انقلاب کا صحیح وقت

’’آزاد ممالک میں تو کہا جاسکتا تھا اور یہ کہنا ایک حد تک درست بھی ہے کہ کسی انقلابی حرکت کے بغیر چارہ نہیں، اس لیے کہ وہاں ایک گروہ کے ہاتھ میں حکومت کا عملی اقتدار ہوتا ہے اور دوسرا گروہ اس اقتدار کو مٹانے میں ایک شدید انقلابی حرکت کے بغیر مشکل سے کامیاب ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی قابلِ لحاظ ہے کہ انقلاب کے رہنمائوں پر جب عملاً انتظامِ سلطنت کی ذمہ داری آن پڑتی ہے تو زمانے کے تجربات بہت جلد اُن کی عقل درست کردیتے ہیں اور انہیں مجبوراً افراط کی روش چھوڑ کر اعتدال کی طرف مائل ہونا پڑتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ فراموش نہ کرنا چاہیے کہ ہم اس وقت غلامی کی حالت میں ہیں اور ہمارے حالات آزاد ممالک سے بالکل مختلف ہیں۔ یہاں اوّل تو کسی انقلابی حرکت کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ ایسی شدید اور طاقتور مزاحمت کا خوف نہیں ہے جس کے مقابلے میں ایک معتدل اصلاحی تحریک کامیاب نہ ہوسکتی ہو، دوسرے اگر کوئی انقلابی حرکت جاری ہو اور وہ کامیاب ہوجائے تو مدت ہائے دراز تک اس کے اعتدال پر آنے کی امید نہیں کی جاسکتی، کیونکہ انقلاب کے علَم برداروں پر سرے سے کسی ذمہ داری کا بوجھ ہی نہ ہوگا جو اُن کی افراط پسندی کو اعتدال کی طرف مائل کرسکتا ہو۔ لہٰذا یہاں کسی انقلابی حرکت بلکہ صحیح الفاظ میں بہت سی انقلابی حرکات کے دیر تک جاری رہنے کا نتیجہ سوائے اس کے اور کچھ نہ ہوگا کہ مسلم سوسائٹی جن بنیادوں پر قائم ہے وہ سب کی سب متزلزل ہوجائیں گی اور ان کی جگہ کوئی ایسی مستحکم بنیاد قائم نہ ہوسکے گی جس پر ازسرِنو ایک نظامِ اجتماعی تعمیر کیا جاسکے۔ پھر غور کرنا چاہیے کہ جو قوم پہلے ہی غلامی اور کمزوری کی حالت میں ہے اُس کے نظام اجتماعی کو اگر اس طرح منہدم کرکے پارہ پارہ کردیا گیا تو وہ اخلاقی انحطاط کے کن گڑھوں میں جاگرے گی؟ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات ہم قدامت پسندوں سے زیادہ انقلاب پسندوں کا سختی کے ساتھ مقابلہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ورنہ جہاں تک بگڑے ہوئے حالات کا تعلق ہے ان کو بدلنے کی ضرورت میں ہم بھی ان سے متفق ہیں، ہم بھی چاہتے ہیں کہ جو جمود اسلام میں پیدا کیا گیا ہے اس کو حرکت سے بدل دیا جائے۔“