متنازع ڈیجیٹل مردم شماری اور قومی سیاسی بحران

قومی مسائل میں آج کل ایک مسئلہ نئی مردم شماری کا بھی ہے۔ یہاں جب بھی مردم شماری ہوتی ہے، ہمیشہ مختلف صوبوں خاص طور پر چھوٹے صوبوں میں اس پر تحفظات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اِس بار کراچی میں نئی مردم شماری کے تناظر میں بہت زیادہ اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ جماعت اسلامی اس پر سوالات اٹھارہی ہے تو دوسری طرف ایم کیو ایم کو بھی اعتراضات ہیں۔ کیونکہ خدشہ یہ ہے کہ نئی مردم شماری کے نتائج کے مطابق کراچی سے قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں کم ہوسکتی ہیں۔ اس وقت سندھ کی مجموعی آبادی 5 کروڑ 50 لاکھ جبکہ کراچی کی آبادی ایک کروڑ 79 لاکھ سے زائد شمار ہوگئی ہے۔ کراچی میں اضافہ 12فیصد، حیدرآباد میں 13فیصد، لاڑکانہ میں 29 فیصد اور میرپورخاص میں 17فیصد ہوا ہے۔ مجموعی طور پر ساتویں مردم شمار ی میں اب تک 23 کروڑ، 90لاکھ، 17ہزار، 494 افراد کو شمار کرلیا گیا ہے۔ مردم شماری کی آخری تاریخ میں پانچویں بار توسیع کی گئی ہے۔ اب نئی تاریخ 15مئی مقرر کی گئی ہے۔

اس مردم شماری کے نتائج پر تحفظات سامنے آرہے ہیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی کو خط لکھا جس میں مردم شماری کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ اسی طرح جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی بھی اپنے اعتراضات پیش کرچکی ہیں۔ اس سے قبل2017ء میں بھی اسی طرح کے اعتراضات سامنے آئے تھے،کیونکہ کہا جارہا ہے کہ ایک خاص سازش کے تحت کراچی کی آبادی کو2017ء سے بھی کم ظاہر کیا جارہا ہے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کراچی کے ساتھ بڑا ظلم ہوگا،کیونکہ ایک اندازے کے مطابق ابھی بھی کراچی کی آبادی دو یا ڈھائی کروڑ سے کم نہیں ہے۔ جب بھی مردم شماری ہوتی ہے سندھ کے شہری علاقوں کو خاص طور پر کم ظاہر کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کراچی کے تناظر میں مردم شماری کے نتائج کو کوئی بھی قبول نہیں کررہا،کیونکہ یہ نتائج مضحکہ خیز ہیں۔ مردم شماری کے حقیقی نتائج کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی توازن کا بدل جانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں اپنی مرضی اورمنشا کے مطابق نتائج تبدیل کررہی ہیں۔ اس لیے حالیہ مردم شماری کو بنیاد بناکر جو کچھ کراچی اور حیدرآباد میں ہورہا ہے اس پر غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے، وگرنہ کراچی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا خمیازہ کراچی کے عوام ہی بھگتیں گے، اور ان کی ترقی کے عمل یا وسائل کی تقسیم میں غیر منصفانہ اقدامات سامنے آئیں گے۔

قومی سیاست کا بحران اس وقت مذاکرات اورمفاہمت کے درمیان کھڑا ہے۔ حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان جاری سیاسی جنگ کو دیکھیں تو اس میں مذاکرات کا ایک نیا کھیل شروع ہوا ہے۔ محاذ آرائی، ٹکرائو اور سیاسی شدت پسندی یا سیاسی دشمنی کے ماحول میں حکومت اور حزبِ اختلاف کا مذاکرات کی میز پر بیٹھنا یقینی طور پر ایک بڑا سیاسی معجزہ بھی ہے۔ اگرچہ عمومی طور پر اس طرح کے ماحول میں آخری راستہ مذاکرات اور مفاہمت کا ہی ہوتا ہے۔ فریقین کچھ لو اورکچھ دو کی بنیاد پر معاملات طے کرتے ہیں، یا اُن سے بڑی طاقتیں معاملات طے کروا لیتی ہیں۔ یہ باتیں بھی سیاسی منظرنامے یا پسِ پردہ موجود ہیں کہ حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان مذاکرات کی یہ میز ایسے ہی نہیں سجی بلکہ چند بڑوں کی حمایت کے ساتھ اس کو سجایا گیا ہے۔ اس میں جہاں عدلیہ اہم ہے، وہیں اسٹیبلشمنٹ میں موجود کچھ بڑے بھی چاہتے ہیں کہ اب معاملات کو پوری طرح بند گلی میں لے کر جانے اور ایک بڑے ٹکرائو سے بچنے کے لیے مفاہمت ہی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ اس کھیل میں آصف علی زرداری نے بھی اسٹیبلشمنٹ کی معاونت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران اتحاد اور عمران خان کو بھی یہی پیغام چاروں اطراف سے دیا گیا تھا کہ مذاکرات ہی واحد آپشن ہیں اور اسی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھا جائے۔

مذاکرات کے دو مراحل ہوگئے ہیں، ان میں کوئی بڑا تضاد نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ سبھی سیاسی فریق بشمول عمران خان 14مئی کو پنجاب کے انتخابات کے مقابلے میں پورے ملک میں ایک ہی دن عام انتخابات پر رضامند نظر آتے ہیں۔ بنیادی اختلاف عام انتخابات کی تاریخ پر ہے۔ حکومت اکتوبر سے پہلے انتخابات کی حامی نہیں، جبکہ عمران خان جولائی کے آخر میں انتخابات کے حامی ہیں۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ مئی میں ہی اسمبلیوں کی تحلیل اور نگران حکومتوں کی تشکیل کا مرحلہ مکمل ہو، جبکہ حکومت جولائی میں اسمبلیوں کی تحلیل چاہتی ہے۔ یعنی فرق ایک سے دوماہ کے درمیان کا ہی ہے۔ عمران خان کو داد دینی پڑے گی، جو لوگ یہ باتیں کررہے تھے کہ حکومت اس برس انتخابات کی حامی نہیں اور وہ اگلے برس انتخابات چاہتی ہے کم ازکم عمران خان کی مزاحمت نے معاملات کو اس نہج پر لاکر کھڑا کردیا ہے کہ حکومت اور عمران خان میں اِس برس انتخابات کی تاریخ پر ہی تنازع رہ گیا ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ اگر حکومت اورحزبِ اختلاف کے درمیان انتخابات کی تاریخ پر اتفاق ہوتا ہے تو اس کے ضامن بھی وہی ہوں گے جنہوں نے مذاکرات کی یہ میز سجائی ہے۔ لیکن دونوں طرف یعنی سیاسی اور غیر سیاسی محاذ پر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو مذاکرات کے خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ انتخابات کی تاریخ پر اتفاق نہ ہو۔ سیاسی محاذ پر نوازشریف، مولانا فضل الرحمٰن اور مریم نواز مذاکرات کی کامیابی کے مخالف ہیں۔ جبکہ آصف علی زرداری اور شہبازشریف مذاکرات کی حمایت کررہے ہیں۔ کیونکہ شہبازشریف کو معلوم ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو کھیل یہاں ختم نہیں ہوگا بلکہ یہ فیصلہ دوبارہ سپریم کورٹ میں جائے گا اور ان کو نااہلی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ مذاکرات کی میز سجانے والوں نے یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پھر حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کا ہی مانا جائے گا۔ مذاکرات کی ناکامی کے خواہش مند مذاکرات کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی ایک تازہ جھلک لاہور میں چودھری پرویزالٰہی کے گھر پر اُن کی گرفتاری کے لیے چھاپے سے ملتی ہے۔ جس سفاکانہ انداز میں پولیس گردی کی گئی اس کا مقصد مذاکرات کو ناکام بنانا تھا۔ یہاں تحریک انصاف اورعمران خان کو داد دینی ہوگی کہ انہوں نے دبائو کے باوجود مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کے گھر پولیس گردی کی ذمہ داری نہ تو وفاقی حکومت لے رہی ہے، نہ ہی نگران حکومت اور نہ ہی وزیر داخلہ… تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ کون ہے جو پنجاب کے معاملات کو ریموٹ کنٹرول سے چلا کر خراب کررہا ہے؟ اگر واقعی وفاقی حکومت اس میں ملوث نہیں تو یہ اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کی تحقیق کرے کہ کون اس کھیل کے پیچھے ہے۔ کیونکہ مذاکرات اور مزاحمت کا انداز بیک وقت نہیں چل سکتا۔ جن لوگوں نے مذاکرات کی میز سجائی ہے خود اُن کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ کون لوگ ہیں جو مذاکرات کو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں، اور ان کے خلاف مضبوط حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔ جو لوگ یہ دلیل دے رہے ہیں کہ مذاکرات محض ایک کھیل ہیں اور وفاقی حکومت ہو یا اسٹیبلشمنٹ… وہ کسی صورت میں اِس برس انتخابات کے لیے تیار نہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو یہ کھیل بھی چند دنوں میں ہی بے نقاب ہوگا اور اس کے نتیجے میں ملک میں مزید ٹکرائو کا ماحول پیدا ہوگا۔ کیونکہ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ آسانی سے بیٹھ جائے گی، وہ غلطی پر ہیں۔ کیونکہ عمران خان واضح کرچکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو ان کے پاس واحد سیاسی آپشن لانگ مارچ کا ہوگا۔ یعنی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہی ہوگا اور ماحول میں تلخیاں بھی پیدا ہوں گی۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے تنظیمی اجلاس میں مرکزی قیادت نے پیغام دیا ہے کہ انتخابات عمران خان کی خواہش پر نہیں ہوں گے۔ ان کے بقول پہلے بجٹ پیش ہوگا، پھر بجٹ کی منظوری ہوگی۔ اورعام انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ موجودہ چیف جسٹس گھر جائیں اور ان کی جگہ جسٹس فائز عیسیٰ منصب سنبھالیں گے تو ہم انتخابات کی طرف جائیں گے۔ اسی طرح ان کی یہ کوشش بھی ہے کہ موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کے بعد جب نئے صدر آئیں گے تو انتخابات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ اگر ستمبر میں اس کا ہم خیال صدر بن جاتا ہے تو اس کی مدد سے اول نوازشریف کے خلاف جو سزائیں ہیں ان کو معاف کروایا جاسکتا ہے تاکہ نوازشریف بغیر مشکل کے پاکستان بھی آئیں اور انتخابی عمل کی قیادت بھی کریں۔ کیونکہ مسلم لیگ (ن) کا خیال ہے کہ نوازشریف کی عدم موجودگی میں اس کے لیے کامیاب انتخابی مہم چلانا ممکن نہیں ہوگا۔ خواجہ آصف کے بقول اس وقت ملک میں جو غیر یقینی صورتِ حال ہے ہم اس میں نوازشریف کو واپس بلانے کا رسک نہیں لے سکتے۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ انتخابات سے پہلے نوازشریف کی واپسی میں جو بھی سیاسی اور قانونی رکاوٹیں ہیں ان کو دور کیا جائے۔ اسی طرح نئے چیف جسٹس سے مسلم لیگ (ن) خواہش رکھتی ہے کہ یہ عدلیہ عمران خان کو سیاسی طور پر نااہل کرے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان کو ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت نااہل کرنا ہے تو اس سے لیول پلیئنگ فیلڈ تو نہیں بنے گی بلکہ اس سے خود عدلیہ پر بھی سوال اٹھیں گے اور انتخابی ماحول بھی متنازع بن جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ وہ واقعی دفاعی پوزیشن میں ہے اور عمران خان کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کے حوالے سے کئی مسائل رکھتی ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) میں نوازشریف اورمریم نواز کے شہبازشریف کے ساتھ بہت سے سیاسی امور پر اختلافات ہیں اور دونوں فریق ایک دوسرے پر اپنے اپنے فیصلوں سے بالادستی چاہتے ہیں۔ نوازشریف کو اس کھیل میں مولانا فضل الرحمٰن اور شہبازشریف کو آصف زرداری کی حمایت حاصل ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ انتخابات سے پہلے وہ عوامی مفاد میں کچھ ایسے فیصلے کرے جن سے لوگوں کو معاشی ریلیف مل سکے تاکہ وہ انتخابات کے میدان میں جاسکے۔ اسی لیے بجٹ کو بنیادی اہمیت دی جارہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اِس وقت آئی ایم ایف کا جو دبائو ہے اس کی موجودگی میں بجٹ میں ایسا کیا کچھ کیا جاسکے گا جس سے عام آدمی کو زیادہ ریلیف مل سکے؟ اگر بجٹ میں بہت زیادہ تبدیلیاں کرکے عام آدمی کے لیے کچھ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے اوّل تو آئی ایم ایف ناراض ہوگا اور دوسری طرف جو بھی نئی حکومت آئے گی اُس کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔ حکومت پر اس وقت سب سے زیادہ بوجھ اور دبائو بھی آئی ایم ایف کا ہی ہے، اور وہ اِس وقت حکومت کو کوئی بڑا ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں جس کا اعتراف وزیراعظم اور وزیر خزانہ کررہے ہیں کہ ہم نے تمام شرائط پوری کرلی ہیں مگر آئی ایم ایف کا دبائو کم نہیں ہورہا۔ آئی ایم ایف کے سامنے اس وقت پاکستان کی غیر یقینی کیفیت ہے جو آئی ایم ایف کو قبول نہیں۔ دوسری طرف حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان بات چیت کو مؤثر بنانے کے لیے جماعت اسلامی کے بعد عوامی نیشنل پارٹی بھی سامنے آگئی ہے۔ اے این پی نے بھی اسلام آباد میں تمام جماعتوں پر مشتمل اے پی سی بدھ کو طلب کرلی ہے، اور ان کے بقول بحرانوں سے نکلنے کا راستہ بات چیت اور مل بیٹھنے سے ہی نکلے گا۔ اس اے پی سی میں پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں نے شرکت کا عندیہ دیا ہے۔

اس پورے کھیل میں سب سے اہم کردار اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے بقول ہم سیاسی معاملات سے الگ تھلگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ سیاسی لوگ سیاسی معاملات خود حل کریں۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ فوج کی اس خواہش کے باوجود ہم فوج کو سیاسی معاملات سے الگ تھلگ نہیں رکھ سکتے۔ آج بھی اسٹیبلشمنٹ کی اہمیت ہے، اور جو اس وقت اتحادی جماعتوں پر مشتمل حکومت ہے وہ بھی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے ساتھ ہی تشکیل دی گئی تھی۔ اس لیے اگر مفاہمت کی طرف جانا ہے تو اس میں خود اسٹیبلشمنٹ کا کردار اہم ہے، اور اسی کو یہ دبائو دونوں طرف یعنی حکومت اور عمران خان پر ڈالنا ہوگا کہ وہ مفاہمت ہی کی بنیاد پر آگے بڑھیں، اوریہ دبائو ہی سیاسی قوتوں کو بھی مجبور کرے گا کہ وہ مذاکرات کے نتیجے میں ہی کوئی راستہ نکال سکیں۔ وگرنہ اسٹیبلشمنٹ خاموش رہتی ہے تو سیاسی قوتیں کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکیں گی، اور ایک عمومی تاثر یہ بھی موجود ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ دار بھی اسٹیبلشمنٹ ہوگی، اور کامیابی کا کریڈیٹ بھی اسٹیبلشمنٹ کو ہی جائے گا۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ جو کچھ سیاسی ماحول میں ہورہا ہے یا ہونے جارہا ہے اس میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔