قرآن حکیم کی بے حرمتی اور اسلامی دنیا…!

مغربی دنیا وقفوں وقفوں سے امت مسلمہ کی دل آزاری، مسلمانوں کے جذبہ ایمانی اور غیرت اسلامی کی آزمائش کا سامان کرتی رہتی ہے۔ پہلے ایسے کام انتہا پسندانہ سوچ کے حامل عناصر کی جانب سے اپنے طور پر کئے جاتے محسوس ہوتے تھے مگر اب واضح طور پر حکومتی ادارے اور ذمہ دار مناصب پر موجود شخصیات کی طرف سے کھل کر ایسے اقدامات کی سرپرستی کی جا رہی ہے، اس ضمن میں تازہ واقعہ سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہام میں عین عید الاضحی کے روز ہوا، جب مسلمانان عالم سنت ابراہیمی ؑ کی پیروی میں مصروف تھے، اشتعال انگیزی کی انتہا یہ ہے کہ یہ سب کچھ شہر کی مسجد کے سامنے اور عدالت کی اجازت سے کیا گیا، جہاں ایک عراقی پناہ گزیں باشندے سلوان مونیکا نے قرآن مقدس کا نسخہ نذر آتش کرنے کا منصوبہ بنایا مگر پولیس نے موقع پر پہنچ کر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس ملعون کو ایسا کرنے سے روک دیا تاہم سویڈن کی عدالت نے مداخلت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ سیکیورٹی کا کوئی خدشہ نہیں اور یہ آزادیٔ اظہار کا معاملہ ہے جسے سویڈن کے قوانین کے تحت روکا نہیں جا سکتا۔

چنانچہ ملعون عراقی پناہ گزین شخص نے اپنے اس انتہائی اشتعال انگیز اور دل خراش اقدام کو عدالت کی سرپرستی اور پولیس کی حفاظت و نگرانی میں تکمیل کو پہنچایا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ طویل عرصہ سے جاری اشتعال انگیز سرگرمیوں کا تسلسل ہے قبل ازیں سال رواں ہی میں جنوری میں سویڈن اور نیدر لینڈ میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے تکلیف دہ اور مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھنے والے واقعات رونما ہوئے تھے، اس سے قبل فرانس کے جریدے شارلی ایبڈو میں 2013ء میں قرآن عالی شان سے متعلق نازیبا اور توہین آمیز کلمات شائع کئے گئے اور رسول رحمت حضرت محمدﷺ جیسی مقدس ہستی کے خاکے شائع کئے گئے، حد تو یہ ہے کہ فرانس کے صدر میکروں نے خود اپنی نگرانی میں سرکاری عمارتوں پر محسن انسانیتﷺ کے گستاخانہ خاکے آویزاں کروائے۔

اس طرح مغرب کی جانب سے تہذیب و شائستگی کے تمام تر دعووں کے باوجود اسلام، پیغمبراسلام، قرآن مقدس اور دیگر اسلامی شعائر مثلاً حجاب وغیرہ کے خلاف انتہائی متعصبانہ رویہ اس کی منفی ذہنیت کا عکاس ہے جس کا مظاہرہ آئے روز مغربی دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں دیکھنے میں آتا رہتا ہے اس گھنائونے طرز عمل کے خلاف نومبر 2020ء میں اقوام متحدہ نے پاکستان کی پیش کردہ ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی اس قرار داد کی روشنی میں ہر سال پندرہ مارچ کو دنیا بھر میں اسلامو فوبیا کے خلاف دن منانے کا فیصلہ کیا گیا، توقع تھی کہ یہ قرار داد اسلام، مسلمانوں اور ان کی دینی اقدار و شعائر کے خلاف ناروا حملوں کی روک تھام میں کوئی موثر کردار عالمی سطح پر ادا کرے گی مگر عملاً یہ ہوا کہ

مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی

مغرب میں اسلام دشمن رویہ کم ہونے کی بجائے فروغ پاتا ہوا اور سرکاری سرپرستی حاصل کرتا محسوس ہو رہا ہے ، مغربی ممالک کی جانب سے نبی محترمؐ اور قرآن حکیم کی شان میں گستاخانہ لٹریچر کے مصنفین ملعون رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے لوگوں کو پناہ دینا بھی اسی مذموم سلسلے کی کڑی ہے…!

سویڈن کے حالیہ واقعہ کے بعد مسلم دنیا میں احتجاج کی ایک نئی لہر اٹھی ہے۔ بعض ممالک نے سفارتی سطح پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ خود سویڈن کی حکومت نے بھی سرکاری سطح پر اس واقعہ کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے ، یورپی یونین نے اس واقعہ کو جارحانہ ، واضح طور پر بے عزتی اور اشتعال انگیزی پر مبنی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ یورپی یونین کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا، نسل پرستی، نفرت انگیزی اور عدم برداشت کے لیے یورپ میں کوئی جگہ نہیں، کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بھی آزادی اظہار کے نام پر مقدسات کی توہین کو ناقابل قبول اور سویڈن کے واقعہ کو گستاخانہ عمل قرار دے کر ان کی مذمت کی ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کی مجلس عاملہ کا خصوصی اجلاس بھی سویڈن میں عید کے موقع پر ہونے والے اس گھنائونے فعل کے بعد منعقد ہوا ہے جس کے بعد جاری کئے گئے اعلامیہ میں ایسے واقعات کی سنگینی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ انسانوں کے مابین باہمی احترام اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں جب کہ رواداری اور اعتدال پسندی جیسی اقدار کے فروغ اور انتہا پسندی کے خاتمہ کی کوششوں سے متصادم ہیں اعلامیہ میں متعلقہ ممالک کی حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ ان گھنائونے حملوں کی روک تھام سمیت اسلامی اقدار، علامتوں اور مقدسات کی بے حرمتی کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے، ایسے واقعات روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت نسل، جنس، زبان یا مذہب کی تفریق کے بغیر انسانی اور بنیادی حقوق کا احترام اور ان کی پابندی کا فروغ تمام ریاستوں پر فرض ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے یہ یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ ذمہ داری کے ساتھ اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین کے مطابق آزادی اظہار کے حق کا استعمال کیا جائے۔ تنظیم نے عالمی امن اور ہم آہنگی کے لیے مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

اسلامی تعاون تنظیم کے اس اعلامیہ میں بعض اصولی باتوں کے اعادہ کے ساتھ مغربی دنیا ہی سے گزارشات کی گئی ہیں کہ وہ قرآن پاک، اسلامی مقدسات اور دیگر اسلامی شعائر کی بے حرمتی روکنے کے لیے اقدامات کرے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مغربی دنیا کا طرز عمل اس وقت ’’بغل میں چھری، منہ میں رام رام‘‘ کی ہندو ذہنیت سے مختلف نہیں، یہ ممالک زبانی جمع خرچ میں تو ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں مگر ان کا عملی کردار ان کی تائید و حمایت اور سرپرستی کا عکاس ہے، اس لیے اگر اسلامی دنیا واقعی توہین رسالت، قرآن پاک و دیگر مقدسات کی بے حرمتی روکنے میں سنجیدہ ہے تو اپنے دست و بازو پر بھروسا کرنا اور ایسے ٹھوس عملی اقدامات کرنا ہوں گے کہ متعصب اور منفی ذہنیت کے لوگ ایسے کسی اقدام کے اعادہ سے قبل سو بار سوچنے پر مجبور ہوں…!!!(حامد ریاض ڈوگر)