سوات میں بدامنی کے واقعات

حکومت نے خیبر پختون خوا کی وادی سوات میں موجود عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے فوجی اہلکاروں سمیت سیکورٹی فورسز کے بھاری دستے مٹہ اور مالم جبہ کے پہاڑی علاقوں میں منتقل کرنا شروع کردیئے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے عسکریت پسندوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دے دی ہے۔ عسکریت پسندوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سرکاری طور پر تو باضابطہ کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے مگر سوات کے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ یوں دکھائی دیتا ہے کہ یہاں پر ماضی کی طرح ایک اور فوجی کارروائی شروع کی جارہی ہے۔ تاہم خیبر پختون خوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ جہاں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے وہاں پر پولیس فورس کو عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار میں قیامِ امن اور لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے تمام آئینی اور قانونی اختیارات کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، جبکہ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ فوج اور وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر عسکریت پسندوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کے شروع ہونے سے حالات ایسے پیدا ہورہے ہیں جن میں عوام کے ریاست پر اعتماد کے لیے محدود پیمانے پر کارروائی کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ خیبر پختون خوا کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے چند روز قبل کہا تھا کہ کابل میں ہونے والی بات چیت میں جنگ بندی اور مستقل مصالحت کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا مگر کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوئوں نے اگست کے اوائل میں سرحد عبور کرکے وادی سوات سمیت خیبرپختون خوا کے مختلف علاقوں میں سرگرمیاں شروع کرکے دراصل وعدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات نے بھی گزشتہ جمعہ کے روز سوات کا دورہ کیا تھا اور سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات سے خطاب بھی کیا تھا۔ شرکاء میں موجود ایک سیاسی جماعت کے رہنما نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ کور کمانڈر پشاور نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ عسکریت پسندوں کو کسی بھی صورت میں امن وامان کی صورت حال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اگر یہ عناصر باز نہیں آتے تو ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ سوات کے مرکزی تجارتی شہر مینگورہ کے ایک سینئر صحافی نے بتایا ہے کہ فوج کے مزید دستے پہنچ چکے ہیں اور ان فوجی اہلکاروں کو مٹہ، مالم جبہ اور دیگر علاقوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مٹہ اور مالم جبہ میں موبائل ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سسٹم بھی تعطل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینگورہ سمیت ضلع بھر میں کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق ہے مگر عام لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، مالم جبہ کے سیاحتی علاقے میں اتوار اور سوموار کی درمیانی شب نامعلوم عسکریت پسندوں نے پولیس موبائل وین پر فائرنگ کی، پولیس کی جوابی فائرنگ سے عسکریت پسند فرار ہوگئے، فائرنگ کے واقعے میں کسی قسم کا کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ پچھلے دو دنوں کے دوران اسی علاقے میں پولیس پر عسکریت پسندوں کا یہ دوسر احملہ ہے۔ ایک روز پہلے اسی علاقے کی ایک پولیس چوکی پر نامعلوم عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی تھی، جب کہ اگست کے اوائل میں سرحد پار روپوش عسکریت پسندوں کا ایک گروہ اچانک مٹہ کی پہاڑی چوٹیوں پر پہنچ کر دوسرے دن دو اہم فوجی اور ایک پولیس عہدیدار سمیت چار اہلکاروں کو ایک معمولی جھڑپ کے بعد لگ بھگ بیس گھنٹوں تک یرغمال بنانے میں کامیاب ہوگیا تھا، جبکہ اس واقعے سے دو دن قبل سوات سے ملحقہ ضلع دیرکے علاقے میدان میں نامعلوم عسکریت پسندوں نے صوبے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی ملک لیاقت علی کی گاڑی پر فائرنگ کرکے چار افراد کو ہلاک اور ایم پی اے سمیت تین دیگر کو زخمی کردیا تھا۔ تب سے دیر اور سوات میں اگر ایک جانب بدامنی کے ان پے درپے واقعات کے حوالے سے عوامی سطح پرتشویش پائی جاتی تھی تو دوسری جانب لوگ کسی بڑے آپریشن کے خوف کے پیش نظر بھی تشویش میں مبتلا تھے۔

سوات میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف جس ممکنہ کارروائی کا عندیہ ظاہر کیا جارہا ہے اس حوالے سے اب تک نہ تو پولیس اور نہ ہی فوج کی جانب سے کوئی واضح بیان جاری کیا گیا ہے جس کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے ممکنہ آپریشن کے حوالے سے ایسے کسی بیان کی وجہ سے خوف و ہراس پیدا ہونے کے خدشے کے پیش نظر میڈیا کو کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے ایک رائے یہ ہے کہ سیکورٹی فورسزکی جانب سے کسی بیان کے سامنے نہ آنے کی ایک وجہ اس کارروائی کو خفیہ رکھنا ہے تاکہ کارروائی کی بھنک پڑنے کی صورت میں مشتبہ دہشت گرد وں کو فرار ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ اس حوالے سے ایک نقطہ نظر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے تو سیکورٹی کے پیش نظر ازخود کسی ممکنہ آپریشن کا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا البتہ دیگر ذرائع سے ایسی اطلاعات کے سامنے آنے کا مقصد یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ سیکورٹی ادارے کسی بڑے خون خرابے سے بچنے اور اس کے نتیجے میں عوام میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے خوف وہراس پر قابو پانے کی غرض سے اس ممکنہ آپریشن کی تشہیر سے گریز کررہے ہیں۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ متعلقہ ادارے خون خرابے سے بچنے کے لیے سوات کے پہاڑوں پر موجود مسلح دہشت گردوں کو چونکہ یہاں سے نکلنے کا الٹی میٹم دے چکے ہیں اس لیے ان کی کوشش ہوگی کہ لڑے بھڑے بغیر ہی یہ دہشت گرد یہاں سے پُرامن طور پر منتقل ہوجائیں، لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مبینہ طالبان جن کی تعداد چند درجن بتائی جاتی ہے، یہاں پر رہ کر سیکورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے کا آپشن اپناتے ہیں، یا پھر اپنے آپ کو خودکشی پر مجبور کرنے کے بجائے یہاں سے پُرامن طور پر وہیں منتقل ہوتے ہیں جہاں سے یہ آئے ہیں، اور وہ جگہ بلاشک و شبہ افغانستان کے ملحقہ پہاڑی علاقے ہیں جہاں سوات، وزیرستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے یہ لوگ فرار ہوکر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ آخر یہ دہشت گرد افغان بارڈر سے دور بندوبستی علاقے میں کیسے اور کن راستوں سے آئے ہیں؟ واضح رہے کہ ضلع سوات کی نہ تو کوئی سرحد افغانستان سے ملتی ہے اور نہ ہی کسی قبائلی ضلع سے سوات کا بارڈر ملا ہوا ہے، بلکہ سوات اور افغان بارڈر کے درمیان دیر کا ضلع واقع ہے جو بجائے خود ایک بندوبستی ضلع ہے اور جو طالبان کے عروج کے زمانے میں بھی بالعموم دہشت گردی کی کارروائیوں اور طالبان کے اثر رسوخ سے آزاد تھا۔ افغانستان سے پاکستان میں اسلحہ سمیت داخل ہونے والے دہشت گردوں کے حوالے سے ایک اور اہم بات حکومت اور سیکورٹی فورسز کا پاک افغان بارڈر پر باڑ کی تعمیر کے حوالے سے دعویٰ ہے اور جس پر سابق افغان حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً اعتراضات بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں، لہٰذا سوال یہ ہے کہ درجنوں مسلح دہشت گرد پاک افغان بارڈر جس پر باڑ کے علاوہ سیکورٹی کا ایک جامع نظام موجود ہے، آخر کیونکر سوات پہنچنے میں کامیاب ہوئے، اور اس ساری نقل و حرکت کے دوران ان لوگوں کو کسی نے چیک کیوں نہیں کیا؟ یہ شاید اسی لاپروائی اور اس طرح کے واقعات سے صرفِ نظر کا نتیجہ ہے کہ اس سے قبل بھی جب سوات میں دہشت گرد پہنچ رہے تھے اور ان کے ہاں اسلحہ کی ترسیل کے علاوہ ان کی تربیت اور بھرتی کا عمل جاری تھا تو متعلقہ اداروں نے اس ساری صورتِ حال سے آنکھیں کیوں بند کر رکھی تھیں جس کا خمیازہ بعد ازاں اہلِ سوات کو بہت بڑی نقل مکانی اور تباہی و بربادی کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔
یہاں اس امر کی نشاندہی اہمیت کی حامل ہے کہ ماضی میں تو سوات کے عام لوگ خاص کر سول سوسائٹی دہشت گردی کے جڑ پکڑنے کے واقعات سے لاتعلق رہی تھی، لیکن اِس دفعہ چونکہ اہلِ سوات ماضی سے ایک تلخ سبق سیکھ چکے ہیں اس لیے وہ نہ تو اپنے آپ کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی وہ اس ضمن میں متعلقہ سیکورٹی اداروں کو کوئی ریلیف دینے کے موڈ میں نظر آتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ جب سے سوات میں ایک بار پھر دہشت گردوں کے سر اٹھانے کی باتیں سامنے آنا شروع ہوئی ہیں تب سے سوات میں جگہ جگہ سول سوسائٹی کی جانب سے قیام امن کے لیے پُرامن احتجاج کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔ سوات میں دہشت گردوںکی موجودگی کی اطلاعات کے علاوہ گزشتہ دنوں سوات کی امن کمیٹی کے سرکردہ رکن ادریس خان کی سات دیگر افراد کے ساتھ ایک بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد حالات مزید سنگین اور پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔

حرفِ آخر یہ کہ اگر متعلقہ ادارے سوات میں قیام امن کے لیے بروقت متحرک نہ ہوئے اور اس ضمن میں عام لوگوں کا اعتماد بحال نہ کیا گیا تو خدانخواستہ ماضی کے برعکس اِس مرتبہ حالات زیادہ سنگین اور خونیں رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزرجائے متعلقہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں، نیز سیکورٹی اداروں کو بلیم گیم میں پڑنے کے بجائے عوام کے وسیع تر مفاد میں قبل از وقت ایسے اقدامات کرلینے چاہئیں جن کے نتیجے میں دیرپا اور مستحکم امن کے قیام کی راہیں مستقل ہموار ہوسکیں۔ اسی میں سب کی اجتماعی بھلائی ہے۔