افغان طالبان مذاکرات میں لچک پیدا کریں 

اسی ماہ کی 10 تاریخ کو جسارت میں میرا ایک کالم بعنوان “افغان امن پر منڈلاتے خطرے کے بادل” شائع ہوا تھا جس میں میں نے خطرہ ظاہر کیا تھا کہ افغان طالبان کے ساتھ امریکہ جو مذاکرات کرنا چاہ رہا ہے وہ کامیابی کی بجائے ناکامی کی جانب بڑھ رہے ہیں جس کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ افغان طالبان کا اٹل فیصلہ ہے کہ وہ نہ تو افغان حکومت سے کوئی بات کریں گے اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ کسی قسم کی بات کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ دوران مذاکرات اس بات کو بھی گوارہ نہیں کرتے کہ ان کے اور امریکہ کے مذاکرات کے درمیان کوئی تیسرا فریق بھی شریک ہو۔ افغان طالبان کا یہ اٹل فیصلہ امن مذاکرات نہ صرف بے اثر بنا کر رکھنے کے مترادف ہے بلکہ افغانستان میں قیام امن کیلئے بھی ایک بڑی بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ابھی اس کالم کو شائع ہوئے پانچ چھے دن ہی ہوئے تھے کہ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج نے افغان طالبان کے گروپ کے اہم رہنما اور افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دوران مذہبی امور کے وزیر رہنے والے حافظ محب اللہ کو پشاور سے حراست میں لے لیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب افغان میں مفاہمتی عمل کے لیے امریکی حکومت کے مشیر خاص زلمے خلیل زاد منگل کو پاکستان کے دورے پر پہنچنے والے ہیں۔

رپورٹ ہی کے مطابق افغان طالبان امریکہ سے مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں اور اس حوالے سے چند دن قبل زلمے خلیل زاد نے متحدہ عرب امارت اور قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دھڑے سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس ملاقات کا ذکر بھی میرے مذکورہ کالم میں موجود تھا۔ یہاں اہم ترین بات یہ ہے کہ امریکا نے ماضی میں متعدد بار پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کو ملک میں پناہ دینا بند کرے جبکہ پاکستان نے تردید کی ہے کہ وہ ان کی کسی قسم کی مدد کرتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر حافظ محب اللہ کی پشاور سے گرفتاری کو کیا سمجھا جائے؟۔

امریکا 17 سال سے افغانستان میں اپنے انداز میں قیام امن کیلئے کوشش کرتا رہا ہے لیکن اس کی یہ سارے کوششیں تمام تر طاقت کے استعمال اور بربریت کی اعلیٰ ترین مثال کے باوجود ناکامی کا شکار ہو کر رہ گئیں ہیں۔ وہ امریکا جو طاقت کے نشے میں چور یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ افغان سر زمین کو مسخر کر لیگا اور افغان عوام کو ترقی و خوشحالی کے سنہرے خواب دکھا کر ان کو اپنا غلام بنالے گا اب اس حد تک مجبور اور بے کس ہو گیا ہے کہ وہ افغانستان سے “جان کی امان پاؤں” والی کیفیت میں آگیا ہے اور اب وہ چاہتا ہے کہ جس طرح بھی ہو سکے وہ صرف اپنے فوجیوں کی جان بچا کر افغانستان سے فرار ہونے میں کامیاب ہو جائے اسی لئے وہ افغان طالبان اور پاکستان کو بھی باپ بنانے کیلئے تیار ہے لیکن ایک اہم مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ افغان طالبان نہ تو پاکستان کی شرکت گوارہ کرنے کیلئے تیار ہیں اور نہ ہی وہ موجودہ افغان حکومت کو بات چیت میں شریک کرنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان اور افغان حکومت کو شریک کئے بغیر یہ ممکن ہی نہیں کہ امریکا کی افواج کو بحفاظت افغانستان سے نکالا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حکومت کا پاکستانی حکام سے یہ بھی کہنا ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرے جس کی مدد سے افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکے لیکن پاکستان کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح جواب امریکا کو نہیں دیا گیا جو یقیناً امریکا کیلئے ایک غیر متوقع بات ہوگی۔

بی بی سی کی ایک اور رپورٹ کے مطابق حافظ محب اللہ کافی عرصے سے پشاور میں رہائش پذیر تھے۔ طالبان کے دو رہنماؤں نے نام نہ بتانے کی شرط پربی بی سی سے کہا ہے کہ حافظ محب اللہ کی گرفتاری اس موقع پر اس لیے عمل میں آئی ہے کیونکہ وہ افغان طالبان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ زلمے خلیل زاد اور ساتھ ساتھ افغان صدر اشرف غنی کے نمائندوں سے ملاقات کریں۔

اس گرفتاری سے کیا افغان طالبان کو اس بات پر مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اس بات پر راضی ہوجائیں کہ مذاکرات میں افغان حکومت کو شریک کر لیں؟۔ یہ سوال بہت اہم ہے اس لئے کہ طالبان حکام نے ابھی تک افغان حکومت سے براہ راست بات کرنے سے انکار کیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ افغان حکومت کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اسی وجہ سے وہ اب تک صرف امریکی عہدے داران سے ملے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں کہ افغان طالبان اپنے موقف میں نرمی پیدا کر لیں۔ حافظ محب اللہ کی گرفتاری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوسکتا ہے؟۔

بی بی سی ہی کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے رہنماؤں کی کونسل، کوئٹہ شوریٰ کے ایک رکن نے کہا ہے کہ ان امن مذاکرات کے حوالے سے پاکستانی حکام سے ملاقات ہوئی تھی لیکن اس کا اختتام اچھا نہیں تھا۔ ان مذاکرات کے بعد پاکستانی حکام نے کئی چھاپے مارے اور محب اللہ کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد ہمارے رہنما شیخ ہیبت اللہ نے سب کو ہوشیار رہنے کا پیغام بھیجا ہے۔

یہ محتاط رہنے کا پیغام ہی دراصل پوری کہانی بیان کر رہا ہے۔ اس کا سیدھا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ طالبان اس بات پر اٹل ہیں کہ وہ کسی بھی صورت افغان حکومت کو فریق نہیں بنانا چاہتے البتہ ایک صورت ایسی ہو سکتی ہے جو ان کے اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت کا سبب بن سکتی ہے اور یہ صورت امریکی افواج کے انخلا کا حتمی فیصلہ ہے۔ چنانچہ طالبان حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ افغان حکومت سے مذاکرات صرف اس وقت کریں گے جب امریکی افواج کے مکمل طور پر انخلا ہونے کی تاریخ طے ہو جائے گی۔

اس بدلتی صورتحال پر بی بی سی نے تجزیہ کار احمد رشید سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے۔ فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی طالبان کو آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ افغان حکومت اور امریکیوں سے مذاکرات کرنے پر رضامند ہو جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان پر اصل دباؤ امریکہ سے نہیں بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آیا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے پاکستان کی مخدوش اقتصادی حالات کے پیش نظر اسے اربوں ڈالر بطور قرض بھی دیے ہیں۔

پاکستان پر مذاکرات کے سلسلے میں دباؤ اپنی جگہ لیکن پاکستان سے بڑھ کر افغانستان میں امن کا کون خواہاں ہو سکتا ہے اس لئے کہ پاکستان کا امن اب افغانستان سے وابستہ ہو کر رہ گیا ہے۔ دونوں جانب کے خونی اور مذہبی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ کسی نہ کسی صورت بحالی امن کی کوششیں کامیاب ہوں۔ افغانستان ہی کے راستے پاکستان کے کئی اہم ممالک سے رابطے قائم ہیں اور امن کی صورت میں ہر ملک پاکستان کے راستےاپنے تجارتی ساز وسامان کی لین دین کر سکتا ہے۔ اسی مقصد کیلئے گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان نے افغان طالبان کے بانیان میں سے ایک رہنما ملا برادر کو رہا کر دیا تھا تاکہ وہ امن مذاکرات میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

یہ ساری کوششیں اپنی جگہ لیکن پاکستان کا مسلسل یہ موقف بھی رہا ہے کہ ان کا طالبان پر ویسا اثر نہیں ہے جو ماضی میں تھا پھر بھی پاکستان کی خواہش ہے کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان قائم ہو۔

مسئلہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ہے جن کا یہ مؤقف بہت واضح ہو کر سامنے آچکا ہے کہ انھیں پاکستانی حکام کی نیت پر بھروسہ نہیں ہے کیونکہ امن مذاکرات کے لیے پاکستان طالبان گروپ کے اُس حصے کا ساتھ دے رہا ہے جو پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے بجائے اس دھڑے کا جو طالبان کے قطر میں موجود سیاسی دفتر کا نمائندہ ہے۔ افغان طالبان کا مؤقف کچھ بھی سہی، پاکستان کیلئے ضروری نہیں کہ وہ افغان طالبان ہی کی بات مانے۔ ہر آزاد ملک کی طرح پاکستان کو یہ مکمل اختیار ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ افغان طالبان اپنے مؤقف میں لچک پیدا کریں اور یہی مذاکرات کا اصول ہوتا ہے۔ اپنے اپنے مؤقف پر اٹل رہنے سے حالات خراب تو ہو سکتے ہیں بہتر نہیں ہو سکتے۔ انا کا مسئلہ بنائے بغیر وہ افغان حکومت اور پاکستان کو مذاکرات میں شریک کریں بصورت دیگر امن مذاکرات کی یہ کوششیں ممکن ہے کہ دم توڑ جائیں جو ایک بڑا المیہ ہوگا۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here