عالمی حدت پذیری

پاکستان اس وقت شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے، ملک کا کم و بیش ایک تہائی رقبہ زیرآب آچکا ہے، جب کہ تقریباً ساڑھے تین کروڑ پاکستانی اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، ڈیڑھ ہزار کے قریب لوگ جان کی بازی ہار گئے، باقی کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ سیکڑوں دیہات صفحۂ ہستی سے غائب ہوگئے ہیں، لاکھوں مویشی پانی میں بہہ گئے، ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہی سے دوچار ہوچکیں۔ ماحولیات اور موسمیات کے ماہرین کی رائے ہے کہ اس تباہی و بربادی کا اہم سبب آب و ہوا میں عالمی سطح پر تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’عالمی حدت پذیری‘‘ میں اسی موضوع پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں مصنف نے وضاحت کی ہے کہ:
’’ماحولیاتی مطالعات کی روشنی میں یہ بات سامنے آرہی ہے کہ زمین پر درجۂ حرارت لگاتار بڑھ رہا ہے۔ ایک مطالعے کے مطابق پچھلی صدی میں زمین کا درجۂ حرارت پون ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا۔ اس بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے باعث دنیا میں جنگلات کے جلنے، سیلاب اور خشک سالی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشیروں کی برف پگھل رہی ہے، جس کے نتیجے میں سیلاب آرہے ہیں اور آنے والے وقت میں خشک علاقوں میں زمینیں بنجر ہونے اور پھٹنے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے قحط اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘
ڈاکٹر جمیل احمد ایک سنجیدہ فکر اور اولوالعزم شخصیت کے مالک ہیں۔ عنفوانِ شباب میں جامعہ پنجاب سے علم کیمیا میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1987ء میں اردو سائنس بورڈ سے بطور افسر تحقیق وابستہ ہوئے، اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ اس دوران مختلف انتظامی ذمے داریوں پر تعیناتی کے ساتھ ساتھ دو درجن کتب کی ترتیب و تالیف کا اہم فریضہ بھی ادا کیا۔ جون 2021ء میں جب ادارے سے ریٹائرمنٹ کا وقت آیا تو ماشاء اللہ پی ایچ ڈی اسکالر کی حیثیت سے ڈاکٹر ان کے نام کا سابقہ بن چکا تھا۔ اپنی تازہ تصنیف ’’عالمی حدت پذیری‘‘ میں انہوں نے وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے اور اردو میں وہ لوازمہ فراہم کرنے کی زبردست کاوش کی ہے جس سے پاکستانی قوم ’’عالمی حدت پذیری‘‘ کی حقیقت، اس کے مختلف پہلوئوں اور بچائو کے طریقوں سے آگاہ ہوکر مثبت سمت میں قدم آگے بڑھا سکے گی۔
مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر رئوف پاریکھ صاحب نے عرض ناشر کی آخری سطور میں بجا طور پر توقع ظاہر کی ہے کہ ’’عالمی حدت پذیری‘‘ کا مقصد اس مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروانا ہے تاکہ ہم اس سے آگاہ ہوکر اس میں کمی اور تدارک کے حوالے سے اپنا فرض ضرور نبھائیں۔ امید ہے یہ کتاب طالب علموں اور دیگر قارئین کے لیے ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوگی۔
کتاب پانچ ابواب میں منقسم ہے، جب کہ ہر باب کو کئی ذیلی عنوانات میں بھی تقسیم کیا گیا اور موضوع کے تمام اہم پہلوئوں کا احاطہ کرنے کی مؤثر کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کا انتساب اپنے نواسے کے نام کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اپنے پیارے نواسے، محمد رافع شہباز کے نام… جو حدت پذیری کو محسوس کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’نانا ابو! پچھلے سال تو اتنی گرمی نہیں تھی‘‘…
یہ انتساب آئندہ نسل سے متعلق ان کی فکرمندی کا عکاس ہے۔
کتاب کا رنگین سرورق بامقصد اور بامعنی ہے جس میں موضوع کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ معاملے کی وضاحت اور مسئلے کی سنگینی کا احساس دلانے کے لیے کتاب میں جابجا تصاویر، خاکے اور گراف بھی شائع کیے گئے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر کتاب کو ہر سطح کے تعلیمی اداروں کے کتب خانوں کی زینت بنایا جائے گا، تاکہ ہماری آئندہ نسل میں ’’عالمی حدت پذیری‘‘ سے درپیش خطرات سے آگاہی اور اس سے بچائو کی تدابیر سے متعلق احساس و شعور بیدار ہوسکے۔