شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی مجالس وعظ

چوتھی صدی میں بغداد میں جس قدر جزیہ وصول ہوتا تھا اس کی مقدار سے معلوم ہوتا ہے کہ بغداد کی عیسائی آبادی چوتھی صدی میں چالیس پچاس ہزار کے قریب اور یہودی آبادی ڈھائی تین ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ظاہر ہے کہ جناب شیخ ـ(عبدالقادر جیلانیؒ)کے زمانے میں یعنی پانچویں چھٹی صدی میں ان کی تعداد اس سے کافی زیادہ ہوگئی ہوگی۔ ان کے علاوہ زرتشتی بھی تھے۔ پس اگر پانچ سو سے زیادہ غیر مسلموں نے جناب شیخ کے دستِ حق پرست پر اسلام قبول کیا تو یہ بغداد کی کُل غیر مسلم آبادی کا ایک فیصدی سے زیادہ حصہ تھا لیکن قبولِ اسلام کے لیے آپ کی خدمت میں عیسائی اور علاقوں سے بھی آجاتے تھے، چنانچہ جناب شیخ کے سیرت نگار شطنوفی نے (بہجتہ ص 96) ایک راوی کا بیان لکھا ہے کہ: شیخ محی الدین عبدالقادرؒ کی مجالس، اسلام لانے والے یہودو نصاریٰ سے، اور رہزنی اور قتل نفس وغیرہ سے توبہ کرنے والوں سے، اور غلط عقیدوں سے باز آنے والوں سے کبھی خالی نہ ہوتی تھیں، ایک دفعہ یمن سے ایک راہب آیا اور آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوا۔ اس کو خواب میں حضرت عیسیٰؑ نے شیخ عبدالقادر الجیلی کے ہاتھ پر ایمان لانے کی ہدایت کی تھی۔ اسی طرح دیارِ مغرب سے 13 عیسائی آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لائے جن کو ہاتف نے کہا تھا کہ شیخ عبدالقادر کے پاس جائو، وہ اپنی برکت سے تمہارے دل میں ایمان اس طرح سے راسخ کردیں گے کہ اور کوئی نہ کرسکے گا۔

آپ نے اصول اور فروع اور تصوف پر کئی کتابیں لکھیں۔ آپ کی 52 تصنیفات کا حال براکلمن نے دیا ہے۔ ان میں سے کتاب الغنیہ، مطالب طریق الحق، فتوح الغیب اور فتح الربانی خاص طور پر مشہور ہیں۔ ان کتابوں میں زیادہ تر آپ کے وعظوں اور خطبوں کو جمع کیا گیا ہے۔ غنیہ میں چند مجالس میں آدابِ شرعیہ یعنی فرائض و سنن اور واجبات اور معرفت پروردگار اور قرآن و حدیث سے پندگیری اور اخلاق صالحین کا ذکر ہے۔ کتاب میں ایک فصل ہے جس میں تہتر اسلامی فرقوں کا حال بھی دیا ہے اور صوفیوں اور صوفیوں کے آداب کا بھی ذکر کیا ہے۔ فتوح الغیب میں مختلف مضامین کے 78 مقالے ہیں جن کو جناب شیخ کے لڑکے ابوعبدالرحمٰن عیسیٰ نے جمع کیا۔ اس کے آخر میں ایک تکملہ ہے جس میں آپ کی وفات کا حال اور وصایا درج ہیں، الفتح ربانی میں باسٹھ وعظ جمع کیے گئے ہیں، جو آپ نے 545ھ (1151ء) اور 546ھ (1152ء) میں اپنے مدرسے یا رباط صوفیہ میں دیے۔ اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سیدھے سادے الفاظ میں وعظ فرماتے تھے اور صاف اور عام فہم زبان میں دین کی تعلیم دیتے تھے۔ بیان فصیح ہے مگر تکلف اور آورد سے خالی، اور جذبہ، جوش اور حقانیت سے معمور، اور خلوص اور بنی نوع کی خیر خواہی کے جذبات سے لبریز۔ یہ تینوں کتابیں چھپ چکی ہیں۔ (مولوی محمد شفیع)

مجلس اقبال
ضمیر لالہ میں روشن چراغِ آرزو کردے
چمن کے ذرے ذرے کو ’’شہید جستجو‘‘ کردے

نظم ’’طلوعِ اسلام‘‘ کے اس شعر میں علامہ مسلمانوں کے لیے دعا کرتے ہیں کہ یہ جو مُردہ دل ہوچکے ہیں اور ان کے دل میں کسی قسم کی تمنائیں اور آرزوئیں جنم نہیں لیتیں تُو ان کے دلوں میں امید و آرزو کے چراغ روشن کر، اور انہیں زندگی کا وہ شعور دے کہ یہ مقاصد کے حصول کے لیے جستجو اور جدوجہد کرسکیں، یعنی زندگی تو ہے ہی یہی کہ انسانوں کے دل زندہ ہوں، ان میں امیدیں اور آرزوئیں جنم لیتی ہوں اور ان کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جائے۔