پاکستان میں 2018 سے قبل جتنے بھی الیکشن ہوئے اس میں یا تو مذہب (اسلام) بنیاد بنایا گیا یا جمہوریت، جمہوری حقوق ،جمہوری آزادی کے نعرے لگائے گئے یا پھر افغان جہاد کو کیش کریا گیا لیکن 2018 کے الیکشن میں جو بات سب سے زیادہ شدومد کے ساتھ اٹھائی گئی وہ کرپشن کے خلاف آواز تھی۔ الیکشن بھی ہو گئے اور اگر ان کے نتائج کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا جائے تویہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کرپشن کے خلاف لگایا گیا نعرہ جیت گیا اور باقی سارے نعرے اور آوازیں دب کر رہ گئیں۔ کیونکہ کامیابی اس نعرے نے حاصل کی جس میں ساری جھنکار کرپشن کے گھنگروؤں کی تھی اور جس میں کہیں سے کہیں تک نہ تو جمہوریت کے سر تھے اور نہ ہی مذہب کی نغمگی، اس لئے اب تک حکومت کا کوئی بھی اٹھنے والا قدم ایسا نہیں جس میں جمہوریت کی دھمک اور مذہب کی جھنکار سنائی دے رہی ہو۔
پاکستان بے شک اسلام کے نام پرہی بنا تھا لیکن لگتا ہے کہ وہ ساری باتیں خواب و خیال ہی تھیں۔ ایک بھیانک خواب تھااور یہ بھیانک خواب لاکھوں انسانوں کی زندگیاں اجاڑ گیا۔ لوگ اپنا سب کچھ گنوا کے اس لئے خوش تھے کہ انھوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا لیکن کسی کو کیا پتہ تھا کہ جب آنکھ کھلے گی تووہ کوئی اور ہی منظر دیکھ رہے ہونگے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی سرزمین میں مذہب سے باغی لوگ قیام پاکستان سے قبل ہی بہت بڑی تعداد میں موجود تھے جو اس بات کے منتظر تھے کہ پاکستان بنے اور وہ آسیب کی طرح اس پر چھا جائیں اور وہ جذبہ جس کو جذبہ ایمانی کہا جاتا ہے اس کو دل و دماغ سے کھرچ کر پھینک دیں لیکن یہ جذبہ ایمانی اتنا کمزور نہیں تھا کہ راتوں رات اس کو جسم و روح سے نکال کر فوراً ہی جدا کر دیا جاتا۔ اس ایمانی جذبے کو لسانیت، علاقائیت اور پھر صوبائیت میں ڈھالا گیا۔ یہی تعصب پہلے مرحلے پر پاکستان کو آدھا کرنے کے کام آیا اور اب رفتہ رفتہ یہ زہر باقی ماندہ پاکستان میں گلی گلی اور محلے محلے سرائیت کرچکا ہے اور جس نظریہ پر پاکستان بنانے والوں نے بے مثال قربانیاں دی تھیں وہ اتنا مجروح کردیا گیا ہے کہ فی زمانہ اس نعرے کو کوئی سننا بھی گوارہ نہیں کرتا۔
چند مہینوں قبل تک کم از کم پاکستان میں کھلے عام کوئی فردنظریہ اسلام کے خلاف بات کرنے کی جرات نہیں کر سکتاتھا۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ آپ ﷺ کے متعلق یہ کہہ سکے کہ آپ ﷺ(نعوذ باللہ) اللہ کے آخری رسول نہیں تھے اور پاکستان کے وہ وہ مرتد جو اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھے کہ آپ ﷺ ہی اللہ کے آخری رسول ہیں ان میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ کھلے عام عقیدہ ختم نبوت سے انکار کر سکیں لیکن اب عالم یہ ہوگیا ہے کہ جیسے سارا ملک ہی ‘قادیان’ بن کر رہ گیا ہے اور کھلے عام اس بات کا اظہار کیا جارہا ہے وہ لوگ جو نبی آخرالزمان کوآخری نبی نہیں مانتے وہ بھی مسلمان ہی ہیں اور جو ان کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے وہ قانون کی گرفت میں لیا جارہا ہے۔ ایسے افراد کو جو ختم نبوت کے پروانے ہیں ان سے جیلیں آباد کی جارہی ہیں اور جو جیل میں نہیں ڈالے گئے ہیں ان پر مختلف پابندیاں لگا کر ان کاعرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔
اگر ان تمام اقدامات پر غور کیا جائے تو یوں لگتا ہے کہ اب پاکستان کے ساتھ ‘اسلامی’ اور ‘پاک’ کے الفاظ کسی ٹافی کے رنگین ریپر بن کر رہ گئے ہیں وہ بھی محض اس لئے کہ وہ سیدھے سادھے مسلمان جو اب بھی اسلام اور حرمت رسول پر جان دینا اور شہادت حاصل کرنا ایک اعزاز سمجھتے ہیں ان کو کسی طرح مطمئن رکھا جائے۔
موجودہ حکومت کا سب سے نمایاں نعرہ کرپشن کا خاتمہ ہی ہے لیکن بد قسمتی سے کرپشن کوصرف روپوں پیسوں میں ہیر پھیر تک ہی محدود کر دیا گیا ہے۔ جس ملک کو بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ وہاں اللہ کا نظام چلے گا، شراب اور منشی اشیا حرام ہونگی، خواتین باپردہ ہونگی، مرد غیرت مند ہونگے، زناکا اول تو کوئی تصور ہی نہیں ہوگا لیکن اگر کسی سے یہ فعل بد سہواً یا قصداً سرزد بھی ہو گیا تو اس پر حد جاری کی جائے گی۔ معاشرے میں کسی بھی قسم کا کاروبار سود پر نہیں استوار ہوگا۔ تجارت میں حرام اور حلال کا سختی سے خیال رکھا جائے گا۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں ہو سکے گی کہ وہ کم تولے۔ کسی قسم کی جعلسازی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ گود سے لیکر لحد تک کوئی ایک معاملہ بھی ایسا نہیں ہوگا جس کی بنیاد مکر اور فریب پر ہوگی۔ ہر فرد چلتا پھرتا قرآن ہوگا۔ کسی امیر کو کسی غریب پر، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہوگی۔ حاکمیت اعلیٰ اللہ کو حاصل ہوگی اور حکمران صرف اس کی نیابت کے فرائض انجام دیگا۔ سب سے بڑھ کر جو بات ہوگی وہ یہ ہوگی کہ احتساب اور انصاف کا ایسا نظام ہوگا کہ خلیفہ الوقت سے بھی ایک عام سا انسان نہ صرف جواب طلب کر سکے گا بلکہ خلیفہ پابند ہوگا کہ وہ نہ صرف جواب دے بلکہ وہ جواب طلب کرنے والے کو مکمل مطمئن کرے۔
یہ تھے وہ مقاصد جس کے حصول کے حصول کیلئے برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے وہ عظیم الشان قربانیاں دیں جن کا تذکرہ اگر دیانتداری سے کیا جائے تو دل والوں کے دل پھٹ کر رہ جائیں اور آنکھیں لہو روئیں۔ لیکن افسوس کہ قربانیاں دینے والوں کی قربانیاں رائیگاں چلی گئیں اور پاکستان میں وہ قوتیں غالب آگئیں جو اللہ کو خوش کرنے کی بجائے امریکہ، روس، چین، یورپ اور اسرائیل کو خوش دیکھنا چاہتی ہیں۔
کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت لوگوں کا احتساب کر رہی ہے۔ پاکستان میں ایک ادارہ ہے جس کو نیب کہا جاتا ہے۔ یہ ادارہ کرپٹ افراد کا احتساب کرنے پر مامور ہے لیکن عالم یہ ہے کہ اس ادارے کے جو جو بھی ذمہ داران ہیں ان کا ذاتی کردار خود شکوک و شبہات سے بالا تر نہیں۔ طریقہ کار بھی کچھ ایسا ہے کہ اس میں جھکاؤ کے پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اب تک اس کا دائرہ چند افراد تک محدود نظر آرہا ہے۔ اس کی نظر میں اس ملک میں احتساب کے لائق صرف سیاستدان ہی قرار پائے ہیں اور ان بھی اکثریت موجودہ حکومت کے مخالفین کی ہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں دولت کی لوٹ مار بہت بے دردی کے ساتھ ہوئی ہے۔ بے شک حکمران ہر قسم کی تعمیری اور تخریبی کاموں کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور ان سے پوچھ گچھ کوئی جرم نہیں۔ بات یہ ہے کہ کیا اس ملک پر صرف سیاستدان ہی حکمران رہے ہیں؟۔ پاکستان کا وہ کونسا ادارہ ہے جو سو فیصد فرشتوں پر مشتمل ہے۔ جو جتنا طاقتور اور با اختیار ہے وہ اپنی طاقت اور قوت تعمیر سے زیادہ تخریب میں صرف کرتا دکھائی دیتا ہے لیکن اب تک ادارے کی گرفت چند مخصوص افراد تک ہی محدودنظر آتی ہے۔ اسی بات کو نظر میں رکھتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ “نیب خود قابل احتساب ادارہ بن چکا ہے ، حکومت اور اپوزیشن کا احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے، بلوچستان میں بڑے پیمانے کی کرپشن پر نیب کی کوئی نظر نہیں حالانکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بلوچستان میں ورکس اینڈ سروسز محکمہ میں 68فیصد کرپشن ہوئی ہے، بلوچستان کو ظالم سرکار اور ظالم سردار نے مسائلستان بنادیا ہے،خوشحال بلوچستان ہی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے، انھوں نے مزید کہا کہ آصف زرداری سے پوچھا جائے کہ قبل از وقت الیکشن کا اشارہ دائیں سے ملا یا بائیں سے، وفاقی حکومت کے معاشی افلاطون نے پاکستانی روپے کو کاغذ کا ٹکڑا بنا دیا ہے”۔
جیسا کے میں نے عرض کیا تھا کہ بد قسمتی سے کرپشن صرف اور صرف پیسوں کی ہیر پھیر کا نام رکھ دیا گیا ہے۔ کیا یہ کرپشن نہیں کہ ملک کے آئین کو توڑا جائے، سیاسی پارٹیوں کو بنایا اور بگاڑا جائے، پارٹیوں کے امور میں مداخلت کی جائے، میڈیا کو احکامات کا پابند بنایا جائے۔ وہی خبریں نشر کی جاسکیں جن کو نشر کرنے کی اجازت ہو۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے جب چاہیں اور جس کو چاہیں اٹھالیں اور چاہیں تو عدالت میں پیش کریں اور چاہیں تو مالک حقیقی کے پاس بھیج دیں۔ کیا اسلام کے خلاف بولنے والے کرپٹ نہیں کہلاتے۔ شراب، منشیات، ناچ گانے، خواتین کے سرعام رقص، ان کا سچ سجاکے گلیوں بازاروں اور چینلوں پر چلنا پھرنا اور ہر قسم کے مخلوط ماحول میں چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھانا، سود کانظام، حلال و حرام کو ملحوظ رکھے بغیر تجارت جیسے کام کیا کرپشن نہیں؟۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ساری کرپشنوں کا احتساب کون کرے گا اور کب کرے گا؟۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں شراب، جوا اور منشی اشیا کی خریدو فروخت ہوتی رہی ہے۔ یہ بذات خود کوئی قابل فخر بات نہیں تھی لیکن کسی کام کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہونا اور کسی کام کو قانون میں جائز کردینے میں ایک واضح فرق ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت کا رویہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کرتا نظر آتا ہے۔ شراب کی ایک بوتل اور چرس کی ایک خاص مقدار اگر کوئی لیجارہا ہو تو کہا گیا ہے کہ اسے قانون اپنی گرفت میں نہ لے۔ اسی طرح شراب کے بل پیش کرنے کو سستی شہرت کا نام دے کر کس گناہ عظیم کے فروغ کی بات کی گئی ہے۔ اسی طرح قادیانیوں کو اگر حکومت وقت کے اکابرین ہی مسلمان ثابت کرنے پر تلے ہوں تو پھر کچھ دنوں بعد ان کو اقلیتوں کے کالم سے نکال دینے میں کتنے دیر لگے گی۔
اب مجھے کوئی یہ بات سمجھائے کہ کیا پیسوں کی کرپشن زیادہ بڑی ہے یا وہ کرپشن جو نہ صرف ایمان ہی بگاڑ کر رکھ دے بلکہ وہ مقصد جس کیلئے پاکستان معرض وجود میں لایا گیا تھا اس کا چہرے ہی مسخ کرکے رکھ دے۔
یہ وہ صورت حال ہے جس میں پاکستانیوں نے اور خاص طور سے دینی طبقے نے فوری اور بھرپور قدم نہیں اٹھایا اور ہماری افواج ایسے عناصر کی سرکوبی کیلئے نہ اٹھیں تو دنیا کہ نقشے میں ایک ملک ضرور ایسا ہو گا جس کا نام تو بے شک پاکستان ہی ہوگا لیکن ‘پاک ستان’ نہیں ہوگا۔ بس ایک ملک ہوگا جس میں مسلمانوں کے بے روح جسم چل پھر رہے ہونگے بالکل اس طرح جیسے امریکہ اور یورپ میں کچھ اجسام ہیں جو مسلمان بھی کہلاتے ہیں اور چل پھر رہے ہیں۔
