اوپیک کے فیصلے کو صدر بائیڈن کے مخالفین امریکی قیادت کی کمزوری اور سفارت کاری کی ناکامی قرار دے رہے ہیں
تیل پیدا کرنے والے ممالک کی انجمن اوپیک (OPEC) اور روس نے تیل کی پیداوار میں 20 لاکھ بیرل یومیہ کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کے بانی عرب دنیا کے ممتاز ماہرِ ارضیات اور سعودی عرب کے سابق وزیرِ تیل عبداللہ الطریقی تھے۔ طریقی صاحب نے سعودی ارضیات کے مختلف پہلوئوں پر گراں قدر مقالے تحریر کیے ہیں۔ فروری 1960ء میں جناب الطریقی کی دعوت پر عراق، کویت، ایران اور وینزویلا کے وزرائے تیل بغداد میں جمع ہوئے۔ ان ممالک کو شکایت تھی کہ قومی دولت پر حکومتوں کی گرفت نہ ہونے کے برابر ہے اور سارا کاروبار سات بڑی تیل کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے جنھیں ”سات بہنیں“ (seven sisters) کہا جاتا تھا۔ الطریقی صاحب انھیں سات چڑیلیں کہتے تھے۔ ان سات بڑے اداروں میں ایکسون، شیورون اور کونوکو کا تعلق امریکہ سے تھا۔ برٹش پیٹرولیم، تاجِ برطانیہ کی ملکیت تھی۔ شیل ولندیزی، ای این آئی اطالوی اور ٹوٹل فرانسیسی کمپنی تھی۔ اجلاس کے دوران تیل کمپنیوں کے اثر رسوخ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تجارتی امور بتدریج قومی تحویل میں لینے کے اقدامات وضع کیے گئے، جن میں قیمتوں کا تعین اور فروخت کے معاہدے حکومتی سطح پر کرنے کے معاملات شامل تھے۔ گویا اوپیک کے قیام کا بنیادی مقصد اس اہم قومی سرمائے کو سات چڑیلوں کی گرفت سے آزاد کرانا تھا۔
دو سال بعد لیبیا نے بھی رکنیت اختیار کرلی۔ تنظیم میں پہلا تنازع صدر دفتر کے معاملے پر سامنے آیا۔ عرب ممالک کی خواہش تھی کہ ادارے کا مرکز بغداد یا بیروت ہو، لیکن وینزویلا کا خیال تھا کہ اوپیک کا سیکریٹریٹ کسی غیر جانب دار جگہ پر ہونا چاہیے۔ ابتدا میں جنیوا پر اتفاق ہوا لیکن سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے اوپیک کو سفارتی مراعات دینے سے انکار کردیا، چنانچہ صدر دفتر آسٹریا کے شہر ویانا میں قائم کردیا گیا۔ اِس وقت اوپیک کے ارکان کی تعداد 13 ہے۔ تیل کی برآمد ختم ہوجانے کی بنا پر 2016ء میں انڈونیشیا اور 2020ء میں ایکواڈور کی رکنیت معطل کردی گئی۔ قطر 2019ء میں اوپیک سے علیحدہ ہوگیا۔ دوحہ کا مؤقف ہے کہ اوپیک خام تیل برآمد کرنے والے ممالک کی انجمن ہے اور گیس پیدا کرنے والے ملک کی حیثیت سے قطر کو اوپیک میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
اوپیک کو عالمی افق پر 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران زبردست شہرت ملی جب عربوں نے مغربی ممالک کو تیل کی برآمدات پر پابندی لگادی۔ اس کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہوا اور تیل کی قیمت 3 ڈالر سے 12 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ ایرانی انقلاب، ایران عراق جنگ اور عراق پر امریکی حملے سے بھی تیل کی پیداوار متاثر ہوئی، تاہم بطورِ تنظیم اوپیک اپنی حیثیت منوانے میں ناکام رہی۔
اوپیک کی ناکامی کی بڑی وجہ غیر اوپیک ممالک کی پیداوار میں اضافہ تھا۔ اس وقت دنیا میں فروخت ہونے والا 44فیصد تیل اوپیک کے ممالک فراہم کرتے ہیں، یعنی نصف سے زیادہ پیداوار غیر اوپیک ممالک سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے جب بھی اوپیک نے رسد پر قینچی چلائی، غیر اوپیک ممالک خاص طور سے روس، امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو نے اپنے کنوئوں کے منہ کھول کر یہ کمی پوری کردی۔ بدقسمتی سے اوپیک ممالک کی آمدنی کا واحد ذریعہ تیل ہے، اور روزمرہ کاروبار کو چلانے کے لیے دوسرے وسائل قابلِ بھروسا نہیں۔ چنانچہ وہ اونے پونے دام بھی تیل بیچنے کو تیار ہیں اور کوٹے پر مخلصانہ عمل درآمد ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
نامراد کورونا وائرس المعروف کووڈ 19 نے ساری دنیا میں حیات کے ساتھ اسبابِ حیات کو غارت کیا تو تیل کی صنعت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ اس دوران میں روس نے چین اور ہندوستان کو رعایتی قیمت پر تیل بیچنا شروع کردیا، جس پر مشتعل ہوکر سعودی عرب نے پیداوار بڑھادی اور تیل کی قیمتیں زمین پر آگئیں۔ کیا اوپیک اور کیا غیر اوپیک… ہر جگہ صفِ ماتم بچھ گئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ 20 اپریل 2020ء کو امریکہ میں تیل کی قیمت منفی 37 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پمپوں پر قیمت لینے کے بجائے پیٹرول خریدنے والوں کو رقم واپس کی جارہی تھی، بلکہ ہوا یوں کہ فروخت صفر ہوجانے کی وجہ سے مزید تیل رکھنے کی گنجائش ختم ہوگئی اور آڑھتیوں نے تقسیم کنندگان سے قیمت وصول کرنے کے بجائے انھیں تیل اٹھانے کے لیے پیسے دینے شروع کردیے۔ بالکل ایسے ہی جیسے آپ اپنے گھر سے کوڑا کرکٹ اور کچرا اٹھانے کے لیے معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ اس دوران امریکہ اور کینیڈا میں درجنوں تیل کمپنیاں اور تیل صاف کرنے کے کارخانے دیوالیہ ہوگئے۔
اس ”قیامت“ سے پہلے ہی صدر ٹرمپ ”تیل سفارت کاری“ کا آغاز کرچکے تھے اور ان کی کوششوں سے صدر پیوٹن اور سعودی ولی عہد کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ امریکہ میں انتخابات کا سال تھا اور صنعت کی تباہی صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم پر منفی اثر ڈال رہی تھی۔ امریکی صدر نے سعودی عرب سے پیداوار میں کٹوتی کی درخواست کی جس پر اُس وقت کے سعودی وزیر توانائی جناب خالد الفالح نے صاف صاف کہا کہ جب تک غیر اوپیک ممالک کمی پر راضی نہ ہوں اوپیک کی جانب سے کمی غیر مؤثر رہے گی۔ صدر ٹرمپ نے غیر اوپیک ممالک کو راضی کرلیا اور مئی 2020ء سے تیل کی عالمی پیداوار 97 لاکھ بیرل یومیہ کم کردی گئی۔ اوپیک نے 52 لاکھ اور غیر اوپیک ممالک نے 45 لاکھ بیرل یومیہ کی کٹوتی کی۔
بلاشبہ یہ صدر ٹرمپ کی بہت بڑی کامیابی تھی، تاہم صدر ٹرمپ انتخاب میں جوبائیڈن سے شکست کھا گئے۔ پیداوار میں کمی کے بعد تیل کی قیمتیں کسی حد تک مستحکم ہوگئیں۔ اس مشق کا اوپیک کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ روس اوپیک کا اتحادی بن گیا اور اوپیک اب اوپیک پلس کہلانے لگی۔ امریکہ، روس اور سعودی عرب تیل کے تین بڑے فراہم کنندہ ہیں اور دنیا میں استعمال ہونے والا ایک تہائی تیل ان تین ممالک کے کنوئوں سے نکالا جاتا ہے۔ ان تینوں کی اوسط پیداوار ایک کروڑ بیرل یومیہ ہے۔ سعودی عرب اور روس کے ایک پلیٹ فارم پر آجانے سے اوپیک پلس ایک طاقتور ادارہ بن گیا۔
کورونا کے حفاظتی ٹیکوں کی تیاری کے فوراً بعد ساری دنیا میں جدرین کاری (Vaccination) کی منظم مہم شروع ہوئی اور مرض پر قابو کے ساتھ ہی صنعتی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہوا۔ اب تیل کی کھپت بھی بڑھنے لگی۔ اوپیک پلس نے تیل کی قیمت کو ”نامناسب“ حد تک بڑھنے کی حوصلہ شکنی کے لیے پیداوار کو ہر ماہ چار لاکھ بیرل یومیہ کے حساب سے بڑھانا شروع کردیا۔
اِس سال کے آغاز پر مشرقی یورپ میں جنگ کے بادل امڈ آئے۔ روس کو یوکرین کی نیٹو رکنیت کسی قیمت پر قابل قبول نہ تھی اور دھمکیوں کے ساتھ بیانات کی گولہ باری شروع ہوئی۔ صدر بائیڈن نے متنبہ کیا کہ حملے کی صورت میں روسی تیل کی برآمدات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ پیش بندی کے طور پر انھوں نے اپنے خلیجی اتحادیوں سے تیل اور گیس کی پیداوار میں اضافے کی فرمائش کی، لیکن سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں کا کہنا تھا کہ دس لاکھ بیرل یومیہ اضافہ ان کے لیے ممکن نہیں۔ کچھ ایسا ہی جواب دنیا میں گیس کے سب سے بڑے فراہم کنندہ قطر کا تھا۔
یورپی توانائی کی 40 فیصد ضرورت روسی گیس سے پوری ہوتی ہے جس کا اوسط سالانہ حجم 183 ارب مکعب میٹر ہے۔ اس مقدار کی اگر مائع شکل میں پیمائش کی جائے تو یہ 47 لاکھ بیرل یومیہ بنتی ہے۔ کشیدگی کے آغاز پر ہی یورپی ممالک نے روسی گیس کا متبادل تلاش کرنا شروع کردیا تھا۔ ہوا اور شمسی توانائی سمیت قابلِ تجدید ذرائع کے ساتھ کفایت شعاری پر سختی سے عمل درآمد شروع ہوا۔ ناروے سے پولینڈ آنے والی بلقان پائپ لائن پر کام تیز کردیا گیا اور گزشتہ دنوں یہ پائپ لائن چالو ہوگئی، جس سے پولینڈ کا گیس کے معاملے میں روس پر انحصار اب ختم ہوچکا ہے۔
جنگ کے آغاز پر یورپی یونین نے اعلان کیا کہ روس سے آنے والی رودِ شمالی پائپ لائن بند نہیں کی جائے گی۔ دوسری طرف ممکنہ پابندیوں کے پیش نظر روس نے توانائی کے لیے دوسرے گاہک تلاش کرنے شروع کردیے۔ جلد ہی چین اور ہندوستان روسی تیل کے بڑے خریدار بن گئے۔ حجم کے اعتبار سے اِس وقت چین اور ہندوستان کی مجموعی خریداری یورپی ممالک کے برابر ہے۔ روس سے تیل کی ہندوستان جانے والی مقدار سعودی تیل سے زیادہ ہے، بلکہ عراق اور روس کے بعد سعودی عرب تیسرے نمبر پر ہے۔ خیال رہے کہ ہندوستان کی ONGC ودیش روسی جزیرے سخالن میں تیل اور گیس کے ایک بڑے منصوبے کی شراکت دار ہے۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ امریکہ اور چین کے بعد تیل کی سب سے زیادہ کھپت ہندوستان میں ہے جس کا 85 فیصد حصہ درآمد کیا جاتا ہے۔ مالی بحران کا شکار سری لنکا بھی روسی تیل کا گاہک بن چکا ہے اور امریکی و مغربی پابندیوں سے پریشان مینمار(برما) کی فوجی جنتا بھی تیل کے لیے روس سے مول تول کررہی ہے۔ روس کے نئے کرم فرمائوں میں اہم نام افغانستان کا ہے جو روس سے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدے گا۔
یوکرین جنگ کے فوراً بعد جب تیل کی قیمتیں عروج پر تھیں اُس وقت ہی ماہرین نے اس عارضے کو عارضی قرار دیا تھا۔ اس تجزیے کی وجہ وہی نکات تھے جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ ایک طرف روس نے نئے گاہک تلاش کرنے کے لیے رعایت کا سلسلہ جاری رکھا تو ہر گزرتے دن کے ساتھ افراطِ زر کی شرح مسلسل بڑھتی رہی۔ اِس جِن کو قابو کرنے کے لیے شرحِ سود میں اضافے کا ٹوٹکا استعمال کیا گیا۔ یہ قدم سود خور بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے بڑا سودمند ثابت ہوا، لیکن اس کے نتیجے میں کسادبازاری کا عفریت مزید توانا ہوگیا اور کئی ملکوں میں مہنگائی کے زخم پر تالا بندی اور چھانٹی کے نمک نے سوزش دوچند کردی۔
معیشت کی سست روی سے تیل کی طلب میں کمی اور قیمتوں میں زوال کا آغاز ہوا۔ 5 اکتوبر کو اوپیک پلس کے اجلاس سے دو دن پہلے سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ قیمتوں میں استحکام کے لیے پیداوار پر نظرثانی ضروری ہے۔ شہزادہ صاحب کے روسی ہم منصب نکولائی شولگنوف (Nikolay Shulginov) نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ اور جب بدھ کو ویانا میں اوپیک پلس کا اجلاس ہوا تو اس معاملے پر ایران، عراق اور لیبیا سمیت تمام ارکان نے کٹوتی کی تجویز سے اتفاق کیا اور فیصلہ ہوا کہ یکم نومبر سے اوپیک پلس کی مجموعی پیداوار 20 لاکھ بیرل یومیہ کم کردی جائے گی۔ یہ اجلاس صرف 30 منٹ جاری رہا جو تنظیم کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔
اس اعلان کے ساتھ ہی تیل کی قیمت میں 3 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوگیا اور کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ گرانی کا یہ رجحان اس سال کے آخر تک برقرار رہے گا۔ امریکہ کے مشہور مالیاتی ادارے اسٹینلی مورگن نے اگلے برس کے شروع تک 100 ڈالر فی بیرل تیل کی پیش گوئی کی ہے۔ لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ اوپیک ممالک گزشتہ کئی ماہ سے پیداوار میں رضاکارانہ کٹوتی کررہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اگست کے مہینے میں اوپیک کی اوسط پیداوار ہدف سے 35 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ کم تھی۔ اسی بنا پر ہمارے خیال میں قیمتوں کا اقبال عارضی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا یوکرین کی جنگ شروع ہوتے ہی تیل کی قیمتوں کو پر لگ گئے تھے، لیکن چند ہفتوں بعد قیمتیں نیچے آنا شروع ہوگئیں۔ اِس بار بھی یہ غیر معمولی اضافہ Headlines Effectکی ایک شکل ہے، یعنی مالِ تجارت (Commodities)کی قیمتوں میں ”خبروں“ کی بنیاد پر غیر معمولی اتار چڑھائو۔
تیل کی قیمتوں میں یہ عارضی اضافہ صدر بائیڈن کے سیاسی مستقبل کے لیے مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ نومبر کی 8تاریخ کو امریکی مقننہ (پارلیمان) کے انتخابات ہورہے ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی امریکی عوام کے لیے اس وقت یوکرین سے زیادہ اہم ہے۔ اکثر ریاستوں میں قبل ازوقت یا early votingکا سلسلہ اگلے ہفتے سے شروع ہورہا ہے، اور گزشتہ تین دنوں میں پیٹرول پمپ پر قیمتیں 15 سے 20 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ توانائی کے نرخ بڑھنے سے غذا اور دوا سب مزید مہنگی ہوگئی ہیں۔
امریکی صدر اوپیک پلس کے فیصلے پر سخت برہم ہیں۔ تین ماہ قبل اپنے دورئہ سعودی عرب میں انھوں نے ولی عہد سے تیل کی پیداوار بڑھانے کی درخواست کی تھی لیکن شہزادہ گلفام نے نہ صرف امریکی صدر کی بات نہیں مانی بلکہ اب ان کے سیاسی تابوت میں کٹوتی کی کیل بھی ٹھونک دی۔
اوپیک پلس کے فیصلے پر صدر بائیڈن کا اشتعال و مایوسی اپنی جگہ.. لیکن ان کے لیے اوپیک کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرنا ممکن نہیں۔ کٹوتی کے توڑ کے لیے انھوں نے خام تیل کے تزویراتی ذخیرے SPRسے ایک کروڑ بیرل تیل بازار میں لانے کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ اونٹ کے منہ میں زیرے سے بھی کم ہے، کہ امریکہ کی اپنی کھپت ڈیڑھ کروڑ بیرل یومیہ ہے۔ اسی کے ساتھ بائیڈن انتظامیہ نے وینزویلا اور ایرانی تیل پر پابندیاں نرم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سے بھی کچھ ہونے والا نہیں، اس لیے کہ پابندیوں کے باوجود ایران اس وقت بھی 20 لاکھ اور وینزویلا 5 لاکھ بیرل یومیہ برآمد کررہا ہے۔ پابندیاں ہٹانے کے لیے امریکی کانگریس سے اجازت درکار ہے اور یہ ترنت نہیں ہوسکتا۔
اوپیک کے فیصلے کو صدر بائیڈن کے مخالفین امریکی قیادت کی کمزوری اور سفارت کاری کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے 2020ء میں تیل کی امریکی صنعت کو بحران سے نکالنے کے لیے روس اور اوپیک کو 97 لاکھ بیرل کٹوتی پر راضی کرلیا جبکہ مشکل وقت میں صدر بائیڈن کی درخواست کو شہزادہ محمد بن سلمان نے انتہائی حقارت سے مسترد کردیا۔
جوابی قدم کے طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کے تین ارکانِ کانگریس نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تعینات امریکی فوج کو واپس بلانے کے لیے ایک مسودئہ قانون (بل) ایوانِ نمائندگان (قومی اسمبلی) میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر بل کیسیڈی نے ایسا ہی ایک بل سینیٹ میں پیش کیا ہے۔ ان بلوں کی منظوری کا کوئی امکان نہیں۔ کم ازکم 8نومبر کے انتخابات سے پہلے تو اس پر بحث بھی شروع نہیں ہوسکے گی۔
صدر بائیڈن کے رفقا کا کہنا ہے کہ یہ سب صدر پیوٹن اور چین کا کیا دھرا ہے جو وسط مدتی انتخابات میں امریکی مقننہ سے ڈیموکریٹک پارٹی کی برتری ختم کرکے اگلے دو سال کے لیے صدر بائیٖڈن کو بے دست و پا، یا lame duckصدر بنادینا چاہتے ہیں۔
اب آپ مسعود ابدالی کی پوسٹ اور اخباری کالم masoodabdali.blogspot.comاور ٹویٹر Masood@MasoodAbdaliپربھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

