علمی کم مائیگی یا کچھ اور

یورپ کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل صرف عمران خان ہی نہیں پاکستان بننے سے قبل اور تا حال ان گنت لوگ ہیں جن میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو پاکستانی قوم کی رہنمائی کرتے رہے ہیں اور کچھ وہ بھی ہیں جو حکومت کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز بھی رہے ہیں ،جن میں پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان صاحب خود بھی شامل ہیں۔ اب تک کی تاریخ کے مطابق جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایسے تمام افراد جنھوں نے یورپ کی کسی بھی اعلیٰ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہو وہ تمام کے تمام شاید یورپ جانے سے قبل اسلام سے اتنا قریب نہیں رہے ہوں لیکن یورپ جانے، وہاں رہنے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ عام مسلمانوں سے کہیں زیادہ اسلام اور اسلام کی تعلیمات کے مبلغ بن کر سامنے آئے اور اگر ان کو قوم کی رہنمائی نصیب ہوئی تو انھوں نے نہ صرف عام مسلمانوں کی رہنمائی کسی مبلغ دین کی طرح کی بلکہ وہ غیر مسلم جو اسلام کےاحکامات کی یا تو غلط تشریح کیا کرتے تھے یا احکامات کی تضحیک کیا کرتے تھے ان کو بھی ایسے ایسے مدلل اور مفصل جوابات دیئے کہ اسلام پر اعتراض کرنے والے یا تو قائل ہوگئے یا پھر ان کے پاس سوائے خاموشی کے کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔ ایسے افراد میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا نام سر فہرست ہے۔

ہر مذہب اور دین کی کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو اتنی حساس ہوتی ہیں جن کے متعلق ذرا سی بھی غیر محتاط گفتگو یا طرز عمل بہت بڑا فتنہ کھڑا کردیتا۔ گزشتہ کئی برس سے سوشل میڈیا پر نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفیٰؐ کے متعلق کی جانے والی تضحیک آمیز باتیں اور خاکے شائع کئے جانے کی وجہ سے اسلامی دنیا میں ایک عجب قسم کی بے چینی اور غم و غصہ پیدا ہوا اور جہاں جہاں بھی مسلمان آباد تھے ان کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ بات گلیوں اور چوراہوں سے نکل کر اقوام متحدہ کے ایوانوں تک جا پہنچی اور آخر کار یورپ کی ایک بڑی عدالت کو یہ فیصلہ سنانا پڑا کہ پیغمبر اسلامؐ کی تضحیک کرنا اور ان (ص) کا مذاق اڑانا جیسی بات آزادی اظہار نہیں بلکہ ایک قابل تعزیر جرم ہے اس لئے کہ ایسا کرنے سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یہ فیصلہ سنانے کے ساتھ ہی ساتھ ایسا کرنے والے کیلئے سزا بھی سنائی گئی۔

کچھ حساس معاملات اور باتیں تو وہ ہوتی ہیں جوعام سے کسی فرد کے منھ سے قصداً یا سہواً نکل جاتی ہیں اور جس مقام و جگہ پر ایسا ہوتا ہے فیصلہ بھی وہیں کے وہیں ہوجاتا ہے لیکن اگر اسی قسم کی کوئی بات کسی نمایاں فرد کی زبان سے نکلے اسے دور دور تک پھیلنے سے کیونکر روکا جاسکتا ہے۔ جب نہایت غیر معروف افراد کی آپؐ کے بارے میں تضحیک کی اشاعت دنیا بھر کے مسلمان برداشت نہیں کر سکے ہوں تو پھر یہ سوچنا پڑے گا کہ کسی ملک کے سربراہ کی کہی ہوئی لایعنی سی بات دنیا کے کس کس کونے میں نہ گئی ہوگی اور اس کے رد عمل کے طور پر متوقع اور غیر متوقع کیا کچھ سامنے نہیں آئے گا۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز اسلام آباد میں انٹرنیشنل رحمۃ اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باقی پیغمبر اللہ کے آئے لیکن انسانی تاریخ میں اُن کا ذکر ہی نہیں ہے۔ بڑا کم ذکر ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا ہے مگر حضرت عیسیٰؑ کا تاریخ میں ذکر نہیں ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں ریاست مدینہ کے خدوخال کے بارے میں کافی تفصیل سے باتیں کیں جو بہت قابل تعریف ہیں لیکن تقریر کے دورانیئے میں ان کی بارہ تیرہ سیکنڈ کی یہ بات لوگوں کو نہ صرف حیران کر گئی بلکہ پریشان بھی کر گئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر تاریخ میں نہیں ملتا جبکہ حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر ملتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کیلئے ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر مبعوث فرمائے لیکن ان تمام کا ذکر نہیں کیا گیا البتہ ان میں سے چند کا ذکر اجمالاً اور کچھ کا ذکر تفصیلاً آیا جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر باقیوں سے نمایاں ہے لیکن حیرت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے متعلق یہ کہنا کہ ان کا ذکر آیا ہی نہیں، نہ صرف حیرت کی بات ہے بلکہ اس انداز بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو کہنے والا پیغمبروں کی تاریخ سے نا بلد ہے یا اس کی زبان لڑکھڑا گئی ہے یا پھر ایسا سب کچھ کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔

جس مقام پر یہ بات کہی گئی اورجس مقام و مرتبے والے نے ایسا کہا اس کی بڑی اہمیت ہے۔ بہت ساری باتیں بے شک عالی مرتبت افراد کے منھ سے ہی ادا ہوں لیکن اگر مقام غیر معروف ہو تو اکثر ان باتوں کو سر سری ہی لیا جاتا ہے لیکن جو بات کسی ایسے مقام پر کھڑے ہوکر کہی جائے جس کو دنیا مانیٹر کر رہی ہو، وہاں ایک ایک حرف تول تول کر بولنا ضروری ہوجاتا ہے اور دنیا اس کی کہی ہوئی اچھی یا عامیانہ، دونوں باتوں پر بے لاگ تبصرہ کرنے سے نہیں چوکتی۔

کہتے ہیں کہ ‘منھ سے نکلی ہوئی پرائی بات’۔ جو بات منھ سے نکل جائے تو وہ کمان سے نکلےتیر اور بندوق سے چلائی گئی گولی کی مانند ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر عمران خان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے جس میں بعض حلقے تو انتہائی سخت الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔

مبشر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ‘تاریخ ہی دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے جس کو ‘اے ڈی’ اور ‘بی سی’ یعنی حضرت عیسیٰ (ع) سے قبل کی تاریخ اور حضرت عیسیٰ (ع) کے بعد کی تاریخ کہا جاتا ہے، یہاں تک کہ دنیا بھر کے مسلمان حضرت عیسیٰؑ کے آسمان سے دوبارہ اترنے تک کے منتظر ہیں جن کے آنے سے دنیا کے کونے کونے میں ایک بار پھر اللہ کے دین کی حکمرانی قائم ہوگی اور ایسا ہوجانے سے قبل قیامت کا قیام تک ممکن نہیں۔

ایک اور سقم بھی ان کی تقریر میں بہت نمایاں نظر آیا اور وہ الفاظ کے چناؤ میں تقدس کو نظر انداز کیا جانا تھا ۔ ان کی اس بات کا بھی سخت نوٹس لیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اگر معاملہ حساس نوعیت کا ہو تو فی البدیہہ بات کرنا اور وہ بھی ایسے افراد کے سامنے  جن کا علم ان موضوعات پر ہر عام و خاص سے بہت زیادہ ہو، اور بھی محتاط رویے کا تقاضا کرتا ہے جس کا خیال رکھنا بہت ضروری تھا۔

آصف چوہدری نے لکھا ہے کہ عمران خان کو چاہیے کہ ضد چھوڑیں اور لکھی تقریر کیا کریں ایک ایسے نبی جن کے پیروکار اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ جن کے بارے میں قرآن میں سورتیں اتریں۔ جن کے دوبارہ ظہور کا مسلمان انتظار کر رہے ہیں، اس نبی یعنی حضرت عیسیٰ (ع) کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ تاریخ میں اُن کا ذکر ہی نہیں۔

پیغمبر موسیٰ (ع) کا نام لینے اور پیغمبر عیسیٰ (ع) کا نام لینے کے بارے میں ایک صارف نے لکھا کہ عمران کے بیان سے یہودی خوش ہوں گے ہی پر ساری دنیا میں حضرت عیسیٰؑ کے ماننے والوں کی دل آزاری ہوئی ہے لہذا عمران خان کو اپنے بیان پر اُن سے معافی مانگنی چاہیے۔ ایک طبقے کی خوشی کے لیے دوسرے طبقے کی دل آزاری کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔

مجھے اس بات کا اندازہ نہیں کہ عمران خان نے کیا کچھ سیاق و سباق سامنے رکھ کر ایسا کہا ہوگا یا سہواً ایسا ہو گیا ہوگا لیکن یہ ضرور ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا اس لئے کہ حضرت عیسیٰ (ع) کی تاریخ تو ان کی پیدائش سے قبل ہی شروع ہوجاتی ہے۔ حضرت مریم (ع) پر گزرنے والی وہ تمام کیفیات جو پیدائش سے قبل ان پر گزریں اور پھر ان کے ہاتھ میں ایک نو مولود کو دیکھ کر جو جو کچھ ان کے گھر والوں پر گزری کیا اس کی تفصیل قرآن میں موجود نہیں؟۔ پھر نو مولود بچے(ع) کا معجزانہ طور پر گواہی دینا جس کی وجہ سے گھر والوں کو اطمنان قلب نصیب ہونے جیسے تفصیل قرآن میں موجود ہونا، جوان ہوکر ان کی عام لوگوں کو دعوت دینا، لوگوں کا ان کی دعوت سے انکار اور پھر ان کا آسمان پر اٹھا لیا جانا کیا ایسی باتیں ہیں جن سے انکار کیا جائے؟۔ مسلمانوں کا ایک ایک بچہ اس تمام حقیقت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ ان (ع) کو دوبارہ آسمان سے اتارا جائے گا تاکہ وہ ناصرف اپنی طبعی زندگی مکمل کر سکیں بلکہ اللہ کے دین (اسلام) کو پوری دنیا میں نافذ کر سکیں۔ جن کے ماننے والے دنیا کی آدھی سے بھی زیادہ آبادی سے سوا ہوں ان کے متعلق ایسی بات کہہ دینا سمجھ سے باہر ہے اسی لئے کوئی یہ بات ماننے کیلئے تیار نہیں کہ اس قسم کی کہی گئی بات سہواً کہہ دی گئی ہو۔

مسلمانوں کے نزدیک ہر پیغمبر اتنا مقدس ہے کہ اس کی تضحیک کا تصور کوئی گناہگار سے گناہگار مسلمان تک نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ نبی آخر الزمان حضرت محمدمصطفیٰؐ   کی ذات کی بے حرمتی کی جانے کے باوجود مسلمانوں نے کسی بھی قوم کی مقدس ہستی کو ہدف تنقید نہیں بنایا۔ پیغمبران کرام ہی نہیں، پاکیزہ ہستیاں تک مسلمانوں کی نظروں میں محترم رہی ہیں۔ اس تعلیم کی روشنی میں قصداً یا سہواً پاکستان کی حکومت کے سربراہ کی جانب سے ایسا کہا جانا کچھ مناسب نہیں لگ رہا اس لئے نہ صرف اس بات کی وضاحت ضروری ہے بلکہ اس پر جتنی جلد ممکن ہو معذرت کر لی جائے تو بہتر ہے بصورت دیگر حضرت عیسیٰ (ص) کے ماننے والوں کی جانب سے کوئی بھی ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here