کنزرویٹو پارٹی کے اراکین نے لزٹرس کو نیا قائدِ ایوان منتخب کرلیا، اور وہ بطور وزیراعظم اپنا عہدہ 6 ستمبر 2022ء بروز منگل کو سنبھال لیں گی۔ سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ ماہ مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے استعفے کی بنیادی وجہ ان کی اپنی پارٹی کے اراکین کا ان پر عدم اعتماد کا اظہار تھا۔ بورس جانسن اُس وقت مشکلات کا شکار ہوئے جب ”پارٹی گیٹ اسکینڈل“ میڈیا کی زینت بنا۔ سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کورونا لاک ڈاؤن کے دوران وزیراعظم ہاؤس 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پارٹیاں منعقد کرتے رہے، اور جب یہ بات ایک سال کے بعد میڈیا کی بدولت عوام کے سامنے آئی تو انہوں نے ایسی پارٹیوں میں شریک نہ ہونے کا پالیسی بیان ایوانِ زیریں ہاؤس آف کامنز میں دیا۔ ان خبروں کی اخبارات میں اشاعت کے بعد برطانوی پولیس نے ازخود تحقیقات کا فیصلہ کیا، اور پولیس تحقیقات میں یہ بات واضح ہوئی کہ کورونا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے یہ پارٹیاں وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوئیں جن میں وزیراعظم بورس جانسن نے بھی شرکت کی۔ اس جرم کی پاداش میں وزیراعظم سمیت دیگر افراد کو پولیس کی جانب سے جرمانے کی ادائی کے نوٹس جاری کیے گئے۔ ادھر عوام اور ایوان، ہاؤس آف کامنز کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے سبب وزیراعظم نے بھی آزادانہ تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا جس کی سربراہ سینئر بیوروکریٹ خاتون سیو گرے تھیں۔ اس کمیشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ پارٹیاں کورونا لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی تھی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تحقیقات کے بعد بھی وزیراعظم کو شاید ان سنگین نتائج کو بھگتنا نہ پڑتا اگر وہ ان الزامات کے حوالے سے ایوان میں آکر جھوٹ نہ بولتے۔ تحقیقات کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی کہ وزیراعظم نے نہ صرف ان پارٹیوں میں ازخود شرکت کی بلکہ ایوان میں آکر اس حوالے سے جھوٹ بھی بولا۔ لہٰذا وزیراعظم کے جھوٹ بول کر ایوان کو گمراہ کرنے کا معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ ادھر ان کی اپنی پارٹی کے اراکین نے اس بڑھتے ہوئے دباؤ پر وزیراعظم سے اعلانِ لاتعلقی اور عدم اعتماد کا اظہار کردیا۔ برطانوی جمہوری روایات کے مطابق اگر کوئی قائدِ ایوان یعنی وزیراعظم اپنی پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کا اعتماد کھو دے تو وہ مستعفی ہوجاتا ہے، لہٰذا بورس جانسن مستعفی ہوگئے اور انہوں نے باضابطہ طور پر اپنے استعفے کا اعلان کردیا، لیکن وہ نئے وزیراعظم کی تقرری تک اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔ اب مرحلہ نئے قائدِ ایوان یا وزیراعظم کے انتخاب کا تھا۔ برطانوی جمہوریت میں نئے وزیراعظم کا انتخاب اکثریتی جماعت کے تمام اراکین کرتے ہیں۔ اس کے لیے ایوان میں ووٹ نہیں ڈالے جاتے بلکہ اکثریتی جماعت کے تمام اراکین اس عمل میں حصہ لیتے ہیں اور وزیراعظم کا انتخاب کرتے ہیں۔ برطانوی پارلیمان میں اس وقت اکثریتی جماعت کنزرویٹو پارٹی ہے جس کے ملک بھر میں اراکین کی کُل تعداد 172437 ہے، جبکہ اس کے منتخب اراکینِ پارلیمان کی تعداد 357 ہے۔ پہلے مرحلے میں قائدِ ایوان کے لیے نامزد امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں کنزرویٹو پارٹی کے صرف منتخب اراکینِ پارلیمان نے حصہ لیا اور ان کو ووٹ بھی منتخب اراکینِ پارلیمان نے دیا۔ اس مرحلے میں کُل 8 امیدوار مدمقابل تھے جن میں سے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے 2 امیدوار اگلے مرحلے میں چلے گئے اور باقی 6 ناک آؤٹ ہوگئے۔ اگلے مرحلے میں 2 امیدوار مدمقابل تھے جس میں سابق وزیر خزانہ اور بھارتی نژاد برطانوی رشی سونک اور سابق وزیر ماحولیات لز ٹرس شامل تھیں۔ اس مرحلے میں اب کنزرویٹو پارٹی کے تمام اراکین یعنی 172437 افراد کو مل کر اپنی پارٹی کے قائد یعنی وزیراعظم کا انتخاب کرنا تھا، لہٰذا 5 ستمبر 2022ء بروز پیر ان نتائج کا اعلان کردیا گیا۔ انتخاب میں ووٹ کی شرح 86 فی صد رہی۔ لزٹرس نے 86326 ووٹ، جبکہ رشی سونک نے 60399 ووٹ حاصل کیے، اور یوں لزٹرس کنزرویٹو پارٹی کی قائد ایوان منتخب ہوگئیں۔ برطانوی جمہوری روایات کے تحت اب بروز منگل وزیراعظم بورس جانسن ملکہ برطانیہ کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے اور ساتھ ہی ملکہ برطانیہ لزٹرس سے ملاقات کرکے اسی وقت اُن کو نیا وزیراعظم مقرر کردیں گی۔ لہٰذا وزیراعظم کی تبدیلی کا یہ عمل مکمل طور پر ہاؤس آف کامنز کے باہر ہی انجام دیا جائے گا۔
لزٹرس برطانیہ کی تیسری خاتون وزیراعظم ہیں۔ اس سے قبل مارگریٹ تھیچر 1979ء تا 1990ء، تھریسا مے 2016ء تا 2017ء بطور خاتون وزیراعظم خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔ لزٹرس سمیت تینوں خواتین کا تعلق کنزرویٹو پارٹی سے ہے۔
لزٹرس کی پیدائش آکسفرڈ کی ہے، تاہم بعد میں ان کا خاندان اسکاٹ لینڈ منتقل ہوگیا تھا۔ لزٹرس کے والدین کا سیاسی تعلق بائیں بازو سے تھا، انہوں نے خود بھی نیوکلیئر پلانٹس کے خلاف منعقدہ مظاہروں میں شرکت کی ہے۔ اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے کیا تاہم بعد میں انہوں نے کنزرویٹو پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور تین وزرائے اعظم کے ساتھ بطور وزیر کام کیا۔ لزٹرس برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی کے خلاف تھیں اور ریفرنڈم میں علیحدگی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
بطور وزیراعظم لزٹرس کو جن فوری مشکلات کا سامنا ہے اس میں سب سے اہم توانائی کی بلند ترین قیمتیں اور توانائی کا بحران ہے۔ موجودہ تخمینوں کے مطابق گیس و بجلی کی موجودہ قیمتوں میں 300 فی صد اضافہ متوقع ہے جس کے بعد ایک اوسط گھرانے کا گیس و بجلی کا بل 6200 برطانوی پائونڈ تک پہنچ جائے گا۔ ایک سال کا اوسط بل ایک گھرانے کی تین ماہ کی اوسط آمدن کے برابر ہے۔ یہ اضافہ برطانوی تاریخ کا سب سے زیادہ اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب برطانوی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے اور اگلے سال اپریل تک مہنگائی کی شرح 17 فیصد کے تخمینے سے بھی زیادہ ہوگی اور یہ مہنگائی کا پچاس سال پرانا ریکارڈ بھی توڑ دے گی۔ اس تمام تر صورتِ حال میں نئی وزیراعظم کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ سابق دو خاتون برطانوی وزیراعظم میں سے ایک مارگریٹ تھیچر نے گوکہ گیارہ سال بطور وزیراعظم خدمات انجام دیں لیکن وہ اپنی تیسری مدت بطور وزیراعظم مکمل نہ کرسکیں اور ان کے متنازع اقدامات ان کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنے۔ تھریسا مے بھی یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کی ڈیل کے تنازعات کا شکار ہوکر بمشکل ایک سال ہی مکمل کرپائیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ وسط مدت میں وزیراعظم مقرر ہونے والی لزٹرس کیا ان مشکلات سے عہدہ برا ہوپائیں گی، یا پھر وہ ان مشکلات کو دیکھتے ہوئے وسط مدتی انتخابات کا اعلان کریں گی۔ یاد رہے کہ شیڈول کے مطابق برطانیہ میں اگلے انتخابات جنوری 2025ء میں منعقد ہوں گے۔

