مہنگائی کا سونامی ریلیف پیکیج علاج نہیں ہے

تحریک انصاف کے اقتدار کی آئینی مدت نصف النہار کے بعد اب زوال کی جانب بڑھ رہی ہے، بقیہ مدت میں گھن گرج نہ ہوئی تو حکومت پانچ سال بھی مکمل کرلے گی، تاہم گھن گرج کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور میچ وقت سے پہلے بھی ختم ہوسکتا ہے۔ دوسرا آپشن یہ بھی متوقع ہے کہ حکومت خود ہی اپنی اننگ ڈکلیئر کرکے ملک میں نئے عام انتخابات کا ڈول ڈال سکتی ہے۔ سیاسی منظرنامے کی وضاحت کے لیے یہ سب مضبوط اشارے ہیں۔ اب ہزار آبِ حیات بھی چھڑکیں، برسر اقتدار ٹیم کے لیے سرپرستی کی شبنم کہیں نظر نہیں آرہی۔ زمینی حقائق اُس شاہراہ کی جانب برق رفتار سے بڑھ رہے ہیں جہاں اس حکومت کے لیے آب و دانہ عبث ہے۔ تین سال قبل یہی تحریک انصاف ایک شمع تھی اور پروانے اس پر فدا تھے۔ مگر جس طرح شعلے کے گرد مگس نہیں پھرتی اسی طرح اب پروانوں کی ناز برداری ختم ہوچکی ہے، اور باہمی اعتماد بھی نہیں رہا۔ شادیانے بجاکر تحریک انصاف کو اقتدار میں لایا گیا تھا، مگر اب جب بھی ریسکیو کے لیے فون کیا جائے گا تو آگے سے ”رانگ نمبر“ کا جواب ملے گا۔
حکومت کے ساڑھے تین سال کے اقتدار کا جائزہ یہ ہے کہ خیال تھا حکومت آئینی اداروں کے ساتھ مل کر خارجہ اور ملک کے داخلی محاذ کے مسائل حل کرے گی۔ عمران خان کو پارلیمنٹ کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر پہنچا کر یہ یقین کرلیا گیا تھا کہ اب ملک کے مسائل چٹکی بجاتے ہی حل ہوجائیں گے، کیونکہ تصور یہ تھا کہ ایمان دار قیادت ہی ملک سنبھال سکتی ہے۔ ایمان داری کے ساتھ ساتھ باصلاحیت، دور اندیش اور معاملہ فہم ہونے کی شرط فراموش کردی گئی جس کا خمیازہ آج بھگتنا پڑرہا ہے کہ ملکی معیشت سنبھل رہی ہے اور نہ خارجہ محاذ پر رات کی تنہائی کٹ رہی ہے۔ مسائل میں گھری ہوئی حکومت کے لیے ڈسکہ الیکشن میں منظم دھاندلی کی رپورٹ پنجاب حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے بہت بڑی دستاویز ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں بیس پریزائیڈنگ افسروں کی کئی گھنٹوں تک پراسرار گمشدگی سے متعلق حقائق بھی بے نقاب کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی منشا کے مطابق نتائج حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت منظم دھاندلی روا رکھی گئی اور انتخابی عملے کو آلہ کار بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈسکہ ضمنی الیکشن میں ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز محمد اقبال نے الیکشن عمل میں ہیرا پھیری کے لیے اجلاسوں میں شرکت کی، جبکہ اے سی ہائوس میں ہونے والے اجلاسوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی اُس وقت کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان بھی شریک رہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز نے پریزائیڈنگ افسران کو ووٹنگ کے عمل کو سست کرنے اور شہری علاقے میں ووٹنگ کی شرح 25 فیصد سے زیادہ نہ ہونے دینے کی ہدایت کی۔ پریزائیڈنگ افسروں کو کہا گیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے کام میں مداخلت نہ کریں اور پولیس کی مدد سے ساڑھے چار بجے پولنگ اسٹیشن بند کردیں۔ اس رپورٹ کے مطابق کارروائی ہوئی تو حکومت کے متعدد عہدیدار نااہل ہوسکتے ہیں۔ یہ رپورٹ حکومت کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ یہ حکومت جسے ہر طرح کی حمایت میسر رہی، اس کے باوجود یہ مسائل حل نہیں کرپائی۔ انتظامی اداروں پر حکومت کی گرفت نہ ہونے سے ملک میں مہنگائی قابو میں نہیں آرہی۔ تحریک انصاف مرکز کے علاوہ پنجاب، اور کے پی کے میں حکومت کررہی ہے، بلوچستان میں حکومت کی اتحادی جماعت ہے، لیکن اسلام آباد سمیت کسی صوبے کی ضلعی مشینری ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو قانون کی گرفت میں نہیں لاسکی، جس سے مہنگائی بدترین حد تک بڑھ گئی ہے اور زندگی کے ہر طبقے کے لوگوں کی قوتِ خرید ختم ہورہی ہے، جس کی وجہ سے حکومت سے ناامیدی تیزی سے بڑھنے لگی ہے۔ اس کی جھلک وزیرِاعظم کے قوم سے خطاب میں نظر آئی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پس منظر میں وزیرِاعظم قوم کے سامنے آئے اور ریلیف پیکیج کا اعلان کیا، اور دعویٰ کیا کہ یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج ہوگا۔ انہوں نے آٹے، گھی اور دالوں کی قیمتوں میں کمی کے لیے 120 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کا اطلاق کیسے ہوگا؟ حکومت کے اپنے ادارے یوٹیلٹی اسٹورز میں حالیہ چند ہفتوں میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں متعدد بار تبدیلی کی جاچکی ہے۔ یہ تبدیلی صارفین کی مالی مشکلات میں کمی کے بجائے الٹا اضافے کا باعث بنی ہے۔ ایک جانب حکومت ریلیف پیکیج کی بات کرتی ہے اور دوسری جانب وزیرِاعظم کے مشیر خزانہ سبسڈی ختم کرنے کا عندیہ دیتے ہیں۔ 3 غذائی اشیا پر 120 ارب روپے کی سبسڈی کو ”ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ویلفیئر پیکیج“ کہا جارہا ہے۔ اسی خطاب میں وزیرِاعظم نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر ”معمولی اضافہ“ کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے 2 کروڑ خاندانوں کے لیے 120 ارب روپے کے جس ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے، یہ رقم اگر دو کروڑ خاندانوں میں تقسیم کی جائے تو پانچ روپے فی خاندان بنتی ہے، اور مہنگائی پانچ سو فیصد زیادہ ہوئی ہے۔
ملک میں مہنگائی کا سونامی ابھی آنا ہے۔ حالات اب پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں کہ دو ماہ بعد جنوری میں مہنگائی کی شدید ژالہ باری متوقع ہے۔ اس کی وجہ گیس کا بحران ہے۔ حکومت کے پاس موقع تھا کہ وہ سستی گیس خرید سکتی تھی، مگر فیصلہ کرنے میں اس قدر تاخیر کردی کہ اب موسم سرما کے عروج پر گیس کے بحران سے بچنے کے لیے قطر پیٹرولیم سے 30.6 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کی بلند ترین قیمت پر ایل این جی کارگو قبول کرلیا گیا ہے۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے نومبر میں فراہم کیے جانے والے دو کارگوز کے لیے ہنگامی پیشکشیں طلب کی تھیں، کیونکہ اس سے قبل وعدہ کرنے والی 2 کمپنیاں گنوور اور ای این آئی نے اسے پورا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ پی ایل ایل کا گنوور اور ای این آئی کے ساتھ ہر ماہ ایک ایل این جی کارگو کے لیے مختصر اور طویل مدتی معاہدے تھے، لیکن دونوں سپلائرز نے اپنے معاہدے پر عمل کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کے نتیجے میں سرکاری فرم کو دسمبر اور جنوری کے مہینوں کے لیے دو ایل این جی کارگوز کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹینڈر طلب کرنا پڑا۔ نومبر میں سپلائی کے لیے پہلے ٹینڈر کو منسوخ کردیا گیا تھا، اب دسمبر میں ملک کو گیس کی قلت کا سامنا ہوگا۔ اس وقت پی ایل ایل کو مناسب حکمت عملی کے فقدان اور جب بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم تھیں تو ایل این جی کی سپلائی یقینی نہ بنانے پر تنقید کا سامنا ہے۔ سرکاری اداروں نے نجی شعبے کو ایل این جی درآمد کرنے سے روک دیا تھا کیونکہ یہ پبلک سیکٹر کی اجارہ داری کو چیلنج کرسکتا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو اس صورت حال کا نوٹس لینا پڑا، کیونکہ مہنگی درآمدات کی وجہ سے قومی معیشت اور سب سے زیادہ صارفین مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک کارگو $30.65 فی ایم ایم بی ٹی یو کی لاگت پر لایا جارہا ہے، اس لیے خدشہ ہے کہ دسمبر میں کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمت 8-9 روپے فی کلو تک بڑھ جائے گی جس کا اثر صنعتوں پر پڑے گا۔
ملک میں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی رابطہ عوام مہم کے لیے متحرک ہیں، مہنگائی کے خلاف مظاہرے بھی کررہی ہیں، ان حالات میں حکومت کے لیے چین کا سانس لینا مستقبل میں مشکل ہوتا جائے گا۔ یہ مشکلات اپوزیشن کی نہیں بلکہ حکومت کی اپنی تکنیکی غلطیوں اور کم زور فیصلوں کے باعث بڑھ رہی ہیں۔
حکومت اور اس کے ترجمان یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ مہنگائی عالمی مسئلہ ہے۔ اس دوران میں وزارتِ خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ عالمی سطح پر مہنگائی کی شرح 3.9فیصد ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح 9فیصد ہے۔ یہ فرق کیوں؟ پاکستان میں فی کس آمدنی میں بھی کمی ہوئی ہے۔
پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد تک رہنے کا خدشہ ہے۔ ڈاکٹر پاشا نے کہا: اگرچہ حکومت کہتی ہے کہ بے روزگاری کی شرح 5 سے 6 فیصد ہے تاہم غیر جانب دارانہ تخمینے کے مطابق اس کی شرح 12 سے 13 فیصد ہے۔ انہوں نے شرح نمو کے بھی تین سے ساڑھے تین فیصد تک بڑھنے کی توقع کا دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح جانچنے کا بھی کوئی ایسا طریقہ کار موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر کوئی تخمینہ دیا جا سکے۔ ماہر معیشت اور وزارتِ خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح دس فیصد سے اوپر رہنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح معلوم کرنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت روپے کی قیمت گرائی گئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان پر بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کہتے ہیں کہ مہنگائی ختم ہونے والی نہیں ہے بلکہ ابھی تو اس میں اضافے کا آغاز ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چار چیزوں کی قیمتیں لے لیں تو پتا چل جائے گا کہ مہنگائی کتنی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پام آئل کی قیمت 600 ڈالر سے 1000 ڈالر فی ٹن چلی گئی ہے، ایل این جی کے نرخ 10 ڈالر سے 50 ڈالر، خام تیل کی قیمت 37 ڈالر سے 84 ڈالر فی بیرل چلی گئی اور کوئلے کی قیمت 60 ڈالر سے 250 ڈالر فی ٹن پر پہنچ چکی ہے، اور ان قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق آئی ایم ایف کے پاس پاکستان کی معیشت کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوئی خاص تکنیکی صلاحیت نہیں ہے، اس کی وجہ سے اُس کے معیشت کے بارے میں تخمینے اور اندازے ”نقائص سے بھرپور ہوتے ہیں“۔ ڈاکٹر اشفاق حسن نے بھی اس بات سے اتفاق کیا اور دعویٰ کیا کہ جب وہ وزارتِ خزانہ میں تھے اور آئی ایم ایف سے مذاکرات ہوتے تھے تو وہ جی ڈی پی اور محصولات کے جو اعداد وشمار دے دیتے آئی ایم ایف انھیں قبول کرلیتا، کیونکہ اُس کے پاس پاکستان کی معیشت کو جانچنے کے لیے تکنیکی صلاحیت موجود نہیں ہے، اور وہ اندازوں پر اپنی رائے دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بڑی کمی واقع ہوئی ہے اور 6 نومبر 2021ء کو ایک ڈالر کی قیمت 171.71 روپے ہے۔ جب کہ 2018ء میں یہ 109.84 روپے کا تھا۔ یہ بھی مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ بنی ہے، کیوں کہ ملک کی معیشت کا بڑا دارومدار درآمدات پر بھی ہے۔ اعلیٰ سطح پر غلط فیصلے.. پہلے چینی کی برآمد کا فیصلہ پھر اس کی درآمد.. یہی کام گندم اور آٹے کے ساتھ ہوا، اسی طرح 1 ارب ڈالر کی کپاس درآمد کرنے کے نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔ لیکن حکومت عالمی سطح پر مہنگائی کو پاکستان میں مہنگائی کی بنیاد بتارہی ہے۔ معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے حکومت کی جانب سے ملک میں پیٹرول کی خاص کر خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم قیمت کے دعوے کو غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ موازنہ صرف پیٹرول کی قیمت پر کیوں کررہی ہے؟ حکومت کو یہ موازنہ روزمرہ استعمال کی تمام چیزوں پر کرنا چاہیے تو پتا چلے کہ پاکستان میں اس وقت مہنگائی کی کیا بلند ترین سطح ہے، اور اس کے مقابلے میں دوسرے ملک خاص کر خطے کے ملک پاکستان سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا ”حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس وقت چینی اور گندم کی قیمت بھارت اور بنگلہ دیش میں کس سطح پر ہے اور ہم کس قدر مہنگی گندم اور چینی خریدنے پر مجبور ہیں“۔ ڈاکٹر اکرام نے کہا ”یہ موازنہ اس لیے بھی صحیح نہیں ہے کہ صرف پیٹرول کی قیمت کو الگ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسے بحیثیت مجموعی معیشت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے“۔ انہوں نے کہا کہ ”ضرورت کی چیزوں کی خریداری کا تعلق قوتِ خرید سے ہے۔ پاکستان میں قوتِ خرید کم ہوئی ہے جس کا تعلق ملک کی فی کس آمدن سے ہے۔ پاکستان کی فی کس آمدن کا موازنہ بنگلہ دیش اور بھارت سے کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان اس لحاظ سے دونوں ممالک سے کتنا پیچھے ہے۔