اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے ‘حاکمیت اعلیٰ’ کا ایک حقیقی تصور پیش کیا ہے اور یہی وہ واحد نظریہ ہے جس کے بغیر دنیا میں نہ تو امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ فلاحی ریاست کی تشکیل ممکن ہے۔
اسلام کہتا ہے کہ ‘حاکم اعلی’ اللہ کے سوا اور کوئی نہیں اور انسان اللہ کا نائب ہے۔ وہ زمین پر بسنے والے کسی انسان پر اپنا حکم نہیں چلا سکتا کیونکہ انسانوں کو حکم دینے والی ذات فقط ایک ہی ہے جو واحد اور لا شریک ہے۔
اللہ تعالی نے قیامت تک آنے والے انسانوں کیلئے ہدایت نازل کردی ہے اور اس طرح اپنے دین کو مکمل کردیا ہے۔ اس کامل ہدایت کو قرآن کہاجاتا ہے جس میں انسانوں کے ہر قسم کے مسائل کا حل موجود ہے۔ اب یہ انسانوں پر چھوڑدیا ہے کہ وہ اس کتاب سے ہدایت لے کر اپنی زندگی کو سہل، پرسکون، فتنہ و فساد سے آزاد اور جنت نظیر بنانا چاہتے ہیں یا اپنی مرضی چلاکر اور اپنے بنائے ہوئے قوانین تراش کر اپنی زندگی کوعذاب میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔
اللہ نے قرآن میں جو کچھ بھی ہدایات بیان کردی ہیں وہ سب عالمگیر سچائیاں ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ‘اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ’، یعنی اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اللہ کی بتائی ہوئی ہدایات کے تابع کرلو اور اپنی پوری زندگی کو اس قانون کے حوالے کردو جس کو خالق کائینات نے انسانوں کیلئے بہترین قرار دیا ہے۔ یہ بات ثابت کر رہی ہے کہ بغیر کسی قانون اور ضابطے کے کوئی بھی انسانی معاشرہ متمدن معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔ ایسا معاشرہ جس میں کسی بھی قسم کا نظم و ضبط ہی موجود نہ ہو وہ درندوں کا جنگل تو کہلا سکتا ہے گاؤں، دیہات یا شہر نہیں کہلا سکتا۔ انسانوں کو اپنے معاشرے کو فلاحی معاشرہ بنانے کیلئے ایک ضابطہ حیات بنانا ہی پڑتا ہے اور پھر یہ بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ بنائے ہوئے ضابطہ حیات کو عملاً نافذ بھی کرے اور سب کو پابند بنائے کہ وہ اس پر عمل کریں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ایسے افراد کو جو بنائے گئے قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کرتے ہوں ان کیلئے تادیبی کارروائیاں کرے اور آئین و قانون کے مطابق ان کو سزائیں دے۔ گویا ہم بظاہر جن کو حکومت کرتے دیکھتے ہیں وہ اصل حاکم نہیں ہوتے بلکہ اصل حاکم اس ملک کا قانون ہی ہوتا ہے جس کے مطابق آقا و غلام سب کو چلنا ہوتا ہے۔ یہی وہ عالمگیر سچائی ہے جس کو قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے یعنی حاکمیت اعلیٰ اللہ کیلئے ہے، انسان محض نائب ہے جو پابند ہے اس امر کا کہ اللہ کے بنائے ہوئے ضابطہ حیات کے مطابق عمل کرے اور حاکم وقت پابند ہے کہ وہ اپنے احکامات انسانوں پر نافذ کرنے کی بجائے اس ایک اللہ کے احکامات پر خود بھی عمل کرے اور اپنی رعایا کو بھی اس کا پابند بنائے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی ملک بنا کسی آئین و قانون نہیں چلایا جاسکتا اور پس پردہ حاکم خواہ صدر کہلائے، وزیر اعظم کہلائے، بادشاہ کہلائے یا خلیفہ، اصل حاکمیت قانون ہی کی ہوتی ہے تو پھر وہ قانون جس کو مالک حقیقی نے انسانوں کیلئے قیامت تک کیلئے بنادیا ہو اور جس کے بغیر حقیقی فلاحی ریاست کا کوئی تصور ہی موجود نہ ہو تو آخر اس کو نافذ کرنے میں کیا شے مانع ہے؟۔
خبر کے مطابق ‘امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق فرماتے ہیں کہ امریکا آئے روز ڈو مور کا مطالبہ کرتا ہے۔ پاکستان نے جتنی جانی و مالی قربانیاں دی ہیں امریکا کی نگاہ میں ان قربانیو ں کی کوئی قدر نہیں،امریکی صدر روزانہ پاکستان کو ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کرتے ہیں، ہمیں اپنے مفادات کو دیکھنا چاہیے اور امریکی ڈکٹیشن اور امریکی مفادات کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے’۔ امیر جماعت اسلامی نے یہ بات گوجر خان میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
بات تو سچ ہے مگر۔۔۔۔۔۔ یہاں غور طلب امر یہ ہےکہ جس طرح ہم قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں اور امریکی دباؤ کے جواب میں اس بات کو بہت شدت کے ساتھ دہراتے ہیں تو کیا یہ ساری قربانیاں امریکا کو خوش کرنے کیلئے دی جاتی رہی ہیں؟۔ آخر ایسی کیا مجبوری آن پڑی تھی جس کیلئے یہ سب کیا گیا؟۔ کیا یہ ساری قربانیاں اللہ کو خوش کرنے کیلئے اور اس کی رضا کیلئے نہیں دی گئی تھیں؟۔
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان نے یہ ساری قربانیاں محض اس لئے دی تھیں کہ امریکی سرکار خوش ہوجائے تو اس کا صلہ بھی ڈالروں کی مد میں ملتا ہی رہا اور اب کیونکہ تقریباً پورے ملک میں امن قائم ہوچکا ہے، خود کش دھماکے تقریباً ختم ہو چکے ہیں، اغوا برائے تاوان کی کہانیاں دم توڑ چکی ہیں اور سرحدیں پر سکون ہوچکی ہیں تو پھر ڈالروں کی آمد بند ہوجانے پر اتنی شکوہ سنجی کیوں؟۔
کہا جاتا ہے کہ ہم نے 70 ہزار افراد کی قربانیاں دی ہیں لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 70 ہزار افراد کی قربانیاں محض اس مد میں دی ہیں کہ امریکا کو خوش اور مطمئن رکھا جا سکے اور اگر یہ قربانیاں ملک اور اسلام کے دفاع میں دی ہیں تو امریکہ سے اس سلسلے میں امداد کس لئے لی گئی اور اب بھی اس کی امداد کی طلب دل و دماغ میں ٹھوکریں کیوں لگا رہی ہے؟۔
ہر ملک اپنے دفاع کا خود ذمہ دار ہوتا ہے وہ اپنے دفاع یا سلامتی کیلئے کسی دوسرے ملک سے امداد طلب نہیں کیا کرتا۔ جنگ میں یہ ہوتا ہے کہ صلے میں یا تو ہار ہاتھ آتی ہے یا شکست مقدر ٹھہرتی ہے۔ کیا کوئی اس بات کی وضاحت کرسکتا ہے کہ یہ ساری قربانیاں کس کی جنگ کے سلسلے میں دی گئیں؟۔ کیا یہ جنگ پاکستان نے لڑی؟۔ کیا پاکستان نے کسی ملک میں داخل ہوکر دشمنوں کو مقابلہ کیا؟۔ کیا ہماری فضائیہ نے کسی ملک میں گھس کر اس کے ٹھکانوں کو تباہ کیا؟۔ کیا یہ جنگ اسلام کیلئے لڑی گئی؟۔ جس جنگ اور قربانیوں کا معلوم ہی نہیں کہ وہ کس لئے لڑی گئی، کہاں لڑی گئی اور کس نے لڑی اس میں دی جانے والی قربانیوں کا ذکر بہت ہی عجیب سی بات لگتی ہے۔
اگر قربانیاں دینے کی کوئی بات سامنے آتی ہے تو ماضی قریب میں یہ ضرور دیکھا گیا ہے کہ بےشمار خود کش دھماکے ہوا کرتے تھے اور ہر دھماکے میں بیسیوں جانوں کا زیاں ہوتا تھا۔ افغانستان میں ہزاروں مجاہدین داخل ہوتے تھے اور روس کو افغانستان سے بے دخل کرنے کی جدوجہد میں شامل ہوجایا کرتے تھے۔ ہزاروں افراد اس جدوجہد میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ روس کو افغان سے گئے ہوئے بھی بیسیوں برس گزر چکے ہیں لیکن جہاد کا نہ رکنے والا سلسلہ تاحال جاری ہے البتہ اس میں ایک بات جو بہت واضح ہوکر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانی جہادی تنظیمی، جو روس کے خلاف تو بڑی جارحانہ اقدامات کیاکرتی تھیں وہ امریکا کیلئے خاموش تماشائی بنی نظر آئیں اور اُس شد و مد کے ساتھ امریکیوں پر حملہ آور نہیں ہوئیں جس کا مظاہرہ انھوں نے روس کے خلاف کیا تھا۔
یہی وہ ساری باتیں ہیں جس کی وجہ سے اس سوچ کو تقویت ملتی ہے کہ روس کے خلاف جو بھی جدوجہد کی گئی اس میں بھی امریکی مفادات کی پاس داری پوشیدہ تھی اور امریکا جب افغانستان میں داخل ہوا توپاکستان کی گھمبیر خاموشی بھی امریکی مفادات کے تحفظ کی علاوہ اور کچھ نہیں تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نظریاتی جہادی تنظیمیں جو روس کے افغانستان میں گھس آنے پر اعلان جہاد فرض سمجھتی تھیں وہ امریکا کے افغانستان میں داخل ہونے پر بھی جہاد اپنے اوپر فرض کر بیٹھیں۔ شاید یہ بات امرکی مفادات کے سخت خلاف تھی اس لئے ایسے عناصر کی سرکوبی کو بھی پاکستان نے اپنے اوپر فرض سمجھا اور ان کے خلاف، یعنی اپنے ہی لوگوں کے خلاف ہر قسم کی جنگی اور تادیبی کارروائی کی گئیں اور ان ہی کارروائیوں کے صلہ میں امریکہ پاکستان پر ڈالروں کی بارش کرتا رہا۔
ممکن ہے کہ راقم کا تجزیہ غلط ہو (خدا کرے کہ غلط ہی ہو) اور پاکستان نے جو کارروائیاں ان عناصر کے خلاف یہ کہہ کر کیں کہ یہ سب دہشتگرد، فسادی اور ریاست پاکستان کے باغی تھے تو پھر اس میں امریکی امداد کس مد میں آرہی تھی؟۔ کیا کوئی ریاست اپنے ہی دہشگردوں، فسادیوں اور باغیوں کا قلع قمع کرنے کیلئے کسی دوسرے ملک سے مالی امداد طلب کرتی ہے؟۔ چنانچہ یہ بات طے ہیں کہ وہ سارے افراد جن کو پاکستان نے ہلاک کیا وہ سب امریکی اہداف اور مفادات کیلئے خطرہ تھے اور کیونکہ وہ امریکی مفادات کیلئے نقصان دہ تھے اس لئے ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے سلسلے میں ڈالروں کی برساتیں ہو رہی تھیں۔
اب کہا جارہا ہے کہ ہم ‘املا’ (ڈکٹیشن) نہیں لیں گے، کسی ڈومور پر عمل نہیں کریں گے لیکن گزشتہ کئی دھائیوں سے ‘املا’ بھی لیتے رہے، ڈومور بھی کرتے رہے اور صلے (ڈالرز) بھی حاصل کرتے رہے اور اپنے ہی تیار کردہ جہادیوں کو لقمہ اجل بھی بناتے رہے۔ تعجب یہ ہے کہ پھر اس بات کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے کہ ہم دہشتگردی کی جنگ میں 70 ہزار قربانیاں دے چکے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ کس دہشتگردی کی جنگ میں اور کس مقصد و مفادات کیلئے ایسا کچھ کیا جاتا رہا ہے۔
ہمیں اپنی تمام باتوں اور پالیسیوں کا اعادہ کرنا ہو گا اور اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان میں اللہ کا قانون چلے گا یا مفادات کی حکومت ہوگی۔ ڈومور پر عمل کیا جاتا رہے گا یا اب نو مور کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہوگا اور یہ بھی طے کرنا ضروری ہے کہ ‘املا’ اگر چلے گا تو صرف اور صرف اللہ کی کتاب میں درج ہدایات کا چلے گا اس لئے کہ پاکستان صرف اور صرف اللہ کے ‘املا’ کیلئے ہی بنایا گیا تھا۔ ایسا ہوگا تو پاکستان پاکستان بن سکے گا ورنہ تباہی و بربادی کے علاوہ اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔
