سرحد پار ہی نہیں، تمام اطراف کی سرحدوں کے اُس پار سے جو بات ایک تسلسل سے کہی جا رہی ہے وہ یہی ہے کہ ایران، افغانستان اور ہندوستان میں جو جو بھی تخریب کاریاں ہو رہی ہیں اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ گو کہ یہ سب سراسرالزامات ہی ہیں جس کا کوئی ثبوت ان ممالک کے پاس نہیں لیکن پھر بھی ہر امکانی پہلو کا جائزہ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ پاکستان کو بدنام کرنے اور اسے اقوام عالم میں تنہا کرنے کیلئے تخریب کاری پاکستان کی جانب سے ہی کی جائے بلکہ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے تخریب کار اطراف کے ممالک سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوں اور پھر وہ پڑوسی ممالک کی سرحدوں کی جانب رخ کرکے اشتعال انگیزیاں کرتے ہوں اور دنیا کو یہ تاثر دیتے ہوں کہ توپیں تو پاکستان کی جانب سی ہی چلائی گئی تھیں۔
ایران کے پرشین اور پاکستان کے بلوچی، افغانستان کے پشتون اور پاکستان کے پٹھان اور کشمیر کے کشمیری اور پاکستان کےمجاہدین صورت شکل ہی میں ایک دوسرے سے مشابہت نہیں رکھتے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ خونی رشتوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ پھر یہ بھی ہوا کہ پاکستان نے ایران، افغانستان اور کشمیر پر نہ تو مستقل سرحدیں بنائیں اور نہ ہی اس بد گمانی کا شکار ہوئے کہ ان راستوں سے کسی قسم کی تخریب کاری بھی ہو سکتی ہے اور تخریب کار پاکستان میں بھی داخل ہو سکتے ہیں البتہ اگر پاکستان کے نزدیک کہیں سے تخریب کار پاکستان میں داخل ہو سکتے تھے اور پاکستان کی تباہی و بربادی کا سبب بن سکتے تھے اور جہاں دو طرفہ خونی رشتے شاید سرے سے تھے ہی نہیں وہ سندھ کی سرحدیں تھیں جن کو دوسری سرحدوں سے کہیں زیادہ مضبوط بنانے کیلئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ وہ واحد راستہ جس کو “کھوکھرا پار” کہا جاتا ہے اسے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا جائے۔
پاکستان کا یہ اقدام راست ہی تھا جس کی وجہ سے اب تک کسی تخریب کار کی کھوکھراپار سے آمد کی شکایت تو نہیں مل سکی لیکن جن جن پر تکیہ کیا گیا تھا وہاں سے تخریب کاروں کی ایک بھرمار ہے جو پاکستان میں آئے دن داخل ہوکر تخریب کارانہ اور مجرمانہ کارروائیاں کرتے ہیں اور پاکستان کے امن و امان کی صورت حال کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیتے ہیں۔
تحریب کاری کا عفریت ہے کہ جو روز بروز موٹا اور تندرست سے تندرست ہوتا جارہا ہے اور دنیا کا کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں رہ گیا جہاں کوئی نہ کوئی دل ہلادینے والا واقعہ رو نما نہ ہوتا ہو لیکن المیہ یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں کوئی بھی دہلادینے والا واقعہ ہو دنیا اس میں مسلمانوں کو ہی مطعون کرتی نظر آتی ہے۔ بالخصوص کچھ عرب ممالک، افغانستان اور پاکستان کے نام تو دنیا کو ایسے ازبر ہو گئے ہیں کہ ادھر لاش گری، بم پھٹا یا کوئی دھماکا ہواُدھر دنیا میں شور مچ گیا کہ لو بھئی مسلمان دہشتگرد آگئے۔ ہمارے پڑوسی تو دنیا میں آنے والی نئی زندگیوں کو بھی ہماری ہی خطا گرداننے سے گریز نہیں کرتے ایسے عالم میں ہونے والی اموات میں وہ ہمیں کیسے فراموش کر سکتاےہے۔
ابھی پلوامہ میں ہلاک ہونے والوں کی چیخوں کی گونج بھی نہیں تھمی تھی کہ بھارت کو ایک اور دھچکا لگ گیا۔ مجاہدین سے جھڑپ میں میجر سمیت 4 اہلکار ہلاک اور لیفٹیننٹ کرنل سمیت4 زخمی ہوگئے۔ مقابلے میں 3 کشمیری مجاہدین نے بھی جام شہادت نوش کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پلوامہ جھڑپ میں میجر ڈی ایس ڈوندیال، ہیڈ کانسٹیبل سیورام، سپاہی اجے کمار اور ہری سنگھ مارے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جھڑپ پنگلینا گاؤں میں ایک مکان میں موجود مجاہدین کے ساتھ ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق مجاہدین کے دیگر ساتھی محاصرہ توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے جب کہ مکان کا مالک شہید ہوگیا۔
پلوامہ کے زخموں سے رسنے والا خون ابھی بند بھی نہیں ہوا تھا کہ مودی نے پاکستان کو سارا قصوروار گردانتے ہوئے کہا ہے کہ پلوامہ میں خود کش حملے کے ساتھ بات چیت کا باب ختم ہوگیا اب دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات اور مؤثر کارروائی کا وقت ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے پوری دنیا کو متحد ہونا ہوگا، دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی سے ہچکچانہ دہشت گردی کو فروغ دینے کے مترادف ہو گا۔
ایران بھی پاکستان پر الزامات دھرنے سے باز نہیں آتا۔ ایران میں ہونے والی حالیہ تخریب کاری کا قصور وار وہ پاکستا ہی کو قرار دیتا ہے جس کی پاکستان سختی سے تردید کرتا رہا ہے اور مخلصانہ پیش کش بھی کی ہے کہ اگر ایران کے پاس ثبوت و شواہد ہیں تو وہ پاکستان کو پیش کرے، پاکستان ایسے افراد کے خلاف مؤثر کارروائی بھی کریگا اور ایسا کرنے کی وہ صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ایران کے لگائے جانے والے الزامات پر سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ “ایران خو د دہشت گردی میں ملوث ہے۔ پاکستان پر الزامات لگانے پر تعجب ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ “یہ حیران کن ہے کہ ایران خود دہشتگردی برآمد کرتا ہے۔ ایران، یمن، شام اور دیگر ممالک میں دہشتگردی میں ملوث ہے۔ ایران دہشتگردی پھیلانے کا موجب اور القاعدہ کو پناہ دینے والا ہے”۔
افغانستان گو کہ مسلسل پاکستان پر الزامات کی بارش کرتا رہتا ہے اور اپنے ملک میں امن و امان کی خراب صورت حال کا ذمہ دار پاکستان ہی کو قرار دیتا چلا آیا ہے لیکن اس کے برعکس پاکستان مسلسل اس بات کا خواہاں ہے کہ افغانستان میں جلد پائیدار امن قائم ہو۔ اس سلسلے میں پاکستان اس بات کیلئے بھی راضی ہو گیا تھا کہ مذاکرات کیلئے اسلام آباد کے بھی سارے دروازے وا کر دیئے جائیں۔ یہ مذاکرات ٹھیک اس وقت ہونا قرار پائے تھے جب سعودیہ کے ولی عہد پاکستان میں موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات میں خود افغان حکومت مانع رہی یہاں تک کہ اس نے اقوام متحدہ سے بھی اپیل کی کہ کیونکہ اس میں افغان حکومت کو فریق نہیں بنایا گیا ہے اور نہ ہی اس کی نمائندگی کو قبول کیا گیا ہے اس لئے وہ اس مذاکرات کا نوٹس لے۔ 18 فروری کو ہونے والے مذاکرات گو کہ تعطل کا شکار ہوچکے ہیں اور بے شک اس میں خود طالبان میں آپس کے اختلافات کارفرمارہیں ہیں لیکن طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں کابل حکومت کا رکاوٹ بننا خود اس بات کی علامت ہے کہ اسے امن و امان کے سلسلے میں پاکستان کی شمولیت، ثالثی یا کوششیں ناپسند ہیں۔
پاکستان خطے میں امن کو ضروری خیال کرتا ہے اور اس سلسلے میں جو بھی بن پا رہا ہے وہ کرگرزنے کیلئے تیار ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اور دہشتگردوں سے نمٹنے کیلئے نہ صرف جو کچھ بن سک رہا ہے پاکستان کر رہا ہے بلکہ دنیا اس کی صلاحیتوں اور قربانیوں کو سراہتی ہے۔ اگر ان ساری قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے باوجود ایران، بھارت اور ہندوستان پاکستان ہی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں تو اس پر حیرت کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔
یہ ساری کوششیں اور کاوشیں اپنی جگہ۔ الزامات پر الزامات لگانے کا گھٹیا عمل اپنی جگہ لیکن پاکستان کو بھی بہت سارے معاملات میں نہ صرف اپنے آپ کا جائزہ لینا ضروری ہے بلکہ بہت سارے عوامل پر کڑی نظر رکھنا لازم و ملزوم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جن جن پڑوسی ممالک کو پاکستان سے شکایات ہیں انھوں نے جب جب بھی اپنے ملک میں ہونے والی تخریب کارریوں کی تحقیق کی تو نتیجے میں اپنے ہی ملک کے افراد یا گروہوں کو اس میں ملوث پایا۔ یہ بات بھی طے ہے کہ پڑوس کے یہ تینوں ممالک اپنے اندر اپنے ہی آپ سے برسر پیکار ہیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب بھی ان ممالک میں کوئی بڑی کارروائی ہوتی ہے، پاکستان میں موجود مختلف کالعدم تنظیمیں اور جماعتیں اس کا سہرا اپنے سر منڈ لیتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ عسکری گروہ اور تنظیمیں واقعی “کالعدم” ہیں تو ملک عدم میں کیوں نہیں؟۔ ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی کیوں عمل میں نہیں آتی۔ پھر ایسی صورت میں جبکہ ایسی کارروائیوں سے پاکستان کا کوئی تعلق ہی نہ بنتا ہو تو پھر بھی ان کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کیا جانا کیا دوسرے ممالک کے جھوٹے دعوں کی سچا ثابت نہیں کریگا؟۔
حالیہ پلوامہ کے واقعہ کو بھی پاکستان ہی میں موجود ہتھیاربند تنظیموں نے اون کیا ہے لیکن وزارت دفاع کی ان کے خلاف ابھی تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی اور ماضی میں بھی ایسا ہی دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ پاکستان کو اس رویے پر لازماً غور کرنا ہوگا اور ایسی تنظیموں کے خلاف سخت ایکشن لینا ہو گا جو کسی بھی قسم کی کارروائی میں شریک نہ ہوتے ہوئے بھی غیر ذمہ دارانہ بیانات دیکر پاکستان کی سبکی اور بدنامی کا سبب بنتی ہیں۔ مؤثر کارروئیوں کا نہ ہونا نہ صرف ناقابل فہم ہے بلکہ پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔
