ہے  لیکن ایک امریکہ ہے کہ وہ مزید اور مزید کے مطالبے سے دستبردار ہونے کیلئے تیار و آمادہ نہیں۔ گذشتہ برس امریکی صدر کی جانب سے وضع کردہ قومی سلامتی کی حکمت عملی میں بھی کہا گیا تھا کہ ہم پاکستان پر اس کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں میں تیزی لانے کے لیے دباؤ ڈالیں گے، کیونکہ کسی بھی ملک کی شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لیے حمایت کے بعد کوئی بھی شراکت باقی نہیں رہ سکتی۔ امریکہ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے اندر سے کام کرنے والے شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے امریکہ کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔

ان تمام حالات کو سامنے رکھ کر اور امریکی صدر کی تضحیک آمیز باتیں سن کر بھی پاکستان کے ارباب اختیار امریکا کے ساتھ تعلقات میں کوئی ٹھوس، سخت اور بیباکانہ فیصلہ کرنے میں پس و پیش سے کام لینے ہیں تو یہ ایک افسوس ناک عمل ہوگا۔ ضروری ہے کہ امریکا سے ڈٹ کر بات کی جائے اور اس سے خارجی پالیسیوں کا از سرنو جائزہ لیکر کوئی آبرومندانہ طرز عمل اختیار کیا جائے۔ جگ ہنسائیاں بہت ہوچکیں اور اب عزت کے ساتھ سر اٹھا کر جینے کا ارادہ کرلینے میں ہی ملک و قوم کا وقار پوشیدہ ہے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here