خبریں  اورتجزیے

پہلی خبر یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 14نوجوانوں کی شہادت پر تیسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ جنت نظیر وادی میں سوگ کا سماں ہے۔آرمی ہیڈ کوارٹر کی جانب احتجاجی مارچ کی قیادت کرنے والے حریت رہنماؤں میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کو گرفتارکرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیاجب کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کی رہائش گاہ کے دروازے کو سیل کرکے احتجاج میں شرکت سے روک دیا گیا۔ پولیس نے حریت رہنماؤں بلال احمد صدیقی، محمد یوسف نقاش، محمد یٰسین عطائی، محمد اشرف لایا، سید امتیاز حیدر سمیت سیکڑوں افراد کو گھروں اور تھانوں میں نظربندکردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت رہنماؤں کی گرفتاری کے باوجود کشمیری نوجوانوں نے احتجاجی مارچ کو جاری رکھا اور بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود بڑی تعداد میں بادامی باغ پہنچ گئے اور بھارتی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔احتجاجی مارچ کو روکنے کے لیے کٹھ پتلی انتظامیہ نے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کردیں اور مزید اضافی نفری تعینات کرکے وادی بھرمیں کرفیو بھی نافذ کردیا گیا۔ کئی اضلاع میں نیٹ اور موبائل سروس بھی بند کردی گئی ہے۔

ان حالات   کے پیش نظر ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفورنے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر مسلح بہادر کشمیری حریت پسندوں کو گولیوں سے دبایا نہیں جاسکتا۔ ترجمان نے کہا کہ معصوم کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی اور کنٹرول لائن پر سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کا غیر اخلاقی اقدام انتہائی قابل مذمت ہے،بھارتی فوج پیشہ وارانہ سپاہیوں کی اخلاقیات کا خیال رکھے۔

اس قسم کے حالات پر  اسلامی تعاون تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کا قتل عام بند کرے۔او آئی سی نے بھارتی فوج کے ظلم کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ضلع پلوامہ میں نہتے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس نے معصوم کشمیریوں کی جان لے لی۔او آئی سی نے اپنے بیان میں عالمی برادری سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی اور کشمیری عوام کی امنگوں پر کشمیر کے تنازع کا مستقل اور پائیدار حل نکالنے کا مطالبہ بھی کیا۔ او آئی سی نے شہید ہونے والے کشمیریوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

دوسری خبر کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پاکستان کی قید میں ہے لیکن اس کا نیٹ ورک  فعال ہے، صوبے میں دہشتگردی کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں ۔ بھارتی جاسوس حامد نہال انصاری کی رہائی پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے قتل عام پر بھارت کو “تحفہ” اور کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔  بلوچستان سے اب بھی ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں جن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا جارہا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ بلوچستان کی محرومیوں کا فوری ازالہ کرنے کی ضرورت ہے ۔

کشمیر 70 دھائیوں سے ظلم و ستم کی داستان بنا ہوا ہے۔ بھارتی مظالم ہیں کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ ہر ابھر نے والا سورج اور نکلنے والا نیا دن ان کے مصائب اور مشکلات میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔بھارتی افواج کا کشمیریوں کو ماردینا  ایسا ہی بن گیا ہے جیسے جانوروں کا شکار کھیلنا۔ دنیا میں شکار کے بھی کچھ نہ کچھ قوانین ہوا کرتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ کشمیریوں کا شکار کسی بھی قانون کے دائرے میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ اس ظلم پر پاکستان کے آرمی چیف بھی بولے اور بھرپور طریقے سے بولے۔ پاکستان کے آرمی چیف پہلے بھی متعددبار کشمیر میں ہونے والے ظلم پر بولتے رہے ہیں لیکن بھارت نے اس سلسلے میں چپ کا ایسا روزہ رکھا ہوا ہے کہ وہ ‘ہوں ہاں’ تک کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اس مرتبہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ عالمی اسلامی تنظیم نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم اور کشمیریوں کے قتل عام کا نوٹس لیا ہے ورنہ تو یہ تنظیم بھی منھ میں الفی ڈالے رہنے کے علاوہ اور کچھ کرتی نظر نہیں آئی۔  تنظیم نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرانے کا کہا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ دنیا میں ایک دو نہیں بیسیوں ممالک ہیں اور ان کی تنظیم ‘او آئی سی’ اتنی بے بس و بے کس ہے کہ یہ بھی  عالمی اداروں سے دونوں ہاتھ جوڑ کر صرف انصاف کی بھیک مانگ سکتی ہے، کسی بھی قسم کا کوئی عملی قدم نہیں اٹھا سکتی۔

اس تنظیم میں جتنے بھی ممالک شامل ہیں ان سب میں بھارت کی مصنوعات سے بازار پٹے پڑے ہیں لیکن ان میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ وہ بھارت سے ہر قسم کی لین دین ترک کردیں۔ لین دین ترک کردینا تو دور کی بات، ان ممالک نے کبھی بھارت کو یہ دھمکی تک نہیں دی کہ اگر کشمیر میں خونریزی بند نہیں ہوئی یا خود بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی اور ظالمانہ سلوک بند نہ ہوا تو وہ بھارت کی ہر قسم کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ جب حالات اس قسم کے ہوں تو خالی مذمتی بیانات اور عالمی اداروں کے آگے رونے گانے سے بھارت کا کیا بگڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب سراج الحق صاحب نے بھی زبردست نقاط اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کل بھوشن یادیو جو بھارتی جاسوس ہے اسے قید میں تو رکھا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اس کا نیٹ ورک بحال ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان کا یہ کہنا بھی تھا کہ بھارتی جاسوس حامد نہال انصاری کی رہائی پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے قتل عام پر بھارت کو “تحفہ” اور کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب کی اس بات میں جہاں گہرا طنز پوشیدہ ہے وہیں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر ترجمان پاک فوج کا بیان، پاکستان کی پارلیمنٹ کی بھارت مظالم کے خلاف قرارداد  اور او آئی سی  کا عالمی اداروں سے کشمیر میں ہونے والے مظالم  کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل  پر ایک خاموش تبصرہ بھی ہے جس کو سمجھنے کیلئے باتوں کی گہرائی تک اترنا ضروری ہے۔ ایک جانب ہم دنیا سے کتنی ہی رحم رحم کی اپیلیں کرتے رہیں لیکن اگر دوسری جانب ہم اپنے رویوں سے بھارت کو دوستی اور بھائی چارگی کے پیغامات پر پیغامات ارسال کرتے رہیں گے تو دنیا میں ہماری آواز کاکیا وزن رہے گا۔

ایک جانب ہم بھارت پر یہ الزام لگاتے رہیں کہ وہ ہمارے اندرونی حالات کے بگاڑ میں مصروف ہے اور دوسری جانب ہم اس کے گرفتار جاسوس کو رہا کرتے رہیں اور گرفتاشدہ جاسوس کو وی وی آئی پی سہولتیں مہیا کرکے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے میں پیش پیش ہوں تو ہمارے الزامات میں صداقت کو کون تسلیم کرے گا؟۔

امر جماعت اسلامی کی ایک اور بات بھی بڑی توجہ طلب ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بلوچستان میں ہزاروں افراد اب بھی لاپتا ہیں جس کی وجہ سے صوبے میں محرومی اور مظلومی کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کی یہ شکایت کوئی نئی نہیں ہے بلکہ کافی پرانی ہے۔ الیکشن کے ہر دور میں اس بات کو پاکستان کی ہر سیاسی جماعت نے اپنا قد اونچا کرنے کیلئے بلوچستان کے لاپتہ افراد کے مسئلے کو اپنی موومنٹ کا حصہ بنایا ہے۔ خود بلوچ بھی کئی بار باہر نکلے ہیں یہاں تک کہ کچھ بلوچوں نے بلوچستان سے لیکر اسلام آباد تک پیدل مارچ بھی کیا ہے۔ سابق چیف جسٹس، افتخار چودھری بھی اس سلسلے میں مقتدراداروں سے پوچھ گچھ کرتے رہے ہیں لیکن آج تک نہ تو مسنگ پر سن رہا ہو سکے ہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی خاص کامیابی  حاصل ہو سکی ہے۔ بات صرف ان کے لاپتا ہونے یا قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھوں اٹھائے جانے کی حد ہی محدود نہیں ہے بلکہ ایک جانب تو ان کے مردہ حالت میں پائے جانے  کی اور دوسری جانب ان کو کئی برس گزرجانے کے بعد بھی عدالت میں پیش نہیں کرنے کی بھی ہے۔

جب پاکستان کشمیر میں ہونے والے مظالم کیلئے دنیا کے ہر فورم پر اپنا احتجاج رقم کرارہا ہوتا ہے تو پھر اس کو اپنے ملک کے ایک بہت حساس صوبے میں ہونے والے اس رویے پر بھی لازماً غور کرنا ہوگا اس لئے کہ اگر دنیا کشمیر میں ہونے والے ظلم کیلئے اپنی آواز بلند کریگی تو یہ ممکن نہیں کہ وہ پاکستان کے اندرونی حالات کے متعلق خاموش رہے۔

یہ بات اب اس لحاظ سے بھی سطحی نہیں رہ گئی ہے کہ پاکستان میں موجود کچھ تنظیمیں ان رویوں کی شکایات از خودعالمی فورمز میں اٹھا رہی ہیں۔ کسی ملک کے اندر کے لوگ اگر کہیں بھی آواز احتجاج بلند کرنے لگیں تو عالمی اداروں کا حرکت میں آجانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔

پاکستان کو یہ بات بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اور فی زمانہ دنیا کی کوئی بھی طاقت مسلمانوں کے حق میں کھڑا ہونے کیلئے تیار نہیں اس لئے ضروری ہے کہ جہاں ہم مسلمانوں کے خلاف ہونے والے امتیازی رویوں اور مظالم کے خلاف آواز اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں وہیں اس بات سے بھی چشم پوشی نہ کریں کہ ہماری جانب سے خود ہمارے اپنے عوام کسی زیادتی کا شکار ہوں۔ بات ہے تو چھوٹے منھ کی، کاش بڑے منھ والے اس پر بھی غور کرلیں تو ممکن ہے کہ اقوام عالم ہماری باتوں پر بھی کان دھرنے لگے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here