حکومت نے قومی کفایت شعاری کمیٹی کی جانب سے ججوں، ارکانِ پارلیمنٹ اور بیوروکریٹس کے حوالے سے تجویز کیے گئے کچھ بڑے اقدامات کو نظرانداز کر دیا ہے
وزیراعظم کے جس معاشی پلان کے حوالے سے پچھلے کچھ دنوں سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، وہ منظرعام پر آگیا ہے۔ اس پلان کا ذکر 14فروری کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کیا تھا، جبکہ بعدازاں وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے بعض اشارے سامنے آتے رہے۔ کابینہ اجلاس کے بعد وزیراعظم نے وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اس پلان کے تحت کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی کہ تمام وفاقی وزرا، مشیروں، وزرائے مملکت اور معاونینِ خصوصی نے رضاکارانہ طور پر تنخواہیں اور مراعات نہ لینے اور یوٹیلٹی بلز اپنی جیب سے ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمہ جہت پلان کی تفصیلات سے قطع نظر کابینہ کے تمام ارکان سے لگژری گاڑیاں واپس لی جا رہی ہیں جنہیں نیلام کیا جائے گا، موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں آئندہ دوسال کے دوران کوئی انتظامی یونٹ، ڈویژن، ضلع یا تحصیل قائم نہیں کی جائے گی، سرکاری افسران کے پاس موجود سیکورٹی گاڑیاں واپس لی جا رہی ہیں، سرکاری تقریبات میں ون ڈش ہوگی، غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر پابندی ہوگی، سیکورٹی گاڑیاں واپس کی جائیں گی، وزرا کو ضرورت کے تحت سیکورٹی کے لیے ایک گاڑی دی جائے گی، توشہ خانہ سے 300 ڈالر مالیت تک کا تحفہ خریدنے کی اجازت ہوگی۔ توشہ خانہ ریکارڈ پبلک ہوگا، تمام وزارتوں، ذیلی ماتحت دفاتر، ڈویژن، متعلقہ محکموں کے جاری اخراجات میں 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ بجلی کی بچت کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جن میں سرکاری دفاتر ساڑھے سات بجے کھلنے اور مارکیٹوں کے اوقات پر سختی جیسے فیصلے بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا کہ ان اقدامات کے دوررس اثرات برآمد ہوں گے اور 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
وزیراعظم کے دفتر کی طرف سے جاری کیے گئے مراسلے میں جہاں بیرونِ ملک مشنز کے اخراجات میں کفایت کی تجاویز دو ہفتوں میں مانگی گئی ہیں، وہیں قومی کفایت شعاری کمیٹی کی بیرونِ ملک پاکستانی مشنز پر اخراجات میں 15فیصد کمی کی سفارش کی طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کفایت شعاری کے جن اقدامات کا اعلان کریں گے اُن میں سرکاری اداروں کے بجٹ میں کمی، سرکاری ملازمین، کابینہ اور ارکان پارلیمان کی مراعات و سہولیات (بشمول لگژری گاڑیوں اور سیکورٹی پروٹوکولز) میں کٹوتی شامل ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور عدلیہ سے بھی درخواست کی جائے گی کہ عدلیہ کے مجموعی اخراجات میں کٹوتی کرکے کفایت شعاری میں حصہ ڈالیں۔ غیر جنگی نوعیت کے دفاعی بجٹ کے حوالے سے وزارتِ خزانہ اور وزارتِ دفاع اپنی اپنی سفارشات تیار کررہی ہیں۔ وزارتوں اور ڈویژنوں کی تعداد کم کرنے، مفت بجلی کی سہولت کا نیا فارمولا اختیار کرنے، پنشن اصلاحات سمیت متعدد امور میں کفایتی اقدامات سے حکومتی اخراجات گھٹانے میں مدد ملے گی۔ اسی ضمن میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن کمیشن کی پیش کردہ یہ صائب تجویز زیر غور آئی کہ انتخابی امیدواروں کو لامحدود حلقوں سے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس تعداد کو دو یا زیادہ سے زیادہ تین حلقوں تک محدود کردیا جانا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کے حکام نے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بعض امیدوار بیک وقت پندرہ پندرہ حلقوں سے الیکشن لڑتے ہیں لیکن وہ ایک ہی نشست باقی رکھ سکتے ہیں، اس لیے ان کی چھوڑی ہوئی نشستوں پر دوبارہ الیکشن کرانا ہوتا ہے۔ لہٰذا الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کو تجویز دی ہے کہ کوئی امیدوار دو نشستوں سے زیادہ پر الیکشن نہ لڑے اورزیادہ سے زیادہ تین حلقوں تک الیکشن لڑنے کی اجازت ہو۔ ایک حلقے میں انتخاب کرانے کے انتظامات پر جتنے اخراجات ہوتے ہیں ان کا کم سے کم تخمینہ کمیشن کے مطابق ڈھائی سے تین کروڑ روپے ہے، مختلف محکموں کے سرکاری اہلکاروں کو بہت بڑی تعداد میں اُن کی عمومی ذمے داریوں سے ہٹا کر انتخابی عمل کے لیے فارغ کرنا پڑتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے معمول کے فرائض کے بجائے الیکشن ڈیوٹی انجام دینا ہوتی ہے۔ ان امور کے پیش نظر کمیشن کی اس تجویز کی ضرورت اور اہمیت سے شاید ہی کوئی معقول آدمی انکار کرسکے۔ حکومت نے قومی کفایت شعاری کمیٹی کی جانب سے ججوں، ارکانِ پارلیمنٹ اور بیوروکریٹس کے حوالے سے تجویز کیے گئے کچھ بڑے اقدامات کو نظرانداز کر دیا ہے۔ کمیٹی کی جانب سے تجویز کردہ کئی دیگر اقدامات پر عمل کے حوالے سے گزشتہ ہفتے اعلان کیا گیا تھا۔ قومی کفایت شعاری کمیٹی نے تجویز پیش کی تھی کہ بہر صورت پنشن کو پانچ لاکھ روپے تک محدود کردیا جائے۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کی پنشن کو کم کرنا تھا، تاہم گزشتہ ہفتے جو اعلانات کیے گئے اُن میں ججوں کی پنشن کے متعلق کوئی اعلان شامل نہیں تھا، اس کے بجائے وزیراعظم اور کابینہ ارکان نے یہ معاملہ چیف جسٹس پاکستان پرچھوڑ دیا کہ وہ اپنے ادارے میں کفایت شعاری کے اقدامات خود کریں۔

