کراچی کی گنتی پوری کرو”فراڈ مردم شماری نامنظور مارچ“

مارچ کے شرکا سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن، اسامہ رضی و دیگر کا خطاب

کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے، یہ ملک کی معاشی اور نظریاتی شہ رگ ہے، یہ اُن لوگوں کا شہر ہے جن کے بزرگوں نے قیامِ پاکستان کے لیے جدوجہد کی، تحریک چلائی، ہجرت کی اور گھر بار چھوڑ کر سب کچھ اس ملک پر قربان کیا۔ بدقسمتی سے برسوں  سے اس شہر کے ساتھ ہر ہر معاملے میں ظلم اور ناانصافی کی گئی۔ یہ شہر پورا ٹیکس دیتا ہے لیکن اس کی گنتی ہمیشہ آدھی ہوتی ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان کے آئین کی رو سے ملک میں ہر10 سال بعد خانہ شماری اور مردم شماری ہونی چاہیے۔ اوّل تو ہمیشہ ایسا ہوتا نہیں ہے، اور مردم و خانہ شماری ہو بھی جائے تو یہ ہمیشہ حکومتی اقدامات اور سیاسی کھیل کی وجہ سے متنازع بن جاتی ہے، اور کراچی میں تو یہ معاملہ ہمیشہ متنازع ہی رہا، اور اس میں کراچی کے ”اپنا“ ہونے کا دعویٰ کرنے والی ایم کیو ایم (جس عنوان سے بھی ہو) اور پیپلز پارٹی دونوں نے کراچی دشمن ہونے کا ہمیشہ ثبوت دیا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں اور اب یہ ہر گلی محلے کے لوگوں کی عمومی رائے ہے کہ کراچی کے مسائل پر اگر کسی نے بات کی ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری میں اہلِ کراچی کے ساتھ دھوکا ہوا ہے، خانہ شماری میں ہزاروں بلاکس اور آدھی آبادی کو ایک منظم عمل کے تحت غائب کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شہر کے لوگوں نے جماعت اسلامی کو بلدیاتی الیکشن میں ووٹ دے کر کامیابی دلائی ہے کیونکہ کراچی کے شہری جماعت اسلامی اور حافظ نعیم الرحمٰن پر اعتماد کرتے ہیں، اور ان کا یہ اعتماد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی بہت پریشان ہیں اور اسی پس منظر میں آج تک کراچی میں نہ بلدیاتی انتخابات کے مراحل پورے ہوسکے ہیں اور نہ جو نتائج سامنے آئے ہیں انہیں تسلیم کیا گیا ہے۔ کیوں کہ یہ سب کچھ شہر کراچی کے ساتھ ایک گریٹ گیم منصوبے کے تحت منظم انداز میں ہورہا ہے، اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس کراچی دشمنی میں کراچی سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے راولپنڈی تک سب ایک صفحے پر ہیں۔ یہی معاملہ بلدیاتی انتخابات کے بعد کراچی کی گنتی کم دکھانے کا موجودہ عمل مردم شماری میں بھی جاری ہے اور اب تک کراچی کی مکمل گنتی کا عمل نہیں ہوسکا ہے۔ جماعت اسلامی اس پر ہر سطح پر متحرک ہے اور اسی لیے امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن کی اسلام آباد میں وفاقی ادارئہ شماریات کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں شرکت اور وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملاقات بھی ہوئی تھی جس کے بعد مردم شماری کی تاریخ میں 15روز کا اضافہ ہوا تھا، یعنی اب یہ 15 مئی تک جاری رہے گی۔

لیکن اس کے باوجود جماعت اسلامی نے اپنا دبائو برقرار رکھا ہوا ہے، اور اس کے تحت مردم شماری میں سنگین بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف اتوار 30 اپریل کو شارع فیصل پر بلاشبہ ایک بڑا شو کیا گیا۔ ”فراڈ مردم شماری نامنظور مارچ“ کے عنوان سے احتجاج میں شہر بھر کے تمام طبقات اور زبانیں بولنے والے، مختلف شعبہ ہائے زندگی اور مکاتبِ فکر سے وابستہ افراد، مرد و خواتین، نوجوان، بچے، بزرگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ منتظمین کی جانب سے شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت کے پیش نظر بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے تھے، تاحدِّ نظر شارع فیصل پر دونوں طرف مارچ کے شرکاء موجود تھے، ایک ٹریک مردوں کے لیے اور دوسرا ٹریک خواتین کے لیے مختص تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ گرمی اور بارش کے موسم میں خواتین کے ساتھ چھوٹے اور ننھے منے بچے بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ خواتین نے جو پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے اُن پر ”کراچی کی گنتی پوری کرو ورنہ چوڑیاں پہن لو“ وغیرہ درج تھا۔ مارچ کے دوران وقفے وقفے سے اسٹیج سے نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی پُرجوش نعرے لگواکر ماحول گرماتے رہے، وہ کہہ رہے تھے ”کراچی کی گنتی پوری کرو، حق دو کراچی کو، اب کے برس ہم اہلِ کراچی اپنا پورا حق لیں گے، تیز ہو تیز ہو جدوجہد تیز ہو، ظلم کے نظام کو ہم نہیں مانتے، ظلمتوں کی شام کو ہم نہیں مانتے، جاگیردار سیاست میں سارا صوبہ آفت میں، جاگیردار حکومت میں سارا صوبہ آفت میں“۔ مارچ کے شرکاء نے شارع فیصل لال کوٹھی پر نماز عصر باجماعت ادا کی اور نماز کی ادائیگی کے بعد حافظ نعیم الرحمٰن و دیگر رہنماؤں کی قیادت میں لال کوٹھی سے پیدل مارچ کرتے ہوئے نرسری بس اسٹاپ پہنچے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی کی اسٹیج آمد پر مارچ کے شرکاء نے پُرجوش نعروں سے استقبال کیا اور انہوں نے ہاتھ اُٹھا کر نعروں کا جواب دیا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے شرکائے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پورا کراچی نکل آیا ہے اور شارع فیصل پر سراپا احتجاج ہے۔ وڈیرو، جاگیردارو سن لو، یہ سارے سر گن لو، سب مظلوم مل کر اب تم سے اپنا حق لیں گے۔ کراچی کے عوام ساڑھے تین کروڑ ہیں اور اہلِ کراچی خود کو ساڑھے تین کروڑ گنوا کر دم لیں گے۔ اگر آبادی پر شب خون مارا اور عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا اور گنتی پوری نہ کی گئی تو ہم شدید مزاحمت کریں گے اور کراچی کا حق اب نہیں مارنے دیں گے۔ کراچی کی گنتی جتنی بڑھے گی سندھ اسمبلی سے وڈیروں، جاگیرداروں کی اجارہ داری اتنی کم ہوگی، سب مل کر ان وڈیروں، جاگیرداروں سے انتقام لیں گے، اندرون سندھ کے عوام وڈیروں، جاگیرداروں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور وڈیروں کی اجارہ داری قائم ہے، اب کراچی کو بھی وڈیروں اور جاگیرداروں کی اوطاق بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نواز لیگ، پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت اور ادارئہ شماریات سن لیں کراچی کی آبادی کو اگر مستقل پتوں کی بنیاد پر فائنل کیا گیا تو اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ کراچی میں رہنے والے ایک ایک فرد کو کراچی کی آبادی میں ہی شمار کیا جائے۔ ہم مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، اے این پی، جے یو آئی سمیت ملک کی تمام جماعتوں سے کہتے ہیں کہ کراچی کی گنتی پوری کروانے کے لیے آواز اُٹھائیں، آصف علی زرداری اور مراد علی شاہ سے بھی ہم کہتے ہیں کہ سندھ کی آبادی کی بات تو کرتے ہیں کراچی کی گنتی پوری کروانے کے لیے کچھ کیوں نہیں بولتے؟ اگر یہ کراچی اور کراچی کے عوام کی خیر خواہی چاہتے ہیں تو کراچی کی گنتی پوری کروائیں۔ کراچی کے مقامی اداروں میں کراچی کے لوگوں کو ملازمتیں نہیں دی جاتیں، جب ہم عوام کے حق کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ان مطالبات کو لسانیت کا رنگ دیتے ہیں۔ ماضی میں کراچی کا مینڈیٹ حاصل کرنے والوں کو اب عوام نے مسترد کردیا ہے لیکن ایک بار پھر یہی لوگ کراچی کی آبادی کی قیمت پر اپنی وزارتوں، گورنر شپ اور ایڈمنسٹریٹر کی خاطر عوام کی پوری گنتی پر سودے بازی کررہے ہیں، مردم شماری میں حق مارکر کراچی کے عوام کا استحصال کیا جاتا ہے، کراچی کی نمائندگی، وسائل اور ملازمتوں پر ڈاکا مارا جاتا ہے اور سندھ میں تو دیہی اور شہری بنیادوں پر بھی کوٹہ سسٹم لاگو ہوتا ہے اور کراچی کے نوجوانوں کے ساتھ مزید زیادتی کی جاتی ہے۔ جب ہماری گنتی پوری ہوگی تو کراچی سے سندھ اسمبلی کی سیٹیں 42 سے بڑھ کر 65ہوجائیں گی، اسی لیے سب مل کر کراچی کی آبادی کم کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ کراچی سے ہی آئی ٹی منسٹر ہے لیکن بدقسمتی سے اُس پارٹی کا ہے جو وڈیروں اور جاگیرداروں کے ہاتھوں عوام کا مینڈیٹ فروخت کرنے والی پارٹی ہے۔ کراچی کے عوام نے ہمیں بلدیاتی انتخابات میں مثالی مینڈیٹ دیا ہے، جماعت اسلامی اپنے ایک ایک ووٹ اور سیٹ کا تحفظ کرے گی، کوئی مانے یا نہ مانے، عزت کے ساتھ قبول کرے یا نہ کرے کراچی کا میئر تو جماعت اسلامی کا ہی ہوگا، اور پھر کراچی تعمیر و ترقی کا سفر وہیں سے شروع کرے گا جہاں نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے چھوڑا تھا۔

مارچ سے نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پر مسلط وڈیروں و جاگیرداروں نے اندرونِ سندھ کے عوام کا بھی استحصال کیا ہے اور کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولیات اور ضروریات سے محروم رکھا ہے، کراچی کے ساڑھے تین کروڑ سے زائد شہریوں کو ان کا جائز اور قانونی حق دینے کے بجائے ان کی آدھی آبادی کو ہی غائب کردیا گیا ہے۔2017ء کی مردم شماری میں بھی ایسا ہی کیا گیا اور آج ڈیجیٹل مردم شماری میں بھی آدھی آبادی پر ڈاکا مارا جارہا ہے تاکہ کراچی کو اس کی حقیقی نمائندگی اور وسائل نہ دینے پڑیں۔ جاگیرداروں، وڈیروں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ملی بھگت سے حق مارا جارہا ہے، جماعت اسلامی کی قیادت میں کراچی کے عوام سراپا احتجاج ہیں اور آج کا یہ مارچ اس بات کا ثبوت ہے کہ اہلِ کراچی نے اس جعلی اور فراڈ مردم شماری کو مسترد کردیا ہے۔

جماعت اسلامی کراچی پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر سیف الدین ایڈووکیٹ نے گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ اور شہر میں بڑھتی ہوئی مسلح ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کے حوالے سے قرار دادیں پیش کیں۔