ہر گھر کا ایک سربراہ ہوتا ہے، اس حقیقت سے کوئی بھی سمجھ والا انکار کی جرات نہیں کر سکتا۔ سر براہی کامعاملہ ایسا ہی ہےکہ زندگی کا کوئی بھی پہلواس سے مستثنیٰ نہیں۔ ایک چھوٹی سی دکان ہو، جنرل اسٹور ہو، مل ہو، کارخانہ ہو یا کوئی بھی ادارہ، اس کا ایک سربراہ ہوتا ہے۔ جب ہر چھوٹے بڑے کاروبار سے لیکر اداروں کے سربراہ تک کا ہونا شرط ہو اور ان کے بغیر کاروبار حیات کا چلنا ممکن ہی نہیں ہو تو پھر ایک ریاست کسی بھی سربراہ اور نگراں کے بغیر کیونکر چل سکتی ہے۔
گفتگو کے اس موڑ پر اس بات کا سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ایک گھر سے لیکر بڑے سے بڑے ادارے یہاں تک کہ ریاست کے سربراہ تک کا بہت واضح اور صاف صاف دکھائی دینا یا باالفاظ دیگر سربراہ کی تمکنت، اس کا جاہ و جلال اور اس کی ریاست کے ایک ایک شعبے پر مکمل دسترس کے ہونے کا اظہار اس بات کی ترجمانی کرتا نظر آنا بھی بے حد ضروری ہے تاکہ ہر فرد و بشر کو اس بات کا خوب اچھی طرح اندازہ ہو سکے کہ اسی کے قبضہ قدرت میں ریاست کی باگ ڈور ہے۔
پاکستان بھی ایک ریاست ہے لیکن ایک طویل عرصے سے اس بات کاعلم نہیں ہو پارہا کہ اس ریاست کے اصل نگراں یا نگہبان کون ہیں؟۔ وہ ہیں جو مسند اقتدار پر بیٹھے ہوئے ہیں یا پھر وہ مضبوط ادارہ جو ہر اہم موقع پر یہ احساس دلاتا نطرآتا ہے کہ اگر کسی نے یوں کیا یا یوں نہیں کیا تو ریاست حرکت میں آجائے گی اور ہر اس فرد کا خاتمہ کردے گی یا سزا دیگی جو ریاست سے ٹکرانے کی جرات کریگا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کا تحفظ ملک کے آئین و قانون پر بھی بظاہر بالا دستی رکھتا ہے۔ بہت بگڑی ہوئی صورت حال میں آئین و قانون معطل ہوجایا کرتا ہے، ہنگامی صورت حال کا اعلان کردیا جاتا ہے اور اختیارات سمٹ کر ایک ہاتھ میں آجایا کرتے ہیں اور یہ صورت حال اس وقت تک بر قرار رہتی ہے جب تک کہ حالات معمول پر نہ آجائیں۔ بظاہر تو یہ عمل آئین و قانون سے بالاتر نظر آتا ہے لیکن جس آئین کو عارضی طور پر معطل کیا گیا ہوتا ہے اسی آئین میں ہی اس بات کی گنجائش دی ہوئی ہوتی ہے کہ اس قسم کی صورت حال میں ایسا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ گویا یہ آئینی تعطل اور اٹھایا گیا بظاہر غیر آئینی قدم بھی قانونی اور آئینی ہی ہوتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کا کوئی بھی قدم آخر اٹھا تا کون ہے؟۔ کیا اسے حکومت وقت اٹھاتی ہے یا کوئی اور؟۔ اگر اسے حکومت اٹھاتی ہے تو وہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ حکومت ملک کے سارے اداروں اور حکومت کے سارے امور پر قادر ہے لیکن اگر یہ اقدام حکومت کے علاوہ کوئی اور قوت اٹھا رہی ہوتی ہے تو پھر اس کو ہنگامی صورت حال نہیں کہتے بلکہ اس قسم کی صورت حال کو ‘انقلاب’ کہا جاتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ جو بھی حکومت اس انقلاب سے قبل تھی وہ اپنے اختیارات کھو بیٹھی تھی اور اداروں اور ریاست کے کسی بھی شعبے پر اس کا ہر اختیار و اعتماد ختم ہو چکا تھا۔ ظاہر ہے ایسی حکومت ریاست کے وجود اور سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتی تھی لہٰذا ریاست کو بچانے کیلئے یا تو عوام میدان میں کود پڑتے ہیں یا پھر کوئی بھی مضبوط ادارہ ایسا کرنے پر مجبور ہوجا تا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ تبدیلی خواہ عوامی طاقت کا مظہر ہو یا ریاست کے مضبوط ترین ادارے (فوج) کا شاخسانہ، انقلابیوں کو ریاست کیلئے سب سے پہلا قدم جو اٹھانا پڑتا ہے وہ حکومت سازی کا ہی ہوتا ہے۔ اس قدم کے اٹھانے کے بعد ہی ریاست کا وہ تصور جو بحران کا شکار ہوکر دنیا میں تماشہ بن چکا ہوتا ہے، ابھر کر سامنے آتا ہے اور دنیا سکون کا سانس لیتی ہے۔ گویا کچھ بھی ہوجائے، ریاست کے اصل مالک اس کے حکمران ہی ہوتے ہیں خواہ ان کو کسی بھی نام سے پکارا جائے۔
جب یہ طے ہے کہ کسی بھی ریاست کے اصل والی وارثوں یعنی حکمرانوں کا سرآئینہ اور پس آئینہ ایک ہی ہونا ضروری ہے تو پھر پاکستان میں کیوں ضروری نہیں۔ کیا بار بار پوری دنیا کے سامنے یہ دہرانا کہ سب قوتیں ایک ہی پیج یا باالفاظ دیگر حکومت کا سارے اداروں پر مکمل کنٹرول ہے تو مسلسل یہ تکرار کہ سب ادارے ایک پیج پر ہیں، بے معنی سا نہیں ہوجاتا؟۔ دنیا کے ہر ملک میں سب ادارے حکمران وقت کے ہی تحت ہوا کرتے ہیں اور جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں نہ تو امن ہوتا ہے اور نہ ہی سکون بلکہ ایسے معاشرے یا ریاستیں کشمکش اور جنگ و جدل کا شکار ہی نظر آتے ہیں۔
جب ریاست کا دوسرا نام حکومت ہی ہو تو پھر کسی بھی ادارے کا بار بار یہ احساس دلانا کہ اگر کسی نے ریاست کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی یا ریاست کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی تو ریاست کو اس کے خلاف ‘زور’ لگانا پڑجائے گا۔ یہ باتیں ریاست کے سربراہ کے منھ سے ہی بھلی لگتی ہیں یا پھر ریاست کسی بھی وزیر، مشیر یا ادارے کو یہ اختیار دے کہ وہ اس قسم کے لب و لہجے میں بات کرے۔ ملک کا دفاع ہو، امن و امان کی خراب صورت حال کا تجزیہ و تقاضہ ہو، ریاست دشمنوں کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات ہوں، خارجی تعلقات کا ذکر ہو یا اندرونی خلفشار کے خلاف تادیبی کارروائیاں، ان سب معاملات کو عوام کے سامنے رکھنا، ان کو اعتماد میں لینا اور کسی بھی بگڑی ہوئی صورت حال میں کسی کو تھریٹ کرنا کسی بھی جمہوری یا غیر جمہوری ملک میں ملک کے سالاروں یا ان کے ترجمانوں کا کام نہیں ہوا کرتا لیکن نہ جانے پاکستان میں یہ سارے امور حکومتیں کیوں انجام نہیں دیا کرتیں؟۔ اگر تقریباً تمام حکومتی امور عدالتوں یا سالاروں کی ذمہ داری ہے تو پھر کاٹھ کے الوؤں کی ضرورت کس لئے محسوس کی جاتی ہے؟۔
گزشتہ کل ہی کیا، جب جب بھی فوج کے کے ترجمان کی کوئی اہم پریس بریفنگ ہوتی ہے پوری دنیا کو یہی تاثر جاتا ہے کہ ریاست پاکستان کے جتنے بھی اہم امور ہیں ان کو چلانا حکومت کی نہیں ان ہی کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کی ذمہ داریوں میں نہ تو امن و امان کو برقرار رکھنا ہے، نہ جلسے جلوسوں کو بپھرنے سے روکنا ہے، نہ غداروں کے خلاف کوئی مثبت اور مضبوط قدم اٹھنا ہے، نہ ریاست کے مجرموں کو گرفتار کرنا ہے، نہ سیلابوں اور آسمانی آفتوں کی صورت میں عوام کو مدد فراہم کرنا ہے، نہ امور خارجہ کو دیکھنا ہے اور نہ ہی داخلی معاملات کو سنبھالنا ہے۔ قانون ساز ادارے ایک دوسرے کو ننگا کرنے کا کام کرتے ہیں اور عدالتیں ہدایت جاری کررہی ہوتی ہے کہ کس کس کے کاروبار کو اجاڑنا ہے اور کس کس کے گھر مسمار کرکے اس کے بیوی بچوں کو بے گھر کرکے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کرنا ہے۔ گویا اب حکومت کیلئے کرنے کے یہی کام رہ گئے ہیں کہ عدالت کے ایک حکم کی تکمیل کے بعد پھر عدالت کی جانب منھ کرکے کھڑی ہوجائے کہ دیکھیں اس کے بعد عدالت کی جانب سے کیا حکم نامہ جاری ہوتا ہے۔
ویسے سچ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ جس ملک کے حکمرانوں کو سرکاری یا نجی ٹیلیوژنوں کی خبروں سے ملک کی خبریں ملتی ہوں اس حکومت کو حکومت کہنا اور حاکم کو اصل حاکم ماننا بھی حماقت ہی ہے۔
جو باتیں حکومت وقت کے حاکم کو کرنے چاہئیں وہ باتیں جب ماتحت ادارے بیان کرنے لگیں تو پھر حکومت پر کوئی الزام رکھنا درست کیسے ہو سکتا ہے۔ جب نگہبانی ظاہرہ نگہبانوں کی نہ ہو تو پھر صورت حال کچھ یوں ہی نظر آنے لگتی ہے۔
آئی ایس آر کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ پشتون تحفط موومنٹ کے تین مطالبات تھے جو ہم نے پورے کر دیئے تو اس کے جواب میں پشتون مومنٹ کی جانب سے فوری بیان آتا ہے کہ ہمارے تین نہیں چھ مطالبات تھے۔ اب اس بات کا کون فیصلہ کریگا کہ مطالبات 3 تھے یا 6؟۔ نیز یہ مطالبات کس کے سامنے اور کب رکھے گئے؟۔ کیا یہ مطالبات ریاست (حکومت) کیلئے تھے یا یہ مطالبات کسی ادارے سے ہی کئے جانے تھے؟۔ صورت حال جو بھی ہو لیکن کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ حکومت کو اعتماد میں لیا جاتا۔ اگر ان کے مطالبات کا تعلق کسی علاقائی معاملے سے تھا تو کسی حد تک تو ٹھیک ہی تھا لیکن اگر ان کے مطالبوں میں ایسے معاملات تھے جو پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتے تھے تو حکومت کی رضا مندی کے بغیر کوئی بھی معاہدہ کتنی پائیداری رکھتا ہے؟۔
معاملات یقیناً اتنے حساس ہونگے کہ ایک حساس ادارہ ان کے خلاف نہایت سخت قدم اٹھانے کا ارادہ بھی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ صاف صاف متنبہ کردیا گیا ہے کہ اگر پی ٹی ایم نے حد پار کی تو ریاست صورتحال پر قابو پانے کے لیے اختیارات کا استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
بے شک ریاست کے غداروں کے ساتھ ایسا ہی کرنا اور ہونا چاہیے لیکن یہ لب و لہجہ ریاست کے اصل وارثوں (حکومت) کو اختیار کرنا چاہیے تھا جس سے دنیا میں یہ پیغام جاتا کہ سارے ادارے ایک ہی پیج پر ہیں اور وہ ریاست کے وارثوں (حکومت) کا پیج ہے۔
لاپتہ افراد کے بارے میں پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا ’پی ٹی ایم نے ابتدائی فہرست سات ہزار سے نو ہزار تک لوگوں کی دی۔ 2010 میں ایک کمیشن بنا۔ ایک طرف یہ کیسز اس کمیشن اور عدالتوں میں تھے۔ روزانہ کی بنیادوں پر ان کی سماعت ہو رہی ہے تو سات ہزار میں سے چار ہزار کیسز حل ہو چکے ہیں، جبکہ تین ہزار کیسز چل رہے ہیں۔ 15 سالہ جنگ میں کئی لوگ مارے گئے کئی لوگ ٹی ٹی پی کی فوج میں اب بھی ہیں۔ اب یہ کیسے ثابت ہوگا کہ وہ ان کا حصہ ہیں یا نہیں یا کسی اور جنگی گروہ میں شامل ہو گئے ہیں۔
پاک فوج کے ترجمان کی اس بات میں بہت وزن ہے کہ ہزاروں لاپتہ افراد وہ بھی ہیں جو اپنی مرضی و منشا کے ساتھ کسی جنگ کا حصہ بنے۔ لیکن جن افراد کو بیسیوں لوگوں کی آنکھوں کے سامنے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اٹھایا ہو اور پھر وہ تاحال لاپتہ ہوں یا پھر ان کی لاشیں ویرانوں یا سرد خانوں سے ملی ہوں اس کے جواب میں کیا کہا جائے گا؟۔ افراد کا خود سے بھاگ جانا بھی کوئی اتنا کم جوابدہ نہیں۔ اگر ہزاروں کی تعداد میں افراد سرحدیں پار کرسکتے ہیں تو سرحدوں کا محافظ ادارہ ذمہ داری سے کیونکر سبک دوش سمجھا جاسکتا ہے۔ اگر سرحدوں کے اس پار چلے جانا وہ بھی ہزاروں کی تعداد میں، اتنا آسان ہے تو پھر دوسری جانب سے اس پار آجانا بھی اتنا ہی سہل ہوگا۔ کیا ایسی صورت میں پاکستان کو محفوظ ملک سمجھا جا سکتا ہے؟۔ لہٰذا کوئی خود لاپتہ ہوا ہے یا لاپتہ کردیا گیا ہے، اگر کوئی ادارے سے اس بابت پوچھے تو ایسا پوچھنا اس کا حق بنتا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے جہاں اپنی کارکردگی بیان کی جو بلاشبہ لائق تحسین ہے وہیں انھوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ بعض معاملات میں وہ نتائج نہیں نکل سکے جن کی توقعات کی جا رہی تھیں جس میں اسلحے سے پاک پاکستان جیسا مقصد بھی شامل ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا ‘ اس حوالے سے حکومت کے ساتھ مل کر لائسنس کے اجرا اور قانونی سازی کی کوشش کی جارہی ہے’۔
پاکستان کی آرمی کی قربانیاں اور پاکستان کی تعمیر نو کی کوششیں اپنی جگہ اور ترجمان کا یہ کہنا کہ ہم اس کی ایک ایک اینٹ کو دوبارہ ٹھیک ٹھیک لگانے کی جد و جہد میں مصروف ہیں، بہت ہی حوصلہ افزا بات ہے لیکن جن جن افراد، پارٹیوں، سیاستدانوں اور بیروکریٹس نے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی ہے، ان کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ انھیں قرار واقعی سزا بھی دی جائے گی ورنہ ریاست کی دیواریں ہی نہیں،بنیادیں بھی ہل کر رہ جائیں گی۔ امید ہے کہ ایسے تمام لوگ اپنے برے انجام کو ضرور پہنچیں گے۔
قوم کو چاہیے کہ وہ ریاست اور ریاست کو تحفظ دینے والی قوتوں کے حق میں نہ صرف دعائیں کرے، ان کے ہاتھ پاؤں مضبوط کرے، ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرے اور ملک کو بچانے میں جو بھی قربانی ممکن ہو دے کیونکہ ملک ہے تو ہم سب ہیں اور اگر ملک ہی نہیں تو ہم کہاں سے ہو سکتے ہیں۔
یہاں ہم پاک افواج سے یہ گزارش بھی کرتے ہیں کہ اس ملک کو صرف اور صرف اسلام اور ناموس رسالت کیلئے قائم کیا گیا تھا لہٰذا خواہ وہ موجودہ حکومت ہو یا کچھ اور عناصر، اگر وہ اس مقصد سے پہلو تہی کرتے نظر آرہے ہوں تو ان کو واپس درست راستے پر لائیں۔ ملک سلامت بھی رہ گیا لیکن دین ہاتھ سے نکل گیا تو اس سے بڑا خسارہ کوئی بھی نہیں ہو سکے گا اور ایسا جینا جیتے جی مرجانے کے مترادف ہوگا۔ امید ہے کہ وہ زمینی سرحدوں کا ہی نہیں پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا بھی بھرپور دفاع کریگی۔
