قرآن مجید کتابِ ربانی ہے، جو آج 14 صدیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اپنی اصل شکل میں روئے زمین پر موجود ہے اور یہ خدائی معجزہ ہے۔ قرآن کی تدوین عہدِ رسالت میں ہوگئی تھی، نہ کہ آپؐ کی وفات کے بعد۔ سورتوں اور آیتوں کی ترتیب یا تعداد میں صحابہؓ کے درمیان کبھی اختلاف نہیں رہا، قرآن کی قرأت ہمیشہ ایک رہی، صحابہؓ کے درمیان قرأت کا کبھی اختلاف نہیں رہا، آیتوں پر نقطے اور زیر، زبر، پیش وغیرہ شروع سے تھے، حجاج بن یوسف کی طرف اس کی نسبت کرنا صحیح نہیں ہے۔
جناب عنایت اللہ سبحانی حفظہ اللہ نے ’’قرآن کی تدوین: غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘ تحریر کرکے جمع و تدوینِ قرآن کی روایات میں اختلافاتِ رواۃ اور شبہات و اعتراضات کے پیش نظر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ قرآن کی تدوین عہدِ نبوی میں مکمل ہوگئی تھی اور سورتوں اور آیات کی ترتیب و تعداد اور قرأت میں صحابہ کرامؓ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا۔
’’قرآن کی تدوین: غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘ ہر صاحبِ علم کے مطالعے کی کتاب ہے۔ ادارۂ فکرِ اسلامی نے اس کی پاکستان میں اشاعت کرکے ایک علمی ضرورت کو پورا کیا ہے۔ زیر بحث موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک سوغات ثابت ہوگی۔
کتاب کا سرورق، کاغذ، حروف خوانی سب ہی بہترین ہے۔ مسلمان مرد و خواتین کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مزید توفیقات عطا فرمائے، آمین۔

