قومی سلامتی پالیسی کے اجراء کے بعد سے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کے بیانات سامنے آرہے ہیں جن میں وہ تواتر سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان بھارت سے اچھے تعلقات کا خواہش مند ہے مگر کشمیر کو کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تقریباً ماضی کی پالیسی کا ہی تسلسل ہے جس میں پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات اور اچھے تعلقات و تجارت کی خواہش کے اظہار کے ساتھ ہی کشمیر کو بھارت کے ساتھ اپنے تنازعات کا ’’کور ایشو‘‘ قرار دیتا رہا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو بھارت کی دُم پر پائوں ثابت ہوتا رہا ہے۔ اب بھی پاکستان اسی راہ پر گامزن رہنے کے لیے پُرعزم ہے۔ یہ بھارت کے اخبارنویسوں اور پاکستان میں بھارتی میڈیا کے مؤقف کی جگالی کرنے والے پاکستانی اخبار نویسوں کی امیدوں پر اوس پڑنے کے مترادف ہے، جنہوں نے یہ پیش گوئی یقین کے انداز میں کرنا شروع کی تھی کہ پاکستان کی نئی پالیسی میں مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان نے بھارت سے معمول کے تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت سے اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار پاکستان کی طرف سے ہر دور میں ہوتا رہا، مگر یہ کشمیر کی قیمت پر کبھی قائم نہیں ہوئے، اور یہی وجہ ہے کہ آج 74 سال بعد بھی پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بگاڑ نمایاں اور واضح ہے۔
ڈاکٹر معید یوسف کے ان بیانات کے ساتھ ہی آزادکشمیر میں بھی ایک تحریک اور تحرّک کے اشارے ملنے لگے ہیں۔ اس دوران متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین جو دوسرے آزادی پسند راہنمائوں کی طرح بہت حد تک پس منظر میں جا چکے ہیں یا کیے جاچکے ہیں، ایک بار پھر اپنا مافی الضمیر بیان کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے حزب المجاہدین کے سابق چیف کمانڈر غلام رسول ڈار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی تک ہر محاذ پر جدوجہد جاری رہے گی۔ سید صلاح الدین کے اس ایک جملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیرکی مزاحمت کا چشمہ ایک بار پھر اُبلنے کو بے تاب ہے، اور اب حریت پسندوں نے دوبارہ اپنی بات برسرِعام کہنا شروع کردی ہے۔ امریکہ کی طرف سے گلوبل ٹیررسٹ قرار دئیے جانے کے بعد سید صلاح الدین کے اس انداز کے بیانات آنا کم ہوگئے تھے۔
صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری اور سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان کے درمیان ملاقات میں مسئلہ کشمیر کچھ اس انداز سے زیربحث آیا ہے کہ آزادکشمیر کی حد تک کئی برس سے جاری جمود ٹوٹنے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔ اس ملاقات میں کہا گیا ہے کہ آزادکشمیر کو تحریکِ آزادی کا حقیقی بیس کیمپ بنایا جائے گا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی اختلاف رکھتے ہوئے کشمیر کے ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد اور فعال ہونا ہوگا، اور وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان نیازی نے اسلام آباد کے کشمیر ہائوس میں ایک ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل اور اسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے مربوط پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا تھا۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ آزادکشمیر کی سیاسی اور حکومتی شخصیات نے اب اس خطے اور اس کے وسائل کو اپنے اصل مقصد کی خاطر استعمال کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کردیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی ضرورت محسوس کی ہے کہ موجودہ حالات میں آزادکشمیر حکومت اور ریاست کو کشمیر کے حوالے سے منظم اور فعال کردار ادا کرنا ہے۔ اس بات کا تقاضا ہے کہ بیرونِ ملک بسنے والے کشمیری باشندوں کو ایک واضح لائحہ عمل دیا جائے تاکہ وہ عالمی سطح پر رضاکارانہ طور پر مسئلہ اجاگر کریں اور دنیا کو بھارت کا اصل چہرہ دکھائیں۔ اس حوالے سے آزادکشمیر کے تمام وسائل اور اداروں کا رخ بھی درست کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت نے روزِاوّل سے ہی پاکستان کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کی روش اختیار کرلی۔ پھر پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ کشمیر جیسی مسلمان اکثریتی ریاست پر حیلوں بہانوں سے قبضہ کرنا بھارت کی اسی سوچ کا عکاس تھا۔ کشمیریوں کے ساتھ حقِ خودارادیت دینے کے وعدے کرکے بھارت کا مکر جانا بھی اسی ذہنیت کا عکاس تھا۔ ایک وقت تو وہ آیا جب بھارت نے پاکستان کو دولخت کرکے اپنا سارا غصہ اتارنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد بھی بھارت کا غصہ پوری طرح اتر نہ سکا۔ اُس نے حیلوں بہانوں سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں جا ری رکھیں۔ جہاں ایک طرف پاکستان بھارت کے ساتھ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے نام پر دونوں طرف کے لوگ گلچھرے اُڑا رہے تھے وہیں دوسری طرف بھارت بلوچستان میں ایک خوفناک مزاحمت کی سرپرستی اور آبیاری کررہا تھا۔ وہ افغانستان کے ذریعے پاکستان کا گھیرائو کرنے میں مگن تھا۔ آج پاکستان کی قید میں بھارتی کرنل کلبھوشن یادیو کی موجودگی بھارت کی پاکستان پر ’’نوازشات‘‘ کا کھلا ثبوت ہے۔ راج ناتھ سنگھ کو پاکستان پر نہ ماننے کا الزام لگانے سے پہلے اپنے ملک اور قیادت کے کردار پر بھی ایک نظر ڈالنی چاہیے تھی۔ بھارت کی سوئی عملی طور پر تقسیمِ ہند کے عمل میں پھنسی ہوئی ہے۔ 74 سال بیت گئے، اس عرصے میں زمانہ ہی نہیں، دنیا تک بدل گئی، دنیا کے جغرافیے تبدیل ہوئے، سلطنتیں اُبھر کرڈوب گئیں، صدیوں کی بادشاہتیں زوال کا شکار ہوگئیں، انسان ترقی کرتا ہوا کہاں سے کہاں جا پہنچا۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ دونوں نے میزائل سازی کے ذریعے اسلحہ کے انبار لگا دئیے، مگر بھارت آج بھی بدلنے کو تیار نہیں، وہ آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں 1947ء میں تھا۔ یعنی پاکستان کو کسی نہ کسی طرح نقصان پہنچایا جائے، کشمیریوں کی جدوجہد کو طاقت کے ذریعے دبایا جائے۔ جب تک نیت تبدیل نہیں ہوتی عمل اور رویہ بھی نہیں بدلتا۔ بھارت کو اپنی سوچ اور فکر میں تبدیلی لانا ہوگی۔ اس کے بغیر پاکستان سے نہ ماننے کا گلہ بے سود ہے۔ کشمیری ہر قیمت پر بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔کشمیریوں کی موجودہ نفسیات اور مزاج کا گہرائی سے مشاہدہ ہونا چاہیے، اور اس کی روشنی میں کشمیر پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے۔ پاکستان اور اس کے عوام کو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے ساتھ جڑے رہنا چاہیے۔ آزادکشمیر کو پوری طرح اس تحریک کی حمایت میں متحرک کیا جانا چاہیے۔

