سویڈن: توہینِ قرآن مہم عالمِ اسلام میں شدید ردعمل

اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے

سویڈن میں 6 ماہ کے اندر دوسری بار قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی عالم اسلام ہی نہیں مغربی دنیا میں بھی شدید مذمت کی جارہی ہے، جس کی وجہ واضح طور پر اس نفرت انگیز اور متعصبانہ کارروائی کا مذہبی رواداری، باہمی احترام اور تہذیب و شائستگی کی اعلیٰ انسانی اقدار کے سراسر منافی ہونا ہے۔ اس قبیح فعل کے خلاف وزیراعظم شہبازشریف اور دفتر خارجہ نے بھی ردعمل دیا، جماعت اسلامی اسلام آباد اور جماعت اسلامی راولپنڈی نے احتجاجی مظاہرے کیے۔

یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ مغربی ممالک میں زبانی دعووں کے برخلاف اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی روزمرہ کا معمول بن گئی ہے۔ پاکستان میں سویڈن کے افسوس ناک واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ دینی و سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنمائوں نے اس کی شدید مذمت کی ہے اور سویڈن کے سفیر کو ملک بدر کرنے، سویڈن کی مصنوعات کے بائیکاٹ اور مجرم کو کڑی سزا دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں اس حوالے سے تاجروں نے زبردست مظاہرہ کیا جس میں قرآن حکیم کی بے حرمتی کو ناقابلِ برداشت جرم قرار دیا گیا۔ دوسرے شہروں میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی ممالک او آئی سی کے پلیٹ فارم سے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں پیش کریں اور جس ملک میں توہینِ قرآن یا اسلامو فوبیا کا جرم سرزد ہو اُس کے عالمی بائیکاٹ کی قرارداد منظور کروا کے اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم، میاں اسلم، نصر اللہ رندھاوا، زبیر صفدر اور کاشف چودھری نے مظاہرے کی قیادت کی۔ مظاہرین نے ایف سکس مر کز سے سویڈن کے سفارت خانے تک احتجاجی مارچ بھی کیا۔ مظاہرین نے سویڈن حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی بھی کی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم نے کہا کہ اہلِ مغرب نے ہر دور میں اسلام اور قرآن کے نظام کے سامنے دیواریں کھڑی کی ہیں تاکہ اس نظام کے ذریعے انسانیت کو ملنے والی تسکین اور فلاح کا راستہ روکا جاسکے، مغر ب کے شیطانوں نے اللہ کے دین اور قرآن کو ہر دور میں نشانہ بنایا، قرآن کا راستہ روکا، مسجد کے میناروں پر پابندی لگائی، حجاب کو ختم کرنے کی کوشش کی، اور اب قرآن کو جلانے کی کوشش کررہے ہیں، انھوں نے اپنے انبیاء کو قتل کیا ہے، یہ ظالم لوگ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جس دن ہمارے حکمران بے حسی کے کفن اور بے غیرتی کے کمرے سے باہر نکل کر اپنا کردار ادا کریں گے یہ دنیا اسلام اور قرآن کے نظام سے جگمگا اُٹھے گی، مسلم دنیا کے حکمران ہوں یا او آئی سی… ان کا کام مطالبے یا مذمتی قراردادیں منظور کرنا نہیں۔ امیرالعظیم نے کہا کہ ہمارے مسلم حکمران اس شیطان صفت نظام کے رکھوالے ہیں، یہ ہماری غیرت اور حمیت کا امتحان ہے، یہ واقعہ ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ ہم اسلام دشمنوں کے مقابلے میں مضبوط اور صف بستہ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کے شیطان صفت لوگ اسلام سے رقابت کیوں رکھتے ہیں؟ انھوں نے ہر دور میں اللہ کی دی گئی ہدایت کو گم کیا ہے، انسانیت کی فلاح کے نظام کو مسخ کیا ہے، آنے والا دور اسلام کا ہے، اِن شاء اللہ سویڈن بھی ایک اسلامی ملک بنے گا، تمام مغربی ممالک میں اسلامی تہذیب اور تعلیمات پھیلتی چلی جارہی ہیں۔

احتجاجی مظاہرے سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصر اللہ رندھاوا اور محمد کاشف چودھری نے بھی خطاب کیا۔ میاں محمد اسلم نے کہا کہ سویڈن میں ہونے والا واقعہ دنیا کے امن کو تباہ کرنے اور آگ لگانے کے مترادف ہے، سویڈن یا یورپ میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، آئے روز مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لیے کبھی قرآن کریم کی بے حرمتی، کبھی نبی کریم ﷺکی توہین اور کبھی نقاب کرنے والی خواتین پر حملہ کیا جاتا ہے، افسوس ناک امر یہ ہے کہ اسٹاک ہوم پولیس کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دی گئی۔ نصر اللہ رندھاوا نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ دیگر اسلامی ممالک کی طرح سویڈن حکومت کی آشیرباد سے رونما ہونے والے اس واقعے کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائے تاکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کی جاسکے۔

اس واقعے کے خلاف او آئی سی نے بھی اپنا اجلاس طلب کیا۔ او آئی سی کے علاوہ یورپی یونین نے بھی دنیا کے ڈھائی ارب مسلمانوں اور ہر شائستہ اور مہذب انسان کی دل آزاری پر مبنی اس اشتعال انگیر کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے دلخراش واقعے پر غم و غصے کی شدید لہر نے پورے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور غیر مسلم ممالک میں بھی مسلمان اس گھنائونے فعل کے خلاف جلوسوں اور مظاہروں کی صورت میں سراپا احتجاج ہیں۔ جدہ میں سعودی عرب کی تحریک پر اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ہنگامی اجلاس نے اپنے اعلامیے میں قرآن پاک، اسلامی اقدار، علامتوں اور مقدسات کی بے حرمتی روکنے کے لیے عالمی برادری سے سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور مسلم ممالک پر اجتماعی اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔ بعض مسلم ممالک نے احتجاج کے طور پر سویڈن سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ پاکستان، ترکیہ، شام، لبنان، اردن، فلسطین اور سعودی عرب نے اس گھنائونے فعل کی شدید مذمت کی ہے۔ عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور مراکش میں سویڈن کے سفیروں کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

واقعے کا المناک پہلو یہ ہے کہ مجرم کو اس شرانگیزی کی اجازت ایک عدالت نے دی تھی کیونکہ سویڈش پولیس نے رپورٹ پیش کی تھی کہ ایسے واقعے پر کوئی ردعمل نہیں آئے گا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر دنیا بھر کے ڈھائی ارب سے زائد مسلمانوں کے دل چھلنی ہوگئے ہیں اور وہ احتجاجی جلسے جلوسوں میں اپنی حکومتوں سے مطالبہ کررہے ہیں کہ سویڈن سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کرکے اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا جائے۔ او آئی سی نے مغربی ممالک سے کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی قوانین کے مطابق آزادیِ اظہار کا حق استعمال کریں جو کسی مذہب یا اس کے شعائر کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ اس معاملے کا نہایت قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ یہ مذموم فعل سویڈن کی ایک عدالت کی باقاعدہ اجازت سے انجام دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے تقریباً 200عینی شاہدین کے مطابق اسٹاک ہوم کی مسجد کے باہر دو مظاہرین نے قرآن کے نسخے کو پھاڑ دیا اور مقدس اوراق کی بے حرمتی کرنے کے بعد انہیں نذرِ آتش کیا۔بدھ کے روز مظاہرے سے قبل واقعے میں ملوث شخص سلوان مومیکا نے ایک امریکی نیوز چینل کو بتایا کہ وہ کسی مذہب کو نہیں مانتا، وہ یہ مظاہرہ عدالت میں تین ماہ کی قانونی لڑائی کے بعد کررہا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ قرآن پر پابندی لگائی جائے۔واضح رہے کہ سویڈن کی پولیس نے مسلم مخالف مظاہروں کی اجازت کی کئی درخواستیں خارج کردی تھیں لیکن ایک مقامی عدالت نے پولیس کے ان فیصلوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ وہ آزادیِ اظہار کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔مسجد کے ڈائریکٹر اور امام محمود خلفی کا یہ انکشاف بہت اہم ہے اور اس سے انتظامیہ کی ملی بھگت واضح ہے کہ مسجد انتظامیہ نے پولیس سے درخواست کی کہ وہ کم از کم مظاہرے کو کسی دوسری جگہ منتقل کردیں جو قانون کے مطابق ممکن ہے، لیکن یہ درخواست قبول نہیں کی گئی۔سی این این کے مطابق مظاہرے سے متعلق پولیس کے اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ قرآن نذرِ آتش کرنے کے ممکنہ سیکورٹی خطرات اور نتائج اس نوعیت کے نہیں ہیں کہ موجودہ قانون کے مطابق وہ مظاہرے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کی بنیاد بن سکیں۔ مظاہرے کے اجازت نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کو جلانے کا مطلب ہے دہشت گردانہ حملے کا خطرہ بڑھنا، اور اس سے خارجہ پالیسی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس تفصیل سے واضح ہے کہ دنیا کے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے اس وحشیانہ فعل کے معاملے میںانتظامیہ کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پولیس کے اجازت نامے سے واضح ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی کا خطرہ ہوتا تو اجازت نہ دی جاتی۔ گویا اس طرح دنیا بھر کے مسلمانوں کو پُرتشدد احتجاج پر اکسایا جارہا ہے تاکہ اس کے بعد ان کے خلاف دہشت گرد ہونے کاپروپیگنڈہ کرنے کا موقع میسر آئے جو مغرب میں قبولِ اسلام کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے مغربی پالیسی سازوں کی ضرورت ہے۔فی الحقیقت مغربی ملکوں میں کئی عشروں سے جاری گستاخانہ خاکوں اور دیگر اقدامات کے پیچھے یہی عیارانہ حکمت عملی کارفرما ہے۔ پوری مسلم دنیا میں شدید ردعمل کے بعد بھی اس کا مؤقف اس کے عملی رویّے سے مطابقت نہیں رکھتا، لہٰذا ضروری ہے کہ ایک طرف اوآئی سی کے ممالک مراکش اور اردن کی طرح سویڈن سے اپنے سفیر واپس بلائیں اور اس کی درآمدات پر پابندی لگائیں۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے گھناؤنے فعل کے خلاف اقدامات سے متعلق اجتماعی مؤقف اپنانے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ مذہبی منافرت روکنے کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر قانون کا اطلاق ممکن بنایا جائے۔ اِس سے قبل حکومت ِ پاکستان کی طرف سے بھی سویڈن کی مسجد کے باہر قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی گئی، دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آزادیِ اظہارِ رائے اور احتجاج کے نام پر امتیازی سلوک، نفرت اور جان بوجھ کر تشدد پر اُکسانے کو ہرگز جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، بین الاقوامی برادری اور قومی حکومتیں اسلاموفوبیا یا مسلم مخالف نفرت کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے قابلِ اعتماد اور ٹھوس اقدامات کریں۔