رہنماؤ ہمیں راستہ چاہیے

شاہ نامہ اسلام کے خالق جناب حفیظ جالندھری اپنے شاہ نامے میں ایک جگہ کچھ یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ

جو ہم آپس میں لڑتے ہیں یہ خصلت ہے دلیروں کی

کہ مل کر بیٹھنا عادت نہیں ہو تی ہے شیروں کی

بات تو سچ ہے مگر بڑی رسوائی کی بات ہے۔ اگر مذکورہ شعر کا تجزیہ تاریخ کی روشنی میں لیا جائے  تو اس میں مبالغہ بھی نہیں کہ کئی صدیوں سے ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے کہ مسلمان آپس میں ہی الجھتے چلے آرہے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو شاندار فتوحات مسلمانوں کے دور میں ہوئیں اس کی مثال شاید ہی تاریخ پیش کر سکے اور ان فتوحات کے بعد جو نظام عدل و انصاف مسلمانوں نے قائم کیا وہ نظام بھی ممکن نہیں کہ کوئی اور قوم پیش کر سکے جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی مسلمان قابض ہوئے وہاں کی آبادیاں در آبادیاں حلقہ بگوش اسلام ہوتی چلی گئیں اور اس طرح اسلام کی روشنی پورے کرہ عرض پر پھیل گئی۔ کچھ معترضین کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے بزور شمشیر لوگوں کو مسلمان ہونے پر مجبور کیا۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو پھر مسلمانوں کی سلطنت کا شیرازہ بکھرجانے کے بعد ان  سب کو اسلام سے پھر جانا چاہیے تھا لیکن تاحال ایسا ہوتا کہیں بھی نظر نہیں آرہا حتی کے چین اور میانمار (برما) کے وہ مسلمان جن پر آج بھی مظالم کی انتہا کردی گئی ہے وہ اپنے دین پر قائم ہیں اور ان کو اس بات کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کہ اس استقامت کے نتیجے میں ان کی عزت، آبرو، آل اولاد، گھربار اور جان تک جاسکتی ہے۔ اسلام پر اس شدت کے ساتھ قائم رہنا اور ہر قسم کے دکھ، درد، سختیاں اور مظالم جھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں نے کسی فرد و بشر کو بھی نوک شمشیر کے زور پر مسلمان نہیں بنایا بلکہ ایسا کردار پیش کیا کہ ان کو دیکھ کر آبادیاں کی آبادیاں اپنے رب کے قریب ہوتی گئیں اور اسلام کا نور ان کے قلب و جگر میں یوں اترا کہ اس کے سامنے ہر قسم کے مال ، دولت، حرص، لالچ اور جاہ حشمت کی چمک ماند ہو کر رہ گئی۔

یہ حقائق اپنی جگہ لیکن ابیس رجیم کے وار پر وار اپنی جگہ۔ ہوا یوں کہ جب جب بھی مسلمانوں کو اہل کفر سے الجھنے اور اسلامی ریاست کو مزید وسعت دیکر اسلام کی تعلیمات کو مزید پھیلانے سے فراغت ملی وہ آپس میں ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے رہے جس کا سلسلہ کسی بھی مرحلے اور مقام پر رکتا ہوا نظر نہیں آیا یہاں تک کے آج بھی مسلمان مسلمانوں سے برسر پیکار نظر آرہے ہیں اور اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی کے اسباب پیدا کرتے چلے جارہے ہیں۔

سارے عالم اسلام پر اگر نظر ڈالی جائے تو مسلمان ممالک میں ہر جانب ایسے ہی خوفناک حالات دکھائی دے رہے ہیں۔ ہر ملک دو  دوتین تین حصوں میں بٹا ہوا نظر آرہا ہے اور ہر عسکری گروہ اپنے تئیں اپنے ہی آپ کو حق اور سچ کا دعویدار سمجھتا ہے اور ہر سامنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج خیال کرکے اس کی گردن اڑادینے کو کار ثواب میں شمار کرکے اس کے لہو سے اپنے ہاتھ رنگ کر نعرہ تکبیر بلند کرتا دکھائی دیتا ہے جو ایک فعل قبیح اور لائق تعزیر جرم ہے۔

وہ ملک جو محض اس لئے معرض وجود میں آیا تھا کہ وہاں رب العالمین کا وہ نظام ہوگا جو امن و سلامتی کا مظہر ہے، اس میں نہ تو کوئی چھوٹا ہوگا اور نہ کوئی بڑا، نہ کوئی امیر امیر ہوگا اور نہ ہی کسی غریب کو غریب سمجھا جائے گا۔ کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی فوقیت نہیں ہوگی۔ ہر فرد ایک دوسرے کا بھائی ہوگا۔ ملک میں کسی کا پڑوسی بھی بھوکا نہیں سوئے گا۔ انصاف کا بول بالا ہوگا اور اس کا حاکم حاکم نہیں قوم کا خادم ہوگا اور کمزور سے کمزور ترین فرد بھی اپنے حاکم سے جواب طلب کرنے کا اختیار رکھتا ہوگا لیکن اسی ملک کے لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے اور اس قتل و غارت گری کے نتیجے میں اپنا آدھے سے زیادہ ملک گنوا بیٹھے اور باقی ماندہ ملک بھی کوئی اچھی صورت حال کا نقشہ پیش نہیں کر رہا اور اپنے ہی مسلمان بھائی اب بھی اپنے ہی بھائیوں کا گلا کاٹتے نظر آرہے ہیں اور ہر فریق ایسا کرنا عین اسلام و ثواب سجھ رہا ہے۔

اس تمام صورت حال کے باوجود بھی کوئی اس بات کو سمجھنے کیلئے تیار نہیں کہ یہ سب ابلیس رجیم کی ‘پھونک’ کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے ہم مسلسل تباہی و بربادی کی جانب بڑھتے جارہے ہیں۔ ان حالات کو دیکھنے کے باوجود بھی  ہم سنبھلنے اور عبرت حاصل کرنے کیلئے تیار نہیں اور آپش میں اخوت اور بھائی چارگی کی فضا کو پروان چڑھانا گناہ کبیرہ سمجھے ہوئے ہیں۔

خبروں کے مطابق  حکومت اور اپوزیشن آپس میں ٹکرانے پر تل گئے ہیں جس کے نتیجے میں سیاسی صورتحال غیر یقینی ہوگئی ہے۔ ملک کومعاشی طورپر مستحکم کرنے میں تعاون کے بجائے سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے کے خلاف محاذکھولنے سے عوام اور خاص طور پرکاروباری طبقہ سخت پریشانی کا شکار ہے۔ملک کی دوبڑی جماعتیں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کے سربراہوں کے خلاف الیکشن کمیشن چلی گئی ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق کرپشن کرکے معافی لے لو، قانون نہیں چلے گا، یہ عدالت کا نعرہ ہے۔عدالت عظمیٰ کی نیب قانون میں ترمیم کے لیے فروری تک مہلت۔ پاکستان کو کرپشن فری بنائیں گے۔ چیئرمین نیب۔

 اسی طرح ایک خبر یوں ہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرادی۔نجی ٹی وی کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ10سے زاید والیمز پر مشتمل ہے۔رپورٹ کے مطابق تقریبا620افراد کو نوٹس بھیجے گئے جن میں سے470افراد نے خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرایا۔رپورٹ کے مطابق104جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے تقریبا 210ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔عدالت عظمیٰ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے کی سماعت24 دسمبر کو ہوگی اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کیس کی سماعت کریں گے۔

کسی کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ ملک کن مشکلات کو شکار ہے۔ ہر سیاسی پارٹی مسلسل دوسرے کو نیچا دکھانے میں پڑی ہوئی ہے۔ کوئی پارٹی اور رہنما اس بات سے انکاری نہیں کہ وہ چور ہے،  سب یہ ثابت کرنے پر لگے ہوئے ہیں کہ “بڑا” کون ہے۔ ملک کن معاشی بحران سے گزر رہا ہے، کوئی فکر نہیں،  اپنی ماراماری کو کس طرح چھپایا جائے فکر اس بات کی ہے۔

یہ بات محض سیاست دانوں تک محدود نہیں۔ عدالتیں  اور ان کے اہل کاربھی ملک سے زیادہ اپنی اپنی  نوکریوں کو بچاتے نظر آرہے ہیں۔ کوئی ایک عدالت بشمول نیب، ایسی نظر نہیں آرہی جو یہ کہے کہ یہ ساری باتیں اور احتساب کا عمل چلتا رہے گا، حکومت اور سیاسی پارٹیاں ملک کو دیکھیں اور آپس کی رنجشوں اور اختلافات کو ختم کرے ملک کو ترقی کی جانب گامزن کریں۔

رہی احتساب کی بات اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی تو اس کا سلسلہ ماشا اللہ ضیاالحق کے دور سے جاری ہے۔ اس بدعت کا آغاز جنیجو دور حکومت کی مسماری سے شروع ہوا تھا۔ وہ پہلی سیاسی حکومت تھی جس پر کرپشن کا الزام لگا کر قاش قاش کردیا گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک احتساب اور مال غینمت کی واپسی کا شور تو بہت ہے لیکن ابھی تک واپسی تو قطرے برابر بھی نہ ہو سکی البتہ کروڑوں ڈالر سے بھی زیادہ کرپشن کے ثبوت تلاش کرنے میں خرچ کئے جاچکے ہیں۔

کرپشن بے شک ایک سم قاتل سہی، لیکن یہ  ایسا بنیادی مسئلہ نہیں  جس پر سوئی اٹک کر رہ جائے۔ ملک میں بیشمار ایسے ادارے موجود ہیں جو ہر قسم کے غیر قانونی، جس میں کرپشن بھی شامل ہے، طرز عمل کے خلاف ایکشن لینے کیلئے ہی بنائے گئے ہیں۔ اگر وہ غفلت کا شکار ہیں تو پہلے ان کے خلاف کارروائی کی جائے تو شاید ان بڑے بڑے سوراخوں کو بند کرنے میں کامیابی ہو سکے۔ اتنے خطیر رقم خرچ کرنے کے بعد بھی اگرکھربوں کی جعل سازی ممکن ہے تو یا تو ایسے اداروں کو ختم کردیا جائے یا غفلت برتنے پر ذمے داران کو سزا دی جائے۔

سیاستدان ایک دوسرے سے جوتم پیزار ہیں، ادارے غفلتوں کو شکار ہیں، عدالتیں غیر امتیازی سلوک کرنے کیلئے تیار نہیں، ملک تباہی کی جانب محو سفر ہے، سرحدیں پر خطر ہیں، صوبوں میں امن و امان کی صورت حال مخدوش ہے لیکن کسی کو بھی ملک کی کوئی فکر نظر نہیں آرہی سب اپنے اپنے دفاع میں مصروف عمل ہیں شاید ایسے ہی موقعہ کیلئے اعجاز رحمانی نے کہا تھا کہ۔

تم سر راہ آپس میں لڑتے رہو

رہنماؤ ہمیں راستہ چاہیے

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here