سندھ حکومت کےمتنازع بلدیاتی قانون کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت سندھ اسمبلی کے سامنے جاری دھرنے کو اب چوتھا ہفتہ ہونے کو ہے اور اس کے کارکنان حیران کن طور پر پُرجوش اور مستعد ہیں، لیکن حکومت اور اپوزیشن پریشان ہیں، سعید غنی کی روزانہ کی بنیاد پر پریس کانفرنسیں اس بات کا ثبوت ہیں۔ دھرنے کا بڑا، عظیم الشان اور تاریخی شو سترہویں دن اتوار کو شارع فیصل پر دیکھا گیا… جماعت اسلامی نے جو کہا وہ کردکھایا اور شارع فیصل پر تاحدِّ نگاہ انسانوں کے سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ سردی کے موسم میں فیملی دھرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ ایک دن پہلے اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی ایک پروگرام کیا، لیکن وہ لوگوں کو جمع نہیں کرسکیں۔
جماعت اسلامی کے مارچ کا آغاز حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں عوامی مرکز سے ہوا۔ شرکاء نے نرسری اسٹاپ تک پیدل مارچ کیا اور دھرنا دیا۔ نمازِ مغرب کا وقفہ ہوا اور اس کے بعد شرکاء نے پھر مارچ کیا اور میٹروپول ہوٹل پر دھرنا دیا۔ مارچ میں خواتین، بچے، بوڑھے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اہم بات یہ بھی تھی کہ کراچی کے حقوق کے لیے ہندو، سکھ، مسیحی سمیت دیگر اقلیتوں سے وابستہ افراد نے بھی شرکت کی۔ مارچ کے قائدین نے ہاتھوں میں ایک بڑا بینر اٹھایا ہوا تھا جس پر ”ہمارا مطالبہ بااختیار شہری حکومت“ تحریر تھا۔ شارع فیصل کے ایک ٹریک پر مارچ جبکہ دوسرے ٹریک پر گاڑیاں چل رہی تھیں۔
مارچ سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے نرسری اسٹاپ اور میٹروپول ہوٹل پر شرکا سے کہا کہ میٹروپول سے وزیراعلیٰ ہاؤس قریب ہے، اِن شاء اللہ وہاں بھی دھرنا دیں گے، سندھ اسمبلی کی جگہ خالی نہیں کریں گے، یہ ہمارا احتجاجی مرکز رہے گا، اہلِ کراچی کو حق نہ دیا گیا تو شہر کی تمام شاہراہوں اور سڑکوں پر دھرنے اور مارچ ہوں گے، کراچی کے اہم اور اسٹرے ٹیجکٹ پوائنٹ پر خواتین دھرنا دیں گی اور مائیں، بہنیں، بیٹیاں اپنا حق مانگیں گی، ایک ہفتے میں پورے شہر میں دو ہزار کارنر میٹنگز کریں گے، ”حق دو کراچی“ کی صدا ہر گلی کوچے، محلّے اور ہر گھر سے نکلے گی، جدوجہد آگے بڑھے گی، کراچی والے اپنا حق لے کر رہیں گے، کراچی کو وڈیروں، جاگیرداروں اور قبضہ مافیاؤں سے آزاد کروائیں گے، شہری ادارے واپس لے کر رہیں گے، جماعت اسلامی کے دھرنے سے صرف سندھ حکومت نہیں، سندھ کی فرینڈلی اپوزیشن بھی پریشان ہے، آدھی آبادی غائب کرنے والی مردم شماری کی بنیاد پر بھی کراچی کی یونین کونسلیں 600 ہونی چاہئیں، لیکن کراچی کی یونین کونسلیں آدھی بھی نہیں بنائی گئیں، صوبہ سندھ کا تعلیمی بجٹ 277ارب روپے ہے جو کہ صرف حکمرانوں کی عیاشی پر خرچ ہورہا ہے، وڈیرے اور جاگیردار دیہی و شہری سندھ کے بچوں کو تعلیم سے محروم کررہے ہیں، سالانہ تعلیمی بجٹ 277 ارب روپے وڈیروں اور جاگیرداروں سے چھین کر نکالنا… یہی عبادت، جدوجہد اور سیاست ہے۔ سندھ کے 44فیصد بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں، صحت اور تعلیم کو تباہ کردیا گیا ہے، کے ایم سی کے ہزاروں اسکول و ڈسپنسریاں سندھ حکومت نے لے لی ہیں۔ امیرجماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ آج شارع فیصل پر مارچ کے شرکاء شہر کے تین کروڑ شہریوں کا حق مانگ رہے ہیں، کراچی کروٹ لے رہا ہے اور بیدار ہورہا ہے، یہ تبدیلی لسانیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے جائز اور قانونی حق کے لیے ہے، کراچی کے عوام کا حق ہے کہ انہیں صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، ہم تحریک کو مزید آگے بڑھائیں گے اور کالا قانون واپس لینے پر مجبور کردیں گے، حکمران بتائیں کہ جب کراچی پورے ملک کو 54فیصد ٹیکس، قومی خزانے میں تقریباً 70 فیصد اور صوبے کو 95 فیصد جمع کراتاہے تو اسے بنیادی حقوق سے کیوں محروم کیا ہوا ہے؟ 35سال ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے مل کر کراچی کے شہریوں کا استحصال کیا، بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری بتائیں کہ پورے ملک اور صوبے کو چلانے والا شہر بنیادی سہولیات سے محروم کیوں ہے؟ سندھ حکومت شہر کو لنگڑی لولی بلدیہ کا نظام دینا چاہتی ہے، جماعت اسلامی اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کے مستقبل کے لیے جدوجہد کررہی ہے، حکمران بتائیں کہ کراچی شہر کے بچوں کا مستقبل کیا ہے؟ حکومت کی جانب سے معیاری تعلیم تک میسر نہیں ہے، کراچی کا شہری اپنے بچوں کو معیاری تعلیم نہیں دلوا سکتا، سرکاری سطح پر کوئی اسکول موجود نہیں ہے کہ جہاں بچوں کو پڑھایا جاسکے، کروڑوں کی آبادی والے شہر میں ٹرانسپورٹ کا کوئی مؤثر نظام تک موجود نہیں ہے، کراچی کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں چنگ چی رکشوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں، جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے، ساڑھے تین کروڑ عوام کا حق چھین کر لیں گے، پورا پاکستان ”حق دو کراچی“ تحریک کی پشت پر ہے، ”حق دو کراچی“ تحریک پاکستان کی ترقی کی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وڈیروں اور جاگیرداروں نے دیہی سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اب کراچی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، جماعت اسلامی کراچی کے ہر زبان بولنے والے کی نمائندگی کررہی ہے۔ ہماری جدوجہد، عوامی حقوق کی تحریک اور تمام مطالبات جائز، آئینی اور قانونی ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی میں میگاسٹی گورنمنٹ قائم کی جائے، دیہی و شہری آبادی میں یکساں تناسب سے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں، بین الاقوامی طرز کا ٹرانسپورٹ نظام دیا جائے، شہر میں میئر، ڈپٹی میئر، کونسل کے ارکان کا براہِ راست انتخاب کیا جائے، کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا نگراں بااختیار میئر کو بنایا جائے، بااختیار شہری حکومت کے ماتحت صحت، تعلیم، اسپورٹس، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا مربوط نظام بنایا جائے۔ کے ڈی اے، ایس بی سی اے، واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، سٹی پولیس و ٹریفک پولیس سمیت بلدیاتی ادارے میگاسٹی گورنمنٹ کے تحت کیے جائیں۔ کوٹہ سسٹم ختم اور نئی مردم شماری ڈی فیکٹو کے بجائے ڈیجور طریقے سے کی جائے۔
جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سیدعبدالرشید نے کہاکہ آج شارع فیصل پر عوام نے ثابت کردیا ہے کہ کراچی کے اصل وارث یہاں موجود ہیں، کل پریس کلب پر انجمن باہمی مفادات کا ایک پروگرام ہوا، یہ انجمن سندھ اسمبلی میں قومی اسمبلی کی اپوزیشن کا ساتھ دینے کے لیے بیٹھی ہے، اصل اپوزیشن جماعت اسلامی ہے جو کراچی کے حقوق کی اصل جدوجہد کررہی ہے، کراچی پر 35سال تک حکمران رہنے والوں نے کراچی کے عوام کو پینے کا پانی تک نہیں دیا، ان لوگوں نے وزارتوں میں تو حصہ لیا لیکن کراچی کو اس کا اصل حصہ اور حق نہ دلوا سکے۔ یہ کراچی، صوبے اور وفاق میں حکومت کرتے رہے لیکن کراچی کو کراچی بھی نہیں رہنے دیا۔ آج سندھ میں سندھ کارڈ کھیلنے کے لیے پیپلزپارٹی کھڑی ہے اور مہاجر کارڈ کھیلنے کے لیے ایم کیو ایم کھڑی ہے، ان دونوں پارٹیوں نے ماضی میں بھی مل کر مہاجر اور سندھ کارڈ کھیلے ہیں اور آپس میں گٹھ جوڑ کرکے سندھی اور مہاجر عوام کو بے وقوف بنایا ہے۔ سید عبدالرشید نے کہا کہ ابھی دھرنے کے شرکاء نعرے لگارہے تھے تو بعض لوگوں نے کہاکہ ذرا آہستہ لگائیں سی ایم ہاؤس میں وزیراعلیٰ سورہے ہیں۔ میں بتاتا ہوں وہ سو تو رہے ہیں لیکن سی ایم ہاؤس میں نہیں سورہے، کہیں اور سورہے ہیں۔
مارچ اور دھرنے کے دوران حافظ نعیم الرحمٰن نے بھی پُرجوش نعرے لگوائے ”اب کے برس اب اہل کراچی، اپنا پورا حق لیں گے“۔ ”تیز ہو تیز ہو.. جدوجہد تیز ہو“۔ شرکاء نے ”حافظ صاحب قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں“، ”حافظ تیرا ایک اشارہ.. حاضر حاضر لہو ہمارا“ کے نعرے لگائے۔ مارچ کے شرکاء نے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن کی امامت میں شارع فیصل نرسری اسٹاپ پر نمازِ مغرب ادا کی۔ مارچ کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر تحریر تھا ”کالاقانون نامنظور، ہمارا مطالبہ بااختیار شہری حکومت“۔ مارچ کے شرکاء نعرے لگاتے رہے ”جینا ہوگا مرنا ہوگا.. دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا، سب کو مل کر لڑنا ہوگا دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا“، ”مصلحت یا جدوجہد.. جدوجہد جدوجہد، تیز ہو تیز ہو، جدوجہد تیز ہو، کھیتوں اور کھلیانوں میں جدوجہد تیز ہو، چوکوں اور چوراہوں پر جدوجہد تیز ہو، گلیوں اور بازاروں میں جدوجہد تیز ہو، تعلیمی اداروں میں جدوجہد تیز ہو“، ”نامنظور نامنظور کالا بلدیاتی قانون نامنظور“، ”حق دو کراچی کو، جینے دو کراچی کو“، ”آدھی گنتی پورا ٹیکس نامنظور نامنظور“۔
میٹروپول پر اپنا خطاب مکمل ہونے کے بعد حافظ نعیم الرحمٰن نے دعا کرائی۔ بعدازاں دھرنے کے شرکاء سندھ اسمبلی بلڈنگ پہنچے۔ دھرنے کے سترہویں دن ایک طرف شارع فیصل پر مارچ اور دھرنا دیا گیا، جب کہ دوسری طرف سندھ اسمبلی کے باہر بھی مرکزی دھرنا جاری رہا، جس میں شرکاء نے مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کیا، اور مختلف وفود کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ دھرنے میں محبانِ کراچی سوشل آرگنائزیشن کے چیئرمین حافظ محمد ارشد رفیق، ماڈرن پاکستان موومنٹ کے چیئرمین محمد جاوید اسلم، جنرل سیکریٹری سید فخر امام و دیگر وفود نے شرکت کی اور دھرنے کے شرکاء سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا۔
جماعت اسلامی اس وقت اپنے عزم اور ہمت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، اور اگر سندھ حکومت کوئی فیصلہ نہیں کرتی تو یہ احتجاج شاید پورے شہر میں چوبیس گھنٹے کے لیے پھیل سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر اختیارات کے ایشو پر سخت اختلافات موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بلدیاتی ترامیم 2013ء کی پوزیشن پر لانے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے لیکن وہ اس سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہے۔
بہرحال جماعت اسلامی نے اس شہر کے لیے اپنی خدمات اور تاریخی جدوجہد کو پھر ثابت کیا ہے، اور ایک بار پھر یہ بھی بتایا ہے کہ اگر کوئی اس شہر کی تقدیر بدل سکتا ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے، کیونکہ یہ علم، کتاب، پڑھے لکھے سنجیدہ، باوقار، محبِ وطن اور محبِ کراچی جماعت ہے.. وڈیروں جاگیرداروں کا مفاد پرست ٹولہ نہیں ہے۔ جماعت اسلامی نے جس چیز کو ٹھیک اور حق سمجھا اُس کے لیے درست حکمت عملی اور وقت کے تقاضوں کے ساتھ جدوجہد کی ہے، اور ”حق دو کراچی“ تحریک اس کی سب سے اہم مثال ہے۔

