عبرانی روایت ’تصور‘
آدمی کے ’تصور‘ کی ابتدائی کہانی مغربی تہذیب میں مقدس کتابوں (توریت، تلمود) کی معلومات سے ماخوذ ہے، اور یونانی ذرائع کی آمیزش سے، کہ جو اس ’تصور‘ کی تفہیم میں مغرب کا دوسرا مؤثر ترین وسیلہ معلومات ہے۔ اس ضمن میں عبرانی روایت ’تصور‘ ماخذ، اصل، اور ارتقا کے اعتبار سے خاص توجہ کی مستحق ہے۔ ’تصور‘ کے ابتدائی بیانیوں کی سوجھ بوجھ کے لیے ہمیں کتابِ پیدائش سے آغاز کرنا ہوگا۔ آدمی کے ’تصور، تخیل، اور تخلیقی قوت‘ کے بارے میں عبرانی صحیفے توریت اور تلمود کیا کہتے ہیں، ہم سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں ہم ناگزیر طور پر تشریحات کا جائزہ لیں گے۔ مفاہیم کی یہ تحقیق قدیم صحیفوں کی تعبیرِنو پر کی جائے گی۔ ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ ان متون کے مصنفین اور مبصرین درحقیقت کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ تاہم یہ متون کی اصل جاننے کا ہی سوال نہیں ہے، نہ ہی یہ معاملہ قدیم متون کے مفاہیم کو جدید تشریحات کے سیاق و سباق تک محدود کرنا ہے۔ ہم یہاں باہمی طور پر دونوں افقوں کا اجماع چاہتے ہیں، قدیم اور جدید ذہنوں کی یکجائی چاہتے ہیں، جہاں سے ہر ایک باہم ربط کے ساتھ پیش رفت کرسکے۔ جو کچھ تاریخی طور پر ہم سے اوجھل رہ گیا ہے، وہ سامنے آسکے گا، اور عصری تشریحات کی روشنی میں تعبیرنو اور نئے تناظر واضح کرسکے گا۔ تاہم یہ تعبیرِنو دو راہوں پر ہوگی۔ اس طرح ہمارا شعور نامانوس سے مانوس اور مانوس سے نامانوس ہوسکے گا۔ یا اسے یوں کہہ لیجیے کہ دیگر معانی (قدیم عبرانی بیانیوں) موزونیت سے ہمارے سامنے نامعلوم تناظر لاسکیں گے۔ اس طرح ہم نامعلوم مفاہیم کی تفہیم کے لیے خود کو موزوں کرسکیں گے۔ امید ہے کہ ہم دونوں معانی میں وسعت اور ہم آہنگی لاسکیں گے۔ اس طرز پر ہم قدیم متون پر جدید معانی کی بنیاد پر صحت مند مکالمے کی راہ ہموار کرسکیں گے۔ اختلاف کا خیرمقدم کرسکیں گے، کچھ سیکھ سکیں گے۔
قصہ آدم(علیہ السلام): مسئلہ خیروشر(YESTER)
آدمی کے ’تخیّل‘ اور تصورٗ کا قصہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود تخلیق کا عملٗ ہے۔ کتابِ پیدائش سے یہ سامنے آتا ہے کہ آدمی کی قوتِ تخیلٗ اور آدم کے گناہِ اول ایک ساتھ وجود میں آئے۔ آدم و حوا کا پہلا گناہ تخلیقی تصورٗ کا وصف نمایاں کردیتا ہے۔ خیر و شر کا علم، جس کے بارے میں دغاباز اژدھا انہیں گمراہ کرتا ہے، کہتا ہے کہ یہ علم انہیں خدا جیساٗ بنادے گا، اور یہیں سے آدمی میں تخیل کی اہلیت سے یہ سمجھا گیا کہ وہ اپنی دنیا آپ خلق کرسکتا ہے، ایک ایسی دنیا جہاں جدوجہد، خواہش، پچھتاوا، اور موت ملیں گے، اور یہ سب جنت سے اتارے جانے اور تاریخ کے دھارے میں شامل کیے جانے کے ساتھ ہی شروع ہوجائے گا۔ پہلی کتابِ مقدس میں قصہ آدم ’زوال تصورٗ بیان کرتا ہے، اور ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ اس ’اخلاقی قصے ‘کا نمایاں ترین پہلوبن کرسامنے آتا ہے۔
عبرانی میں تخیل یا تصور کے لیے yetserکی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس کا ماخذ yzrہے، یہ ’خلیق‘ yetsirah سے مشتق ہے۔ ’خالق‘ yotser اور ’خلق کرنا‘ yatsar کہلاتا ہے۔ جیسا کہ انسائیکلوپیڈیا یہودیا ہمیں بتاتی ہے: yester کا مفہوم صورت گری یا خلق کرنے کے ہے۔ ان اصطلاحوں کا باہم تعامل، کہ جب قصہ آدم بیان کیا جاتا ہے، یوں سامنے آتا ہے کہ کیسے خدا نے عالمِ موجودات خلق کیا اور پہلے آدمی میں گناہ کی اہلیت کا اظہار ہوا۔ جب خدا نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پرخلق کیا اور مماثلت عطا کی، آدمی میں برابری کی جرات پیدا ہوئی، مدمقابل آجانے کی ہمت پیدا ہوئی، اور خلاّقیت میں اُس کی جگہ لینے کا خیال جگہ بناسکا۔
عالمِ وجود کی تخلیق اور پہلے انسان میں خطاکاری کی اہلیت کا بیان یہاں بڑی الوہی شان کا حامل ہے۔ جب خدا نے آدم کو اپنی صورت پرخلق کیا، ’عمل تخلیق‘ میں اُسے تقلید کی اجازت بخشی، یہ خدشہ پیدا ہوا کہ آدم حریف بن کر سامنے نہ آجائے۔ یہ بات پہلی بار اُس وقت محسوس کی گئی جب آدم اورحوا نے ’علم کے شجر‘ کا ممنوعہ پھل کھالیا۔ شیطان اژدھے نے انہیں ان لفظوں سے بہکایا: ’’خدا خوب جانتا ہے کہ جیسے ہی تم دونوں یہ پھل کھاؤگے تم پرحقیقت کھل جائے گی اور خدا کی مانند تم خیر و شر کی حقیقت جان جاؤ گے“۔ (کتاب پیدائش۔ 5:3)
ظاہر یہ ہوا کہ آدمی کی ’تخیلاتی طاقت‘ کو سب سے پہلے کتابِ پیدائش کے متن میں محسوس کیا گیا، دونوں خیر و شر کا اخلاقی شعور اور ماضی اور مستقبل کا تاریخی شعور سامنے آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں آدمی کی تخلیقی اہلیت (گمان اور تکبر) کا ارتقا اور ماضی کے واقعات میں (احساسِ گناہ اور پچھتاوا) واضح ہوئے۔ ’سوچ کے اختیار‘ کا ’گناہ‘ کہ جس نے آدم اور حوا کو جنت سے تاریخ میں اتار دیا، جہاں جنت عدن کی وہ روح باقی نہ رہی۔ قوتِ خیال نے آدمی کو متناقض اصطلاحوں میں سوچنے کا اہل بنادیا تھا، ’خیروشر‘، ’ماضی اور مستقبل‘، اور’آدمی اور خدا‘ کے اصطلاحی مرکبات میں… یوں گناہ اور وقت کے شعور، اور قوتِ خیال نے آدمی کو ’تقسیم‘، ’عدم مطابقت‘، اور ’تضاد‘ کے تجربے سے دوچار کیا۔ جبکہ اس سے قبل آدمی خدا اور جنت سے ہم آہنگی میں جی رہا تھا۔ جب ایک بار اسے جنت سے تاریخ میں دھکیلا گیا، آدمی نہ ختم ہونے والا متنازع موضوع بن کر رہ گیا۔ سوچنے کا اختیار خدا کی اصل تخلیق ’آدم‘ سے اجنبیت ظاہر کررہا ہے، جنت اور آدم کی یکجائی، الوہی ابدیت اور انسانی فنا پذیری سے الگ ہوتی ہوئی نظر آئی۔
مگر ایسا کیوں ہوا؟ ہم پوچھ سکتے ہیں کہ آخر آدمی پہلے، خدا کی صورت پر خلق کیا گیا اور جنت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوتا رہا، اور پھر شیطان کے بہکاوے میں آگیا اور خیر وشر کا علم حاصل کرکے خدائی وصف کا حامل بننا چاہا؟ اور پھر کیوں خدا Yahweh نے مرد اور عورت کو اپنی صورت پر خلق کیا اور سوچ کا اختیار دیا، کہ وہ اس حد تک چلے جائیں کہ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا خیال دل میں لائیں؟ یہ وہ گتھیاں ہیں جنہیں توریت کے مفسرین نے صدیوں سمجھنا اور سلجھانا چاہا ہے، ہم اس کی تفسیر سمجھنے کے لیے rabbinical اور kabbalistic ذرائع سے رجوع کریں گے۔
عہد نامہ قدیم کی شاندار تفسیر میں یہودی مفسر ایرک فرام yester کی اصطلاح کی توضیح یوں کرتا ہے: ’’اسم yester کے مفاہیم ’صورت گری، سانچہ، اور مقصد‘ ہے“۔ ذہن کے حوالے سے وہ اسے ’قوتِ تصور‘ یا ’قوتِ تدبیر‘ میں بیان کرتا ہے۔ یوں اس اصطلاح کا معنی (اچھے بُرے میں) ’’شعوری امتیاز‘‘ کی صلاحیت ہے۔ اچھائی اور برائی میں تمیز کا مسئلہ صرف اُس وقت ابھرتا ہے جب ’قوتِ فکر‘ کام کرتی ہے۔ مزید یہ کہ آدمی اچھائی برائی کی فکروں سے خود کو زیادہ سے زیادہ اچھا اور زیادہ سے زیادہ برا بناسکتا ہے۔ یہ اچھائی برائی کی اہلیت آدمی کا خاص وصف ’قوتِ خیال‘ ظاہر کرتی ہے۔
عبرانی مقدس کتابوں کی تفہیم تخلیقِ آدم کے ’اخلاقی سیاق و سباق‘ میں ہے۔ آدم اور حوا کا حکمِ خدا سے انحراف کہ جس کی ڈرامائی منظرکشی کی گئی، yester یہاں کسی ’چرائے ہوئے تصرف‘ کا ’داغ‘ ہے (یہ خدوخال یونانی دیو مالائیت کے پرومیتھئین قصے میں بھی نمایاں ہیں)۔ کیا یہ ’’داغ‘‘ وہ قیمت ہے جو انسانوں کو مکمل آزادی کے لیے ادا کرنی ہے؟ کیا یہ وہ ناگزیر ’’مصیبت‘‘ ہے جو آدمی کو اپنے تصور اور پسند کی تاریخ تشکیل دینے کی صورت میں بھگتنی ہوگی؟ قوتِ ارادہ سے ملنے والی آزادی ایک ملی جلی ’’بخشش‘‘ ہے۔ یہ آزادی بھی ہے اور عتاب بھی۔ ’’قوتِ فکر‘‘ کے اس ناقابلِ گریز ابہام کا تجزیہ یہودی عالم مارٹن بیوبر نےاپنی کتاب ’خیر و شر‘ میں کیا ہے۔ وہ اس واقعے میں اخلاقی سیاق و سباق پر زور دیتا ہے۔ بیوبر ’خواہشِ نفس‘ کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو آدم اور حوا میں خدائی وصف سے ’متصف‘ ہوجانے پر مبنی تھی:
”شیطان نے انہیں یقین دلایا کہ اگر وہ ممنوعہ پھل کھالیں گے تو خدا جیسے بن جائیں گے، خیر و شر کی حقیقت جان جائیں گے، اور لگتا یوں ہے کہ خدا نے اس بات کی اُس وقت تصدیق کردی کہ جب اُس نے کہا کہ اس طرح یہ خیر و شرجاننے والے بن گئے ہیں۔“
خدا جیسا علم کہ جسے آدم اور حوا نے اس طرز پر اپنے لیے موزوں کیا، ’عالم میں نمایاں متضاد، متحارب، مقابل، اور ضدین موجودات سے آگاہ ہوگئے‘۔ خدا خود تخلیق میں مضمر اس ’ضدین‘ سے خوب واقف ہے۔ یہ علم خدا کی وحدانیت اور ہمہ گیریت میں قطعی طور پر کوئی تغیر یا تقسیم ظاہر نہیں کرتا۔ کیونکہ وہ اس ضدین کا برحق اور اصل خالق ہے۔ مگر آدمی کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں ہے، ایسا علم غیر قانونی اور تقسیم کردینے والا ہے۔ آدم گھرچکا ہے، جیسا کہ اس انجانے مکالمے کی صورت سامنے آتا ہے:
خیر و شر، ’ہاں‘ کی حالت اور ’نہیں‘ کی حالت سے آگاہی زندگی میں داخل ہوگئی، مگر یہ آدمی میں عارضی طور پر بھی کبھی ہم زیست نہیں ہوسکتیں۔۔۔ ضدین سے آگاہی کے ذریعے ایک آدمی اس بات پر شرمندہ ہے کہ وہ ایک ایسا وجود ہے جسے اس ضدین فطرت کے ساتھ ہی جینا ہوگا۔ اس کے موجودہ وجود اور اُس کے مستقبل کے وجود میں بے حساب امکانات آدمی کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں، وہ خود کو خود سے جدا محسوس کرتا ہے۔ جنت کا وہ سائبان ہٹ چکا ہے، خطاکاری نے اُسے تضادات کے سیلاب کی نذر کردیا ہے اور شرم سے پانی پانی کردیا ہے۔ آدم حوا اور خدا کے سامنے برہنہ کیے جانے پر بہت شرمندہ ہے (کتاب پیدائش۔ 3.10) وہ جسم ڈھانپنے کے لیے پتّے تلاش کرتا ہے، اور اس طرح وہ اپنی فطری حالت سے تخلیقی حالت میں منتقل ہوجاتا ہے، پتوں کے لباس کے ذریعے آدمی پہلا ثقافتی اظہار کرتا ہے۔ معصومیت کا یہ نقصان، اور اپنی اُس حالت پر کہ جس پروہ قانع تھا، جو وہ اب بننا چاہتا تھا اُس آزادی کی قیمت کی ادائیگی، اور وجود کے اُن متبادل امکانات کی طرف چلے جانا… تاہم شرم، خلش، مشقت اور موت آدم کے گناہ سے جڑے ہیں، یہ ایک تلخ صورتِ حال ہے۔
آدمی کی قوتِ تخیل نے مستقبل میں لامتناہی امکانات پیدا کردیے تھے۔ وہ اب اصل لمحے کی حدود سے نکل چکا تھا۔ وہ اب اپنے آپ میں نہیں رہا تھا۔ وہ اب وجود کی ہیجان خیزی میں بے مہار دوڑ رہا تھا۔ یہ کچھ ایسا ہی وجود بن کر تاریخ میں داخل ہوا جیسا ہمارے عہد کے وجودیت پرستوں کا انسانی ’’وجود‘‘ ہے، یعنی ’وجود وہ نہیں ہے کہ جو وہ ہے، اورجو کچھ وہ ہے دراصل وہ نہیں ہے‘۔۔۔ ایک ایسا وجود جو داخلی توڑپھوڑ اور خوف کی زد میں ہے۔ YESTER اُس وقت تک برائی ہے جب تک آدمی زادِ راہ اور راہِ راست سے بھٹک نہیں جاتا، کہ جب تک وہ خدا کے رستے کو ترک کرکے اپنے من مانے رستے پر نہیں چلتا۔ عبرانی کی اصطلاح ’توریت‘ کا معنی صراط مستقیم ’’خدا کی راہ‘‘ ہے۔ مختصراً یہ کہ آدمی خود اپنے ’’تصور‘‘ کی زد میں ہے کہ جب وہ بت پرستانہ تخلیقات کرتا ہے، اپنے ہی تصور کے بت کا بندہ بن جاتا ہے۔ حکم الٰہی کی حقیقی ضرورت سے آزادی نے آدمی کو اپنے تصورات میں من مانا بنادیا ہے۔
ہرطرف گردش کرتی تصویریں جن میں آدمی بھٹک رہا ہے، ہر ہر شے اسے اپنی ہی بت تراشی پر اکسا رہی ہے، ورغلا رہی ہے۔ یہ ایک حقیقت تو بن چکی ہے مگر یہ الوہی نہیں ہے۔
آدم کے زمین پر اتارے جانے کے بعد ’سوچنے کی صلاحیت‘ ابھری، منطقی طور پر شر کا داغ کہ جو ’’گناہِ اصل‘‘ تھا، نسلِ آدم میں منتقل ہوتا چلا گیا، اور جیسا کہ کتابِ پیدائش میں لکھا ہے، ’’آدمی میں تخلیقی ارادے کی صلاحیت ابتدا ہی سے عین ’شر‘ ہے‘‘۔ (Gen. 6:5) یہ ایک ایسا متن ہے جو تلمودی روایت کی شرح میں غالب نظر آتا ہے۔ یہ باور کراتا ہے کہ یہ ناقابلِ اصلاح شر ہے، اس کا واحد علاج اسے کچل دینا ہے۔
(جاری ہے)

