امریکا ہٹ دھرمی سے باز آجائے تو اچھا ہے

امریکا کے جارحانہ عزائم میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نظر آکر نہیں دے رہی۔ یہ اس وقت ہے جب امریکہ کو ہر اس ملک میں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑ رہا ہے جہاں وہ اپنے قدم جمانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ امریکا کی سب سے بڑی ناکامی ویتنام میں ہوئی۔ ایک ایسا پسماندہ ملک جس کے عوام کو دو وقت کی روٹی بھی بصد مشکل ملتی تھی اور جو جنگی ساز و سامان رکھتا ہی نہیں تھا جب اس کے ہاتھوں اس کی تاریخ ساز شکست ہوئی اور اس کو ویتنام سے بھاگ جانے میں ہی عافیت نظر آئی تو اصولاً اس کو جان لینا چاہیے تھا کہ صرف حربی ساز و سامان کی مدد سے ہی ملکوں اور ملکوں میں رہنے والے عوام کے دلوں کو نہیں جیتا جاسکتا لیکن لگتا ہے کہ امریکا کوئی بھی عبرت حاصل کرنے کیلئے تیار نہیں یہی وجہ ہے کہ وہ پوری دنیا پر اپنے رعب اور دبدبے کو جمانا چاہتا ہے اور خواہش رکھتا ہے کہ پوری دنیا کو اپنا غلام بنالے۔

فی الحال اس کا ہدف مسلمان اور مسلمان ممالک نظر آتے ہیں جس میں دنیائے عرب کے مسلمان ممالک، پاکستان، افغانستان، ایران اور ترکی بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بیشمار ممالک میں امریکی افواج بھی موجود ہیں اور جہاں امریکی افواج نہیں بھی ہیں وہاں بھی اس کی پوری کوشش یہی ہے کہ وہ ممالک اس کے حکم کے مطابق چلیں بصورت دیگر وہ ان کے گرد اپنا گھیرا تنگ کرکے انھیں اپنے آگے جھکنے پر مجبور کرنے میں مصروف ہے۔

نائن الیون کو بہانہ بنا کر وہ کئی عرب ممالک میں داخل ہوہی چکا تھا۔ پھر اگلا ہدف افغانستان کو بنایا گیا اور افغانستان کے ساتھ ہی کوشش کی گئی کہ وہ ایران، پاکستان اور ترکی کو بھی لپیٹ میں لے لے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران ذرہ برابر بھی امریکا کے رعب و جلال میں نہیں آیا اور ترکی نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیدیا لیکن وہ پاکستان کو بہت حد تک اپنا ہمنوا بنانے یا باالفاظ دیگر گرفت میں لانے میں کامیاب ہو گیا۔ افغانستان میں اس کی پاؤں محض اسی لئے جمنے میں کامیاب ہوگئے کہ پاکستان امریکا کی چال کو فی الفور نہ سمجھ سکا یا فیصلہ کرنے میں غلطی کرگیا۔ پاکستان کو اس غلطی کی کا خمیازہ بہت بڑے نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑا بلکہ وہ اب تک امریکا کے حصار سے پوری طرح نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ پاکستان اب اس جدوجہد میں مصروف ہے کہ وہ امریکا سے دوری اختیار کرے۔ اس کی اس کوشش کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکا نے اقتصادی لحاظ سے پاکستان کو کمزور کرنا شروع کردیا ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کے سلسلے میں جو امداد امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جاتی تھی اس کو بھی روک لیا گیا ہے جس سے پاکستان کو بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکہ جن جن مذموم مقاصد کو اسلامی ملکوں میں گھس کر حاصل کرنا چاہتا تھا، کئی دھائیوں کی جارحیت کے باوجود بھی ان کو حاصل کرنے میں ناکام نظر آرہا ہے اسی لئے وہ کئی عرب ممالک سے اور افغانستان سے راہ فرار ڈھونڈتا ہوا نظر آرہا ہے۔ مشکلات یہ ہیں کہ امریکا کی واپسی کے بعد کیا ہوگا؟۔ امریکی انخلا کے بعد جو “خلا” پیدا ہوجائے گا اور جن جن ممالک کو وہ مدد فراہم کرتا رہا ہے، ان کی افواج کو تربیت دیتا رہا ہے یا پشت پناہی کرتا رہا ہے، امریکا کے چلے جانے کے بعد ان کا انجام کیا ہوگا؟۔ یہ ہیں وہ خوفناک سوالات جن کا جواب اب ان ہی طاقتوں کو تلاش کرنا ہے جو امریکا کی مدد حاصل کرتی رہی ہیں اور اپنے اندر موجود باغیوں کا مقابلہ از خود کرنے کی بجائے امریکی افواج سے مدد حاصل کرتی رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ شام سے امریکی فوج کا انخلا شروع ہو گیا ہے اور اگر ترکی نے کردوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ ترکی کو اقتصادی طور پر تباہ کر دے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ بچے کچھے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو فضا سے نشانہ بنایا جائے گا اور بیس میل طویل ایک ‘سیف زون’ یا محفوظ علاقہ بنایا جائے گا۔

ان کی یہ ٹویٹ بظاہر ان پر کی جانے والی اس تنقید کے رد عمل میں کی گئی جس میں کہا جا رہا تھا کہ امریکی فوج کے انخلا سے خطے میں امریکی اتحادیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی کہ کس طرح امریکہ ترکی کی معیشت کو تباہ کر سکتا ہے تاہم ان کے اپنے مشیر بھی اس پر بظاہر حیران دکھائی دیے۔

امریکا اب اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح اپنی افواج کو ہر اس ملک سے نکال لے جائے جہاں جہاں اس نے اپنی افواج کو داخل کیا ہوا ہے۔ وہ جان چکا ہے کہ اگر وہ مزید جنگ میں شامل حال رہا تو اسے مستقبل میں سخت اقتصادی نقصان اٹھانا پڑے گا جس کا آغاز تو دکھائی دینے لگا ہے۔ پھر مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے دنیا کو یہ بات بھی سمجھ میں آنے لگی ہے کہ اب امریکا سپر پاور نہیں رہا ہے اور ضروری نہیں کہ ہر ملک امریکا کے دباؤ میں آئے جس کی بہترین مثال ایران اور ترکی ہیں۔ ایران تو بہت پہلے ہی امریکی دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر چکا تھا جس پر وہ آج بھی قائم دائم ہے، ترکی بھی اب چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑا ہو گیا ہے اور امریکا کی کسی دھمکی یا دباؤ میں آنے کیلئے تیار نہیں۔

امریکا کے صدر ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ترکی کے وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کی دھمکی کو اپنے امریکی ناقدوں کے لیے ایک جواب قرار دیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کو مستر کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کئی بار کہہ چکے ہیں وہ کس دھمکی سے ڈرنے یا خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ انھوں نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی نوعیت کے اس طرح کے معاملات پر سوشل میڈیا یا ٹوئٹر پر بات نہیں کی جاتی۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں امریکی کی طرف سے ترکی پر عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیاں ناکام ہو گئی تھیں۔ نیز صدر ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ اگست میں ایک امریکی عیسائی راہب کی گرفتاری پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد امریکہ نے ترکی پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس سے ترکی کی کرنسی “لرا” پر شدید منفی اثرہوا تھا اور چند ماہ بعد اس راہب کو رہا کر دیا گیا تھا۔

یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکا ترکی پر کس قسم کی اقتصادی پابندیاں لگا سکتا ہے یا ترکی کو کس طرح اقتصادی طور پر تباہ کر سکتا ہے؟۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو جو ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ ترکی کی معیشت کو کس طرح تباہ کیا جا سکتا ہے تو انھوں نے کہا یہ تو آپ کو صدر سے پوچھنا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے کئی جگہوں پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں وہ شاید اس ہی کی بات کررہے ہوں گے۔

اسی دوران ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے ترجمان ابراہیم کلن نے کہا ہے کہ ترکی امید کرتا ہے کہ امریکہ سٹریٹجک پاٹنرشپ کی پاسداری کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد نہ آپ کے اتحادی ہو سکتے ہیں نہ شراکت دار۔ کیا وہ شام میں کردجنگجوؤں کو بچانے کے لیے کوئی معاہدہ کریں گے؟۔ جبکہ اس ہفتے کے اختتام پر صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ پر دھمکی سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنے ترک ہم منصب سے فون پر بات کی ہے اور وہ اس بارے میں خاصے پر امید ہیں کہ شام میں کرد جنگجوؤں کو بچانے کے لیے کوئی سمجھوتہ ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا جو جنگجو اتنے برس تک امریکی فوج کے ہمراہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے رہے ہیں ان کا حق بنتا ہے کہ انھیں بچایا جائے۔

اصل میں امریکا کو تشویش اس لئے ہے کہ صدر اردوگان نے کرد “واے پی جی ملیشیا” کی امریکا کی طرف سے حمایت پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انھیں (کرد جنگجوؤں) کچل کر رکھ دیں گے۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی ایک محفوظ علاقہ بنانے کا مخالف نہیں ہے لیکن وہ ان باغیوں کو نشانہ بنانے کی بات کر رہا ہے جو شام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

شام میں امریکہ کی بری فوج 2015 میں بھیجی گئی تھی جب اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ “وائے پی جی” کے جنگجوؤں کو تربیت دینے کے لیے کچھ فوجی بھیجے گئے ہیں۔ اس کے بعد شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور اس علاقے میں امریکی فوج کے کئی اڈے، تربیتی مراکز اور ہوائی اڈے بنا لیے گئے۔

ایک جانب افغانستان سے امریکی انخلا امریکا کیلئے درد سر بنا ہوا ہے تو دوسری جانب شام سے افواج کا انخلا بھی گلے کی ہڈی بن کر رہ گیا ہے۔ ان سب حالات کے باوجود امریکا کے لب و لہجے میں کسی بھی قسم کی نرمی کہیں نظر نہیں آرہی اور اس کا وہی دھمکیانہ انداز ہے جو ایک اصل فاتح کا ہوتا ہے۔ شکست خوردگی کے باوجود یہ لب و لہجہ اس کھسیانی بلی کا سا ہے جو شکار کے نکل بھاگنے کے بعد کھمبا نوچنے لگتی ہے۔ امریکا کو چاہیے کہ وہ اپنے لب و لہجے کی سختیاں دور کرے اور کسی بھی ملک میں فوجی مداخلت سے گریز کی پالیسی اختیار کرے بصورت دیگر اسے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر کمال کو زوال ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والا دور اس کی ذلالت میں مزید اضافہ کر جائے اور اس کی طاقت کا گھمنڈ خاک میں مل کر رہ جائے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here