مامون کا ایک کلمہ حکمت

عبداللہ بن طاہر کہتے ہیں کہ ایک دن میں مامون رشید کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے اپنے نوکر کو آواز دی:’’اے لڑکے!‘‘ مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔ اس نے دوبارہ آواز دی تو ایک ترکی لڑکا بڑبڑاتا ہوا نکلا اور تند لہجے میں کہنے لگا:
’’جہاں ہم آپ کے پاس سے نکلتے ہیں آپ ’’لڑکے، لڑکے‘‘ پکارنے لگتے ہیں۔ آخر ہم کب تک یہ ’’لڑکے، لڑکے‘‘ کی آوازیں سنتے رہیں گے!
مامون نے یہ سن کر سر جھکالیا۔ یہاں تک کہ مجھے یقین ہوگیا کہ اب مجھے اس لڑکے کو قتل کرنے کا حکم ملنے والا ہے۔ لیکن تھوڑے سے وقفے کے بعد مامون نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا:
’’عبداللہ! اگر کوئی شخص اپنے اخلاق اچھے رکھنے کی کوشش کرے تو اس کے نوکروں کے اخلاق بگڑ جاتے ہیں، اور اگر اس کے اپنے اخلاق خراب ہوجائیں تو اس کے نوکر خوش خلق ہوجاتے ہیں، لیکن ہم یہ نہیں کرسکتے کہ اپنے نوکروں کے اخلاق سنوارنے کے لیے اپنا مزاج بگاڑ لیں‘‘۔
(محمد بن محمد۔ الیواقیت العصریتہ،ص 142 مصطفیٰ البابی۔ مصر 1349ھ) (مفتی محمد تقی عثمانی۔ ”تراشے“)