ایک طویل عرصے سے یہ بات نوٹ کی جارہی ہے کہ جب بھی امن و امان کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں امن وامان بحال ہو گیا ہے اور ملک کو پرامن بنالیا گیا ہے اس کے فوراً بعد ہی کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے پورے ملک میں تشویش کی ایک لہر دور جاتی ہے۔ کئی ہفتوں کے سکون کے بعد اچانک دہشتگردی کے دو بڑے واقعات ہوگئے جس میں تباہی و بربادی کے اعتبار سے ‘اورکزئی’ میں ہونے والا بم دھماکہ تھا جس میں 40 کے قریب شہادتیں ہوئیں، 50 کے قریب افراد زخمی ہوئے جبکہ دکانوں اور گاڑیوں کی تباہی اپنی جگہ ہے۔ دوسرا بڑا واقعہ کراچی میں چائینیز قونصل خانے پر حملے کاہے جس میں انسانی جانوں کا زیاں تو بے شک کم ہوا لیکن پاکستان کی سبکی بہت زیادہ ہوئی اس لئے کہ سفارت خانوں اور اس میں موجود عملے کی جان و مال کا تحفظ ریاست میں موجود افراد سے بھی کہیں زیادہ یقینی ہونا ضروری ہوتا ہے۔
خبر کی تفصیل کے مطا بق خیبرپختونخوا کے ضلع اورکزئی میں بم دھماکے کے نتیجے میں 38افراد جاں بحق اور 47زخمی ہوگئے۔ مرنے والوں میں 3بچے اور 3اقلیتی برادری کے افراد بھی شامل ہیں۔ 20 گاڑیاں، 10سے زائددکانیں تباہ ہوگئیں جب کہ کچھ مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ کلایا بازار جمعہ منڈی میں ہونے والے اس دھماکے میں سودا سلف لینے والوں کی لاشیں دور دور تک بکھر گئیں۔ زخمیوں کو کوہاٹ اورپشاور منتقل کردیاگیا جس میں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ دھماکا موٹر سائیکل میں نصب 8کلو وزنی بم سے کیاگیا ۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی ۔ واقعے کے بعد اورکزئی اسکاؤٹس اور اورکزئی لیویز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا تاہم کسی گرفتاری کا نہیں بتایا گیا ہے۔ دوسرے واقعے میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع چینی قونصل خانے پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 3 حملہ آوروں کو ہلاک کردیاگیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور علاقے کا محاصرہ کرلیا۔ اس واقعے میں اب تک کی اطلاع کے مطابق چینی سفارت خانے کا عملہ محفوظ رہا اور اسے کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔
ان واقعات پرحسب سابق ملک کے مقتدر حلقوں اور صاحب ارباب و اختیار کی جانب سے روایتی مذمتی بیانات آئے ہیں لیکن امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ ہمارا دشمن پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانا اور ترقی سے محروم رکھنا چاہتاہے، کراچی میں چینی قونصلیٹ پر دہشت گردوں کے حملے اور ہنگو بم دھماکے سے ثابت ہوتاہے کہ تما م تر دعووں کے باوجود سیکورٹی کی صورتحال اطمینان بخش نہیں اور سیکورٹی میں بڑی بڑی دراڑیں موجود ہیں، طاہر داوڑ کے اغوا کے بعد قتل، ہنگو بم دھماکا، مولانا سمیع الحق کی شہادت جو وفاقی حکومت کی ناک کے نیچے ہوئی اور چینی قونصلیٹ پر حملہ ایسے واقعات ہیں جن پر خاموش تماشائی بن کر نہیں رہا جاسکتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کراچی میں دہشت گردی کا ایک بڑا مقصد سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر کے ملک سے بھگانا ہے۔ اس واقعے سے ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، حکومت بڑے بڑے دعوے کرنے اور نان ایشوز کو ایشو بنا کر شہرت حاصل کرنے کے بجائے ملک میں امن و امان قائم کرنے کی طرف توجہ دے۔ حکومت ایسے معاملات میں الجھ گئی ہے جس کا ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں۔ چند دنوں کے اندر دہشت گردی کے واقعات کے تسلسل نے قوم کو تشویش میں مبتلا کردیاہے، یہ واقعات تمام سیکورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو بیرونی دشمنوں سے کہیں زیادہ اندرونی دشمنوں کا سامنا ہے جو ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ دشمن کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اسے معلوم کرنا بہت ضروری ہے۔ ان دو واقعات سے یہ بات بھی باعث تشویش ہے کہ یہ عناصر ملک کے کسی بھی کونے میں جب چاہیں اور جہاں چاہیں اپنی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے افغانستان میں امن و امان کی صورت حال بہت ناگفتہ بہہ ہے۔ حال ہی میں وہاں متعدد بڑے بڑے واقعات میں درجنوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے افغانستان کی موجودہ حکومت تو تشویش میں مبتلا ہے ہی ساتھ ہی ساتھ خود امریکا جو افغانستان میں موجود ہے وہ خود بھی اس صورت حال سے کافی پریشان ہے۔ افغانستان ہر بڑی دہشتگردانہ کارروائی کے بعد پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے سے گریز نہیں کرتا۔ ابھی چند دن قبل عید میلادالنبی کے موقعے پر ایک افسوسناک واقعے میں بہت بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا۔ اس واقعے کا ذمہ دار بھی پاکستان کو ٹھہرایا جارہا تھا جس کی وجہ سے اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ پاکستان میں کسی بھی مقام پر کوئی کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ بات مشاہدے میں بھی آتی رہی ہے کہ افغانستان میں جب جب بھی کوئی بڑی دہشتگردانہ کارروائی ہوتی ہے پاکستان میں کوئی نہ کوئی افسوس ناک واقعہ ضرور ہوتا ہے۔ جب اکثر ایسا ہی ہوتا ہے تو پھر احتیاطی اقدامات کا نہ اٹھایا جانا سوال تو پیدا کرتا ہی ہے۔
ایک جانب امن و امان کی یہ صورت حال ہے اور دوسری جانب ملک بھر میں ٹی ایل پی رہنماؤں کیخلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کریک ڈاؤن ہو رہا ہے۔ خبروں کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنان گرفتار کر لئے گئے ہیں جس کی وجہ سےان گرفتاریوں کے خلاف ملک بھر میں کارکن سڑکوں پر نکل آئے ہیں،احتجاج کیا جارہا ہے، متعدد مقامات پر دھرنے کی کوشش بھی ہوئی ہے، کئی مقامات پر پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج بھی کیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد مقامات میدان جنگ بھی بن گئے ہیں۔
خادم حسین رضوی نے آنے والے کل کے دن یعنی 25 نومبر کو ہڑتال کی کال دی تھی۔ یاد رہے کہ کچھ دن قبل خادم حسین نے آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا جس کے نتیجے میں موجودہ حکومت سخت مشکلات کا شکار ہو گئی تھی اور نوبت یہاں تک آگئی تی کہ اگر یہ احتجاج ختم نہیں کروایا جاتا تو بقول وزیر اعظم عمران خان صاحب، حکومت کو بھی خطرہ ہو سکتا تھا۔ حکومت نے نہایت حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اور ہر قسم کی پر تشدد کارروائیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک معاہدے کے مطابق ٹی ایل پی کو اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ وہ دھرنا ختم کردے گی اور ایسا ہوا بھی لیکن لگتا ہے کہ حسب روایت معاہدے کی بات ایک وقتی بہلاوہ تھا جس کی وجہ سے خادم رضوی کو ملک بھرمیں ہڑتال کا اعلان کرنا پڑا۔
سوال یہ ہے اگر ٹی ایل پی اور حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ ہوگیا تھا تو اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا۔ یہی نہیں ملک میں اعلان بغاوت جیسی بات کے باوجود معاہدہ کیا ہی کیوں گیا اور بروقت کارروائی کیوں نہ ہوئی اور سب سے اہم بات یہ کہ کورٹ نے خادم حسین اور ان کی جماعت کے خلاف جمع کی جانے والی پٹیشن کو کیوں قابل سماعت نہیں سمجھا جس میں ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلائے جانے کی درخواست کی گئی تھی۔ جس پارٹی اور ان کے رہنماؤں کی کھلی غداری کے باوجود بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی اچانک وہ ملک کی سالمیت کیلئے اتنا بڑا خطرہ کیسے بن گئے کہ راتوں رات پارٹی اور سربراہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ضروری ہو گیا۔
موجودہ حکومت سے یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب یہی پارٹی اور اس کے رہنما گزشتہ حکومت کے خلاف ایک طویل دھرنا دے رہے تھے تو اس وقت ان کی یہی حرکت ملک دشمنی کیوں نہیں سمجھی گئی جبکہ اس دوران عوام کی زندگی کو اسی طرح مفلوج کیا گیا تھا اور دھرنے کے نتیجے میں ملک کو کئی لحاظ سے بڑے نقصانات بھی اٹھانے پڑے تھے۔
ملک کی موجودہ صورت حال پر آرمی چیف کا بیان بھی سامنے آیا ہے انھوں نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر دانستہ، غیردانستہ طور پر ملک کو تصادم کی طرف لے جا رہے ہیں، ریاست میں مذہب، لسانیت یا کسی اور بنیاد پر انتشار پھیلنے نہیں دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ متحرک کوششوں سمیت اندرونی قوتوں اوربیرونی دشمن کے ایجنڈے سے باخبر رہتے ہوئے ہمیں بنیادی وجوہات سے نمٹنے کیلیے اقدامات اٹھانے چاہئیں، پیشہ ورانہ صلاحیت اور آپریشنل تیاریوں کے ذریعے جنگ کو روکا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ہماری توجہ سماجی و اقتصادی ترقی پرمرکوز ہو تاکہ پاکستان کے عوام بہتر سیکورٹی سے استفادہ کرسکیں۔ آرمی چیف نے مزیدکہا کہ امن اور ترقی قانون کی پاسداری سے ہی ممکن ہے، سماجی اور اقتصادی ترقی کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔
یہ بات درست ہے کہ ریاست مخالف عناصر کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی لیکن بہر حال اس جنگ کا اختتام ہونا ہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اگر ان کی اس بات پر غور کیا جائے کہ ایسا ہونے کی وجوہات کیا ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسپر کون غور کریگا، کب کرے گا یا کب تک کئے جانے کی توقع باندھی جائے؟۔ بات دراصل یہی ہے کہ ان سب معاملات پر حکومتیں ہی غور کیا کرتی ہیں اور نشاندہی کے بعد ان مسائل کو حل کرتی ہیں جن کی وجہ سے عوام میں بے چینی اور محرومیاں جنم لیتی ہیں اور پھر یہی محرومیاں اور بے چینیاں امن و سکون کو برباد کرکے رکھ دیتی ہیں۔
عدل و انصاف کا نہ ملنا، بے بس اور بس والوں کی تفریق، ملازمتوں کے مواقعوں کا فقدان، مہنگائی، تعلیم سے محرومی اور لوگوں کے جان و مال کا عدم تحفظ ملک میں امن و امان کی صورت حال کو بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ملک میں چور اور ڈاکو پیدا ہونے لگتے ہیں، بازار، گھر اور راہ چلتے افراد لوٹے جانے لگتے ہیں، قتل و غارت گری معمول بن جاتی ہے اور قانون نافذ کرنے والوں کا امتیازی سلوک زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیتا ہے۔ یہاں دیکھنا یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومت بنیادی وجوہات کو دور کرنے کے اسباب کر رہی ہے یا مہنگائی، بے روزگاری، انصاف میں امتیاز اور لاانفرسمنٹ ایجنسیوں کی کرپشن کو فروغ دے رہی ہے۔ جب تک ان سب باتوں کا خاتمہ نہیں ہوگا اس وقت تک یہ سوچنا کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال مثالی ہو جائے گی اور پاکستان مدینہ جیسی فلاحی و اسلامی ریاست بن جائے گا مجذوب کی بڑ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
