فرسٹ منسٹر نکولا سرجنٹ مستعفی:مغرب میں حکمرانی کا بوجھ اور مسلمان ریاست میں موروثیت کے مہیب سائے

اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر (وزیراعلیٰ) نکولا سرجنٹ نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ اُن کا یہ اعلان اُن کی اپنی پارٹی اسکاٹش نیشنلسٹ پارٹی اور پورے اسکاٹ لینڈ کے لیے حیران کن ہے۔ 52 سالہ نکولا 2014ء سے اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر ہیں اور ان کو طویل ترین عرصے تک اس منصب پر فائز رہنے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ برطانیہ میں آئینی طور پر اسکاٹ لینڈ کو ایک نیم خودمختار حیثیت حاصل ہے کہ جہاں ان کی اپنی قانون ساز اسمبلی بھی موجود ہے جو کہ اپنی قانون سازی میں کسی حد تک آزاد ہے۔ اسی طرح برطانوی پائونڈ کے مساوی اسکاٹش پائونڈ بطور کرنسی، اور مرکزی بینک کے طور پر اسکاٹ لینڈ کے مرکزی بینک کو اس کا انتظام کرنے اور کرنسی نوٹ چھاپنے کا حق بھی حاصل ہے۔ برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ کی شمولیت اور اس کو برطانیہ کا حصہ بنانے کے لیے جو معاہدے کیے گئے اُن کے تحت اسکاٹ لینڈ اور اس کی حکومت کو قانون سازی کا اختیار بھی دیا گیا، اس کے لیے باقاعدہ قانون ساز اسمبلی بھی قائم کی گئی ہے۔ نکولا سرجنٹ کی پارٹی بنیادی طور پر اسکاٹ لینڈ کو برطانیہ سے آزادی دلوانے کے نعرے اور وعدے پر قائم کی گئی ہے۔ نکولا اس پارٹی کا 1999ء سے حصہ ہیں اور 2004ء سے باقاعدہ طور پر پارٹی کی مرکزی قیادت میں ان کا شمار کیا جاتا ہے۔ 15 فروری 2023ء کو ایک پریس کانفرنس میں نکولا سرجنٹ نے باقاعدہ طور پر بطور فرسٹ منسٹر مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ اس پریس کانفرنس میں انہوں نے استعفے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل عرصے سے اس پر غور کررہی تھیں اور کبھی تو وہ رات کو سوچ کر سوتی تھیں کہ اب اعلان کردینا چاہیے، لیکن کام کی نوعیت، مصروفیات اور اہم ترین ذمہ داریوں کی وجہ سے وہ بار بار اپنے ارادے کو مؤخر کرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور سیاست دان آپ کی اپنی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور آپ خود اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو بھی وقت نہیں دے پاتے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں سیاست میں آئی تھی تو میرے بھتیجے بھانجے گودوں میں تھے جو اب 17 سال کے ہوگئے ہیں، لہٰذا مجھے کچھ وقت اُن کے لیے بھی درکار ہے۔ نکولا سرجنٹ اِس وقت بھی اسکاٹ لینڈ کی سب سے مقبول لیڈر ہیں اور بظاہر ان کے مقابلے میں دور دور تک کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ ان کی سیاسی گرفت اور امور ریاست انجام دینے کے معاملے میں ان کے مخالفین بھی ان کو داد دیتے ہیں۔ لیکن اقتدار کے عین وسط میں جبکہ مقبولیت اپنے بام عروج پر ہو کسی بھی سیاست دان کا اس طرح عہدے کو چھوڑ دینا ایک ایسا قدم ہے جس کے لیے بہت ہمت اور وسیع الظرفی درکار ہے۔ ماضیِ قریب میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈرا نے بھی اپنی مقبولیت کے عروج پر ہی بطور وزیراعظم مستعفی ہونے کا اعلان کرکے نیوزی لینڈ کے عوام اور پوری دنیا کو ششدر کردیا تھا۔ جیسنڈرا ابھی جوان ہیں اور ان کا ایک طویل سیاسی کیریئر باقی تھا، لیکن انہوں نے بھی اقتدار سے علیحدگی کی وجہ ذاتی زندگی میں وقت کا میسر نہ ہونا بتائی تھی، اور ان کا کہنا بھی یہی تھا کہ وہ اب اپنے خاندان کو وقت دینا چاہتی ہیں۔ مغرب، جس کی مثالیں ہم اپنی زندگی میں دیتے نہیں تھکتے اور جس کے رنگ میں رنگنے کو مسلم معاشرے ہر حال میں تیار رہتے ہیں، جہاں علم، تہذیب و تمدن، ثقافت، معیشت، اور زبان… تمام تر باتوں میں مغرب ہی معیار قرار پاتا ہے، وہاں کے حکمرانوں کی ذاتی زندگی میں سادگی، حکمرانی برائے عوامی خدمت، موروثی سیاست کا خاتمہ اور اقتدار سے کسی بھی صورت نہ چمٹے رہنے کی مثالیں ہمارے مسلم معاشروں میں کسی بھی طور بطور تقلید پیش نہیں کی جاتیں۔ مغرب اپنی تمام تمام تر متنازع پالیسیوں اور اقدامات کے باوجود اگر آج بھی دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز ہے تو چند بنیادی وجوہات میں سے ایک، حکمرانوں کا حکمرانی کو عیاشی کے بجائے عوامی خدمت سمجھنا اور اس کی انجام دہی کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر حکمران معاشی طور پر بہت زیادہ آسودہ بھی نہیں ہوتے، یا پھر حکمرانی اُن کے لیے اُن کے خاندان کی ضروریات کی راہ میں حائل نظر آتی ہے۔ اس کے بعد عوام کی جانب سے کڑا احتساب، عوام کے سامنے جواب دہی ان کو کسی بھی مالی بدعنوانی سے روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مغرب میں موجودہ جمہوریت اور طرزِ حکمرانی سے بہت سے اختلافات کے باوجود مغرب نے جہاں فلاحی ریاست کا تصور اسلام کے پیغامِ حیات آفریں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بطور خلیفہ تصورِ ریاست سے اخذ کیا ہے وہیں افواج کا انتظام و انصرام، ملکیتِ زمین پر ریاست کے حق اور حکمران کا عوام کے سامنے جواب دہ ہونا، حکمران اور عام آدمی کی زندگی کی یکسانیت، معاشی مساوات جیسے بہت سے اہم عنوانات ہیں کہ جہاں خود مغرب نے یہ باتیں اسلام سے اخذ کرکے اپنی ریاست و آئین کا حصہ بنالی ہیں۔ اگر جدید ریاست اور ان کی حکمرانی کا کوئی تجزیاتی مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بخوبی معلوم ہوتی ہے کہ جدید ریاست دراصل اسلام کے عوامی فلاحی ریاست کے تصور پر استوار کی گئی ہے، جہاں خلیفہ وقت حکمرانی کو اعزاز کے بجائے ایک بوجھ سمجھتا تھا، جہاں حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر خلیفہ سے کوئی خطبہ جمعہ میں بھی سوال کردیتا تھا کہ یہ کُرتا کیسے بنا؟ خدا خوفی کے ساتھ احتساب کا جو طریقہ خلافت کے دور میں رائج ہوا وہی بعد میں جدید ریاستوں نے اپنے قوانین کا حصہ بنادیا۔ لیکن بدقسمتی سے آج مسلم ریاستوں میں بدترین اخلاقی بحران ہے۔ انسان کو انسان کے مرتبے پر جانچنے کے بجائے مادے کو انسان کے جانچنے و پرکھنے کا پیمانہ ان مسلمانوں نے بنایا ہے کہ جن کے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کو کعبے سے زیادہ محترم قرار دیا تھا۔ آج مغربی جمہوریت اگر قائم ہے تو اس کی وجوہات شوریٰ یعنی مشاورت اور مساوات جیسے عظیم ترین اسلامی قوانین ہیں۔ آج مغرب میں مہاجرین کی تیسری نسل جوکہ رنگ و نسل میں بھی ان کے جیسے نہیں، قیادت کے مناصب پر محض اپنی محنت و قابلیت کی بنیاد پر فائز ہوتی ہے۔ پاکستان سمیت پوری دنیائے اسلام میں اخلاقیات کا جو بحران ہے وہ ریاست سے لے کر سیاست اور عدالت تک نظر آرہا ہے۔ مغرب کو بطور مثال بار بار اپنی تقریروں میں پیش کرنے والے حکمران ہوں یا پھر نسل در نسل سیاست و حکمرانی کرنے والے… کوئی بھی آپ کے سامنے مغرب کی قیادت کی یہ مثالیں کبھی پیش نہیں کرے گا۔

اکیسویں صدی میں بھی مسلمان اس بات کے نعرے تو زور شور سے بلند کرتے ہیں کہ مغرب میں اسلام کی جانب ایک زبردست رجوع موجود ہے، لیکن مسلمان خود انفرادی و اجتماعی زندگی میں، ریاست کی سطح پر کوئی بھی قابلِ تقلید مثال پیش کرنے سے تاحال قاصر ہیں کہ جس کی بنیاد پر دنیا کو یہ باور کروایا جاسکے کہ مغرب کے سنہری اصول مساوات، حقوق، قانون، انصاف، عدلِ اجتماعی جن پر مغرب کی تہذیب فخر کرتی ہے یہ سب اسلام کے عطا کردہ ہیں، کہ جہاں فاتح فلسطین، خلیفہ وقت، اُس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی ریاست کا حکمران جب ارضِ فلسطین میں داخل ہوتا ہے تو اس کا غلام اونٹ پر سوار تھا اور وہ خود اونٹ کی مہار تھامے مسلمانوں کی فتح کردہ ریاست میں بغیر کسی لاؤ لشکر کے داخل ہورہا تھا۔ دنیا اس کو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کے نام سے یاد کرتی ہے، اور وہی خلیفہ جب بستر مرگ تک پہنچے تو اپنے ہی بیٹے اور جلیل القدر صحابیِِ رسول حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو خلافت کے لیے اس لیے نا اہل کرنے کا کہہ دیا کہ کہیں اسلام میں موروثیت شامل نہ ہوجائے۔ آج مغرب ان ہی مثالوں کو اپناکر بادشاہت و موروثیت سے جمہوریت اور شورائیت کی جانب گامزن ہے، جبکہ مسلمان بحیثیتِ مجموعی خاندانی موروثیت کو بھی جمہور کا انتقام سمجھ کر زندہ باد کے نعرے بلند کررہے ہیں۔

اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج علم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ترین اخلاق کو بھی اپنانے اور کسی بھی ریاست کی سطح پر اس کے اطلاق کا ہے۔ ورنہ آئندہ آنے والی دنیا میں بھی مسلمانوں کی تعداد کثیر ہونے کے باوجود اسلام کہیں بھی قوتِ محرکہ ثابت نہیں ہوسکے گا۔ یہ کام نہ صرف ریاست، بلکہ ہر فرد کے کرنے کا ہے تاکہ دنیا کے سامنے اسلام کے زریں اصولوں کی بنیاد پر ریاست کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے۔