پروفیسراطہر صدیقی
ایک زمانہ ہوا، دو بھائی جو ملحق فارمز (Farms) پر رہتے تھے، آپس میں جھگڑ پڑے۔ چالیس برسوں میں یہ ان کا پہلا سنجیدہ جھگڑا تھا۔ اب تک وہ باہمی اتفاق کے ساتھ کھیتی باڑی کرتے، ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کا سامان، مزدور اور مشینری لیتے دیتے رہے تھے، بغیر کسی نفاق اور جھگڑے کے۔ بس ایک دن اتنی لمبی مفاہمت ختم ہوگئی اور وہ بھی ایک بہت ہی معمولی سی غلط فہمی کی بنا پر، جو ایک بڑی نااتفاقی کی وجہ بن گئی، اور آخر میں ایک دوسرے کے ساتھ تلخ کلامی کے بعد آپسی بول چال بھی بند ہوگئی۔
ایک صبح بڑے بھائی جان کے دروازے پر کسی نے دستک دی۔ اس نے دروازہ کھولا تو دیکھا ایک شخص بڑھئی کے اوزاروں کا بکسا لیے کھڑا ہوا ہے۔
’’میں کچھ روز کے لیے کام ڈھونڈ رہا ہوں‘‘ اس نے کہا۔ ’’ممکن ہے آپ کے یہاں چھوٹے موٹے کاموں کے لیے بڑھئی کی ضرورت ہو اور میں آپ کے کام آسکوں۔ کیا میں آپ کی مدد کرسکتا ہوں؟‘‘
’’ہاں‘‘ بڑے بھائی نے جواب دیا، ’’آپ کے لیے میرے پاس کام ہے۔ سامنے پانی کے نالے کے اُس طرف فارم دیکھیے، وہ درحقیقت میرے چھوٹے بھائی کا ہے۔ پچھلے ہفتے ہمارے کھیتوں کے درمیان ایک مرغزار تھا۔ اُس نے اپنے بلڈوزر سے دریا کو کاٹ کر اس میں پانی بھر دیا جو ہمارے درمیان ایک نالہ (Creek) بن گیا۔ ممکن ہے اس نے یہ کام مجھے جلانے کے لیے کیا ہو، لیکن میں اس سے بدلہ لینے کے لیے ایک کام اس سے بہتر کرنا چاہتا ہوں۔ وہ لکڑی کا چٹا دیکھ رہے ہیں آپ باڑے کے پاس۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ آٹھ فٹ اونچی لکڑی کی ایک دیوار (Fence) بنادیں تاکہ میں آئندہ نہ تو اُس کا منہ دیکھ سکوں اور نہ اُس کا فارم‘‘۔
بڑھئی نے جواب دیا:
’’میرے خیال میں مَیں حالات سمجھ رہا ہوں۔ مجھے کیلیں اور زمین میں چھید کرنے والا آلہ دکھایئے کہاں رکھا ہے، اور میں آپ کا کام ایسا کردوں گا کہ آپ خوش ہوجائیں گے‘‘۔
بڑے بھائی کو شہر جانا پڑا تاکہ وہ بڑھئی کو اس کی ضرورت کا سامان دلا سکے۔ اور باقی دن کے لیے وہ وہاں سے چلا گیا۔ بڑھئی نے بہت محنت سے دن بھر کام کیا، ناپ تول کرنے میں، لکڑیاں کاٹنے میں اور کیلیں ٹھوکنے میں۔ سورج غروب ہونے پر کسان واپس آگیا تو اس نے دیکھا کہ بڑھئی نے کام ختم کرلیا ہے۔ کسان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، اس کا منہ لٹک گیا، جب اس نے دیکھا کہ وہاں کوئی دیوار ہی نہیں ہے۔ بڑھئی نے بجائے دیوار بنانے کے اس نالے پر ایک پُل بنادیا، نالے کے ایک طرف سے دوسری طرف جانے کے لیے۔ کاریگری کا ایک بہت ہی عمدہ نمونہ، پکڑنے کے لیے ہینڈ ریل وغیرہ کے ساتھ۔ اور اس کا پڑوسی، اس کا چھوٹا بھائی اس کی طرف آرہا تھا، ہاتھ پھیلائے ہوئے:
’’تم بھی خوب آدمی ہو کہ میرے کہنے سننے اور سب کچھ کرنے کے باوجود تم نے نالے (Creek) پر پل بنادیا‘‘۔
دونوں بھائی پل کے اپنے اپنے کونوں پر کھڑے ہوئے تھے، پل پر سے چل کر اور بیچ تک پہنچ کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا۔ انھوں نے دیکھا کہ بڑھئی نے اپنے اوزاروں کا بکسا اٹھایا، کندھے پر لادا، اور وہاں سے رخصت ہونے لگا۔
’’نہیں ٹھیرو۔ کچھ دن کے لیے قیام تو کرو۔ میرے پاس اور بھی بہت سے کام ہیں کروانے کے لیے‘‘ بڑے بھائی نے کہا۔
’’میں ضرور قیام کرتا‘‘ بڑھئی نے جواب دیا ’’لیکن مجھے اور بہت سے پل بنانے ہیں ابھی‘‘۔

