بلدیاتی قوانین پر سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان معاہدہ
جماعت اسلامی نے سندھ حکومت کے کالے بلدیاتی قانون کے خلاف منظم طور پر اور استقامت کے ساتھ پُرامن جدوجہد کی اور اپنے جائز مطالبات کے ساتھ 29 دن تک سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دیے بیٹھی رہی، اور اس دھرنے کا ہر سطح پر خیرمقدم کیا گیا۔ یہ دھرنا کراچی کے ہر شہری کے دل کی آواز بن گیا۔ دھرنے کی اہم بات یہ بھی تھی کہ اس میں شرکت اور اظہارِ یکجہتی کے لیے چھ سو سے زائد وفود اندرونِ سندھ و بلوچستان سے شریک ہوئے۔ سیاسی، سماجی و تاجر تنظیموں، مارکیٹ انجمنوں، صنعت کاروں، علمائے کرام، اساتذئہ کرام، طلبہ، وکلا، ڈاکٹرز، انجینئرز، مزدوروں، اقلیتی برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت مختلف مکاتبِ فکر اور طبقات سے وابستہ افراد روزانہ کی بنیاد پر شریک ہوتے رہے اور اظہارِ یکجہتی کرتے رہے۔ دھرنے کی کامیابی اور سندھ حکومت سے معاہدے کے حوالے سے جماعت اسلامی کے تحت یومِ تشکر و یومِ عزم منایا گیا اور اس سلسلے میں نیو ایم اے جناح روڈ پر عظیم الشان ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہر بھر سے ہزاروں کی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکت کرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کراچی کے حقوق کی جدوجہد میں ہر موقع پر شریک رہے ہیں اور انہوں نے اس کو پورے پاکستان کا مسئلہ بنا کر پیش کیا۔ یومِ تشکر کے موقع پر بھی اپنے خطاب میں سراج الحق کا کہنا تھا کہ کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنائیں گے، اس وقت کراچی کی صورت حال قابل رحم ہے، کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا، مجھے امید ہے سندھ حکومت اپنے معاہدے کی پاسداری کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کی قیادت میں جدوجہد کی۔ پیپلز پارٹی کیے گئے معاہدے کو نبھائے، یہ معاہدہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے ساتھ ہے، مجھے امید ہے سندھ حکومت اپنے معاہدے کی پاسداری کرے گی، کراچی کے شہریوں کی بے مثال جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔افسوس کہ ماضی میں کراچی کو تباہ و برباد کیاگیا،کراچی کے تعلیمی ادارے، کارخانے اور فیکٹریاں تباہ کردی گئیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے ورکرز کنونشن میں شرکاء سے خطاب میں کہا کہ شہرِ قائد کے بلدیاتی الیکشن میں عوام جماعت اسلامی پر اعتماد کریں، اِن شاء اللہ جماعت اسلامی کی قیادت کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنائے گی، عوامی و سرکاری اراضی سے قبضے کو چھڑوا سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے دو ایجنڈے ہیں: ایک اسلام، اور دوسرا پاکستان۔ حکمران جماعتوں نے کرپشن اور جہالت میں اضافہ کیا، کراچی کے عوام سمجھ گئے ہیں کہ جماعت اسلامی ان کی حقیقی محسن ہے۔ سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کردیا گیا، حکومت اور اپوزیشن دونوں نے مل کر یہ کارنامہ انجام دیا۔ پاکستان کو دوبارہ غلام بنانے کا پروگرام بنایا جارہا ہے، جماعت اسلامی کا ایجنڈا ہے کہ وائسرائے کو پاکستان سے بھگاکر دم لیں گے۔
امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن کا تشکر کے اس اجتماع میں کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی تاریخی جدوجہد اور سندھ اسمبلی پر 29دن پر محیط احتجاجی دھرنے کے باعث سندھ حکومت کا بلدیاتی قانون میں تبدیلی و ترمیم کا اعلان کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے حقوق کے حصول کا نقطہ آغاز اور کراچی کی سیاست میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگا، وفاق سے بھی اہلِ کراچی کا حق لیں گے، حقوق کراچی تحریک جاری رہے گی۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے ادارئہ نورِحق میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ سندھ حکومت کی جانب سے 2021ء کے بلدیاتی قانون میں ترامیم پر مبنی معاہدے کی مکمل پاسداری کی جائے گی اور اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے گا، اور جن نکات پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اُن پر حکومتی مذاکراتی ٹیم سے بات جاری رہے گی۔ اگر معاہدے کی پاسداری نہیں کی گئی تو ہمارے پاس احتجاج اور دوبارہ دھرنے کا آپشن موجود ہے، اور اس بار ہم اعلان کرکے وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیں گے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے یہ بھی اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کے تحت 5فروری کو ہمیشہ کی طرح ”یوم یکجہتی کشمیر“ منایا جائے گا۔ 15فروری کے بعد شہر بھر میں حقوق کراچی کارواں نکالا جائے گا۔ اس دوران سندھ حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے 2 ہفتے بھی مکمل ہوجائیں گے۔ معاہدے پر عمل درآمد کی ذمے داری سندھ حکومت پر ہے لیکن ہم اس کی مکمل نگرانی کریں گے اور عوامی جدوجہد بھی جاری رکھیں گے۔ شہر بھر میں بڑے پیمانے پر عوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی۔ ہر گلی کوچے، گھر گھر، مساجد، مارکیٹوں و بازاروں میں عام افراد اور موثر طبقات سے رابطہ کیا جائے گا، حقوق کراچی تحریک کے مطالبات کے حوالے سے رائے عامہ کو ہموار اور منظم و متحرک کیا جائے گا، نوجوانوں اور پبلک ایٖڈ کمیٹی کے ذمے داران اور کارکنوں کو مزید فعال بنایا جائے گا اور اس میں جماعت اسلامی کے اعلان کردہ بلدیاتی امیدواروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی اہلِ کراچی کے جائز و قانونی حقوق سے ہرگز دست بردار نہیں ہوگی، عوامی مسائل کے حل کی جدوجہد مزید تیز کی جائے گی، صوبے اور وفاق دونوں سے کراچی کے عوام کے غصب شدہ حقوق دلوائے جائیں گے، 29 روزہ دھرنے میں شرکاء نے جس عزمِ مصمم اور بلند حوصلوں کا اظہار کیا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔ کراچی کی تاریخ کے طویل ترین دھرنے میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے بھی شرکت کی۔ شرکاء سخت سردی، تیز ہواؤں، گردو غبار کے طوفان اور مسلسل بارش کے باوجود بھی ثابت قدمی کے ساتھ بیٹھے رہے، عوام کی جانب سے دھرنے کے شرکاء سے جس والہانہ انداز میں اظہارِ یکجہتی کیا گیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کے عوام کا جماعت اسلامی کی جانب رجوع مسلسل بڑھ رہا ہے، اور عوام نے ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سمیت سب کو مسترد کردیا ہے۔ جماعت اسلامی کے کراچی دھرنے نے ساڑھے تین کروڑ عوام کی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ صرف جماعت اسلامی ہی واحد جماعت ہے جو کراچی کو اون کرتی ہے اور جماعت اسلامی ہی عوام کے گمبھیر مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ماضی میں عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کے دور میں عوامی خدمت، فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کے جو منصوبے مکمل ہوئے وہ کسی اور دور میں نہیں ہوئے، جماعت اسلامی کو آئندہ بھی موقع ملا تو ہم عوام کی خدمت کریں گے اور مسائل حل کرائیں گے اور شہر کراچی کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے، کراچی کا مستقبل صرف اور صرف جماعت اسلامی سے ہی وابستہ ہے اور جماعت اسلامی اہلِ کراچی کو ہرگز مایوس نہیں کرے گی۔
دھرنے کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ 2013ء کے قانون میں جو محکمے لیے گئے تھے وہ بھی اب میئر کے ماتحت ہوں گے۔ معاہدے میں چار نکات ایسے ہیں جن سے کراچی کی بلدیہ مالی و انتظامی معاملات میں مستحکم ہوگی، کراچی PFC ایوارڈ بلدیاتی حکومت کے قائم ہونے کے بعد 30 کے اندر ہوگا۔ PFCایوارڈ کے ضمن میں موٹر وہیکل ٹیکس جو طویل عرصے سے نہیں مل رہا تھا وہ بھی بلدیہ کو ملے گا، آبادی کے تناسب سے یونین کمیٹیوں کو فنڈز دیے جائیں گے، جس سے بلدیہ خودمختار ہوکر کام کرے گی، آکٹرائے ضلع ٹیکس میں سے بھی بلدیہ کی حکومت کو حصہ دیا جائے گا اور1999ء کے قانون پر عمل کیا جائے گا، ہم نے مذاکرات میں طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے بھی بات کی جس پر سندھ حکومت نے طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا، کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج بھی بلدیہ کے تحت ہوگا، اور اس کے لیے بھی سندھ حکومت معاونت فراہم کرے گی۔ جماعت اسلامی کے مذاکرات جاری ہیں اور احتجاج اور دھرنوں کا آپشن بھی موجود رہے گا۔ ہم وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی جانے والی اپنی تجاویز پر اسٹینڈ لے رہے ہیں، براہِ راست میئر کے انتخابات کے حوالے سے بھی مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام نے لسانیت، عصبیت اور لاشوں کی سیاست کرنے والوں اور نامعلوم افراد.. جن کا سب کو معلوم ہے.. کو بھی مسترد کردیا ہے، ہم لاشوں کی سیاست نہیں بلکہ سنجیدہ جدوجہد کریں گے۔
اس طرح نمازِ شکرانہ سے شروع ہونے والا کنونشن شرکاء کے ”تیز ہو تیز ہو، جدوجہد تیز ہو“ سمیت مختلف نعروں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر نائب امراء مسلم پرویز، ڈاکٹر اسامہ رضی، عبدالوہاب، سلیم اظہر، سیکریٹری کراچی منعم ظفر خان، امیر ضلع جنوبی و رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید، پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے۔

