(مکاتیب کے خصوصی حوالے کے ساتھ)
مسلم پرسنل لا کا مسئلہ
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ سے متعلق بہت ہی عملی اور حقیقت پسندانہ رائے رکھتے تھے، ڈاکٹر صدیقی کا ماننا تھا کہ مسلم پرسنل لا میں موجود کمزور پہلوئوں کی اصلاح کا کام ملت کو خود بڑھ کر کرلینا چاہیے، اس سلسلے میں متعدد اہم نکات کی طرف’’معاصر اسلامی فکر‘‘ میں بھی اشارے موجود ہیں۔ 1985ء میں شاہ بانو کیس کے بعد جس وقت ملک (بھارت) بھر میں مسلم پرسنل لا کو لے کر تحریک چل رہی تھی، اسی دوران 8 اگست 1985ء کو ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابواللیث اصلاحی کو ایک طویل خط لکھا تھا، جس میں واضح طور پر اپنے مؤقف کو پیش کیا تھا، لکھتے ہیں:
’’اس وقت آئین کی دفعہ 44 اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے سلسلے میں جو احتجاج کیا گیا اس سے اختلاف نہیں، مگر ہر مسئلے میں ہمیشہ صرف احتجاج سے کام نہیں چلے گا۔ طویل المیعاد طور پر مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی مؤثر شکل یہی ہے کہ اس کے جن کمزور پہلوئوں کا ہمیں اعتراف ہے ان کمزوریوں کو دور کرلیا جائے‘‘۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 78)
1972ء میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، اُس وقت ڈاکٹر صدیقی جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن تھے، لیکن اتفاق سے جس مجلسِ شوریٰ میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا اس میں آپ موجود نہیں تھے، غالباً اُس وقت آپ امریکہ کے سفر پر تھے۔ اس موقع پر جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے آپ کا نام مسلم پرسنل لا بورڈ کے تاسیسی ممبر کے طور پر تجویز کیا تھا، تاہم ڈاکٹر صدیقی نے مسلم پرسنل لا بورڈ کی ممبرشپ لینے سے صاف انکار کردیا تھا، انہیں مسلم پرسنل لا کے مسئلے اور اس کے نتیجے میں وجود میں آنے والے مسلم پرسنل لا بورڈ نامی ادارے سے بنیادی نوعیت کا اختلاف تھا۔ ڈاکٹر صدیقی اس قسم کی کسی بھی کوشش کو ملّت کے حق میں ایک منفی اقدام تصور کرتے تھے۔ مسلم پرسنل لا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بہت صاف طور پر ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’میں بورڈ کے حق میں نہ تھا، نہ ہوں اور نہ رہوں گا۔ ہم نے علی گڑھ میں پرسنل لا پر ایک بہت بڑا جلسہ کرایا تھا، اس میں مولانا علی میاں ندوی بھی شریک ہونے والے تھے، لیکن نہیں آسکے، البتہ مولانا منت اللہ رحمانی صاحب جو پرسنل لا کے روحِ رواں تھے، وہ آئے تھے۔ اس جلسے میں ہم نے کہا تھا کہ ہم حکومت کو پرسنل لا میں دخل اندازی سے روک رہے ہیں، یہ ٹھیک ہے، تاہم بورڈ کی جانب سے اس سلسلے میں ایسا قدم اٹھانا چاہیے کہ مسلم پرسنل لا آج کے مسلم معاشرے کے لیے بامعنی بن جائے، لیکن ایک کام نہیں کیا گیا۔ جب جب حکومت کی جانب سے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے، اُس وقت یہ لوگ نیند سے بیدار ہوتے ہیں، اور شور مچانے لگتے ہیں کہ تم کون ہو مسلم پرسنل لا میں مداخلت کر نے والے! ظاہر ہے یہ انداز دنیا میں آگے بڑھنے کا نہیں ہے‘‘۔ (ماہنامہ رفیق منزل، ستمبر2011ء)
مسلم پرسنل لا بورڈ نے اوّل روز سے خود کو احتجاج اور مظاہروں تک محدود رکھا، اور پھر 2014ء میں ہندوستان کے سیاسی حالات تبدیل ہونے کے بعد رہی سہی آواز بھی دب کر رہ گئی، تین طلاق کے خلاف ایک جارحانہ قانون نافذ کیا گیا، کامن سول کوڈ پر پہلے ملک کی مختلف ریاستوں میں اور اب مرکزی سطح پر قانون سازی کی طرف پیش قدمی ہورہی ہے، جبکہ دوسری طرف مسلم پرسنل لا بورڈ اور دوسری مسلم جماعتیں اور ادارے اب اس پوزیشن میں بالکل بھی نہیں رہے کہ کوئی ملک گیر مہم چلاسکیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا میں موجود کمزور پہلوئوں کی اصلاح کا کام کرنے کی ضرورت جتنی پہلے تھی، اتنی ہی یا اس سے کہیں زیادہ، آج ہے۔
مسلم مجلسِ مشاورت کی گولڈن جوبلی
مسلم مجلس مشاورت کی تاسیس 8اگست 1964ء کو ہوئی تھی، اس کے تاسیسی ارکان میں مولانا ابواللیث اصلاحی، مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی، مولانا منظور نعمانی، مفتی عتیق الرحمٰن عثمانی، مولانا محمد مسلم وغیرہ ملک کی نمائندہ شخصیات شامل تھیں، ایک زمانے میں یہ ادارہ ملّتِ اسلامیہ ہند کا ایک نمائندہ ادارہ مانا جاتا تھا، ملک کی تقریباً تمام ہی تنظیمیں اور جماعتیں اس فیڈریشن کا حصہ تھیں، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم مسلم مجلس مشاورت کے ابتدائی ارکان میں سے تھے۔31 اگست 2015ء کو مسلم مجلس مشاورت کا گولڈن جوبلی پروگرام رکھا گیا تھا، جس کا افتتاح نائب صدر جمہوریہ ہند جناب حامد انصاری صاحب نے کیا تھا، اس پروگرام میں ڈاکٹر صدیقی نے ’’حاصلِ زندگی‘‘ کے نام سے ایک پیغام پیش کیا تھا، اس پیغام کے کچھ خاص نکات درج ذیل تھے:
٭ہم سب بڑے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ صورتِ حال کو سنبھالنے کے لیے ماضی کی طرف لوٹنا چاہیے، سوچتے ہیں کاش! ہم اپنا شاندار ماضی پھر سے واپس لاسکتے! مگر میں اس سوچ سے اتفاق نہیں رکھتا۔ وجہ یہ ہے کہ آج ہم جس طرح کے مسائل سے دوچار ہیں وہ اُن مسائل سے بالکل مختلف ہیں جن سے ماضی میں سابقہ پیش آیا تھا۔ نئے انداز سے سوچنا ضروری ہے۔
٭تعجب اس بات پر ہے کہ اِس فضا میں بھی کچھ لوگ ساری دنیا کو اسلام کی طرف بلانے اور دعوتی کام کو اپنا مشن بنانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس کا ردعمل کیا ہوتا ہے کہ آپ جس چیز کو اپنی مخصوص شناخت بنائے ہوئے ہیں اسی کی طرف ساری دنیا کو لانے پر مُصر ہوں۔ مجھے تو یہ طریقہ موجودہ فضا میں اس حکمت کے خلاف معلوم ہوتا ہے جس کو اختیار کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ خاکساری اور تواضع کے ساتھ ہم اُن مشکلات کو دور کرنے میں انسانوں کا ہاتھ بٹائیں جن سے آج ہر کس و ناکس پریشان ہے۔ مسائل تو اَن گنت ہیں مگر میں خاص طور پر تین طرح کے مسائل کا ذکر کروں گا:(1) بدلتی آب وہوااور ماحولیاتی عدم توازن، (2) نظامِ زر، بینکاری اور فنانس، (3)خاندان اور سماجی رشتے۔ زندگی کے ان دائروں میں تباہی اور انحطا ط کی رفتار اتنی تیز ہے، اتنی گہرائی تک جاپہنچی ہے اور ساری دنیا پر اس طرح چھا گئی ہے کہ جو بھی ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے آگے بڑھے اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ میرے خیال میں پرانے انداز کی جگہ خدمتِ انسانیت کے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی روِش اختیار کرنا چاہیے۔ اسلام کی اُن تعلیمات کا چرچا کرنے کی ضرورت ہے جو اختیار کی جائیں تو مشکل حل ہوسکتی ہے۔ اُن قدروں اور رویوں کی بات ہونی چاہیے جو اپنائے جائیں تو ایسے سماجی ادارے جنم لے سکتے ہیں جو انسانوں کو اس مخمصے سے نجات دلا سکیں۔
٭حالات آپ کی پیش قدمی کے منتظر ہیں بشرطیکہ آپ ہمت دکھائیں۔ احتجاج، مطالبے، شکایتیں… سب کا اپنا وقت تھا جو گزر گیا۔ نصف صدی قبل ہمارے بزرگوں نے مسلم مجلسِ مشاورت خیر سگالی کی مہم چلانے کے لیے قائم کی تھی، سارے ملک میں وفود بھیجے تھے۔ پھر وقت آگیا ہے کہ ہم خدمتِ انسانیت اور تعمیرعالم میں شریکِ کار بن کر سامنے آئیں۔
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کی فکر کی ایک امتیازی خصوصیت فکری گہرائی اور فکری وسعت کے ساتھ ساتھ فکر میں موجود کلیئرٹی، وضاحت اور معنویت ہے۔ ڈاکٹر صدیقی زمینی حقائق پر نصوص کی روشنی میں آزادانہ غور و فکر کرتے تھے اور آزادانہ رائے قائم کرتے تھے۔ وہ تحریک اسلامی کے ایک قدآور فکری رہنما تھے، لیکن انہوں نے مولانا مودودی یا ابتدائی تحریکی مفکرین کی کھینچی ہوئی لائن کا خود کو کبھی اسیر نہیں بنایا، اس سلسلے میں ان کے اندر زبردست خوداعتمادی اور جرأت مندی دیکھنے کو ملتی ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کا رخ اور مستقبل
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا احساس تھا کہ جماعت اسلامی پاکستان کا سیاسی محاذ پر غیرضروری جھکاؤ تحریک کے مستقبل اور تحریک کے بنیادی مشن اور بنیادی فکر کو متاثر کردے گا، چنانچہ مولانا مودودی کے نام شکاگو سے لکھے گئے اپنے ایک خط میں ڈاکٹر صدیقی نے جماعت اسلامی پاکستان کی موجودہ صورت حال کا بہت ہی بے لاگ تجزیہ کیا ہے اور کچھ عملی قسم کے مشورے دیے ہیں، یہ خط اکتوبر 1972ء کا ہے، اس کے درج ذیل اقتباسات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں:
’’دوسرا مسئلہ آپ کے ملک میں تحریکِ اسلامی سے متعلق ہے۔ روزمرہ سیاست سے تعلق اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ عام و خاص سب کی نظر میں وہ طویل المیعاد اصولی حیثیت باقی نہیں رہی جو تحریک کا مابہ الامتیاز بھی تھی اور جس سے اونچے نتائج کی توقعات وابستہ کی گئی تھیں۔ جو بنیادی کام صبر کے ساتھ مسلسل کیے چلے جانے چاہیے تھے ان پر بھی اتنی متلاطم سیاست میں الجھنے سے اثر پڑنا لازم ہے۔ گزشتہ دو سال کے واقعات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عوام ابھی بہت بنیادی قسم کی اصلاح وتربیت کے محتاج ہیں۔ عام افرادِ معاشرہ کو تقلیدِ جامداور لیڈروں کے اندھے اتباع سے نکال کر خود سوچنے سمجھنے پر آمادہ کرنے اور جذباتی رسمی اسلام کی جگہ شعوری اسلام سے آراستہ کیے بغیر ہم ان کی طرف سے اس سے مختلف رویّے کی توقع نہیں کرسکتے جو انتخابات اور پھر حالیہ بحران میں سامنے آیا۔ اسلامی صفاتِ حسنہ سے پہلے اور ان کی ضروری بنیادکے طور پر خود انسانی صفات پر زور دینے کی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔ یہ کام تعلیم، حفظانِ صحت، اور معاش سے متعلق دوسرے ضروری کاموں کے ساتھ اگر گاؤں اور محلے کی سطح پر آپ کے کارکنوں کے ذریعے انجام پائے تب شاید وہ ٹھوس عوامی base بن سکتا ہے جو کسی بڑی اور گہری تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکے۔‘‘
آگے جماعت اسلامی پاکستان کی صورت حال اور اس کے تبدیل ہوتے رخ پر اپنا احساس درج کراتے ہوئے دنیا بھر کی اسلامی تحریکات پر ایک مختصر لیکن بہت ہی گہرا اور معنی خیز تبصرہ کرتے ہیں، اور پھر فکری محاذ پر توجہ دینے کا مشورہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مجھے یہاں (شکاگو) پاکستان کی تحریک سے وابستہ دوستوں کی اکثریت پر اب بھی سیاست ہی غالب نظر آئی، اس سے اور زیادہ توجہ اس بات کی طرف ہوئی کہ اپنی اسٹریٹجی میں بنیادی ترمیم کی ضرورت ہے۔ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں پوری اسلامی دنیا میں اب کسی مشاہد کو تحریک اسلامی کے مستقبل کے بارے میں وہ امنگیں نہیں محسوس ہوتیں جو پندرہ برس پہلے تھیں۔ اپنے معاشرے کی کمزوریوں کا نئے سرے سے جائزہ لے کر مرض کی دوبارہ تشخیص اور علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے چند ماہ ہوئے ایک علمی ضرورت کے تحت آپ کی بعض بنیادی تصانیف بالخصوص ’’سیاسی کشمکش‘‘ حصہ سوم، ’’تجدید واحیائے دین‘‘، اور ’’تعلیمات‘‘ وغیرہ کا مطالعہ پھر سے کیا تھا، میرا خیال ہے کہ وہ تجزیہ بڑی حد تک صحیح سمت میں تھا اور اسی سے میں یہ رائے اخذ کرتا ہوں کہ آج پاکستان میں تحریک کو یک گونہ کم سیاسی بناکر زیادہ مفید کام ہوسکتا ہے‘‘۔ (اسلام، معاشیات اور ادب، صفحہ 54)
سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کے نام
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کے مجموعہ خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1987ء کے آس پا س کے زمانے میں جدہ قیام کے دوران آپ کی سید منور حسن صاحب سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سے متعدد ملاقاتیں اور گفتگوئیں رہیں، ایک ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے ڈاکٹر صدیقی منور حسن صاحب کے نام اپنے مکتوب میں اسلامی انقلاب کے لیے سیاسی محاذ پر تبدیلی کی ضرورت سے متعلق ان کے مؤقف پر اپنے کچھ سوالات پیش کرتے ہیں، اس مکتوب سے جہاں منور حسن صاحب اور جماعت اسلامی پاکستان کے سیاسی رجحان اور اپروچ کا اندازہ ہوتا ہے وہیں ڈاکٹر صدیقی کی فکری اپروچ اور ان کے رجحان کا بھی پتا چلتا ہے، لکھتے ہیں:
’’آپ کی بعض باتوں نے سوچنے کی راہیں کھولی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ مراسلت کے ذریعے تبادلہ خیال جاری رہے، جیسا کہ عرض کیا تھا کہ ہماری سوچ یہ رہی ہے کہ اسلامی انقلاب کے لیے دو محاذوں پر گہری تبدیلیوں کی ضرورت ہے، فکری (ملاحظہ ہو تنقیحات کا مضمون نشانِ راہ اور رسالہ تعلیمات) اور اخلاقی (ملاحظہ ہو تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں نیز بناؤ بگاڑ)، آپ کی بات نے مجھے اس طرف متوجہ کیا کہ ایک محاذ سیاسی بھی ہے۔ دو سوال پیدا ہوتے ہیں: سیاسی محاذ سے ہمارا مفہوم کیا ہے، اور یہ کہ اس محاذ کی اہمیت مذکورہ بالا دو محاذوں کی نسبت سے کیا ہے۔ یہ کس درجے پر ہے۔ ان دونوں کے ہم پلہ ہے یا ان کے مقابلے میں ثانوی، دوسرے درجہ کا محاذ؟ ان سوالوں کے جواب دینے کے ساتھ ہمیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ انبیاء کے طریقۂ انقلاب میں سیاست یا سیاسی محاذ پر کام کو کوئی مقام حاصل رہا ہے تو وہ کیا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اس کے نظائر کیا ہیں وغیرہ۔
ہماری آپ کی گفتگو تو کراچی کے فسادات یا پاکستان کے حالیہ واقعات کے محدود سیاق میں ہوئی تھی، لیکن مذکورہ بالا سوال ایک اور وجہ سے اہم ہوگیا ہے۔ اسلامی تحریکوں کی صفوں میں ایرانی انقلاب کے بعد مولانا مودودی کی فکر (بالخصوص طریقۂ انقلاب کی نسبت سے) پر تنقیدیں بھی کی گئی ہیں اور اسے غیرحقیقت پسندانہ، غیرتاریخی اور خیالی قرار دیا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مذکورہ بالا سوال کے جواب میں اس بحث میں بھی مدد ملے گی، اگرچہ اصلاً اس کے اٹھانے والوں کا منشا اسلامی طریقۂ انقلاب میں طاقت کے استعمال کا مقام متعین کرنا ہے۔ عام طور پر سیاسی عمل حصولِ اقتدار کی کوشش (pursuit of power) ہے۔ اس تعریف کو سامنے رکھتے ہوئے اوپر کے سوالات کا جواب ضرور دیں۔ مولانا مودودی نے پاکستان آکر جو طریقے اختیار کیے یا جو ان کی مرضی سے جماعت اسلامی نے اختیار کیے، اسے اسلامی حکمت عملی کا نام دیا گیا، جو یقیناً فکری اور اخلاقی محاذوں پر ایک اضافہ ہے۔ ہماری آپ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ سیاسی محاذ یا سیاسی عمل اور اس حکمت عملی میں اگر فرق ہو تو واضح کریں ، نہ ہو تو دونوں کو ایک قرار دینے کی دلیل دیں۔‘‘(حوالہ سابق، صفحہ: 215۔216)
مسلم تاریخ کا مطالعہ اور اسلامی مؤقف کی تعیین
عموماً اسلامیات اور مسلم تاریخ کا مطالعہ کرنے والے یا اس پر لکھنے والے مصنفین مسلم تاریخ اور اسلامی مؤقف کے درمیان فرق نہیں کرپاتے، چنانچہ تاریخی غلطیوں کی تاویل کا ایک سلسلہ چل پڑتا ہے اور اسے اسلامی مؤقف ثابت کرنے یا کم از کم اسلامی مؤقف سے غیرمتصادم ثابت کرنے پر سارا زور لگا دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی اس سلسلے میں بہت ہی واضح مؤقف رکھتے تھے، وہ اسلامی مؤقف کی تعیین یا اسلام کے فہم کے سلسلے میں تاریخ کو حوالہ بنانے کے بالکل بھی روادار نہ تھے، چنانچہ ابونصر محمد خالدی کے ایک خط کے جواب میں بہت صاف طور پر لکھتے ہیں:
’’آپ کے یہاں ایک خاص بات نظرآتی ہے جس سے اتفاق مشکل ہے، مسلمانوں کی تاریخ کو اسلام کے فہم کا ذریعہ بنانا، بلکہ اس پر قاضی اور حاکم بنانا، کس طرح صحیح ہوسکتا ہے! ملوکی ہو یا جمہوری، آمری ہو یا متغلبانہ، ہر حکومت مرضیِ الٰہی کے مطابق ہرگز نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ وہ حکومت مرضیِ الٰہی کے مطابق ہے جو (1) امرہم شوریٰ بینہم، (2)اذا تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ ورسولہ، (3) ما آتاکم منہ فخذوہ ومانھاکم عنہ فانتھوا، نیزماکان لمومن ولا لمومنۃ اذا قضی اللہ ورسولہ امرا أن یکون لہم الخیرۃ من أمرہم کے مطابق قائم ہو، اور اس کے مطابق حکمرانی کرے۔ خلافت کا انعقاد بھی شورائی ہو اور وہ چلے بھی انہی بنیادوں پر۔ اللہ کی کتاب اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تاریخ پر قاضی ہے۔ اسی کی روشنی میں مسلمانوں کی تاریخ کو evaluate کرنا اور اس میں اسلامی اور غیراسلامی رجحانات واعمال اور اداروں کی نشاندہی کی جانی چاہیے، نہ کہ اس کے برعکس۔ میں اسے تسلیم کرتا ہوں کہ تاریخ کے مطالعے کا ایک بڑا حاصل حقیقت پسندی (realism)کا پیدا ہونا ہے، جو idealism میں اعتدال پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اس سے آگے بڑھنے کو قرآن وسنت سے کوئی ’’سلطان‘‘ نہیں حاصل ہے‘‘۔ (حوالہ سابق، صفحہ: 82)
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ابونصر محمد خالدی کے نام ایک دوسرے مکتوب میں مطالعہ تاریخ سے متعلق اپنا ذاتی مؤقف کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں :
’’تاریخِ اسلام سے میری دلچسپی سراسر حال کے لیے سبق حاصل کرنے اور درپیش مسائل میں رہنمائی حاصل کرنے کی حد تک ہے، علمی اور اکیڈمک دلچسپی بالکل نہیں ہے‘‘۔ (حوالہ سابق، صفحہ: 93)
اجتہاد اور ازسرِ نو غوروفکر کی ضرورت
اسلامی تاریخ کے مطالعے پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر صدیقی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ حالات کے تناظر میں بنیادی اور کلی ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئے دورِ جدید کے پیداکردہ مسائل پر ازسرنو غوروفکر کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ قانون کے میدان میں کام کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے بھی اجتہاد اور مختلف علوم اور مختلف مسائل پر ازسرنو غوروفکر کی طرف توجہ دلاتے ہیں، مکینکل ریسرچ یا محض تشریح، تفسیر اور تہذیب وتنقیح کے کام کے بجائے بامقصد ریسرچ پر زور دیتے ہیں۔ خاص طور پر موجودہ حالات کے تناظر میں ڈاکٹر صدیقی کے اس مؤقف کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے جبکہ ہماری جامعات میںمکینکل ریسرچ کا رواج بڑھتا جارہا ہے، ڈاکٹر صدیقی کا ذیل کا اقتباس پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے:
’’اسلامی تاریخ کا اِن شاء اللہ تفصیلی مطالعہ ہوگا، اور واقعہ یہ ہے کہ جاری ہے۔ معاشی امور اور عام اجتماعی مسائل کے سلسلے میں خاص توجہ رہے گی، لیکن دورِ جدید نے ہمارے لیے جو مسائل پیدا کردیے ہیں ان کے ضمن میں مجھے اس طرف سے بہت زیادہ رہنمائی یا inspiration کی امید نہیں ہے۔ حالات بالکل بدل گئے ہیں۔ بنیادی اور کلی ہدایات کو سامنے رکھ کر ایک دم نئے سرے سے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ مجھے قانون کے میدان میں کام کی اہمیت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ بات وسیع معنی میں کہہ رہا ہوں، جس کے تحت معاشی و سیاسی زندگی کے مروجہ اداروں اور ہیئتوں کی اسلامی تشکیلِ نو کا کام آجاتا ہے۔ جن لوگوں کو ہم متجددین یا اسلام کو حالات کے مطابق ڈھالنے والے کہہ کر رد کردیتے ہیں وہ دراصل ایک حقیقی دباؤ اور ایک واقعی challengeکا جواب ہیں۔ ان کو رد کرکے ہم اس دباؤ اور چیلنج کو نہیں دفن کرسکتے۔ وہ اپنی جگہ پر ہے۔ اس کا ہماری طرف سے صحیح اقدام اور جواب کی شکل میں ردعمل نہ ہوا تو نتائج اسلام کے لیے بہت تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے میں mechanical research ، اپنے مآخذ کی تشریح وتفسیر اور تہذیب وتنقیح سے زیادہ اہم ہر اُس کام کو سمجھتا ہوں جس کا اس اجتہاد سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلق ہو، اس کے ذریعے ہی اس وقت اسلام کا واقعی احیاء ونفاذ ممکن ہے، البتہ یہ کام بھی جاری رہنے چاہئیں‘‘۔ (حوالہ سابق، صفحہ: 83)
انتہاپسندانہ رجحانات اور اسلامی تحریکات
جدید دور کی اسلامی تحریکات کے سامنے ایک بڑا چیلنج انتہاپسندانہ رجحانات کا بھی ہے۔ یہ رجحانات کس طرح فروغ پاتے ہیں، ان کا پس منظر کیا ہے اور ان کی بنیاد کیا ہوتی ہے، اسلامی تحریکات کا عموماً ان کے تعلق سے کیا رویہ ہوتا ہے، اور نئے عالمی نظام میں ان رجحانات کے لیے عملاً کہاں تک گنجائش موجود ہے، ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی نے اس پر بہت ہی مختصر لیکن فکرانگیز گفتگو کی ہے۔
ڈاکٹر احمد اللہ صدیقی امریکہ میں مقیم ایک بڑے اسلامی اسکالر ہیں، اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا کے تاسیسی صدر رہے، لیکن 1981ء میں امریکہ منتقل ہونے کے بعد ان کا اس تنظیم سے کوئی تعلق باقی نہیں رہ گیا۔ آپ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کے بھتیجے ہیں۔ ڈاکٹر صدیقی مرحوم احمداللہ صاحب کے نام اپنے خط مورخہ 12 اپریل 1995ء میں لکھتے ہیں:
’’بہت سی باتیں سوچنے کی ہیں۔ اس وقت دو ایشوز پر loud thinking کرنا چاہتا ہوں۔ اسلامک موومنٹس جو1930ء سے 1940ء میں شروع ہوئیں (اخوان، جماعت اور ان جیسی دوسری تحریکیں جو بالآخر اقتدار اسلامیین کے ہاتھوں میں لانے کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے ضروری سمجھتی تھیں) ایک ایسے حال میں ہیں کہ کسی progress کی امید نہیں رہی۔ اس کی تفصیل بعد میں۔ دوسری بات یہ کہ ان کے بطن سے بعض ایسے گروہ پیدا ہوگئے جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے liability بن چکے ہیں۔ یہ کھل کر ان کو condemnنہیں کرتیں، بلکہ ان کے فالوورز میں ان گروہوں کے لیے کافی ہمدردی پائی جاتی ہے۔ یہ گروہ طاقت کے استعمال کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کے قائل ہیں۔ دوسروں کے لیے ان میں کوئی tolerance نہیں۔ زیادہ تر ہر مسئلے میں شدت والی راہ اختیار کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے صدی کی ابتدا میں اٹھنے والی تحریکیں اس مفروضے پر چلی تھیں کہ اپنے ملک کی غالب اکثریت کو ساتھ لے لیا جائے تو مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔ گلوبلائزیشن نے اس مفروضے کو ختم کردیا، جب تک world opinion کو ساتھ نہ لیا جاسکے کسی جگہ مقصد نہیں حاصل ہوسکتا۔ خاص کر dependent ملکوں میں کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد نہیں بناسکتا، نہ economically نہ culturally۔ اپنے مقاصد کے ایسے interpretationکی ضرورت ہے جو اتصالات اور معلومات میں انقلاب کو اور انسانوں کے بدلے ہوئے حوصلوں کو سمجھ کر کیا گیا ہو۔ possiblities کی طرف سے غافل ہوکر priorities مقرر کرنا لاحاصل ہے‘‘۔ (حوالہ سابق، صفحہ 289)
(جاری ہے)

