اعلیٰ عدلیہ کی ایک بار پھر آزمائش
ردو صوبائی اسمبلیاں توڑنے جانے کے بعد پنجاب اور کے پی کے میں الیکشن کرانے کے لیے ازخود نوٹس کیس کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ ایک بار پھر خبروں کے مرکزی دھارے میں آچکی ہے۔ لیکن اس میں بے شمار سیاسی، غیر سیاسی اور عدالتی کردار سامنے آسکتے ہیں۔ اس مقدمے میں نہایت اہم ریمارکس اور دلائل یہ دیے گئے ہیں اور سارا مقدمہ بھی انہی کے گرد گھوم رہا ہے اور فیصلہ بھی انہی کے مطابق ہوگا، ریمارکس یہ ہیں کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پارلیمان نے الیکشن ایکٹ میں واضح لکھا ہے کہ صدربھی الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں، اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 13 اپریل کو انتخابات لازمی کرانے کے 90 دن ختم ہوں گے۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ صدرکی جانب سے دی گئی تاریخ پر الیکشن ممکن نہیں، کسی صورت بھی 25 اپریل سے پہلے انتخابات نہیں ہوسکتے، 2008ء میں بھی انتخابات کی تاریخ آگے گئی تھی، اگر آج بھی الیکشن کا اعلان کریں گے تو 90 دن کی حد پر عمل نہیں ہوسکتا۔ صوبائی اسپیکرز کے وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ کوئی آئینی عہدے دار بھی انتخابات میں 90 دن سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتا، پنجاب میں 90 دن کا وقت 14 جنوری سے شروع ہوچکا ہے، عدالت گورنر یا الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کا حکم دے سکتی ہے، انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، صدرِ مملکت نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے آئینی اختیارکے تحت خود تاریخ مقرر کی،الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابات کی تاریخ وہ نہیں دے سکتے، اصل معاملہ انتخابات کی تاریخ کا ہے جو دینے کے لیے کوئی تیار نہیں، الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں انتخابات کی تیاری کا بتا چکا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ تیاری تو تب ہوگی جب انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوگا، تاریخ کی بات ہورہی ہے، ابھی تو رشتہ ہونا ہے، کیا گورنر کا کردار پارلیمانی جمہوریت میں پوسٹ آفس کا ہی ہے؟کیا گورنر اپنی صوابدید پر اسمبلی تحلیل کرسکتا ہے؟ میری رائے میں گورنرکی صوابدید یہ ہے کہ فیصلہ کرے اسمبلی تحلیل ہوگی یا نہیں۔
دورانِ سماعت جسٹس منیب اختر بولے کہ گورنر کی یہ صوابدید نہیں ہے، گورنر اگر سمری منظور نہ کرے تو اسمبلی ازخود تحلیل ہوجاتی ہے، گورنر سمری واپس بھیجے تو بھی 48 گھنٹے کا وقت جاری رہتا ہے، الیکشن کمیشن کو اسمبلی کی تحلیل سے 90 دن میں انتخابات کرانے ہی ہیں، سارا مقدمہ یہی ہے اور فیصلہ بھی اسی کے مطابق ہوگا، چیف جسٹس الیکشن ایکٹ کو سامنے رکھ کر فیصلہ دیں گے۔
آئین کی تشریح اعلیٰ عدلیہ کی آئینی ذمہ داری ہے مگر پنجاب اسمبلی کے منحرف ارکان کے ووٹ اور ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے کیس میں یہ ایک ساحری معلوم ہوئی تھی کہ ایک ہی مقدمے میں مختصر سے وقفے سے دو مختلف فیصلے دیے گئے، بہرحال آئین نے عدلیہ کو یہ فریضہ سونپا ہے، لہٰذا سرِ تسلیم خم کیا گیا۔ اب بھی عدلیہ نے کہا کہ آئین نے دستک دی ہے، اس کا جواب سینیٹ میں دیا گیا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ آئین نے پہلی دستک 1956ء میں دی، پھر مسلسل ہر غیر جمہوری دور میں وہ عدلیہ کی دہلیز پر کھڑا رہا۔ شنوائی کتنی ہوئی یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ترازو کا پلڑا غیر جمہوری حکومتوں کی جانب ہی جھکا تھا، انہیں ہی حیات بخشی گئی تھی۔ 1956ء میں تشکیل پانے والے پہلے آئین کو پہلے سپہ سالار نے اٹھاکر کوڑے دان میں پھینک دیا، اُس وقت بھی آئین نے دستک دی تھی۔ 1969ء میں آئین پھر دہلیز پر آن کھڑا ہوا۔ پھر1977ء آیا، 1999ء میں بھی دستک دی گئی، مگر غیر جمہوری نظام سے وفاداری کا حلف اٹھایا گیا، کسی غیر جمہوری دور میںآئین کی دستک پر عدل کا دروازہ نہیں کھلا۔ اب پھر عدلیہ کہتی ہے کہ آئین نے دستک دی ہے، اِس بار زمان پارک کی خواہش بھی شامل ہے۔ اس کیس میں اٹارنی جنرل نے استدعا کی ہے کہ صدر کی جانب سے دی گئی تاریخ پر الیکشن ممکن نہیں، الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق 52 دن درکار ہوتے ہیں۔ کسی صورت بھی 25 اپریل سے پہلے انتخابات ممکن نہیں، عدالت آرٹیکل 254 کو بھی مدنظر رکھے۔ ان کا مطلب ہے کہ اور دستک بھی سنی جائے۔ آرٹیکل 254 کہتا ہے کہ اگر کوئی کام کسی وجوہ کی بناء پر اپنے مقررہ وقت پر نہ ہوسکے تو اسے کالعدم تصور نہ کیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’’آرٹیکل 254 کا اطلاق تب ہوگا جب کوئی کام تاخیر سے کیا گیا ہو۔ پہلے کام کرنے کی نیت تو کریں‘‘۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’’جہاں آئین خاموش ہو تو قانون کے مطابق چلا جاتا ہے‘‘۔ یہ دونوں ریمارکس بہت اہم ہیں، اب اس کیس کا اصل فیصلہ انہی ریمارکس کے گرد رہے گا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے 22 فروری کو پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیوں کے انتخابات سے متعلق صورتِ حال پر ازخود نوٹس لیا تھا اور سماعت کے لیے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔ بینچ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل تھے۔ سینئر ترین جج یعنی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق بینچ کا حصہ نہیں تھے۔ پہلی سماعت کے دوران بینچ میں شامل دو ججوں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس اطہر من اللہ نے ازخود نوٹس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ 24 فروری کو ہونے والی سماعت میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام نے دو ججوں پر اعتراضات اٹھائے تھے، جبکہ پی پی پی نے عدالت سے معاملے پر فل کورٹ بنانے کی بھی استدعا کی تھی۔ 10 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے پنجاب اور خیبرپختون خوا میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 90 روز کے اندر الیکشن کا انعقاد ایک آئینی تقاضا ہے، جس پر عمل درآمد نہایت ضروری ہے۔ 16 فروری کو سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس کے دوران سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے تحریری فیصلے میں 90 دن میں انتخابات میں تاخیر پر چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کا کہہ دیا۔ فیصلے میں لکھا گیا تھا کہ ’’90 دنوں میں پنجاب میں انتخابات میں تاخیر کا معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوا رہے ہیں۔ اگر چیف جسٹس پاکستان چاہیں تو انتخابات میں تاخیر پر ازخود نوٹس لے سکتے ہیں، پنجاب اسمبلی 14 جنوری جبکہ خیبر پختون خوا اسمبلی 18 جنوری کو تحلیل ہوئی تھی، آئین کے آرٹیکل 224 کی شق دو کے مطابق اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 روز کے اندر انتخابات کا انعقاد کرانا ہوتا ہے۔‘‘ 20 فروری کو صدرِ پاکستان نے نوٹس لیتے ہوئے صوبائی عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا، لیکن یہ معاملہ تاحال حل نہیں ہوا۔ اس کے دو روز بعد ازخود نوٹس لے لیا گیا۔ اس بینچ کی تشکیل متنازع ہوئی ہے، یہی بات دیگر وجوہات کی بنیاد بنے گی کہ 9 میں سے کم از کم 6فاضل جج صاحبان ایک جانب ہیں اور 3 دوسری جانب۔ مقدمے کی سماعت سے یہ قضیہ حل کرنے کی ضرورت پیش آئی، لہٰذا یہ مرحلہ بھی مکمل کرنا پڑا تاکہ کسی عجیب الخلقت فیصلے سے بچا جا سکے اور آئین سے ماورا فیصلہ نہ دیا جائے۔
اس مقدمے میں اصل نکتہ یہ ہے کہ الیکشن 90 روز میں ہونے ہیں یا نہیں؟ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ وزیراعلیٰ اسمبلی تحلیل کرے تو الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے آئینی اختیار اور ذمہ داری کس کی ہے؟ تیسرا سوال یہ ابھرا ہے کہ کیا اسمبلی وزیراعلیٰ نے اپنی مرضی سے تحلیل کی ہے یا کسی بیرونی دبائو میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے؟
9 رکنی بینچ سے جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ الگ ہوچکے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔ سوال اٹھایا گیا کہ اسمبلی کی تحلیل کا نوٹیفکیشن کون جاری کرتا ہے؟ نوٹیفکیشن کے مطابق 48 گھنٹے گزرنے کے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہوئی، نوٹیفکیشن حکومت نے جاری کیا ہے؟ یہ بھی سوال اٹھایا گیا کہ کیا گورنر کا کردار پارلیمانی جمہوریت میں پوسٹ آفس کا ہی ہے؟ اسمبلی کی تحلیل پر گورنر کا کوئی صوابدیدی اختیار نہیں، گورنر سمری منظور نہ کرے تو اسمبلی ازخود تحلیل ہوجائے گی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ہدایت کی کہ جب تک حکم نامہ ویب سائٹ پر نہ آجائے جاری نہ کیا جائے۔ چیف جسٹس کے اس حکم کا پس منظر یہ ہے کہ بینچ کے ٹوٹنے اور دوبارہ تشکیل پانے تک بہت کچھ ہوا، جسے قلم کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ الیکشن کرانے کے ازخود نوٹس کے مقدمے میں ٹوٹنے والے بینچ کے الگ ہونے والے جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے حکم سے اختلاف کیا، انہوں نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ کو اپنا بھی مؤقف قرار دیتے ہوئے مزید اضافے میں لکھا کہ احترام سے کہنا چاہتا ہوں کہ چیف جسٹس نے جو حکم کمرۂ عدالت میں لکھوایا تھا وہ جب تحریری آرڈر کی شکل میں ان کے پاس دستخط کے لیے آیا تو یہ آرڈرکمرۂ عدالت میں لکھوائے گئے آرڈر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بہرحال عدالت نے تحریک انصاف کا مؤقف لینے کے لیے علی ظفر سے دلائل دینے کے لیے کہا کہ آگاہ کریں عدالت یہ کیس سنے یا نہیں؟ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے پر درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ درخواستیں سن کر معاملے کو نمٹائیں گے۔ صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو ارسال کی، گورنر اسمبلی تحلیل کرنے کے پابند تھے لیکن انہوں نے نہیں کی، گورنر کے انکار پر 48 گھنٹے میں اسمبلی ازخود تحلیل ہوگئی، کوئی آئینی عہدے دار بھی انتخابات میں 90 دن سے زیادہ تاخیر نہیں کرسکتا، پنجاب میں 90 دن کا وقت 14 جنوری سے شروع ہوچکا ہے۔ سوال اٹھایا گیا کہ گورنر کے اسمبلی تحلیل کرنے اور آئینی مدت پر ازخود اسمبلی تحلیل ہوجانے میں فرق ہے؟ انتخابات کی تاریخ کا فیصلہ کرنا کس کا کام ہے؟بیرسٹر علی ظفر نے اس سوال کا جواب عدلیہ پر چھوڑ دیا تاہم کہا کہ انتخابات میں کوئی تاخیر نہیں کرسکتا، انتخابات کی تاریخ پر پنگ پانگ کھیلا جارہا ہے، گورنر یا الیکشن کمیشن کو عدالت انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کا حکم دے سکتی ہے، صدرِ مملکت نے اس معاملے پر دو خطوط لکھے، 8 فروری کو پہلے خط میں الیکشن کمیشن کو تاریخ کا اعلان کرنے کا کہا گیا تھا۔ سوال اٹھایا گیا کہ کیا صدرِ مملکت کے پہلے خط کا الیکشن کمیشن نے جواب دیا؟ علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ میری معلومات میں پہلے خط کا الیکشن کمیشن نے جواب نہیں دیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ صدرِ مملکت کا خط ہائی کورٹ کے حکم کے متضاد ہے، ہائی کورٹ نے گورنر سے مشاورت کے بعد تاریخ دینے کا کہا تھا، صدرِ مملکت نے الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے کا کہا۔ علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابات کی تاریخ وہ نہیں دے سکتے، اصل معاملہ انتخابات کی تاریخ کا ہے جو دینے پر کوئی تیار نہیں۔ بہرحال کیس کی سماعت ملک کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑے گی۔
دراصل ملک میں ایک کھیل ہورہا ہے کہ اپنے لیے سب کچھ اور سیاسی حریفوں کے لیے جیل اور تھانے۔ پاکستان میں حکمرانوں کی یہ کہانی ایوب خان کے ’ایبڈو‘ سے شروع ہوئی، اور61 سال گزر جانے کے باوجود آج تک جاری ہے۔ خوف اور سیاسی افراتفری نے اس وقت ملک کو گھیرا ہوا ہے۔ آج ملک میں موجود سیاسی انتشار کی اصل وجہ ہماری سیاسی اور عسکری اشرافیہ ہے جو آئینی طور پر اقتدار منتخب حکومت کو منتقل کرنے کے بنیادی اصولوں سے انحراف کرتی ہے۔ پُرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی یا کسی بھی منتخب حکومت کے حقِ حکمرانی اور اپوزیشن کا وجود تسلیم نہ کرنا ہی بڑا مسئلہ ہے، یہ مسئلہ سیاسی حکومتوں اور غیر جمہوری ادوار میں رہا۔ اس سیاسی کھیل میں آئین اور اقتدارکو پیادہ بناکر مضحکہ خیز طور پر اپنے مطلب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی عدم اعتماد کے ووٹ کو سبوتاژ اور قومی اسمبلی تحلیل کرکے اسی طرح آئینی دھوکا دہی کی گئی تھی۔ اب پی ڈی ایم حکومت بھی پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیوں کے انتخابات میں تاخیر کی شکل میںآئینی انحراف کی مرتکب ہورہی ہے۔آئین کے آرٹیکل 105(3) اور 224(2) میں درج ہے کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد 90 روز کے اندر ہی انتخابات منعقد کروائے جائیں، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخابات میں تاخیر کی جو وجوہات بتائی جارہی ہیں وہ مضحکہ خیز بھی ہیں اور ناقابل جوازبھی۔ کہا گیا کہ گورنر پنجاب آئینی طور پر انتخابات کی تاریخ دینے کے پابند نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے پنجاب اسمبلی کو تحلیل نہیں کیا۔ پنجاب کی اسمبلی کو آئین کے آرٹیکل 112 کے تحت تحلیل کردیا گیا تھا۔ اگر اس دلیل کو تسلیم کرلیا جائے تو کوئی بھی گورنر محض انتخابات کی تاریخ نہ دے کر یا پھر تاریخ دینے میں تاخیر کرکے آئینی جمہوری عمل کو تعطل کا شکار کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ صدر، الیکشن کمیشن آف پاکستان، گورنروں اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کی طرف سے متضاد آئینی تشریحات کی وجہ سے ملک آئینی بگاڑ کے دہانے پر ہے، اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، لہٰذا اس پر اتنی ہی بات ہوسکتی ہے جس قدر آئین اجازت دیتا ہے۔ انتخابات کے التوا کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ صوبائی اسمبلیوں کے علیحدہ سے انتخابات کروانے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ تو کیا جمہوری آئینی ریاست کے انتخابات کو صرف اس وجہ سے ٹالا جاسکتا ہے کہ وسائل نہیں؟ انتخابات میں تاخیر کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی طرف سے دوسرا جواز یہ دیا جارہا ہے کہ دہشت گردی کی وجہ سے انتخابات کا انعقاد نہیں ہوسکتا۔ لیکن اگر2008 ء اور اس کے بعد2013ء میں انتخابات ہوسکتے ہیں تو اب بھی ہوسکتے ہیں۔ 2013ء میں تو پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو واضح دھمکیاں مل رہی تھیں اور ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم دہشت گردی میں ملوث عناصر کو یہ فیصلہ کرنے دیں گے کہ ہمارے ملک میں انتخابات کس وقت ہونے چاہئیں؟ اب آئینی تشریح کے لیے معاملہ سپریم کورٹ کے روبرو ہے۔ حکومت آئین کے آرٹیکل 254 کو بنیاد بناکر انتخابات میں تاخیر کی حکمتِ عملی اپنا رہی ہے۔
آرٹیکل 254 جائز وجوہات کی بنا پر التوا کا شکار ہونے والے اقدامات کو محض التوا کی وجہ سے آئینی طور پر غیر مؤثر ہونے سے بچاتا ہے۔ سپریم کورٹ کا ہی ایک فیصلہ ہے کہ آرٹیکل 254 سیاسی وجوہات کی خاطر آئینی حدود کی خلاف ورزی کرنے کا لائسنس فراہم نہیں کرتا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے حوالے سے مؤقف اپنایا تھا کہ آرٹیکل 254 فرار کا راستہ نہیں ہے کہ جو متعلقہ آئینی اتھارٹی کو یہ اجازت دے کہ وہ جب چاہیں آئین میں درج مقررہ مدت کو نظرانداز کرسکیں۔ بہرحال حقائق یہی ہیں کہ حکومت جس حکمتِ عملی کے تحت انتخابات میں تاخیر کا جواز پیش کررہی ہے، اس کی آئین کے آرٹیکل 254 میں کوئی گنجائش نظر نہیں آرہی ہے،آئینی انتشار کی اس صورت حال کا حل سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے پاس موجود ہے۔ آئین کی محافظ ہونے کی حیثیت سے عدالت پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیوں کے انتخابات کا مقررہ آئینی مدت میں انعقاد یقینی بنائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان حالات میں انتخابات آئین کی مقرر کردہ مدت میں ہوں گے؟ اور اصل سوال یہ ہے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے؟ فکر اس بات کی بھی کرنی چاہیے کہ انتخابی نتائج تسلیم کیے جائیں گے؟ انتخابات کے بعد بھی ملک میں دھرنے ہوتے رہے تو یہ ملک آئینی بحرانوں کا شکار ہوتا رہے گا۔

