برطانیہ کا معاشی بحران

شعبہ تعلیم و صحت برطانیہ کے ناکام ترین شعبے بنتے جارہے ہیں

برطانیہ میں ایک جانب نئے بادشاہ کی تاج پوشی کی تقریبات جاری ہیں تو دوسری طرف نرسوں، ڈاکٹروں اور اساتذہ کا احتجاج جاری ہے۔ برطانیہ کا معاشی بحران تاحال تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اور برطانوی حکومت کی جانب سے اس معاشی بحران کے سال 2024ء میں ختم ہونے کے جو دعوے کیے گئے تھے وہ بھی پورے ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ ہڑتالوں اور حکومت کی جانب سے اس پر سردمہری کے باعث نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اب مزدور یونینوں نے بھی اپنے مطالبات کے لیے آخری حربے آزمانے شروع کردیے ہیں۔ اب تک تو صورتِ حال اتنی خراب نہیں تھی، کیونکہ ایک یا دو دن کی ہڑتال کے بعد کاروبارِ زندگی بحال ہوجاتا تھا۔ برطانوی ٹریڈ یونین قانون کے مطابق ہڑتال کرنے والی یونین کو اپنے اراکین سے ہڑتال کے لیے رائے طلب کرنی ہوتی ہے اور اس پر واضح اکثریت کی رائے سے فیصلہ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ایک دو دن کی ہڑتال کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری تھا اور ایک ہی طبقے کی کئی یونینیں موجود تھیں، لہٰذا کبھی بھی پہیہ جام کی سی صورتِ حال پیدا نہیں ہوئی، لیکن بس ڈرائیوروں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی جس کے بعد ان کے مطالبات حکومت نے تسلیم کیے۔ یہ ایک کامیاب ترین ہڑتال تصور کی جارہی ہے، اور اب ہر طبقہ اسی طریقہ کار کو مؤثر سمجھ کر حکومت سے بامعنی مذاکرات کے لیے اسے استعمال کررہا ہے۔ اس سال اسکولوں کے اساتذہ کی تنظیموں نے الگ الگ ہڑتال کی کال دی جس کے باعث اسکول کسی نہ کسی حد تک تدریس میں مصروفِ عمل رہے، لیکن حکومت کے کان پر جوں نہ رینگی تو اب اسکولوں کے اساتذہ کی تمام تنظیموں نے یکجا ہوکر ہڑتال کی کال دی ہے جس کے باعث یوم مئی کے اگلے ہی دن 2 مئی کو تمام سیکنڈری اسکول بند رہیں گے۔ اس سے قبل بھی ہڑتال کے باعث برطانیہ بھر میں 22 ہزار اسکول بند رہے تھے۔ اسکول کے اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہ میں موجودہ مہنگائی کی شرح سے 6 فیصد سے زائد اضافہ کیا جائے، لیکن وزیراعظم سے لے کر وزیر تعلیم تک کوئی ان کی بات پر عمل کرنا تو کجا، سننے تک کو بھی تیار نہیں ہے۔ اسکولوں و کالجوں کی یونین کے سیکرٹری جوف برٹن کا کہنا ہے کہ حکومت کسی اور دنیا میں رہ رہی ہے، لہٰذا تنخواہ میں اضافے کے ضمن میں کی گئی بات چیت مایوس کن رہی۔ دوسری جانب اب رائل کالج آف نرسنگ نے بھی یوم مزدور کے موقع پر دو روزہ ہڑتال کی ہے، اس پر حکومت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس ہڑتال کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔ برطانوی وزیر صحت اسٹیو بارکلے نے اس ضمن میں برطانوی عدالت سے رجوع کیا لیکن عدالت نے ہڑتال کو ناجائز قرار نہیں دیا البتہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال کے لیے کی گئی ووٹنگ کو تاریخ گزر جانے کے باعث غیر مؤثر قرار دے دیا، لیکن اب رائل کالج آف نرسنگ اس پر دوبارہ اپنے اراکین سے رائے لے کر ایک طویل ہڑتال کرے گی۔

اس وقت برطانیہ کے دو اہم ترین شعبے جوکہ پوری دنیا میں برطانیہ کی پہچان تھے اب شدید بحران کا شکار ہیں۔ جہاں ایک جانب دونوں شعبوں میں اہل افراد، اساتذہ، ڈاکٹروں اور نرسوں کی قلت ہے، وہیں ان شعبوں سے منسلک افراد اب شدید معاشی دباؤ کی وجہ سے نہ صرف اپنی تنخواہوں سے غیر مطمئن ہیں بلکہ اب وہ راست اقدام یعنی اپنے پیشے کو چھوڑنے جیسے اقدامات سے بھی گریز نہیں کررہے ہیں۔ اس وقت طالب علموں کے لیے ان دوشعبوں کی جانب رجوع نہیں نظر آرہا ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں ڈاکٹروں اور نرسوں کو پوری دنیا سے بلاکر اس کمی کو پورا کیا جارہا تھا، لیکن اس سلسلے کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات تاحال ناکام ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کم ترین تنخواہ اور زیادہ تعلیمی اخراجات کے باعث طالب علم اس پیشے کو چننے سے گریز کررہے ہیں۔ اس وقت برطانیہ میں میڈیکل کی تعلیم سے فارغ ہونے والے ایک اوسط طالب علم پر 50 تا 90 ہزار برطانوی پائونڈ قرض ہوتا ہے جوکہ اس کو اپنی ملازمت کے ساتھ ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس وقت برطانیہ میں تعلیمی قرض پر سود کی شرح تقریباً 6 فیصد تک جاچکی ہے۔ اس سب کے بعد جب وہ ایک جونیئر ڈاکٹر کے روپ میں ملازمت حاصل کرلیتا ہے تو اس کی تنخواہ بھی انتہائی کم ہوتی ہے اور اس میں سے بھی قرض اور ٹیکس کی ادائیگی کے بعد اس کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ لہٰذا اس صورتِ حال کے باعث اب نوجوان اس میدان کو اپنی ترجیحات کی فہرست سے خارج سمجھتے ہیں۔

یہ صورتِ حال انتہائی پیچیدہ شکل اختیار کرتی جارہی ہے اور اب بہت سے اسپتالوں سے لے کر ٹرسٹ تک سب پر مہاجرین کا قبضہ نظر آتا ہے، اور ان میں سے اکثریت اُن افراد کی ہے جوکہ اپنے ممالک سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرکے یہاں ملازمت کے سلسلے میں ہجرت کرکے آئے ہیں۔ نرسوں سے لے کر پیرا میڈیکل اسٹاف تک بڑی تعداد غیر ملکی تارکین وطن کی ہے۔

اب جبکہ برطانوی فلاحی ریاست کے دو اہم ترین شعبے بدترین بحران کا شکار ہیں تو اسی وقت نئے بادشاہ کی رسم تاج پوشی بروز ہفتہ 6 مئی کو ادا کی جائے گی اور اس خوشی میں 8 مئی کو برطانیہ بھر میں عام تعطیل بھی ہوگی، لیکن اس جشن کے فوری بعد ایک بار پھر جونیئر ڈاکٹر، پیرا میڈیکل اسٹاف اور اساتذہ ہڑتال کی نوید لے کر نمودار ہوں گے۔

برطانیہ کا معاشی بحران اب اس کے ممتاز ترین شعبوں.. جن پر برطانیہ کا دنیا بھر میں سکہ چلتا تھا.. کو لے کر ڈوب رہا ہے۔ یہ معاشی بحران اگر تھم بھی گیا جس کی امید فی الحال کم ہے، تو بھی معیشت کو دوبارہ استوار کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر پوری دنیا میں بہترین نظام کے طور پر متعارف کروائے جانے والے برطانیہ کے شعبہ تعلیم اور صحت اگر تباہ ہوئے تو ان کو دوبارہ از سر نو منظم کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگی، اور اس کا لامحالہ اثر برطانوی ریاست کو ساکھ کے نقصان اور نظام کی ناکامی کی وجہ سے معاشرے میں خلفشار کی صورت میں بھی اٹھانا پڑسکتا ہے۔

نئے بادشاہ چارلس کو ایک جانب ریاستوں کی علیحدگی کی تحاریک کا چیلنج درپیش ہوگا تو دوسری جانب تعلیم و صحت جیسے شعبوں میں بدترین صورت حال کا بھی سامنا ہوگا۔

برطانیہ میں رہنے والوں کے لیے معاشی بحران سنگین ترین شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ ایک جانب مہنگائی کا طوفان ہے تو دوسری جانب اداروں کی بدترین کارکردگی ریاست پر اعتماد کو مجروح کررہی ہے۔ برطانوی ریاست جس کی بنیاد جاگیر داری، عیسائیت اور بادشاہت پر رکھی گئی تھی اس میں سے جاگیرداری کے خاتمے کے بعد اب عیسائیت کا بطور مذہب خاتمہ ہوچکا ہے۔ اب پوری برطانوی ریاست کو متحد رکھنے والی چیز بادشاہت ہی ہے، لیکن عوام کا اداروں پر سے کم ہوتا ہوا اعتماد اگر بحال نہ ہوا تو برطانیہ کی تاریخی ریاست بھی شاید تاریخ کا ہی حصہ بن جائے گی۔