جیکب آباد میں ڈاکوئوں کے ہاتھوں پولیس انسپکٹر اور5 اہلکاروں کا قتل
صوبہ سندھ کے اضلاع جیکب آباد، خیرپور، کندھ کوٹ، کشمور، گھوٹکی، لاڑکانہ، سکھر حکومت کی کسی قسم کی عمل داری (رٹ) نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ ایک طول عرصے سے شدید ترین بدامنی کا شکار ہیں اور فی الواقع کسی بھی شخض کی جان، مال، عزت اور آبرو محفوظ نہیں ہے۔ ان اضلاع میں نہ صرف اغوا برائے تاوان کی بہ کثرت وارداتیں ہورہی ہیں بلکہ خوں ریز قبائلی تصادم بھی عروج پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں سندھی زبان کے ایک معروف کالم نگار نے تنگ اور عاجز آکر اپنے کالم میں یہ بات لکھ دی تھی کہ ’’مذکورہ اضلاع میں حکومت کے نہ ہونے کی شکایت کرنا ایک طرح سے بالکل غیر ضروری ہے۔ اب تو صورتِ حال اس قدر بدترین ہے کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان اضلاع میں تو دراصل حکومت اپنا کوئی وجود ہی نہیں رکھتی، تو ایسے میں اس کی رٹ پر سوال اٹھانے کا کیا مطلب! (مفہوم)‘‘
بہرکیف صورتِ حال بہت زیادہ خراب ہے، اور اب تو اس کی ابتری کا اندازہ اس بات سے بھی اچھی طرح لگایا جاسکتا ہے کہ قبل ازیں تو ڈاکو صرف عام افراد ہی کو اغوا کرلیا کرتے تھے اور پھر مغویوں کی رہائی کے بدلے تاوان مانگا کرتے تھے، لیکن اب ان کی دیدہ دلیری اور بے خوفی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے دھڑلے کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو بھی اغوا کرکے ان کے بدلے میں پولیس کی تحویل میں اپنے ساتھیوں کی آزادی یا اپنے خلاف کارروائیاں نہ کرنے جیسے مطالبات کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، اور بدقسمتی سے محکمہ پولیس سندھ اتنا نااہل، کمزور اور بے کار ہوچکا ہے کہ اس نے یہ مطالبات شنید ہے کہ مبینہ طور پر ماننے بھی شروع کردیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی ضلع جیکب آباد کے دو پولیس اہلکاروں کوڈاکوئوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے اغوا کرلیا اور کچے میں لے جاکر ان پر تشدد کرکے اس کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر بھی وائرل کردی، جس سے پولیس کی بے پناہ سبکی ہوئی۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس کے باوجود ایس ایس پی ضلع جیکب آباد ڈاکٹر سمیر نور چنا اپنے اہلکاروں کے اغوا کی تردید کرتے رہے، حالانکہ ان کی ڈاکوئوں کی تحویل میں ویڈیو کلپ ہر عام و خاص دیکھ رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب پولیس کے محکمے پر کسی کا اعتبار نہیں رہا ہے۔ بعدازاں انہی مغوی پولیس اہلکاروں کو پولیس افسران نے ڈاکوئوں کے ساتھ مبینہ طور پر ڈیل کرکے آزاد کرالیا۔ ڈاکوئوں نے ان پولیس اہلکاروں کو اپنے ہمراہ لے جاتے وقت کی ویڈیو بھی وائرل کی جس میں پولیس اہلکار نورسی بھٹی اور شمس الدین کھوسو کو خالد نواز پولیس چوکی علاقہ جاگیر سے بدنام زمانہ درجنوں ڈاکوئوں کے گروہ مٹھو شاہ گینگ کے ہاتھوں اغوا کرکے، انہیں موٹر سائیکلوں پر بٹھا کر لے جاتے ہوئے اور آخر میں ان پر ڈاکوئوں کے ہاتھوں بہیمانہ تشدد کرنے کے دوران ان پولیس اہلکاروں کو ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافیاں طلب کرتے ہوئے بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس واقعے کو محکمہ پولیس سندھ یا ایس ایس پی جیکب آباد کی طرف سے یکسر جھٹلا دینا پولیس کے محکمے کی ساکھ کو بری طرح سے بے وقار اور مجروح کرگیا ہے۔ ڈاکوئوں نے اسی طرح سے شکارپور سے بھی ایک پولیس اہلکار انعام شاہ اور گھوٹکی سے پولیس اہلکار کو اغوا کیا اور پھر اپنے مطالبات تسلیم کروانے کے بعد انہیں رہا کیا۔ یہ سب کچھ اس موقع پر ہورہا ہے جب ایک طرف آئی جی سندھ غلام نبی میمن بہ نفسِ نفیس کچے کے علاقوں میں ڈاکوئوں کے خلاف پولیس آپریشن کے دوران کچے کے علاقے کے دورے پر نکلے ہوئے تھے۔
ایک طرف اگر ڈاکوئوں کے پاس جدید ترین ہتھیار، راکٹ لانچرز بلکہ ڈرون تک موجود ہیں تو دوسری جانب محکمہ پولیس سندھ کے افسران عدم وسائل کا رونا رونے میں لگے ہوئے ہیں۔ کچے کے علاقوں میں شر، مزاری، لُند، جاگیرانی، جتوئی اور مٹھو شاہ گینگ سمیت درجن بھر ڈاکوئوں کے ٹولے دن رات عام افراد اور محکمہ پولیس کے اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں میں بے خوف و خطر مصروف ہیں اور ہر روز ہی کوئی نہ کوئی ویڈیو سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کرکے پولیس اور حکومت کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمارے خلاف اگر کسی میں ہمت ہے تو کارروائی کرکے دیکھے، ہم اسے مزہ چکھا دیں گے۔
ڈاکوئوں کی بے حمیتی کا یہ عالم ہے کہ اب انہوں نے مریضوں یا نعشوں کو منتقل کرنے والی ایمبولینسوں میں ان کے ہمراہ جانے والے غم زدہ اور دل گیر افراد کو بھی لوٹنا شروع کردیا ہے۔ گزشتہ دنوں شکارپور سے اپنے مرحوم بھائی کی ایمبولینس میں نعش لاڑکانہ لے جانے والے شخص کو اُس کی جانب سے یہ بتانے کے باوجود کہ میں اپنے مرحوم نوجوان بھائی کی نعش کے ساتھ لاڑکانہ جارہا ہوں، بے غیرت اور کم ظرف ڈاکوئوں کے ایک ٹولے نے لوٹ لیا۔ ڈاکو شرفِ انسانیت سے اس قدر گر چکے ہیں کہ وہ مغویوں کی بیویوں اور بیٹیوں کو اپنے ہاں کچے کے علاقے میں زبردستی بلواکر ان کی غیر شائستہ ویڈیوز بھی بنواکر انہیں ڈارک ویب پر اَپ لوڈ کرنے لگے ہیں۔ ڈاکوئوں کی اس کمینگی کا اعتراف گزشتہ دنوں سندھ میں بدامنی اور ڈاکوئوں کے ہاتھوں اغوا برائے تاوان کی بہ کثرت وارداتوں کے پیش نظر سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے جناب جسٹس صلاح الدین پنہور اور جناب جسٹس مبین لاکھو کی طرف سے ازخود نوٹس لیے جانے والے کیس کی سماعت کے دوران ان کے سامنے ڈپٹی اٹارنی زاہد مزاری برملا کرچکے ہیں، جس پر حکومت ِسندھ اور محکمہ پولیس کی نااہلی اور نالائقی کی ہر سطح پر شدید ترین مذمت بھی کی جاچکی ہے۔ دوسری جانب حال ہی میں ایس ایس پی کشمور کندھ کوٹ کا منصب سنبھالنے والے ایس ایس پی شبیر سیٹھار نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے چند دن بعد ہی مزید ذمہ داری سرانجام دینے سے معذرت کرلی ہے اور چھٹی پر چلے گئے ہیں، مبینہ طور پر انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ بدامنی، اغوا برائے تاوان اور قبائلی تصادم کے پس پردہ علاقے کے جو مقامی وڈیرے، اراکین صوبائی و قومی اسمبلی ہیں اُن کے خلاف تمام تر ثبوت ہونے کے باوجود ان کے ہاتھ پائوں باندھ دیئے گئے ہیں، انہیں مبینہ طور پر جرائم پیشہ عناصر کے سرپرستوں کے خلاف کارروائی کرنے سے حکومت ِسندھ کے اعلیٰ ترین ذمہ داران اور افسران منع کررہے ہیں، اس لیے وہ ایسی صورتِ حال میں مزید کام نہیں کرسکتے۔ واضح رہے کہ تاحال کندھ کوٹ میں ایک ماہ قبل جرمِ بے گناہی میں قتل کیے جانے والے مقتول پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل ساوند کے قاتل بھی پولیس گرفتار نہیں کرسکی ہے، جنہیں مبینہ طور پر سندرانی قبیلے کے ایم پی اے سردار کی آشیرباد اور سرپرستی حاصل ہے۔
دوسری جانب بدامنی کی شدید ترین فضا میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے پابندی کے باوصف نجی قبائلی جرگوں اور فیصلوں کا سلسلہ جاری تھا جس پر معزز عدلیہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ سندھ سے اپنے کیے گئے فیصلے پر عمل درآمد سختی سے کرانے کے لیے کہا ہے۔
محکمہ پولیس سندھ کو کچے کے ڈاکوئوں کے خلاف تو مؤثر اور دیرپا حقیقی کارروائی کرتے ہوئے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں، البتہ عالمِ جھنجھلاہٹ میں اس نے گرفتارہ شدہ ملزمان کو ہاف فرائی اور فل فرائی کرنے کا سلسلہ تیز تر کردیا ہے۔ ہفتہ رفتہ ہی گھوٹکی پولیس نے دو سگے بھائیوں سمیت 5 ملزمان کو فل فرائی کرکے راہیِ ملک ِعدم کر ڈالا۔ اسی طرح سے جیکب آباد میں شفیق عرف شیفو سرکی کو بھی فل فرائی کیا گیا۔ مقتول ملزمان کے ورثا کے مطابق پولیس نے بے گناہ افراد کو پہلے گرفتار کیا اور پھر انہیں جعلی پولیس مقابلوں میں مار ڈالا گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایس ایس پی کندھ کوٹ کشمور عرفان سموں کو بھی مبینہ طور پر اسی سبب سے یہاں سے ٹرانسفر کیا گیا تھا کہ ان کی جانب سے بڑے جرائم پیشہ عناصر سے کہیں زیادہ عام نوعیت کے ملزمان کو ہاف یا فل فرائی کرنے کا سلسلہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔ اسی اثنا میں دو بیٹری چوروں عامر اور بلال کو تو مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں گرفتاری کے فوراً بعد قتل کردیا گیا، البتہ انہوں نے جس معروف بزنس مین مکیش/رمیش کو بیٹری چوری کے بعد فروخت کرنے اور سابق پولیس آفیسر سکندر پنہور کو اپنا سرپرست قرار دیا تھا ان کے خلاف کسی نوع کی کوئی کارروائی بالکل نہیں کی گئی جس کے خلاف سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر سخت سوالات اور شدید اعتراضات بھی اٹھائے گئے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں سے جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں بھی اور زیادہ تیزی آگئی ہے۔ پولیس اہلکاروں کی شہادتوں اور ان کے زخمی ہونے کے واقعات میں اضافے سے عوام کے اندر احساسِ عدم تحفظ نے بھی بہت زیادہ شدت اختیار کرلی ہے اور اس وقت بھی درجنوں مغوی ڈاکوئوں کے ہاں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ڈاکو کچے کے علاقے میں ہر سال ہزاروں ایکڑ رقبے پر فصلیں بھی کاشت کرتے ہیں، ان کے پاس جدید ترین ہتھیار، ڈرون کیمرے، راکٹ لانچرز، حتیٰ کہ علاج کے لیے جدید ترین ادویہ اور ڈاکٹرز سے روابط بھی ہیں۔ ان کے زیر استعمال فش فارم بھی ہیں۔ اس طرح وہ مالی طور پر خود کو مضبوط کرتے ہیں۔ کچے کے علاقے میں کروڑوں روپے زرِخطیر خرچ کرکے 250 پولیس چوکیاں قائم کرنے کے باوجود نتیجہ صفر ہی برآمد ہوسکا ہے اور پولیس اہلکاروں پر ڈاکوئوں کی جانب سے حملے کرکے انہیں قتل، زخمی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بہت زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریں اثنا ہفتہ رفتہ ہی جاگیر (نواز و جاگیر) جیکب آباد کے علاقے میں ڈاکوئوں کے ہاتھوں بلوچستان پولیس کے انسپکٹر طیب عمرانی، خادم شاہ، نثار احمد، محمد عثمان، ریاض، عبدالوہاب پیچوہو شہید ہوگئے۔ یہ اہلکار ایک مل اونر فرحان سومرو کی ڈاکوئوں سے بازیابی کے لیے آپریشن کرنے بلوچستان سے سندھ ان کا پیچھا کرتے ہوئے آئے تھے اور ڈاکوئوں کے خلاف کارروائی کے دوران شہید ہوئے۔ دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ مغوی فرحان سومرو تو بازیاب ہوگیا ہے لیکن محکمہ پولیس کی ساکھ کو اس واقعے سے سخت دھچکا لگا ہے۔

