حضرت اُمّ سُلیمؓ کے نکاح کا واقعہ عجیب ہے، یہ اپنے نکاح سے پہلے اسلام لاچکی تھیں، حضرت ابوطلحہؓ جو بعد میں ان کے شوہر بنے، اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ حضرت ابوطلحہؓ نے کفر ہی کی حالت میں انہیں شادی کا پیغام دیا، اس کے جواب میں اُمّ سُلیمؓ نے ان سے فرمایا: ’’ابوطلحہؓ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم نے ایک ایسی لکڑی کو اپنا معبود بنا رکھا ہے جو زمین سے اُگی ہے اور اسے فلاں قبیلے کے ایک حبشی شخص نے گھڑا ہے؟‘‘
’’ہاں جانتا ہوں‘‘۔ ابو طلحہؓ نے کہا۔
’’کیا تمہیں ایسی لکڑی کو معبود قرار دیتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ تم جیسے آدمی کا پیغام رد نہیں کیا جاسکتا، لیکن میں مسلمان ہوچکی ہوں اور تم ابھی کافر ہو، اگر تم اسلام لے آئو تو مجھے اس کے سوا کوئی مہر نہیں چاہیے‘‘۔ حضرت اُمّ سُلیمؓ نے جواب دیا۔
’’لیکن تم تو اس مرتبے کی عورت ہو کہ یہ تمہارا مہر نہیں بن سکتا‘‘۔ ابوطلحہؓ نے کہا۔
’’پھر میرا مہر کیا ہوسکتا ہے؟‘‘ حضرت اُمّ سُلیمؓ نے پوچھا۔
’’سونا، چاندی!‘‘ ابوطلحہؓ نے جواب دیا۔
’’لیکن مجھے نہ سونا چاہیے، نہ چاندی۔ میں تو تم سے بس اسلام چاہتی ہوں‘‘۔ حضرت اُمّ سُلیمؓ نے فرمایا۔
یہ سن کر حضرت ابوطلحہؓ کے دل میں اسلام گھر کرگیا، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپؐ صحابہؓ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ ابوطلحہؓ کو آتے دیکھا تو آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا: ’’ابوطلحہؓ تمہارے پاس اس حال میں آئے ہیں کہ ان کی آنکھوں کے درمیان اسلام کا نور چمک رہا ہے‘‘۔ اس کے بعد ابوطلحہؓ اسلام لائے اور اُمّ سُلیمؓ ان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔
(مفتی محمد تقی عثمانی۔تراشے)

