”علاوہ “اور ”سوا “ کا تنازع

”علاوہ“ اور ”سوا“ یہ دونوں الفاظ عربی سے اردو میں آئے ہیں۔ عربی زبان میں دونوں کے معانی مختلف ہیں۔ ’علاوہ‘ کلمۂ ایزاد ہے، جبکہ ’سوا‘ کے ذریعے استثناء کیا جاتا ہے۔ عربی زبان میں ’علاوہ‘ کے معنی ہیں: اور بھی، مزید، بشمول، مزید برآں۔ اور ’سوا‘ کے معنی ہیں: اسے چھوڑ کر، بغیر، بجز۔ لیکن جب ان دونوں الفاظ نے اردو کا جامہ زیب تن کیا، تو ان کے معنی بدل گئے، جیسا کہ تاریدی عمل کے دوران بہت سارے الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی اردو میں جب یہ دونوں الفاظ آئے، تو دونوں ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہونے لگے۔ ’علاوہ‘ سے بھی استثناء کیا جانے لگا، جس طرح ’سوا‘ سے استثناء کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی کبھار ’علاوہ‘ کی طرح ’سوا‘ کو بھی کلمہ ایزاد کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ آگے ہم مستند و مسلّم اہلِ قلم سے سندیں بھی فراہم کریں گے۔ ان شاءاللہ۔

لیکن ماضیِ قریب کے نقاد جناب اطہر ہاشمی صاحب مرحوم، اسی طرح معاصر کالم نگار پروفیسر غازی علم الدین اور جناب محترم احمد حاطب صدیقی (ابونثر) صاحب اس حقیقت کا پُرزور انکار کرتے ہیں۔ یقیناً مذکورہ شخصیتوں کی تحقیقات اکثر و بیشتر قارئین کے لیے چشم کُشا و بصیرت افروز ہوتی ہیں۔ لیکن اس مسئلے پر مذکورہ حضرات نے کئی کئی مقام پر گرفت کی، لیکن ایک جگہ بھی دلائل اور شواہد پیش نہیں کیے۔ ہاشمی صاحب نے اپنے کالم ”خبر لیجے زباں بگڑی“ میں 2015ء کے شمارہ 12 جون، 7 اگست اور 4ستمبر یعنی تین مہینے میں تین مرتبہ تنبیہ کی لیکن ایک موقع پر بھی اپنی عادت کے برخلاف دلائل پیش نہیں کیے۔ اسی طرح جناب احمد حاطب صدیقی صاحب نے بھی اپنے حالیہ مضمون ”سوائے سنگ دلی اور کچھ ہنر بھی ہے؟“ (اشاعت: 22 جون 2022ء فرائیڈے اسپیشل) میں اس مسئلے کو نہایت شدت کے ساتھ اٹھایا جیسا کہ عنوان ہی سے ظاہر ہے، لیکن وہی عربی میں دونوں کے معنی جداگانہ ہیں، کے سوا کوئی سند پیش نہیں کی۔ اسی طرح پروفیسر صاحب نے بھی نہایت تُندی کے ساتھ اپنے مضمون ”علاوہ کی ذومعنویت اور ابہام و اہمال“ (تاریخِ اشاعت: 5 جنوری 2020ء، سنڈے میگزین، جسارت) میں اس مسئلے پر بحث کی، موصوف نے دلائل پیش کرنے کی غرض سے اردو کی کئی فرہنگوں کو کھنگالا، لیکن جب کسی لغت نویس نے ان کے ساتھ ہمنوائی نہیں کی، تو موصوف ان سے نالاں ہوگئے۔ تمام فرہنگ نگاروں نے متفقہ طور پر لکھا کہ ’علاوہ‘ کو بھی ’سوا‘ کی طرح استثناء کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ محترم شان الحق حقی نے تو مثال کے ذریعے دوٹوک طریقے سے ’علاوہ‘ کی ذومعنویت کے ابہام واہمال کو دور کردیا۔ حقی صاحب رقم طراز ہیں: ”علاوہ: ایزاد، نیز استثناء کے لیے مستعمل ہے۔ مترادف: نیز یا سوا۔ مثال: ہمارے علاوہ اور بھی تھے = (یعنی) ہم تھے نیز اور بھی تھے۔ ہمارے علاوہ سب تھے = (یعنی) ہم نہ تھے، سب تھے۔

ہاشمی، غازی اور صدیقی صاحب کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ الفاظ عربی میں جن معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، اردو میں بھی انھی معنوں میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح وہ ”مشکور“، ”شکریہ“ وغیرہ الفاظ کے سلسلے میں بھی موقف رکھتے ہیں۔ دراصل یہ ایک فکری اور اصولی غلطی ہے کہ جس زبان کا لفظ ہو، اردو میں آنے کے باوجود اسی زبان کے قواعد اور معانی کی پیروی کی جائے۔ اس سے نہایت شاندار اور استدلالات سے بھرپور جواب رشید حسن خان صاحب مرحوم نے اپنی شہرئہ آفاق تصنیف ”زبان اور قواعد“ کے صفحہ 11 تا صفحہ 19 میں اصولی طور پر دیا ہے۔ پھر تقریباً ڈیڑھ سو صفحات میں فرعًا فرعًا مفصل جواب دیا ہے، جو کہ لاجواب ہے۔ اس لیے ہم اس اصولی اور بنیادی غلطی کا مختصر جواب مولانا عبدالماجد دریابادی کے الفاظ میں دینے پر اکتفا کرتے ہیں۔ مولانا لکھتے ہیں:

”عربی زبان میں جو لفظ فارسی سے، یا سریانی سے، عبرانی سے، ہندی سے آئے ہیں، ان کے تلفظ اور معنی، دونوں کے تعیّن کا حق اب اہلِ عرب کو حاصل ہوگیا ہے یا وہ الفاظ بدستور انھی زبانوں کے قاعدوں کے اسیر رہے ہیں؟ انگریزی میں سینکڑوں، ہزاروں الفاظ لاطینی سے، یونانی سے، سنسکرت سے آئے ہیں، سب لفظوں کے تلفظ و معنی میں تصرف کا پورا حق انگریزوں کو حاصل ہوگیا ہے یا نہیں؟ یہ ظلم آخر اردو پر کب تک جاری رہے گا کہ جس لفظ کو چاہے جتنا اپنا لے، لیکن اسے بولتے ہوئے، وہ پابندی دوسری زبانوں کی رہے گی، اور اس کی تذکیر و تانیث میں، اس کے اِعراب میں، اس کی جمع بنانے میں، اسے حالتِ ترکیبی میں لانے میں، اردو والے بے بسی سے منہ دوسروں ہی کا دیکھتے رہیں گے! ذرا کسی دوسری زبان والے کے سامنے یہ اصول بیان کرکے تو دیکھیے کہ لفظ آپ ، لیکن اس کا املا، اس کا تلفظ، اس کی گرامر، سب دوسروں کی!“ (زبان اورقواعد۔ ص: 16 بحوالہ ماہنامہ تحریک (دہلی) جولائی 1964ء)
اساتذۂ فن کے دسترخوان سے کچھ خوشے:
(1) فیض احمد فیض:
عشق میں کیا ہے غم کے علاوہ
خواجۂ من، کچھ اس سے زیادہ
(نسخہ ہائے وفا۔ ص: 66)
(2) بشیر بدر:
کام کی پوچھتے ہو گر صاحب
عاشقی کے علاوہ پیشہ کیا
( فنون، لاہور، جدید غزل نمبر۔ ص: 1512)
(3) بشیر بدر:
کل رات میں تھا، میرے علاوہ کوئی نہ تھا
شیطان مر گیا تھا، فرشتے سو گئے تھے
( آمد۔ ص: 44)
(4) ندا فاضلی:
کوئی نہ ہو مرے ترے علاوہ بستی میں
کبھی کبھی یہی جذبہ رقابتیں مانگے
(شہر میں گاؤں۔ ص: 209)
(5) حضرت شیخ الہند :
’سوا‘ استثناء اور ایزاد کے لیے: ”اس مقدمۂ مسلمہ کے بعد جو ہم احادیثِ رفع کو دیکھتے ہیں، تو ثبوتِ محض کے سوا کچھ بھی نہیں معلوم ہوتا۔“ (ایضاح الادلۃ، مطبوعہ: شيخ الہند اکیڈمی، دیوبند، ص: 67) ”اس کے سوا اس حدیث کے طرقِ متعددہ اور بھی موجود ہیں۔“ (ایضاً ص: 152) ”اس کے سوا ’عَینی‘ کی روایات سے یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ حضرت عمر مانعینِ قرات میں ہیں۔“ (ایضًا ص: 175)
(6) خواجہ الطاف حسین حالی:
’سوا‘ بطورِ کلمۂ ایزاد: ”جو غلط الفاظ صرف عوام اور جہلاء کی زبان پر جاری ہوں، نہ کہ خواص اور پڑھے لکھوں کی زبان پر، البتہ ایسے الفاظ کو ترک کرنا واجب ہے۔ جیسے منکر کو نامنکر وغیرہ …… ان کے سوا بہت سے ایسے الفاظ واجب الترک بتائے ہیں، جو شعرائے متقدمین نے عموماً استعمال کیے ہیں۔“ (مقدمہ شعر و شاعری، ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ۔ ص: 174)
(7) پنڈت دتاتریہ کیفی:
زاویۂ نگاہ کے ساتھ زبان بھی بہت کچھ تغیر پذیر ہوگئی ہے۔ اس تغیر کی وجہ سے راقم کو کئی جگہ حاشیے دینے کی ضرورت پڑی۔ حواشی کے سوا متن میں ضرورت پر خطوطِ وحدانی مستقیم کے اندر، جو درج ہے وہ میرا ہے۔“ (ترجمہ دریائے لطافت۔ ص: 23)
(8) شیخ الحدیث زکریا کاندھلوی:
’علاوہ‘ بطورِ حرفِ استثناء: ”اس (9 ذی الحجہ) میں افطار کے بعد ایک پیالی چائے کے علاوہ رات کو کچھ نہیں کھاتا تھا۔“ (آپ بیتی، مکتبہ عمر فاروق، کراچی۔ ص: 174)
(9) سید مناظر احسن گیلانی:
’سوا‘ ایزاد کے لیے: ”سخاوی، ملا علی قاری، ابن حجر مکی وغیرہ کے تلامذہ کے سوا، ابن تیمیہ، ذہبی، مِزّی؛ جیسے کبارِ محدثین کے براہِ راست شاگرد جا ملک میں آئے اور قیام کیا۔“ (ہندوستان میں مسلمانوں کا نظامِ تعلیم و تربیت 1/ 209)
(10) پروفیسر یوسف سلیم چشتی:
’علاوہ‘ کے ذریعے استثناء: ”میں نے اس انتساب کی علت پر بارہا غور کیا، لیکن اس کے علاوہ اور کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی کہ مرحوم فطرتاً احسان شناس واقع ہوئے۔ …… اس وجہ کے علاوہ اور کوئی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔“ (شرح ضربِ کلیم ص: 18) ”اس کے علاوہ تمہاری کتابوں میں رکھا ہی کیا ہے۔“ (ایضاً ص: 384، نظم؛ کارل مارکس کی آواز)
(11) رشید حسن خان:
’سوا‘ ایزاد کے لیے: ”ہندوستان میں فی الوقت یہ صورت نہیں ہے اور بظاہر مستعبد معلوم ہوتا ہے کہ مستقبلِ قریب میں بھی یہاں اس انداز کی ’صاحبی‘ یا ’نادر شاہی‘ پیدا ہوسکے، تو پھر املا کا انقلاب کون لائے گا۔ اس کے سوا، موجودہ حالات کے پیشِ نظر اردو والوں کے پاس محدود وسائل ہیں۔“ (اردو املا۔ ص: 29)
(12) شمس الرحمٰن فاروقی:
’سوا‘ اور ’علاوہ‘ استثناء کے لیے: ” یعنی سرِ منصور کے سوا کسی اور میں یہ اہلیت نہ تھی کہ اس کا سر قلم ہوتا، یا وہ اپنا سر کٹواتا۔ (شعرِ شور انگیز 1/ 623) ”اور سرِ منصور کے علاوہ کوئی اور سر اس قابل نہیں، یا کوئی سر اتنا مقدس نہیں جسے بالائے دار نمایاں ہونے کا مستحق سمجھا جائے۔“ (ایضاً ص: 624)
(13) ابن صفی:
’علاوہ‘ استثناء کے لیے: ”نصیر کے علاوہ بقیہ لوگوں سے وہ پہلے ہی متعارف ہوچکے تھے۔ فریدی نصیر کو تھوڑی دیر تک متجسس نظروں سے دیکھتا رہا۔“ (قاتل سنگ ریزے۔ ص: 32) ”تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کرنل صاحب کے علاوہ گھر کے سب لوگوں کو آپ کے پروگرام کا علم تھا۔“ (ایضًا۔ ص: 39) ”پورے ملک میں میرے علاوہ کوئی اس سے واقف نہیں تھا۔…… میرا خیال ہے کہ ان کا علم بھی میرے علاوہ اور کسی کو نہیں تھا۔“ (ایضاً۔ ص: 49)
(14) خلیق انجم:
’سوا‘ اور ’علاوہ‘ استثناء کے لیے: ”یہ راز میری سمجھ میں نہیں آیا کہ ری پرنٹ پر تاریخِ طباعت وہی کیوں چھاپی گئی، جو پہلے ایڈیشن پر تھی۔ کتاب شائع کرنے والوں کی غیر ذمہ داری کے سوا اور کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔“ (خطوطِ غالب 1/ 38) ”غرض یہ ہے کہ ”عودِ ہندی“ اور ”اردوئے معلی“ کو الگ الگ شائع کرنے اور ان کی ترتیب میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا مالی منفعت کے علاوہ اور کوئی جواز ہی سمجھ میں نہیں آتا۔“ (ایضاً۔ ص: 55)

یہ بہت ہی مختصر فہرست ہے۔ اگر آپ کسی بھی مستند اہلِ قلم کی نگارشات کے مطالعے کے دوران ایک پرچی ساتھ رکھ لیں تو ہفتے بھر میں آپ کو دوسری پرچی کی ضرورت پیش آجائے گی۔ اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ’علاوہ‘ کلمۂ ایزاد کے ساتھ مخصوص کرنا، حقیقت سے مستعبد ہے۔

ایک اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ عصرِ حاضر کی اردو میں ’سوا‘ کا استعمال بہت ہی کم رہ گیا ہے۔ جس زمانے میں اردو دان فارسی اور عربی زبان میں بھی ماہر ہوتے تھے، شاید اس زمانے میں ’علاوہ‘ اور ’سوا‘ کے مابین فرق ملحوظ رکھا جاتا تھا، لیکن زمانہ بدل چکا ہے۔ اب اکثر و بیشتر ’علاوہ‘ ہی کا استعمال رہ گیا ہے۔ ’سوا‘ کو ذائقہ بدلنے کے لیے اساتذہ، جو فارسی اور عربی سے بھی لگاؤ رکھتے ہوں، استعمال کرلیتے ہیں۔ ورنہ استعمالِ عام سے ’سوا‘ دور ہوچکا ہے۔ اب ایزاد اور استثناء دونوں کے لیے ’علاوہ‘ ہی کا استعمال ہوتا ہے۔

اب جب استثناء کے لیے ’علاوہ‘ کا استعمال شائع و ذائع ہے، تو پھر ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں“ اور ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ میں اہلِ اردو کے یہاں کوئی فرق نہیں ہے۔ البتہ کوئی اگر احتیاط برتنا چاہے تو وہ ضرور ”اللہ کے سوا“ استعمال کرے، لیکن اہلِ اردو کو اپنی اردو زبان کے ساتھ چھوڑ دیجیے۔ میں نے استاذِ محترم مولانا نسیم صاحب بارہ بنکوی (استاذِ ادب، دارالعلوم دیوبند، واضح رہے کہ مولانا موصوف دارالعلوم کی علمی فضا میں اردو کے استاذ تسلیم کیے جاتے ہیں۔ مولانا نہایت بلکہ ناچیز کی سماعت کی حد تک بہت ہی صاف، شستہ اور ٹکسالی زبان بولتے ہیں) سے اس سلسلے میں دریافت کیا۔ اور بالخصوص کلمے کا ترجمہ بھی دہرایا کہ اس میں ’علاوہ‘ اور ’سوا‘ سے کوئی فرق پڑے گا کہ نہیں؟ تو مولانا نے فرمایا کہ اردو میں دونوں برابر ہیں۔ نیز یہ گُر بھی بتا دیا کہ اردو میں زیادہ تر ’علاوہ‘ ہی کا استعمال ہے۔