تحریک ِپاکستان چند یادیں…کچھ ملاقاتیں

ریاض احمد چودھری کا شمار ملک کے بزرگ ترین اخبار نویسوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا دورِ صحافت سات دہائیوں پر محیط ہے جس کا آغاز 1954ء میں ملک نصراللہ خان عزیز کی زیر ادارت شائع ہونے والے روزنامہ ’’تسنیم‘‘ سے ہوا۔ وہ ضعیف العمری کے باوجود آج بھی متحرک اور فعال زندگی بسر کررہے ہیں اور بہت کچھ کر گزرنے کا جذبہ ان کے رگ و پے میں موجزن ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مزید ہمت سے نوازے، نہایت زود نویس ہیں اور ملک کے سب سے زیادہ لکھنے اور چھپنے والے صحافیوں میں شامل ہیں۔ ان کے کالم اب بھی ہر روز کم و بیش ایک درجن اخبارات و جرائد میں شائع ہوتے ہیں جو یقینا کسی اعزاز سے کم نہیں۔ ملک کا شاید ہی کوئی ایسا اردو یا انگریزی اخبار ہو جس میں ان کی تحریریں شائع نہ ہوئی ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ شاعرِ مشرق، مفکرِ اسلام، مصورِ پاکستان علامہ اقبالؒ کی تعلیمات اور افکار کی توسیع و اشاعت کے لیے حکومتِ پنجاب کے قائم کردہ ادارے ’’بزمِ اقبال‘‘ کے سیکریٹری اور ڈائریکٹر کی ذمے داریاں بھی بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں۔ جب سے انہوں نے ادارے کی نظامت سنبھالی ہے اس کے تنِ مُردہ میں جان ڈال دی ہے۔ ان کے دورِ نظامت میں بزم اقبال کے زیراہتمام نئی و پرانی کتب کی اشاعت کے کام میں خاصی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

ریاض احمد چودھری صرف صحافی ہی نہیں بلکہ ایک کثیرالجہات شخصیت ہیں۔ بچپن ہی سے سیاست ان کی گھٹی میں پڑی ہے، نہ صرف تحریکِ پاکستان میں حصہ لیا بلکہ 23 مارچ 1940ء کے اقبال (منٹو) پارک میں منعقدہ اجلاس میں بھی اپنے دادا چودھری دین محمد کے ہمراہ شریک ہونے کا اعزاز انہیں حاصل ہے۔ صحافت سے وابستگی کے بعد بھی عملی سیاست میں حصہ لیتے رہے اور ایوب خان کے بنائے ہوئے بنیادی جمہوریتوں کے نظام میں فیصل آباد (لائل پور) کی ایک یونین کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے، اور صدارتی انتخاب میں سخت آمریت کے اس دور میں بھی ایوب خان کے مدمقابل محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت میں تحریک چلائی۔ 1970ء کے انتخابات سے قبل ذوالفقار علی بھٹو نے سوشلزم کا ہنگامہ برپا کیا تو صحافتی محاذ پر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ملتان سے روزنامہ ’’جسارت‘‘ کا اجرا ہوا تو ریاض احمد چودھری اس کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ وہ اسلام اور نظریۂ پاکستان سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان کی ترویج کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں استعمال کریں۔

زیر نظر ’’تحریکِ پاکستان… چند یادیں، کچھ ملاقاتیں‘‘ ان کی تازہ تصنیف ہے، قبل ازیں ان کی دو کتب ’’ہندوستان کا اصل چہرہ‘‘ اور ’’حیاتِ اقبال‘‘ شائع ہوچکی ہیں۔ تازہ تصنیف متنوع موضوعات پر ان کی تحریروں کا مجموعہ ہے جسے انہوں نے خاصی محنت سے مربوط انداز میں مرتب کرکے موجودہ اور آئندہ نسلوں کے استفادے کے لیے کتابی صورت میں محفوظ کردیا ہے۔ وہ قیام پاکستان کی کرامت اور سقوطِ مشرقی پاکستان کے سانحے کے چشم دیدگواہ ہیں، اور بہت سے حقائق سے آگاہ ہیں۔ کتاب کے ’’دیباچہ‘‘ کی آخری سطور میں وہ خود رقم طراز ہیں کہ: ’’تحریک پاکستان… چند یادیں، کچھ ملاقاتیں‘‘ میری یادداشتوں پر مشتمل ہے، میں بہت سے معاملات کا عینی شاہد ہوں اور بہت سے راز ہائے درونِ خانہ کا امین بھی۔ میں نے بلاکم و کاست بہت کچھ حوالۂ قرطاس کردیا ہے تاکہ قوم کی امانت اس کے حوالے کردی جائے اور ماضی سے سبق حاصل کرکے حال اور مستقبل کو بہتر بنایا جاسکے‘‘۔

کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں تحریکِ پاکستان اور بعد کے دور سے متعلق مصنف کی بیس مختلف النوع تحریریں شامل ہیں، جبکہ دوسرا حصہ پاکستان اور عالم اسلام کی 32 شخصیات کے بارے میں ان کے تحریر کردہ مضامین پر مشتمل ہے۔ کتاب کے آخر میں دو ضمیمے بھی منسلک ہیں۔ پہلے ضمیمے میں برطانوی کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل سرکلائیڈ آکن لک کے پرائیویٹ سیکریٹری میجر جنرل شاہد حامد کی یادداشتوں پر مشتل کتاب سے تقسیم برصغیر میں آخری لمحات میں کی جانے والی بددیانتوں کے شاہ کار ’ریڈ کلف ایوارڈ‘ کی تفصیل اور پس منظر شامل کیا گیا ہے، جبکہ دوسرے ضمیمے میں مصنف کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اہم شخصیات کے ہمراہ تصاویر اور چند مکتوبات کے عکس شائع کیے گئے ہیں۔ وطنِ عزیز کی تاریخ کے نشیب و فراز اور ان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس کتاب کا مطالعہ خاصا مفید اور معلومات افزا ہوگا۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اور مصورِ پاکستان علامہ اقبالؒ کی تصاویر نے کتاب کے سرورق کو بامعنی بنادیا ہے جو مضبوط جلد کے ساتھ گرد پوش سے آراستہ ہے۔ حروف خوانی بھی خصوصی توجہ سے کی گئی ہے اور کتاب بڑی حد تک کتابت کی غلطیوں سے پاک ہے۔ اس قدر عمدہ، مفید اور ضخیم کتاب کی قیمت صرف چھ سو روپے رکھی گئی ہے جو کاغذ اور دیگر متعلقات کی گرانی کے موجودہ ایام میں نہایت موزوں نہیں بلکہ فی الحقیقت خاصی کم ہے۔ اچھی کتب کے مطالعے کے شوقین حضرات اس پہلو سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔