حکمران اتحاد اوربالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں اختلافات جنگ اور دشمنی میں تبدیل ہوگئے ہیں
پاکستان کا بحران تواتر کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ یہ بحران سیاسی، معاشی اور ریاستی اداروں کی سطح پر ہے۔ سارے فریق مسائل کو حل کرنے کے بجائے مسائل میں مزید اضافہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اول مسئلہ ملک میں دو صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90روز میں انتخابات کے انعقاد کا ہے، کیونکہ دونوں صوبائی گورنر اور الیکشن کمیشن تاریخ دینے سے گریز کررہے ہیں اور اُن کے بقول ہم انتخابات کی تاریخ دینے کے مجاز نہیں۔ جبکہ اس کے برعکس صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صوبائی انتخابات کی تاریخ دی ہے تو اس کو گورنرز، الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت ماننے سے انکاری ہیں۔ اس تناظر میں معاملہ پہلے سپریم کورٹ کی 9رکنی بینچ میں تھا، مگر اب ان میں سے 4 ججوں نے اس بینچ سے خود کو علیحدہ کرلیا ہے، اس طرح 5 رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کررہا ہے۔ حکمران اتحاد اور میڈیا کا ایک بڑا طبقہ اس بات پر بضد ہیں کہ چیف جسٹس اس اہم مقدمے میں فل کورٹ بینچ بنائیں، مگر وہ اس سے انکاری ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بقول ہم اس مقدمے میں صرف اس نکتے تک خود کو محدود رکھیں گے کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار کس کا ہے اورکون ان انتخابات کی تاریخ دینے سے گریز کررہا ہے۔ اب معاملہ مکمل طور پر سپریم کورٹ میں ہے اور دیکھنا ہوگا کہ وہ انتخابات کے انعقاد کے حق میں فیصلہ دیتی ہے یا انتخابات کے انعقاد پر وہ حکومتی مؤقف کو تسلیم کرتی ہے۔
9رکنی بینچ کی تشکیل پر بعض ججوں، حکومت، میڈیا اور بار کونسلوں کی جانب سے خاصے تحفظات کا اظہارکیا گیا۔ بالخصوص جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی پر اعتراض اٹھایا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ان کو بینچ سے علیحدہ کردیا جائے۔ اب جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی نے خود کو بینچ سے علیحدہ کرلیا ہے، اور جن دو ججوں پر حکومت اور بارکونسل کے تحفظات تھے وہ بھی علیحدہ ہوگئے ہیں۔ اب دیکھا جائے گا کہ اس بینچ کے فیصلے کو تسلیم کیا جاتا ہے یا اس پر بھی سیاست ہی کی جائے گی۔ کیونکہ اس اہم مقدمے میں سوائے سیاست کے کچھ نہیں ہورہا، اورتمام فریق اپنی اپنی آئینی تشریح کرکے نتیجہ نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس بات پر بھی اعتراض کیاگیا کہ اعلیٰ عدالت نے اس پر سوموٹو کیوں لیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ جب گورنرز، الیکشن کمیشن اور صدرِ مملکت میں اتفاق نہیں ہورہا تو اس بات کی تشریح کون کرے گا کہ کون آئینی تقاضوں کو پورا کررہا ہے اورکون آئین سے انحراف کا مرتکب ہورہا ہے!
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ بحران میں ایک بار پھر عدلیہ کو سیاسی مخالفت کا سامنا ہے۔ حکمران اتحاد لنگر لنگوٹ کس کر عدلیہ مخالف مہم میں پیش پیش ہے۔ ان کا خصوصی ہدف چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی ہیں جن کے بارے میں یہ الزامات مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کی جانب سے لگائے جارہے ہیں کہ یہ لوگ عمران خان اسکرپٹ کا حصہ ہیں۔ مریم نواز نے سرگودھا میں جس طرح دو حاضر سروس ججوں کو تنقید کا نشانہ بنایا وہ بھی قابلِ گرفت ہے اور یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ عدلیہ کو دبائو میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلاول بھٹو بھی اپنی تقریروں میں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں عدلیہ کا دہری سطح کا معیار قبول نہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف بھی عدلیہ کی حمایت میں کھڑی نظر آتی ہے، اور اس بنیاد پر عدلیہ کی تقسیم خود عدالتی نظام کے خلاف ہے اور یہ تاثر کہ عدلیہ آپس میں لڑ رہی ہے درست راستہ نہیں۔ اب بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ جس کے حق میں فیصلہ آئے گا اُس کے لیے یہ فیصلہ منصفانہ ہوگا، اورجس کے خلا ف آیا وہ اسے سیاست اور سیاسی چمک کے طور پر پیش کرے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر عدالتی فیصلے میں بھی تاخیر ہوتی ہے تو پھر 90روز میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوگا۔ حکومت کی کوشش یہی ہے کہ کسی بھی طریقے سے عدالتی عمل میں تاخیری حربے اختیار کرکے معاملات کو طوالت دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس فوری طور پر اس مقدمے کی سماعت اور فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملک میں جو سیاسی اور قانونی بحران ہے اسے ختم یا کم کیا جاسکے۔ دوسری طرف حکومتی حکمت عملی یہ بھی سامنے آئی ہے کہ وہ ہر صورت تمام سیاسی فورمز، میڈیا اور پارلیمنٹ میں عدلیہ پر دبائو بڑھائے اور ایسا بیانیہ پیش کیا جائے جس کا مقصد اعلیٰ عدلیہ کو متنازع بنانا ہوگا۔ اگر یہ کھیل شروع ہوتا ہے تو ایک بڑی سیاسی اور قانونی لڑائی جو جاری ہے اس میں ہمیں مزید سنگینی اور شدت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا فیصلہ سامنے آتا ہے۔ جس وقت یہ تحریر لکھی جارہی ہے اُس وقت تک عدالت کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں آسکا، مگر امکان یہ ہے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو پابند کرسکتی ہے کہ وہ فلاں تاریخ تک انتخابات کی تاریخ اوراس کے شیڈول کا اعلان کرے تاکہ انتخابات کے عمل کو یقینی بنایا جاسکے۔
دوسری جانب سیاسی محاذ پر حکمران اتحاد اوربالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں اختلافات جنگ اور دشمنی میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ حکمران اتحاد ہر صورت میں انتخابات کے خلاف ہے۔ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ اگر پی ٹی آئی نے صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کیا تو ہم اس صورت میں 90روز میں صوبائی انتخابات کروادیں گے۔ لیکن اب حکومت صوبائی انتخابات کے انعقاد سے انکار ی ہے۔ حکمرانوں کا نیا بیانیہ یہ ہے کہ ملک میں ایک ہی انتخابات ہوں گے۔ان کے بقول دو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات عام انتخابات سے قبل ممکن نہیں اور یہ عمل ملکی سطح پر نئے ہنگامے کو جنم دے گا۔ حکمران اتحاد سمجھتا ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد ان کے لیے سیاسی خود کشی ہوگی، اور اِس وقت ملک کے جو معاشی حالات ہیں ان میں انتخابات کے نتائج ان کے خلاف ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی طرف سے دہشت گردی، نئی مردم شماری اورمعاشی حالات کو بنیاد بنا کر انتخابات سے فرارکاراستہ اختیار کیا جارہا ہے۔ اس معاملے میں حکمران اتحاد کو سب سے زیادہ مشکل کا سامنا اعلیٰ عدالت سے ہے اور ان کے بقول اعلیٰ عدالت ہی حکومتی فیصلے میں مسائل پیدا کررہی ہے، کیونکہ اعلیٰ عدلیہ کے بقول کسی بھی صورت میں انتخابات 90روز سے آگے نہیں جائیں گے۔ حکومت کی انتخابات سے فرار کی وجہ سمجھ میں بھی آتی ہے۔ 26فروری کو راجن پور میں ہونے والے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار کا 90ہزار سے زیادہ ووٹ لینا اور تقریباً 35ہزار ووٹوں کی برتری سے اس انتخابی معرکے میں فتح ظاہر کرتی ہے کہ حکمران اتحاد انتخابات کی صورت میں کہاں کھڑا ہوگا۔ اس وقت دلچسپ صورتِ حال یہ بھی ہے کہ حکمران اتحاد اگرچہ 13 جماعتوں پر مشتمل ہے لیکن حکومت کا سارا بوجھ مسلم لیگ (ن) کے کندھوں پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک خاص حکمت عملی کے تحت مریم نواز نے اپنی ہی جماعت کی حکومت کوقبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ بہت سے لوگ مریم نواز کے بیانات کو مسلم لیگ (ن) کی داخلی لڑائی کے طور پر لے رہے ہیں، لیکن اسے ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔کیونکہ مریم نواز سمجھتی ہیں کہ اگر اُن کو اس وقت انتخابی مہم میں جانا ہے تو حکومتی بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں لینا چاہیے۔اس کھیل میں آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان بہت حد تک مسلم لیگ (ن) سے فاصلے پر ہیںاور وہ اپنی اپنی سیاست کرکے اپنے مفادات تک محدود ہیں۔ اس کا ایک خاص ردعمل مسلم لیگ (ن) میں بھی پایا جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اتحادی جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی موجودہ حکمران اتحاد کے حق میں نہیںاور ان کوبھی حکومت کی معاشی کارکردگی کے تناظر میں مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ذمہ داری لینی چاہیے۔
ویسے تو اصولی طور پر ملک میں ایک ہی انتخاب ہونا چاہیے اوروہ عا م انتخابات کی صورت میں ہی ہوسکتا ہے۔ حق تو یہ بنتا ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف سمیت دیگر فریق مل کر فیصلہ کریں کہ عام انتخابات کب اور کیسے ہوں گے۔ کیونکہ جب حکومت خود تسلیم کررہی ہے کہ مسائل صوبائی انتخابات سے نہیں بلکہ عام انتخابات سے حل ہوں گے تو پھر سب کو اسی فیصلے کی طرف بڑھنا چاہیے۔
عمران خان جس انداز سے اپنی ضمانت کے لیے لاہو رہائی کورٹ میں پیش ہوئے یا اپنی ضمانت کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے اس سے اُن کی مقبولیت کا دعویٰ بھی سچ ثابت ہوا۔ جس نے بھی یہ اسکرپٹ لکھا کہ عمران خان کو ہر صورت میں عدالت میں پیش ہونا ہوگا وہ عمران خان کے حق میں گیا ہے۔دوسری طرف مریم نواز بھی خاصے جارحانہ موڈ میں سیاسی میدان میں کود پڑی ہیں اور ان کے لب ولہجے میں عمران خان کے خلاف خاصی شدت پائی جاتی ہے۔ وہ عمران خان کو نااہل بھی دیکھنا چاہتی ہیں اور سیاسی میدان میں انتخابات سے قبل لیول پلیئنگ فیلڈ کی باتیں بھی کررہی ہیں۔ان کے بقول اعلیٰ عدلیہ انتخابات سے قبل نوازشریف کو قانونی ریلیف دے تاکہ وہ بھی انتخابی عمل میں حصہ لے سکیں۔ لیکن اگر نوازشریف واقعی ریلیف چاہتے ہیں تو وہ پاکستان آنے سے کیوں انکاری ہیں؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مریم نواز اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پر دبائو ڈال کر اپنے والد یعنی نوازشریف کے لیے ایک اور محفوظ ڈیل چاہتی ہیں کیونکہ نوازشریف کسی بھی صورت میں خطرات کی موجودگی میں پاکستان واپس آنے کے لیے تیار نہیں۔اسی طرح مریم نواز کی سیاست پر مسلم لیگ(ن) میں بھی تقسیم نظر آرہی ہے اور پارٹی میں بہت سے اہم لوگوںنے مریم نواز کی سیاست سے خود کو علیحدہ رکھا ہوا ہے اور وہ بظاہر نوازشریف کے مقابلے میں شہبازشریف کیمپ کا حصہ ہیں۔اسی سیاسی اور قانونی لڑائی میں ایک فریق کے طور پر اسٹیبلشمنٹ کو بھی پیش کیا جارہا ہے۔ ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہی تمام ہونے والے یا آنے والے فیصلوں کے پیچھے ہے۔جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے بقول ہم نے خود کو سیاسی معاملات سے علیحدہ کرلیا ہے اورہمیں بلاوجہ کوئی بھی سیاسی معاملات میں مت الجھائے۔لیکن اسٹیبلشمنٹ کا نام بار بار سامنے آرہا ہے۔عمران خان بھی جب اپنے مطالبات پیش کرتے ہیں تو اُن کا اشارہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہی ہوتا ہے،کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز کون ہے اورکون فیصلے کا اصل اختیار رکھتا ہے۔اس وقت جو حالات ہیں اُن میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کسی بھی طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ جب بحران سیاسی سے بڑھ کر ریاستی بحران کی شکل اختیار کرے تو ہمیں اسٹیبلشمنٹ کا کردار بھی نظر آتا ہے،بالخصوص ایسے موقع پر جب سیاست دان… چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں… مل بیٹھنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اسٹیبلشمنٹ کو پسِ پردہ ایسی کوششوں کو آگے بڑھانا چاہیے کہ سیاسی فریق مل جل کر مسئلے کاحل نکالیں۔لیکن اس وقت لگتا یہ ہے کہ ہمارا سیاسی کھیل بند گلی میں داخل ہوگیا ہے اور سبھی فریق سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ وہ اپنی اپنی شرائط پر کیسے ان معاملات سے نمٹ سکتے ہیں۔ اور یہی بات مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔

