(چھٹا باب) موسمی آفتیں:ہمارے ذرائع پیداوار کیا ہیں؟

نارمن بورلاگ (Norman Borlaug) معروف ماہر علمِ نباتات ہے، وہ شعبہ زراعت میں انقلاب لایا، اور بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ گندم کی فی ایکڑ پیداوار اور اقسام میں بہت اضافہ ہوا، کاشت کاری روز افزوں ترقی کرتی چلی گئی، غذائی اجناس ضرورت سے زیادہ ہوگئیں۔ جوں ہی بورلاگ کی گندم دنیا میں پھیلی، اسی طرز پر مکئی اور چاول بھی کاشت کیے جانے لگے۔ پیداوار تین گنا بڑھ گئی۔ بھوک گھٹتی چلی گئی۔
آج بورلاگ کے سر یہ سہرا جاتا ہے کہ اُس نے ایک ارب زندگیوں کو محفوظ بنایا۔ اُسے 1970ء میں نوبیل پرائز ملا۔ ہم آج تک اُس کے کام کا اثر دیکھتے ہیں۔ آج روئے زمین پر جتنی گندم پیدا ہورہی ہے، بورلاگ کے لگائے ہوئے بیجوں کی نسل ہے۔ تاہم ان بیجوں کی اقسام کے لیے بڑی مقدار میں کھاد درکار ہوتی ہے، جس کے کچھ منفی اثرات ہوتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری تاریخ میں ایک ایسا ہیرو ہے، جسے agronomist کا لقب ملا، جو اس سے پہلے ہم نے کبھی نہ سنا تھا۔
بدلتی ماحولیات میں نارمن بورلاگ کا کیا کردار ہوسکتا ہے؟ سن 2100 تک دنیا کی آبادی دس ارب پر پہنچ جائے گی۔ ہمیں ہر ایک کی خوراک پوری کرنی ہوگی۔ کیونکہ صدی کے آخر تک ہمیں مزید چالیس فیصد خوراک کی ضرورت ہوگی۔ بات صرف اتنی سی بھی نہیں، ہمیں اس سے بھی زیادہ اجناس کی پیداوار درکار ہوگی۔
اس کی وجوہات یہ ہیں: لوگ زیادہ سے زیادہ امیر ہورہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کیلوریز لے رہے ہیں۔ خاص طور پر گوشت اور ڈیری مصنوعات کا استعمال بہت بڑھ چکا ہے۔ گوشت اور ڈیری مصنوعات کی پیداوارکے لیے ہمیں مزید خوراک درکار ہوگی۔ ایک مرغی، مثال کے طور پر دوکیلوری کھاتی ہے، تب کہیں جاکر ہمارے لیے ایک کیلوری مہیا کرتی ہے۔ یعنی تمہیں مرغی سے ایک کیلوری حاصل کرنے کے لیے اُسے دو کیلوری کھلانی ہوگی۔ گائے کے معاملے میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے۔ گائے کے گوشت سے ایک کیلوری حاصل کرنے کے لیے ہمیں اُسے 6 کیلوری کھلانی ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں ہم جتنی کیلوری گوشت سے حاصل کریں گے، اس کی 6 گنا کیلوری ہمیں اُس گوشت کومہیا کرنی ہوگی۔
گوشت کی کھپت امریکہ ، یورپ، برازیل، اور میکسیکو میں کم ہے، مگر چین اور دیگر ترقی پذیر دنیا میں تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ یہاں ایک معما درپیش ہے۔ ہمیں آج کی نسبت بہت زیادہ خوراک پیدا کرنے کی ضرورت پڑے گی، لیکن اگر ہم موجودہ طریقوں پر ہی ایسا کرنا چاہیں گے تو یہ ماحولیات کے لیے تباہ کن ہوگا۔ کاربن کا دو تہائی اخراج بڑھ جائے گا۔ قیاس یہ ہے کہ ہم نے فی ایکڑ پیداوار میں بہتری کا فی الحال کوئی انتظام نہیں کیا ہے۔
ایک اور بات قابلِ تشویش ہے۔ اگر ہم پودوں سے توانائی پیدا کرتے ہیں تو کسی حادثاتی مسابقت میں پڑسکتے ہیں، اور یوں مجموعی نقصان کی طرف جاسکتے ہیں۔ جدید بائیو فیول ایسے طریقوں تک لے جاسکتا ہے کہ جو ٹرک، بحری جہازوں، اور طیاروں کو تیل مہیا کرسکے۔ لیکن اگر ہم ایسی کاشت کاری بڑھائیں گے جو انسانی آبادی کی خوراک کے بجائے کسی اور کام میں استعمال کی جائے، تو اجناس کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، مزید لوگ غربت اورکم خوراکی میں گھر جائیں گے، جبکہ جنگلات پہلے ہی خوفناک رفتار سے ختم ہورہے ہیں۔
ان ممکنہ مشکلات سے بچنے کے لیے ہمیں بورلاگ کی سطح پر جاکر جدتیں پیدا کرنی ہوں گی۔ ان جدتوں پر نظر کرنے سے پہلے میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ کاربن اخراج کہاں سے ہورہا ہے، تاکہ موجودہ ٹیکنالوجی سے اس کے خاتمے کی کوششوں کا جائزہ لیا جاسکے۔ یہاں بھی میں گرین پریمیم کی مثالوں سے واضح کروں گا کہ کاربن سے نجات بہت مہنگی پڑے گی، اور ہمیں اس کام کے لیے کچھ نئی ایجادات کی ضرورت ہوگی۔
آدمی کے پیٹ کے اندر جھانکو، تمہیں صرف ایک خانہ ایسا نظر آئے گا جہاں خوراک ہضم کے مرحلے سے گزرتی ہے، اور پھر آنتوں میں پہنچتی ہے۔ لیکن جب تم گائے کے پیٹ میں جھانکو گے تو وہاں چار خانے نظر آئیں گے، یہی وہ خانے ہیں جو ایک گائے کے لیے گھاس اور دیگر پودے ہضم کرنے میں معاون بنتے ہیں، جبکہ انسان یہ چیزیں ہضم نہیں کرسکتا۔ یہ سارا عمل enteric fermentation (آنت میں تخمیر) کہلاتا ہے۔ گائے کے پیٹ کا بیکٹیریا پودے کیcellulose (نباتاتی نشاستہ) توڑ دیتا ہے، اور اس سے میتھین پیدا کرتا ہے۔ اس طرح گائے بہت زیادہ میتھین خارج کرتی ہے۔
ساری دنیا میں اس وقت ایک ارب مویشی گوشت اور ڈیری مصنوعات کے لیے پالے جارہے ہیں۔ میتھین گیس جو یہ ہر سال خارج کررہے ہیں، دو ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی ہے، یہ مجموعی عالمی اخراج کا چار فیصد بنتا ہے۔
میتھین کا اخراج گائے، بیل اور دیگر مویشیوں سے مخصوص مسئلہ ہے، جیسے بھیڑ، بکریاں، ہرن اور اونٹ وغیرہ۔ تاہم یہاں گرین ہاؤس گیس اخراج کی ایک اور وجہ بھی ہے، یہ ہر جانور میں پائی جاتی ہے: گوبر، فضلہ۔ یہ گرین ہاؤس گیسوں کا طاقت ور ملغوبہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر نائٹرس آکسائیڈ خارج کرتا ہے، اس کے علاوہ کچھ میتھین، سلفر، اور امونیا کا بھی اخراج ہوتا ہے۔ خنزیر کا فضلہ ان گیسوں کے اخراج میں نصف کردار ادا کرتا ہے، جبکہ باقی کا نصف گائے، بیل وغیرہ سے خارج ہوتا ہے۔ جانوروں کا یہ فضلہ اس قدر زیادہ ہے کہ شعبۂ زراعت میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی دوسری سب سے بڑی وجہ ہے۔
(جاری ہے)