سیاسی توڑ پھوڑسے گریز کیا جائے

لگتا ہے پاکستان کی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ لکھ دی گئی ہے۔ ایک طویل عرصہ گزر گیا اور اس دوران بہت ساری حکومتیں بنیں اور ٹوٹیں۔ دورنام نہاد جمہوریتوں کا رہا ہو یا مارشل لائی، توڑ پھوڑ ہر دور میں ہی ہوئی۔ توڑ پھوڑ کا یہ سلسلہ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ 1947 سے لیکر 1958 تک سویلین ایک دوسرے کے کپڑے اتارتے رہے۔ ایوب خان کی حکومت شروع کے چند برس پورے جاہ و جلال کے ساتھ چلی لیکن اپنے آخری دور میں ہنگاموں کا شکار ہو گئی۔ اس ہنگامے میں بھی سندھ (کراچی) لپیٹ میں آیا اور پھر یوں ہوا کہ ایک جرنیل نے دوسرے جرنیل کو کرسی سے ہٹا دیا اور اس طرح ٹوٹ پھوٹ کی روایت دوبارہ قائم ہو گئی۔ دوسرے جرنیل کی غلط پالیسیوں کی نذر پورا ملک ہوا یہاں تک کہ ملک ہی کے حصے بخرے ہو گئے اور آدھے سے زیادہ ملک ہاتھ سے نکل گیا۔ ملک کی دو لختگی کے باوجود پاکستان کے حکمرانوں نے کوئی عبرت حاصل نہیں کی اور ملک اسی طرح افتراق و انتشار کا شکار ہوتا رہا۔ ذولفقار علی بھٹو بہت عرصے اپنی گرفت برقرار نہ رکھ سکے اور نتیجے میں نہ صرف ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ ساتھ ہی ساتھ خود ان کو بھی دنیا سے رخصت ہونا پڑا۔ جنرل ضیا کی حکومت کو کسی حد تک استحکام ملا لیکن ان کی بہت ساری پالیسیاں ایسی تھیں جس کا خمیازہ آج تک پاکستان اور خصوصاً خود پاکستان کی افواج کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان کی جہادی پالیسی سے یہ تو ضرور ہوا کہ افغانستان سے روس کو بے دخل کرنے میں مدد ملی لیکن ہوا یہ کہ ساری جہادی تنظیموں اور گروہوں کو تربیت دینا اور ان کو ہتھیار فراہم کرنے کی وجہ سے وہ بے لگام ہو گئے اور تاحال پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کرتے چلے آ رہے ہیں۔

ضیالاحق کے جانے کے بعد جمہورت کے نام پر ایک اور گول چکر چلا اور “توچل میں آیا” والا ایک عجیب کھیل شروع ہوا۔ پاکستان میں دو دو ڈھائی ڈھائی سال کی حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں۔ اس ٹوٹ پھوٹ میں بھی سندھ حکومت زیادہ متاثر ہوتی رہی، پی پی پی کی اکثریت کو اقلیت میں بھی بدلا گیا۔ کبھی ایم کیو ایم اور دیگر پارٹیوں کو ساتھ ملاکر حکومت بنائی گئی تو کبھی گورنر راج کا نفاذ ہوا۔ یہ سب جمہوری حکومتوں کے دوران ہوا۔ مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا لیکن اس اقتدار کو بھی مکمل استحکام حاصل نہ رہا اور ہر گزرنے والے سال کے ساتھ یہ حکومت بھی نئے نئے تجربے کرتی رہی اور ملکی و بین الاقوامی مسائل کا شکار رہی اور ایک ایسی حکومت جو سارے اختیارات رکھتی تھی، آئین و قانون بھی اس کے تابع تھا، سارے ادارے اس کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے تھے اور وہ اس پوزیشن میں تھی کہ اگر دن کو رات کہتی یا رات کو دن تو کسی میں بھی یہ مجال نہیں تھی کہ وہ ماننے سے انکار کر سکتا تھا، وہ امریکا کے آگے اس طرح بے بس ہو گئی جس کا کوئی تصورجمہوری حکومت بھی نہیں کرسکتی تھی۔ اپنے سارے زمینی راستے اس کے حوالے کردیئے، ایئر بیس پکڑادیئے، فضائی راستے کشادہ کردیئے حتیٰ کہ اپنے بیٹے اور بیٹیاں تک اس کے حوالے کردیں۔

یہ دور جیسے تیسے گزر گیا لیکن حکومتوں کو استحکام تا حال نہیں مل سکا۔ ہر حکومت پر عدالتوں کی تلواریں لٹکتی رہیں، کوئی وزیر اعظم اپنے وقت کو پورا نہیں کرسکا، کسی نہ کسی بہانے وزارت اعلیٰ میں تبدیلیاں آتی رہیں اور ہر حکومت اپنے ہی تحفظ میں لگی رہی جس کی وجہ سے اسے عوام کیلئے سوچنے کا قطعاً وقت نہ مل سکا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں بدامنی بڑھی، بے روزگاری کا اضافہ ہوا، چوریاں چکاریاں عام ہو گئیں یہاں تک کہ قتل و غارت گری اس درجہ بڑھ گئی کہ انسانی جان کی کوئی قیمت ہی نہ رہی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔

اگر ان تما باتوں کا نچوڑ نکالا جائے تو اس کا ایک ہی سبب سامنے آئے گا اور وہ صرف اور صرف حکومت کے عدم استحکام کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔ پی پی پی کا دور گزرگیا، مسلم لیگ ن کا بھی دور گزرگیا اور اب پی ٹی آئی کا دور ہے لیکن لگتا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی حکومت کو کبھی استحکام حاصل نہ ہو سکے گا۔ بظاہر پاکستان کی ایسی صورت حال کو سیاسی لیڈروں یا پارٹیوں کی نالائقی قرار دیا جاتا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو پاکستان میں ہر قسم کی حکومت، حکومت کرنے میں ناکام ہی نظر آئی۔ جو مقتدر تھیں وہ نئے نئے تجربے کرتی رہیں اور جو سویلین تھے ان کی توجہ حکومت کو مستحکم کرنے کی بجائے اپنے آپ کو مضبوط بنانے میں لگی رہی۔

موجودہ حکومت ایک جانب تو خود عددی اعتبار سے اتنی مستحکم نہیں اور دوسری جانب اب تک کی کارکردگی بھی عوام کیلئے عدم اطمنان کا سبب بنی ہوئی ہے۔ بہت سارے حامی یا تو مخالف ہوتے جا رہے ہیں یا شش و پنج کا شکار ہیں۔ پارلیمنٹ بھی لگتا ہے کہ اتحادی یا حمایتی کچھ اکھڑے اکھڑے سے ہیں۔ ایسے عالم میں توجہ اس بات پر ہونی چاہیے تھی کہ اپنی حکومت کو مضبوط بنایا جاتا اور دیگر سیاسی پارٹیوں کو اپنے اپنے حلقہ اختیار میں اعتماد سے کام کرنے دیا جاتا اور سب کو ستھ لیکر چلنے کی کوشش کی جاتی لیکن ہو یہ رہا ہے کہ محاذ آرائی کی وہی پرانی روایتیں دہرائی جارہی ہیں جو گزشتہ حکومتوں کا خاصہ رہا ہے۔ 

خبر ہے کہ سندھ میں حکومت کی تبدیلی کے لیے تحریک انصاف نے ایم کیوایم پاکستان سے قربت اختیار کرلی۔ وفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری نے کراچی میں ایم کیوایم کے رہنماؤں سے اہم ملاقات کی جب کہ اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان اورایم کیوایم کے اراکین قومی اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے۔

عوام کسی بھی جماعت کو منتخب کرکے جب اقتدار کے ایوانوں میں بھیجتے ہیں تو ان کے سامنے ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ ان کی مشکلات میں کمی آئے۔ ان کو روزگار کے مواقع ملیں۔ ان کی غربت میں کمی آئے۔ پڑھائی اور تعلیم کا حصول آسان ہوجائے۔ گلیوں اور سڑکوں کی حالت بہتر ہوجائے۔ مہنگائی سے نجات ملے اور امن و سکون بحال ہو جائے۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی حکومت اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ جاتی ہے تو وہ اپنے تمام کئے گئے وعدوں کو فراموش کرکے اپنے اقتدار کو طول دینے میں مصروف ہوجاتی ہے اور عوام آسانی کی بجائے مزید عذاب میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کو عوام نے بہت چاؤ سے منتخب کیا ہے۔ اگر سوچاجائے تو انھوں نے پہلے سے موجود دو بڑی پارٹیوں کی مخالفت مول لے کر ایک تیسری اور ولولوں سے بھرپور پارٹی کو اقتدار دلایا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ عوام کی آخری امید ہے۔ اگر یہ پارٹی وہ کچھ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی جس کا وعدہ عوام سے کرکے آئی ہے تو یقیناً عوام کو سخت مایوسی ہوگی۔ ایسے موقعوں پر عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اگر یہ پارٹی سیاسی مخاصمت کو بڑھانے میں مصروف ہوجائے گی، منتخب حکومتوں کو غیر مستحم کرنے اور سیاسی درجہ حرارت بڑھانے میں لگ جائیگی تو اس کے پاس اتنا وقت کیسے بچے گا کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دے سکے۔ جس ایم کیو ایم کی سات نشتوں پر خود موجودہ حکومت کھڑی ہو وہ ان کو ساتھ لیکر سندھ حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہی ہے اگر وہی چھ سات نشستیں پی پی پی قابو کر لے تو خود مرکز میں ا نکی پوزیشن خراب ہو سکتی ہے۔

ایم کیو ایم سے ملا قات کے بعد کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کا کوئی سیاسی مستقبل باقی نہیں رہا جب کہ نواز شریف کے بعد آصف زرداری کا سیاسی کیریئر بھی خاتمے کے قریب ہے، جو حال پنجاب میں ن لیگ کا ہوا وہ اب سندھ میں پیپلز پارٹی کا ہونے جا رہا ہے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان سے گورنرسندھ عمران اسماعیل اور ایم کیوایم کے اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات کی جس میں وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی، وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم اور رکن قومی اسمبلی سیّد امین الحق شریک تھے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، معاون خصوصی نعیم الحق، رکن قومی اسمبلی ملک محمد عامر ڈوگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سندھ کی سیاسی صورتحال پر غوراور آئندہ کی حکمت عملی پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

ممکن ہے کہ میرا خیال غلط ہو کہ ایسے حالات میں سندھ حکومت کی توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اس عمل میں اپنی حکومت کا استحکام نظر آرہا ہو لیکن ماضی کے تجربوں کو اگر سامنے رکھا جائے تو ایسی صورت حال پاکستان اور پاکستان میں بننے والی حکومتوں کیلئے کوئی اچھی علامت کبھی ثابت نہیں ہوئی اس لئے راقم کے نزدیک ضروری ہے کہ آپس کی چپقلش، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی اس روش سے حکومت اور پاکستان دونوں ہی کیلئے اچھا نہیں اور اس صورتحال سے جتنی جلد باہر آیا جاسکتا ہو باہر آجایا جائے اور ان وعدوں کو پورا کرنے کا اہتمام کیا جائے جو عوام سے کئے گئے تھے۔

حبیب الرحمن ایک کہنہ مشق قلم کار ہیں وہ بتول، اردو ڈائجسٹ، سرگزشت، سنڈے میگزین(جسارت)، جسارت اخبار میں "صریر خامہ" ٹائیٹل اور کچھ عرحہ پہلے تک "اخبار نو" میں "عکس نو" کے زیر عنوان کالم لکھتے رہے ہیں۔انہوں نے جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔معالعہ اور شاعری کا شوق رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here