قومی ترانہ بھی کیوں نہ بدل دیا جائے

عقل حیران ہے اور دل پریشان۔ جائیں تو جائیں کہاں۔ ہم نے یہ تو سنا تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن یہ کبھی نہ تو سنا تھا اور نہ ہی پڑھا تھا کہ تاریخ بدلی بھی جاسکتی ہے۔ یہ تاریخ (ہسٹری) نہ ہوئی کیلنڈر ہوگیا جس میں ہر دوسرے دن، دن بھی تبدیل ہوجاتا ہے اور تاریخ بھی۔

نہ جانے ہم کس جانب نکل چکے ہیں۔ اپنی تاریخ خود ہی بدلنے میں لگے ہوئے ہیں اور اس پر ستم یہ ہے کہ پاکستان میں کہیں سے بھی مؤثر انداز میں کوئی صدائے احتجاج بلند ہوتی نظر نہیں آرہی۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ہمیں بانی پاکستان سے ہی نفرت ہوتی جارہی ہے۔ اس کے یوم پیدائش پر پاکستان بھر میں چھٹی تو دیدی گئی لیکن ہم نے یوم ولادت قائد منانے کی بجائے کرسمس منانے کو ترجیح دی۔ المیہ تو یہاں تک بھی ہوگیا کہ پاکستان کے کسی بھی ٹی وی چینل نے “قائد ڈے” منانا بھی گوراہ نہیں کیا۔ شاید پاکستان کو نیا بنانے کیلئے ایسا کرنا بھی ضروری ہو۔ اگر دیانتدارانہ انداز میں غور کیا جائے تو یہ پاکستان تو 1971 میں ہی نیا ہوگیا تھا اس لئے کہ جس نظریہ کے تحت یہ معرض وجود میں آیا تھا وہ نظریہ 1971 میں دم توڑ چکا تھا۔ یہ المیہ اپنی جگہ لیکن باقی ماندہ پاکستان میں اس وقت سے لیکر تا حال اسی نظریہ کی گونج باقی تھی جس مقصد کی خاطر لاکھوں جانوں کی قربانیاں دی گئیں تھیں۔ رفتہ رفتہ نعرے کی وہ گونج معدوم سے معدوم تر ضرور ہوتی چلی گئی لیکن ختم نہ ہو سکی۔ لگتا ہے کہ نئے پاکستان میں اس گونج کا گلا شاید ہمیشہ ہمیشہ کیلئے گھونٹ کر رکھنے کی پوری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

جس پاکستان کو برصغیر کے مسلمانوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دینے کے بعد حاصل کیا تھا آج اگر اس کی تاریخ کو مسخ کرکے یہ دعویٰ کیا جارہا ہو کہ پاکستان کی بنیاد مسلمانوں نے نہیں بلکہ عیسائیوں نے رکھی تھی تو پھر پاکستان پر فاتحہ ہی تو رہ جاتی ہے جس کو پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ بات اگر مجھ جیسے کسی کم حیثیت، جاہل اور اجڈ کی منھ سے نکلی ہوتی تو کسی حد تک قابل برداشت ہوتی لیکن معتبر اور مقتدر فرد اگر ایسا کہہ رہا ہو تو ایک سر ہی تو رہ جاتا ہے جو ایسے مواقعوں پر پیٹا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کو مسلسل بدل دینے کا سلسلہ آج کا نہیں ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی اس کی داغ بیل ڈالدی گئی تھی۔ قائد کی بہن کو غداروں میں شمار کرنا اور جذبہ ایمانی سے سرشار وہ مسلمان جو پاکستان کی جانب ہجرت کرکے آنکلے تھے ان کو ہندوستانی قرار دیا جانا جیسے اقدامات نظریہ پاکستان سے دوری اختیار کرنے کے مترادف تھے۔ جب قائد کی بہن ہی پاکستان کی غدار ہو تو پھر دیگر قائدین کیونکر قابل اعتماد سمجھے جاسکتے تھے۔ یہی بے اعتمادی ملک کو نظریہ سے دوری کا سبب بنتی چلی گئی، پاکستان دولخت ہوا اور باقی ماندہ پاکستان بھی کوئی بہت مثالی پاکستان دکھائی دیتا نظر نہیں آرہا۔

افسوس ناک باتوں میں اضافہ در اضافہ ہے کہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ بانی پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی کردار کشی جیسی باتیں بھی اب سوشل میڈیا کی زینت بنائی جا رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ سور کا گوشت کھاتے تھے، شراب پیتے تھے، اپنے دوست کی بیٹی کو بھگا کر لے گئے تھے وغیرہ جیسی باتیں جس کو گزشتہ 70 برسوں میں بھی نہ پڑھاتھا اور نہ سناتھا وہ سوشل میڈیا پر پھیلانا شروع کر دی گئی ہیں۔ جب پاکستان بنانے والے کے کردار ہی کو مسخ کرکے رکھ دیا جائے گا تو پھر پاکستان کے بنانے کا مقصد ہی کیا رہ جائے گا۔ کیا اس کے بعد بھی نئی نسل کو یہ بات بتائی جا سکے گی کہ پاکستان بنانے کا مقصد اللہ کے دستور کا نفاذ تھا؟۔

پاکستان واقعی نیا ہوتا جارہا ہے۔ پرانی قدریں ختم کی جارہی ہیں۔ شراب اور دیگرمنشی اشیا قانوناً جائز ہو چکی ہیں۔ سیاسی جلسوں میں خواتین محو رقص نظر آتی ہیں۔ سروں پر سے دو پٹے اتر چکے ہیں۔ وزرا اور مشیران نشے میں دھت ہو کربے لباس خواتین کے ساتھ بوس و کنار کرتے نظر آرہے ہیں۔ ٹھیٹروں میں برہنہ رقص کی اجازت دیدی گئی ہے۔ خواتین کو گودوں میں بٹھا کر تصاویر کھنچواکران کو سوشل میڈیا پر وائیرل کرنا قابل فخر بات سمجھی جانے لگی ہے۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ کورس بدلے جا رہے ہیں اور مسلمانوں کے عقائد تبدیل کئے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے نظریہ پاکستان سے لیکر ہر شے بدل چکی ہے اب دو ہی باتیں ایسی ہیں جن کا بدلنا باقی رہ گیا ہے ایک پاکستان کا نام اور دوسرا پاکستان کا ترانہ۔

اتنی ساری خرافات کے بعد اس ملک کو پاکستان یعنی پاک صاف جگہ کہنا کسی بھی طرح بھلا نہیں لگتا۔ اب تو یہ ملک صرف ایک ملک ہے جیسے چین، روس، مصر، سوڈان وغیرہ۔ اس کا پاکی و پاکیزگی سے کیا تعلق ہے۔ جب پاکستان بنا یا ہی عیسائیوں نے ہے تو خوامخواہ بار بار قرآن کا حوالہ کیوں تورات اور انجیل کا حوالہ کیوں نہیں؟۔ ویسے بھی گزشتہ 70 سال سے کونسا قرآن کا نظام یہاں نافذ رہا ہے۔

قومی ترانہ بھی قومی ڈرامہ ہی ہے جس میں پاکستان کو “پاک” سرزمین کے ساتھ شاد باد کہا جاتا ہے، اس کو حسین ملک کہا جاتا ہے، عزم عالی شان کی نشانی قرار دیا جاتا ہے، ایمان کا مرکز کہا جاتا ہے، اس ترانے میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان کا نظام جمہوریت ہے۔ اس کی قوت اور بھائی چارگی عوام سے ہے۔ ستارہ ہلال کے پرچم کو ترقی و کمال کا رہبر کہا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ ملک ہمارے ماضی کا ترجمان ہے اور حال کی شان ہے اور آخر میں کہا جاتا ہے کہ اس ملک پر اللہ کا سایہ ہے۔ کیا اس پورے ترانے میں کہیں بھی یہ کہا گیا ہے کہ یہ ملک اللہ کے نام کے علاوہ بھی کسی اور کے لئے بنایا گیا تھا۔ کیا اس میں عوام کی حکمرانی یعنی جمہوریت کے علاوہ بھی کسی اور کا ذکر ہے۔ کیا یہ نہیں کہا گیا کہ پاک سر زمین کا نظام، قوت اخوت عوام ہے۔

یہاں دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ پاکستان میں وہ حکمران جو مارشل لاؤں کے نتیجے میں پاکستان پر حکمران رہے اور وہ حکمران جوسول حکمرانوں پر بھی حکمران نظر آئے وہ اس ترانے کو سننے کیلئے کھڑے بھی ہو جاتے رہے ہیں اور دل کو بھی پکڑ لیتے ہیں وہ بھی اس بات کو سمجھنے کیلئے تیار نہیں کہ پاک سر زمین کا نظام صرف اور صرف قوت اخوت عوام ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ یا تو وہ حکمران عوام کی قوت اور اخوت کا مطلب نہیں سمجھتے یا پھر وہ عوام اپنے علاوہ کسی کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔

جب پاکستان کی ہر تفسیر ہی بدل دی گئی ہے، جب دین کا مفہوم ہی تبدیل کرنے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے، جب نظریہ پاکستان ہی بدلا جارہا ہے، جب قائد کی کردار کشی کی جارہی ہے، جب اس کی پیدائش کے دن کو ہی نہ منانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور جب اس پاکستان کو بنانے کا سہرا عیسائیوں کے سر باندھ دیئے جانے کی باتیں ہونے لگی ہیں تو کیا ضروری ہے کہ پاکستان کو پاکستان ہی کہا جائے اور پاکستان کے ترانے کو ہر بڑی تقریب میں بینڈ باجوں کے ساتھ سناکر اس کی مسلسل توہین کی جائے۔ جس ملک کو بنایا ہے غیر مسلموں نے ہو اس کیلئے سایہ خدائے ذوالجلال کی بات ہی کیوں کی جائے۔ جب نئے پاکستان کو نیا ہی بنانا ہے تو پھر اس کا پرانا ترانہ بھی بدل دیا جائے تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

1 تبصرہ

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here