[جس کے نشانات ہندوستان کے علاوہ ایران، بابل، مصر، یونان اور روم کی اساطیر میں بھی ملتے ہیں]
ہیر رانجھے کی داستان کو علمی دائرے میں لوک کہانی سمجھا جاتا ہے اور عوامی سطح پر ایک سچا واقعہ‘ جس کی شہادت جھنگ میں ’’ہیر رانجھے‘‘ کی قبر سے بھی ملتی ہے، مگر ’’ہیر دمودر‘‘ کی ساخت سے پتا چلتا ہے کہ یہ ’’سورج‘‘ اور ’’دھرتی ماتا‘‘ کی دیومالا (Myth)ہے، جو قدیم دور سے پنجاب کی تہذیب میں رائج چلی آرہی ہے۔ اِس دیومالا کا پلاٹ، کردار، کرداروں کی صفات اور القاب ناصرف ہندوستان بلکہ مشرق وسطیٰ اور یورپ کی اساطیر میں بھی دستیاب ہیں، حتیٰ کہ جو علائم اور استعارے اِس میں مستعمل ہوئے ہیں، وہ اہل ِ یونان و روم اور اُن سے بھی پہلے سومیریوں، بابلیوں اور اشوریوں کی مذہبی کہانیوں میں بھی ملتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دُنیا بھر کی اساطیر کے برعکس قصّہ ’’ہیر‘‘ میں مولوی، مسجد اور نکاح جیسی اسلامی شناختیں بھی موجود ہیں جن سے لگتا ہے کہ کہانی کا تعلق برصغیر کے مسلم عہد سے ہے، مگر اِس سے دوہرا فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ ایک یہ کہ یہ اسلامی علامتیں مطعون کردی گئیں اور دوسرے انہی کی آڑ میں پرستش ِ آفتاب کی یہ کہانی مسلمانوں کے لیے قابل ِ قبول بنادی گئی ہے۔
’’ہیر دمودر‘‘ میں اکبر کے حوالوں اور ’’اکھیں ڈٹھا‘‘ کے دعووں سے اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ یا قصہ اکبر کے عہد یا اُس کے قریبی دور کا ہے۔ مگر عہدِ اکبری میں اس کے کردار اِس قدر جانے پہچانے تھے کہ شاعری میں بطور علامت استعمال ہورہے تھے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکبر کے دور میں بھی انھیں قدامت حاصل تھی اور ان کی شہرت کی تصدیق عہد ِ اکبری کا شاعر باقیؔ کولابی بھی کرتا ہے:
در ہند زہیر و رانجہ غوغا ست
کا فسانہ ہر دو در زبانہا ست
باقیؔ کولابی کا عمل بھی اُس کے قول کی تائید کرتا ہے۔ افغانستان کے قصبے کولاب سے دِلّی پہنچ کر اُس نے اِس قصے پر فارسی میں طبع آزمائی اِس لیے کی کہ راتوں رات شہرت حاصل کرنے کا یہ آسان نسخہ تھا۔
دیومالا، کہانی سے مختلف ہوتی ہے، کیوں کہ یہ مظاہر کے بارے میں عقائد پر مشتمل ہوتی ہے اور اس کے کرداروں اور واقعات کو حقیقی سمجھا جاتا ہے۔ دیومالا کو بیان کرنے کے تقاضے بھی دیومالائی ہوتے ہیں، جو ’’ہیر دمودر‘‘ میں دکھائی دیتے ہیں، مگر ہمارے یہاں دمودر کو ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے کہ وہ جھنگ‘ تخت ہزارے‘ کھیڑوں کے دیس، کوٹ قبولے اور دیگر مقامات پر کیوں کر موجود تھا اور ’’آنکھیں ڈٹھا‘‘ کے دعوے کیسے درست ہیں؟ حالانکہ یہ مقامات سورج کی چال اور دھرتی کے لیے اُس کی اہمیت کے حوالے سے دیومالائی ہیں جن کی معنویت اُن کے ناموں میں بھی موجود ہے۔
ہندوستان سے یورپ تک کی اساطیر میں سورج تذکیر کا دیو اور دھرتی تانیث کی دیوی ہے۔ دونوں محبت کے رشتے میں بندھے ہیں مگر اِس فرق کے ساتھ کہ دھرتی کی نیازمندی کے مقابل سورج بڑی حد تک بے نیاز ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کی ہستی کا انحصار دھرتی پر نہیں، مگر سورج کے بغیر دھرتی کی جان پر بن جاتی ہے۔ دھرتی کی یہ حالت خزاں و سرما میں دکھائی دیتی ہے جب سورج کے جنوب میں نکل جانے کے باعث روئیدگی ناپید ہوجاتی ہے۔ اِسی ’’پت جھڑ‘‘ کو دھرتی کے برباد ہونے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اِس کے برعکس موسم بہار و گرما میں جب سورج دھرتی کے سر پر آجاتا ہے تو دھرتی دلہن کی طرح سنور جاتی ہے۔ ہر طرف روئیدگی، ہریالی اور پھل پھول، اور انہی کی بدولت جانوروں کے ریوڑ اور پرندوں کے غول فروغ پاتے ہیں۔ افزائش کے اِس مظہر کے باعث اِس موسم کو وصال کا موسم کہا جاتا ہے۔
[’’ ہیر دمودر‘‘ مصنف: بیدار بخت۔ مجلہ ’’مخزن‘‘ لاہور، شمارہ: 21، صفحات 62۔63]
مجلس اقبال
مری نوائے غم آلود ہے متاعِ عزیز
جہاں میں عام نہیں دولتِ دلِ ناشاد
اس شعر میں علامہ اپنی شاعری کی حقیقت و اہمیت سے آگاہ کرتے ہیں کہ یہ ملّت کے درد و الم کی داستان بھی ہے، اور اس میں حیاتِ نو کا پیغام بھی ہے۔ درد و الم سے معمور، اقبال کا دل ملّت کی غم خواری کے جذبوں کی نمائندگی کررہا ہے۔ ملّت کے تاریخی عروج و زوال کی تفصیلات سے آگاہ مردِ خود آگاہ اقبال کا کلام، بھٹکے ہوئے آہو کی رہنمائی اور رہبری کے لیے وقف ہے۔ ایسا دل اور ایسا کلام، ایسی اپنائیت اور ایسی وفا اقبال سے ہٹ کر کسی اور کے ہاں سے نہیں مل سکتی۔

