ابوسعدی
بوڈن اسٹاٹ (1819ء۔ 1892ء) : جرمن لہجے میں یہ نام بوڈن اشٹیٹ ہے۔اس کا پورا نام فریڈرش مارٹن بوڈن اشٹیٹ (Friedrich Martin Bodenstedt) ہے۔ میونخ اور برلن کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی۔ 1840ء میں ماسکو میں ٹیوٹر بن گیا۔ 1844ء میں مشرق کی طرف سیاحت کو نکلا اور ٹفلس (Tiflis) کے ایک اسکول میں پڑھانا شروع کیا، جہاں اس نے اپنے ایک رفیقِ کار مرزا شفیع (Mirza Schaffy) کی مدد سے آرمینیا اور جارجیا کی زبانیں سیکھیں۔ قسطنطنیہ سے ہوتا ہوا 1847ء میں جرمنی واپس آگیا۔ ایک صحافی اور سیاح کی حیثیت سے بھی تحریریں لکھیں، مگر اس کے مجموعہ شاعری ”مرزا شفیع کی غزلیات“ (Lieder das Miza Schaffy) کو وہ مقبولیت حاصل ہوئی کہ جرمن زبان میں اس کے ایک سو چالیس ایڈیشن شائع ہوئے۔ ابتدا میں ان کے بارے میں خیال تھا کہ یہ غزلیات محض ترجمہ ہیں، مگر بوڈن اشٹیٹ نے یہ انکشاف کیا کہ یہ اس کی طبع زاد شاعری ہے۔ ان غزلیات میں اُس نے حافظؔ کے رنگِ شاعری کو مقبولیت کی آخری حدوں تک پہنچادیا- 1854ء میں اسے میونخ یونیورسٹی میں سلافی(Slavonic)زبانوں کا پروفیسر مقرر کیا گیا۔ 1859ء میں یہ انگریزی زبان کا پروفیسر بنا۔ 1874ء میں اس نے ایک اور مجموعے کو مرزا شفیع کے نام کے حوالے سے شائع کرایا، مگر اُسے وہ مقبولیت حاصل نہ ہوئی۔ اس کی دیگر تصانیف کو بھی چنداں شہرت نہ مل سکی، مگر تحریک مشرقی کے نقطہ نظر سے اس کا کام بہت نمایاں ہے۔
(پروفیسر عبدالجبار شاکر)
تحمل
ایک آدمی کو کھٹملوں نے رات بھر سونے نہیں دیا۔ یہ شخص بے قرار ہوکر خدا سے دعا مانگنے لگا کہ: ’’اے خدا اس عذاب کو دفع کر‘‘۔
کھٹمل کب دعا کو مانتے تھے! کاٹتے کاٹتے سُجا دیا۔ تب یہ پاجی (کھٹملوں پر تو زور نہ چلا) لگا خدا سے کہنے کہ: ’’اے خدا تُو نے اس ذرا سے کام میں میری مدد نہ کی تُو بڑے کاموں میں کیا میری مدد کرے گا‘‘۔
جواب ملا کہ: ’’ہاں او بے ایمان! جب تُو چھوٹی چھوٹی باتوں میں بے قرار ہوکر مجھ کو بلاتا ہے اور اپنا ہاتھ نہیں ہلانا چاہتا تو بڑے کاموں میں بھی تیری فریاد نہیں سنی جائے گی۔ تجھ کو اتنی قدرت حاصل ہے کہ کھٹملوں کو دفع کرے، اور تو اس قدرت کو کام میں نہیں لاتا‘‘۔
حاصل: چھوٹی سی تکلیف کا تحمل نہ کرنا اور بے قرار ہوکر فریاد مچانا بڑی بے صبری کی بات ہے۔
(”منتخب الحکایات“۔نذیر احمد دہلوی)
ڈھیٹ مہمان
ایک مہمان کسی کے ہاں یوں جم کر بیٹھا کہ ہلنے کا نام ہی نہ لیتا تھا، گھر والے سخت تنگ آگئے۔ ایک دن میزبان نے ہمسائے کے ساتھ مل کر ایک پلان تیار کیا۔ رات کو جب یہ مہمان کے ساتھ کھا رہا تھا تو ہمسایہ دروازے پر آکر گرجنے اور برسنے لگا۔ پھر کواڑ کو دھکیل کر صحن میں تین چار پٹاخے پھینک دیے۔ مہمان ڈر کر چارپائی کے نیچے گھس گیا۔ جب یہ غوغا فرو ہوا تو میزبان نے مہمان کو بتایا کہ آج سے دو ماہ پہلے میں نے ہمسائے کا ایک مہمان مار ڈالا تھا، وہ انتقاماً تمہیں قتل کرنا چاہتا ہے، لیکن اگر اس نے تمہاری جان لی تو خدا کی قسم میں اس کے دس مہمانوں کی جان لوں گا۔
آدھی رات کے وقت مہمان دبے پائوں گھر سے نکلا اور بھاگ گیا۔
(ماہنامہ چشم بیدار۔دسمبر 2019ء)

