بچوں کے اَدب سے متعلق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری سطح پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد,اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی کانفرنس کا احوال
بچوں کو مستقبل میں کارآمد فرد بنانے کے لیے دنیا بھر میں ان کے مزاج اور معاشرت کے لحاظ سے ان کے لیے ادب تخلیق کیا جاتا ہے۔ یہ ادب بچوں کو ان کی دلچسپی کے مطابق اپنے معاملات کو ٹھیک کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
بچوں کے ذہن میں بہت سارے سوالات ہوتے ہیں اور ان سوالات کی تشفی بچوں کا ادب ہی کرواتا ہے۔ یہ بچوں کا اَدب ہی ہے جو بچوں میں لطیف جذبات پروان چڑھاتا ہے۔ ان کے ذوقِ جمال کو بڑھاوا دیتا ہے۔ غرض یہ کہ کوئی بھی معاشرہ جب اپنے بچوں میں کسی اچھی صفت کو ناپید پائے تو وہ اسے بچوں کے ادب میں شامل کردے۔ چند ہی برسوں میں نئی نسل ان خصوصیات سے مُتّصف ہوگی جو ہم اُن میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
آزادی کے کئی برس بعد بچوں کے اُردو ادب میں منفی اثرات مرتب ہوئے، رسالے بند ہوگئے، ناشرین منتشر ہوئے اور آبادی میں اضافہ ہونے کے باوجود رسائل کی اشاعتیں کم ہوتی چلی گئیں، اور اس پر مستزاد یہ کہ مصنّفین اور شعرا نے توجہ اور دلچسپی لینا چھوڑ دی۔
سوال یہ ہے کہ اُردو میں بچوں کا ادب کیا ہے؟ اور اسے اب تک کیسے برتا گیا ہے؟
ہمارے اکثر و بیشتر اُدبا و شعرا اب تک اسی مخمصے میں ہیں کہ بچوں کا ادب کسے کہتے ہیں؟
غلام حیدر کا اصرار ہے کہ بچوں کا ادب خالص تفریحی، وقت گزاری، مشغلے یا صرف اخلاقی قدروں کو پہچاننے کے لیے نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے زیادہ افادی بنانے کے لیے تعلیمی زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کے ادب کو فرحت ومسرت کے ساتھ تعلیمی اور تربیتی شعور بھی مہیا کرنا چاہیے تاکہ ان بچوں کو آنے والی زندگی کے شعور کے ساتھ آنے والے حالات کے لیے بھی تیار کیا جائے۔
2000ء سے قبل جب ہم ماضی میں بچوں کے ادب کا جائزہ لیتے ہیں تو وہاں ہمیں نظیر اکبرآبادی، سورج نرائن مہر، بے نظیر، تلوک چند محروم، علامہ اقبال، اسماعیل میرٹھی، مولانا محمد حسین آزاد، مولوی ممتاز علی، محمدی بیگم، سید امتیاز علی تاج، غلام عباس، رگھوناتھ سہائے، فراق گورکھ پوری، ابوالاثر حفیظ جالندھری، مولانا تاجور نجیب آبادی، عبدالمجید سالک، اختر شیرانی اور مولانا چراغ حسن حسرت سمیت بے شمار ادیب اور شعرا نظر آتے ہیں جنھوں نے بچوں کے لیے کہانیاں، مضامین اور نظمیں لکھیں۔
ان میں نظیر اکبر آبادی، سورج نرائن مہر، تلوک چند محروم، علامہ اقبال، اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لیے بہترین نظمیں لکھیں۔ مولانا آزاد، مولانا تاجورنجیب آبادی، سید امتیاز علی تاج، غلام عباس، حفیظ جالندھری، مولانا سالک اور مولانا حسرت نے نظم اور نثر دونوں میں لکھا، جب کہ مولوی ممتاز علی، محمدی بیگم اور رگھو ناتھ سہائے نے بچوں کے لیے اخلاقی، اصلاحی اور دلچسپ نثری مضامین اور کہانیاں تخلیق کیں۔
اسی طرح قیام پاکستان سے قبل بچوں کے بہت سے رسائل شائع ہورہے تھے۔ خصوصاً تعلیم وتربیت، پھول، کھلونا جیسے رسائل بچوں کے ادب کی پہچان تھے۔
گزشتہ دنوں نومبر کے پہلے ہفتے میں اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کے تحت تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’بچوں کا ادب: ماضی، حال اور مستقبل‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں بین الاقوامی اور ملکی ادیبوں نے شرکت کی۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام اور دائرئہ علم و ادب پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب اکادمی ادبیات پاکستان کے فیض احمد فیض آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جس میں ڈاکٹر یوسف خشک (چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان) نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جس میں انہوں نے تمام اہلِ قلم کو خوش آمدید کہا، اور کہا کہ اس پروگرام میں تمام صوبوں کے لوگوں کی شمولیت سے اکادمی ادبیات کے وقار میں اضافہ ہوا ہے، ہمارے لیے یہ ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل یہ پروگرام مئی میں ہونا طے پایا تھا، لیکن ملکی صورت حال اور اسلام آباد میں راستوں کی بندش کے باعث اسے مجبوراً ملتوی کرنا پڑا۔ بالآخر نومبر کے ابتدائی دنوں میں اس کا انعقاد ممکن ہوسکا۔
اس کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور مصنف محمود شام نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں بچوں کے اَدب پر کام کرنے کی ضرورت ہے، آج تک اس طرح کا کوئی بھی پروگرام پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوا ہے، یہ اعزاز چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان کو جاتا ہے۔ آج کے بچے کتابوں کے بجائے ویڈیوز میں اپنا وقت گزار دیتے ہیں۔ کووڈ نے بچوں کے ادب کو بڑا نقصان پہنچایا ہے جس کا تدارک مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں۔ حکومتِ پاکستان کے کئی چینل ہیں، ایک چینل بچوں کے لیے مختص کریں تاکہ بچوں کی تعلیم و تفریح کا اچھا انتظام کیا جائے۔
معروف شاعر امجد اسلام امجد بھی اس تقریب کا حصہ تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ بچوں کے اَدب پر جس طرح کام ہونا چاہیے تھا، اس رفتار سے نہیں ہوسکا ہے۔ پرانی کہانیاں زندگی بھر نہیں بھولتیں۔ بچوں کا ماضی بھی ہوتا ہے، حال بھی ہوتا ہے لیکن وہ سوچتے مستقبل کا ہیں۔ میں نے پوری زندگی بچوں کے لیے کہانیاں لکھی ہیں مگر سچ یہ ہے کہ ہم نے بچوں کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ بچوں کے اَدیب مستقبل کے معمار ہیں۔ اُنھوں نے اس جانب بھی توجہ مبذول کروائی کہ بچوں کو جب کتاب کی جانب راغب کریں گے تو فی زمانہ ان کی صلاحیتوں کو پَر لگ جائیں گے۔ پی ٹی وی واحد چینل تھا جو چار سے پانچ بجے تک بچوں کے پروگرام کا انعقاد کرتا تھا، لیکن اب ٹی وی کے وہ سلسلے قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ بچوں کو کہانیاں مقامی زبان میں سنائی جاتی ہیں تو بچے سیکھ جاتے ہیں۔ امریکہ نے بھی بچوں کے ادب پہ بہت کام کیا ہے، انھوں نے بچوں کو جدید دور میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ اچھی کہانیاں لکھنے والے اہلِ قلم کو نصاب میں شامل کیا جائے تو یہ ایک بہترین عمل ہوگا۔
شہر اقتدار سے سینیٹر عرفان صدیقی بھی تشریف لائے تھے۔ شرکا سے مخاطب ہوکر اُنھوں نے کہا کہ اس وقت اسلام آباد میں ایک کہکشاں جمع ہے جو مستقبل کے معماروں کی تربیت میں کردار ادا کرتے ہیں۔ آج وہ بچہ کہاں سے لائیں جو ہر شام اپنی والدہ سے کہے کہ مجھے کہانی سنائیں۔ آج نہ تو بچے کے والدین کے ہاتھ میں کتاب ہے، نہ بچے کے ہاتھ میں۔ آخر کیوں؟ اس ملک کی لائبریریاں آخر کیوں ختم ہورہی ہیں؟ نیشنل بک فاؤنڈیشن کو بچوں کے ادیبوں کے لیے وقف کرنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ کام ہوسکے۔ ناخواندگی کا سلسلہ ختم کرنا ہے تو بچوں کو اُردو کی جانب راغب کرنا لازمی ہے۔
مشیر برائے وزیراعظم، سیاسی و عوامی امور، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن انجینئر امیر مقام نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں کتاب دوست شخصیت ہوں۔ میں ویڈیو لنک پر شریک ہونے والے دیگر ممالک کے اہلِ قلم کا شکر گزار ہوں جو اپنا وقت نکال کر ہمارے اہلِ قلم کو سن رہے ہیں۔ میں آج بہت خوشی محسوس کررہا ہوں کہ اتنی اہم شخصیات کے درمیان موجود ہوں۔ میں ٹاٹ اسکول میں پڑھا ہوں۔ مجھے ہمیشہ نیند تب آتی تھی جب دادی یا پھر دادا کہانی سناتے تھے۔ اس کانفرنس کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ بچوں کے اَدب پہ ہر قسم کا تعاون کروں گا۔ تین دنوں میں آپ کی طرف سے ملنے والی تجاویز پہ عمل درآمد ضرور ہوگا۔
آخر میں اُنھوں نے یہ خوش خبری سنائی کہ یہ کانفرنس ہر سال منعقد ہوگی اور ملکی سطح پر بچوں کے منتخب اہلِ قلم کو ایوارڈ دیے جائیں گے۔
تین دن تک مختلف اجلاسوں میں اہلِ قلم نے اپنے مقالے پیش کرکے بچوں کے ادب پر روشنی ڈالی۔ جہاں ماضی کے ادب کو کنگھالا گیا، وہیں حال کے ادب پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی۔ مستقبل کے امکانات پر بھی بات ہوئی اور طے یہ پایا کہ بچوں کے ادیبوں کو مل کر جدید ٹولز کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کے ادب کے معیار میں اضافہ کرنا ہے۔ اچھا ادب پڑھنا ہے، اچھا ادب لکھنا ہے۔
سرکار کا کام یہ ہے کہ وہ قوم کے مستقبل کو سنوارنے والے ادیبوں کی سرپرستی کرے، اُنھیں سہولیات فراہم کرے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اس میدان میں نت نئے تجربات کرسکیں۔
پروگرام کے اختتامی سیشن میں کراچی سے تعلق رکھنے والی شاعرہ عنبرین حسیب عنبر نے نظامت کی۔
اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن محترمہ فارینہ مظہر نے کہا کہ پچھلے تین دنوں کے اندر پاکستان اور بیرونی ممالک سے بچوں کے ادیبوں، تخلیق کاروں، شاعروں اور محققین کی بڑی تعداد نے اس میں شرکت فرمائی اور نہایت پُرمغز مقالات پیش کیے، اپنی تخلیقات پیش کیں، اپنے تجربات پیش کیے، اور اس کانفرنس کی خوبصورتی یہ تھی کہ ہر عمر کے انسانوں.. بچوں، نوجوانوں، بزرگ مرد و خواتین سب نے اس کانفرنس میں خوشی خوشی شرکت کی اور ہر ایک نے اس سے استفادہ کیا۔ اس کانفرنس کا کامیاب انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ادب کو اور خاص کر بچوں کے ادب کو اپنی زندگیوں میں کتنی زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اس حوالے سے بات کرنے اور سننے کے لیے اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر یہاں اکٹھے ہوئے ہیں اور ہم نے اس تقریب کو کامیاب بنایا۔ میں اس کامیاب تقریب کے انعقاد پر بچوں کے ادب سے وابستہ اہل قلم کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرنا چاہتی ہوں کہ آپ کی شرکت کی وجہ سے یہ کانفرنس کامیاب ہوئی۔ امید ہے ڈاکٹر یوسف خشک اور ان کی ٹیم اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرانتظام آئندہ بھی ایسی ہی مؤثر اور کامیاب تقریبات کا انعقاد کرکے ڈویژن اور وزارت کو سرخرو کریں گے۔
معروف ڈراما نگار اور مصنف اصغر ندیم سید نے کہا کہ 75سال میں پہلی بار پاکستان میں اس نوعیت کی بچوں کی کانفرنس منعقد کی گئی ہے، اُنھوں نے کہا کہ میں نے پہلی تحریر بچوں کے لیے لکھی اور میں بچپن میں باقاعدہ 6رسالوں کا قاری تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ سب سے بڑا سچ بچے کا سچ ہے۔ اس لیے بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنا مشکل ہے۔ بچوں کو ادب کی طرف راغب کرنے کے لیے رسائل، کتب، ٹی وی چینل اور فلمیں بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں سو سے زیادہ چینل ہیں لیکن ایک بھی چینل بچوں کے پروگرام نہیں دکھاتا۔
معروف شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن کراچی سے تشریف لائی تھیں۔ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ کانفرنس میں شرکت کرکے محسوس ہوا کہ یہ تین دن میں نے اپنے بچپن کے ساتھ گزار دیے ہیں۔ ادب اور آرٹس انسان کو وہ شعور عطا کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایک مہذب انسان بنتا ہے۔ یہ کانفرنس اس شعور کو جگانے میں کامیاب رہی کہ ادب اور آرٹ انسان کے لیے بہت ضروری ہیں۔ بچوں کے ادب پر پہلی تین روزہ کانفرنس کا انعقاد بڑا کارنامہ ہے جس کے لیے چیئرمین اکادمی اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن مبارک باد کے مستحق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مائوں سے اُمید ہے کہ بچوں کو لوریاں اور کہانیاں سنا کر معاشرے کا اچھا فرد بنائیں گی۔
صوبہ پنجاب کے دانشوروں، ادبا و اسکالرز کی نمائندگی کرتے ہوئے معروف ادیب ناول نگار محمد حفیظ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ قومی سطح پر یہ کانفرنس جہاں وسل بلور ثابت ہوئی، وہیں اس نے ہمارے ذاتی مخمصے بھی دور کیے۔ ہم نے اپنے بچوں کو اپنے نصاب سے نکلنے نہیں دیا۔ اس کانفرنس نے جہاں کئی سوالوں کے جواب دیئے وہاں کئی سوال بھی پیدا کیے ہیں۔ پچھلے دو تین برسوں میں اکادمی ادبیات کی پبلی کیشنز، سیمینارز اور کانفرنسوں نے پورے پاکستان کو ادبی سطح پر یک جان کردیا ہے۔
سندھ کے نامور ادیب و شاعر ڈاکٹر ادل سومرو نے صوبہ سندھ کے ادبا کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ بچے کسی سے نفرت نہیں کرتے، تین دن کی اس کانفرنس میں بطور بچوں کے ادیب، سیکھنے کا موقع ملا کہ ہمیں کیسا لکھنا چاہیے۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد کانفرنس تھی۔ اپنی 50 سالہ ادبی زندگی میں اندرون و بیرونِ ملک کئی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ اس نوعیت کی کانفرنس جس میں روحانی تسکین حاصل ہوئی پہلی مرتبہ دیکھی۔
صوبہ خیبر پختون خوا کے نامور ادیب، دانشور و محقق اباسین یوسف زئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں فخر محسوس کررہا ہوں کہ اکادمی ادبیات پاکستان جو تاریخ رقم کررہی ہے، اس کا میں بھی حصہ ہوں۔ کورونا میں بھی اکادمی کے سربراہ ڈاکٹر یوسف خشک اور ان کی ٹیم نے سیمینارز اور کانفرنسوں کا راستہ نہیں روکا۔ بچوں کے ادب پر کانفرنس بڑی مثال ہے۔ ہر صوبے سے بچوں کی مادری زبانوں کا رسالہ بھی شایع ہونا چاہیے۔ نیشنل کلچر ڈویژن کا شکریہ کہ انھوں سے اس کانفرنس کی اجازت دی۔
صوبہ بلوچستان کے نمائندہ مصنف، معروف اقبال شناس و محقق عبدالروف رفیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 75سال میں حکومت کی طرف سے قومی سطح پر کبھی ایک بھی کانفرنس بچوں کے حوالے سے نہیں ہوئی۔ یہ اعزاز ڈاکٹر یوسف خشک اور ان کی ٹیم کو نصیب ہوا، چشم بددور۔ کانفرنس کے تین دن ہم اپنے بچپنے میں کھوئے رہے اور ساتھ ساتھ اکادمی کے یہ در و دیوار بھی مختلف زبانوں کی لوریاں سن کر خمار سے مخمور رہے۔ تین دن کی اس کانفرنس میں میزبانوں نے جس انداز سے مہمان نوازی کے ساتھ ہماری فکری خوراک کا اہتمام کیا بلا تفریق شرق و غرب، قابلِ تحسین ہے۔
گلگت بلتستان و آزاد کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے معروف شاعر، مورخ، ادیب، مترجم احسان دانش نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے چنیدہ معروف ادیب اس کانفرنس میں شریک ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان سے پچھلے 22 سال سے میرا تعلق ہے، مگر اکادمی کے اندر اس سے پہلے ہم نے پورے پاکستان کے ادیبوں کی بڑی رونق نہیں دیکھی جو پچھلے تین روز سے دیکھ رہا ہوں۔
اس پروگرام کے روحِ رواں چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ الحمدللہ اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت پہلی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس ”بچوں کا ادب: ماضی، حال اور مستقبل“ اپنے اختتام کو پہنچی۔ مگر دراصل یہ آغاز ہے ایک مضبوط بنیاد کا۔ ہم سب ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں۔ ان تین دنوں میں ہم نے مختلف زاویوں سے بچوں کے ادب کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہم جدید دور کے بچوں کے لیے ادب کو کس طرح اہم اور مفید بناسکتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اس جدید اور پیچیدہ دنیا کو سمجھنے میں ادب زیادہ اہم ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ ادب ارتقائی مراحل طے کرے اور بچوں کے ذہنی ارتقا کو سمجھے۔ اس شعور کے ساتھ جو ادب تخلیق ہوگا وہ بچوں کے لیے دلچسپ بھی ہوگا اور اہم بھی۔ اس لیے ہم نے بچوں کے ادب میں ماضی، حال کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کے امکانات پر توجہ مرکوز کی۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے اس کانفرنس کی اہمیت کو سمجھا اور ہماری کاوشوں کو سراہا۔ افتتاحی اجلاس میں انجینئر امیر مقام مشیر برائے وزیراعظم پاکستان برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے خصوصی دلچسپی کا اظہار فرمایا اور آج اختتامی اجلاس میں وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن محترمہ فارینہ مظہر صاحبہ تشریف فرما ہیں، میں ان سب کا شکر گزار ہوں اور اپنے مہمانانِ خاص کو بتانا چاہتا ہوں کہ ان تین دنوں میں ہم نے بچوں کے شعری اور نثری ادب کا جائزہ لیا اور ادب کو درپیش مسائل کو سمجھا، بچوں کے رسائل سے ادب کے امکانات کا جائزہ لیا، وطن کو مستحکم کرنے کے لیے ثقافت اور حب الوطنی کا جذبہ بچوں میں ادب کے ذریعے اجاگر کرنے پر اہم گفتگو ہوئی اور بچوں کے ادب کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے عملی تجاویز پر غور کیا گیا۔
اکادمی ادبیات پاکستان نے بے شمار کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے ہیں مگر بچوں کے ادب کی یہ کانفرنس اس لحاظ سے اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد اور اہم تھی کہ اس میں سامعین بچے بھی تھے۔ اس طرح ہم نے انھیں ان کے اہم ہونے کا احساس دلایا اور اپنا پیغام بھی ان تک پہنچایا کہ بچوں کا ادب پڑھنا ان کے لیے ناگزیر ہے۔ ہم نے بچوں کے ادیبوں، شاعروں کو بھی احساس دلایا کہ وہ ہمارے لیے بہت اہم اور قابلِ احترام ہیں، کیوں کہ وہ ہمارا ہراول دستہ ہیں جس کی مدد سے ہم علمی، فکری، ذہنی اور عملی تربیت کرکے بچوں کو کارآمد شخصیت بنا سکتے ہیں۔ دائرہ علم و ادب پاکستان کے اشتراک کا اور اُن تمام ادیبوں شاعروں کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں جو میری قوم کے معماروں کی شخصیت سازی میں مصروف ہیں۔
محترمہ فارینہ مظہر صاحبہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اس کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں اپنی گونا گوں مصروفیات میں سے وقت نکال کر یہاں تشریف لائیں اور اپنی دلچسپی سے یہ پیغام دیا کہ بچوں کی ذہنی نشو ونمااور تعمیر میں خواتین بھی بے حد سنجیدہ ہیں، اور جب ہم سب اس نیک مقصد کے لیے ایک ہوگئے ہیں تو یقین رکھیےکہ آج ہم نے جو بنیاد رکھی ہے اس پر آنے والے وقت میں مضبوط قلعہ تعمیر ہوگا۔
اس پروگرام کے کامیاب انعقاد میں کچھ خاموش ہیروز کا بھی کردار رہا ہے، جنھوں نے پروگرام کے آغاز سے لے کر اختتام تک اس پورے منظرنامے کو ترتیب دیا، اپنی بہترین ذہنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کانفرنس کو آغاز سے اختتام تک خوشگوار بنائے رکھا۔
مدیر ادبیات اطفال محترم اختر رضا سلیمی، نائب مدیر ریاض عادل ہمہ تن اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے مصروف رہے، بلاشبہ ان کی فکرمندی سے کانفرنس کی اہمیت کا اندازہ ہورہا تھا۔
بابائے ادبِ اطفال ڈاکٹر افتخار کھوکھر، اور صدر دائرہ علم وادب پاکستان احمد حاطب صدیقی اس کانفرنس کے وہ ہیروز ہیں جو اگرچہ ہمیں بہت زیادہ اسٹیج پر نظر نہیں آئے لیکن بچوں کے ادب میں پڑھے گئے مختلف النوع مقالوں کے منفرد موضوعات میں اُن کی کاوشوں کا تذکرہ ضروری ہے۔
بلاشبہ یہ ایک منفرد کام تھا۔ اس کام کو کرنے کا بیڑا یوسف خشک صاحب نے اُٹھایا اور ادبیات کے جملہ اراکین نے پوری تندہی کے ساتھ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے حوالے سے جس جوش وخروش کا مظاہرہ کیا، وہ لائق تحسین ہے۔

