روزمرہ ضروریات سے محروم عوام اور حکمرانوں کی بے حسی
تحصیل عیسیٰ خیل کے عوام آج کے ترقی یافتہ اور جدید دور میں بھی سرتاسر مسائل میں گھرے ہیں، اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اس وقت سب سے بڑا ایشو یہ ہے کہ تحصیل عیسیٰ خیل کے عوام کی کمر بجلی کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسوں کی بھرمار نے توڑ کر رکھ دی ہے۔ لوگ بل ہاتھوں میں لیے پھر رہے ہیں مگر جمع نہیں کرا سکتے کہ مہنگائی کے باعث بڑی مشکل سے گزربسر ہورہی ہے۔ گھریلو صارفین اور زراعت کے لیے ٹیوب ویلوں کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے عام شہری تو پریشان ہے ہی، زراعت کا بھی کچومر نکل گیا ہے۔ کسان مہنگی بجلی، کھاد، بیجوں، زرعی ادویہ اور زرعی آلات و مشینری کی وجہ سے سخت اضطراب اور تشویش میں مبتلا ہے۔ زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ روس، بنگلہ دیش اور قرب و جوار کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی زراعت کے شعبے میں اپنے شہریوں کو بہت زیادہ ریلیف دے رہی ہیں۔ بجلی، کھاد بیج اور زرعی مشینری وہاں آسان قسطوں پر اور انتہائی سستے داموں میسر ہے جس کی وجہ سے زراعت کا شعبہ ترقی کررہا ہے اور کسان خوشحال ہے تو عوام بھی پُرسکون ہیں، مگر پاکستان جیسے ایٹمی ملک میں شعبہ زراعت مسلسل تنزل کا شکار ہے اور کسان پریشان حال ہے۔ غریب عوام نانِ شبینہ کو محتاج ہیں اور سیاسی جماعتیں، اراکین پارلیمنٹ سینیٹ کے سابقہ و موجودہ چیئرمینوں کو بھاری مراعات دلانے کے بل پاس کرا رہے ہیں۔ حالیہ بجٹ میں عام آدمی کو کوئی ریلیف دیا گیا نہ ہی مہنگائی کم کی گئی، بلکہ بجلی اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو مزید پَر لگ گئے ہیں۔ تحصیل عیسیٰ خیل سے نکلنے والی معدنیات کی رائلٹی اور سوشل فنڈ پر تحصیل کے عوام کا حق ہے مگر تمام تر رائلٹی اور سوشل فنڈ علاقے کے وڈیرے ہڑپ کررہے ہیں۔ جناح بیراج سے بننے والی بجلی سستی ملنے کے بجائے ہزار گنا مہنگی مل رہی ہے، حالانکہ یہ قانون موجود ہے کہ جس علاقے سے جو پیداوار نکلے اُس علاقے کے عوام کو وہ سستی ملے گی، اس کی رائلٹی پر بھی اس علاقے کے عوام کا حق ہوگا۔ لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، رائلٹی تو درکنار یہاں کے عوام کو ملازمتیں تک نہیں دی جاتیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ چشمہ عیسیٰ خیل سے ضلع میانوالی کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کا کوٹہ مختص کیا جاتا، مگر ظلم کی انتہا کہ ہمارے کسی سیاسی نمائندے نے کبھی یہ مطالبہ تک نہیں کیا۔ ملازمتیں بھی ضلع سے باہر کے لوگوں کے لیے ہیں اور رائلٹی اور سوشل فنڈ پر بھی وڈیرے قابض ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحصیل عیسیٰ خیل بدحالی کا شکار ہے اور بے روزگاری عام ہوچکی ہے۔
اس طرح کے کئی اور مسائل ہیں جن میں سے کچھ کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ مثلاً مختلف دیہات کی طرف جانے والی سڑکوں کے کنارے اتنے خطرناک بن چکے ہیں کہ آئے روز حادثات کا باعث بن رہے ہیں۔ بارشوں کے باعث کناروں کی مٹی بہہ گئی ہے اور کراسنگ کے دوران موٹر سائیکل سواروں کو شدید خطرات درپیش ہیں۔ ٹھیکیداروں کو چاہیے تھا کہ سڑکوں کے کنارے تقریباً تین چار فٹ تک پختہ کرتے تاکہ بارشوں سے بہہ نہ سکیں۔ اب سڑک تقریباً ایک فٹ اونچی ہے اور کنارے سڑک کی سطح سے ایک ڈیڑھ فٹ نیچے، تو موٹر سائیکل سوار ہیوی ٹریفک کو کس طرح کراس کرے گا جبکہ موٹر سائیکل پر خواتین اور بچے بھی سوار ہوں! لازمی بات ہے حادثہ تو پیش آسکتا ہے۔
اسی طرح سننے میں آرہا ہے کہ تحصیل کے مختلف دیہی علاقوں میں قائم ڈسپنسریوں کو بڑے اسپتالوں میں ضم کیا جارہا ہے جو کہ بہت افسوس ناک ہے۔ عوام کو ان ڈسپنسریوں سے جو تھوڑا بہت فائدہ حاصل ہورہا تھا وہ بھی ان سے چھینا جارہا ہے۔ اب دیہات کے لوگوں کو تحصیل ہیڈکوارٹرز یا رورل ہیلتھ سینٹرز میں جانا پڑے گا اور اس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ پہلے ہی اسپتالوں میں مریضوں کا رش ہوتا ہے اور اس حساب سے سہولیات کا فقدان ہے، ڈسپنسریوں کے خاتمے سے تو اسپتالوں میں قدم رکھنے کی جگہ ہی نہیں ملے گی۔
گزشتہ دنوں نکاح رجسٹرار کا یونین کونسلز میں اجتماع کیا گیا مگر علمائے کرام اور نکاح رجسٹرار کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں موجود تھیں نہ ہی باعزت طریقے سے کوئی جگہ بنائی گئی تھی۔ علمائے کرام اور نکاح رجسٹرار معاشرے میں ایک خاص مقام اور مرتبہ رکھتے ہیں، مگر یونین کونسلز میں میٹنگز کے نام پر ان کی تذلیل کی گئی جس کی ہم پُرزور مذمت کرتے ہیں۔ اگر میٹنگز کرنی ہی ہوتی ہیں تو کم از کم ان کے شایانِ شان بیٹھنے کا انتظام تو کیا جانا چاہیے۔ کئی کئی گھنٹے انتظار کروایا جاتا ہے اور پینے کے لیے پانی اور بیٹھنے کے لیے سایہ دار جگہ اور کرسیاں تک موجود نہیں ہوتیں۔ نکاح رجسٹرار اور علمائے کرام کی عزت و احترام ملحوظ رکھا جائے۔
مختلف پرائمری اسکولوں کو گزشتہ دس سالوں سے اَپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ جن کو گزشتہ سال اَپ گریڈ کیا گیا تھا ان کی توثیق کی گئی نہ ہی ان کی عمارتوں کی توسیع ہوئی۔ دیہات کے کئی پرائمری اسکول اس وقت بھوت بنگلوں کا منظر پیش کررہے ہیں۔
جناح بیراج پارک کو ایک ماڈل پارک کا درجہ ملنا چاہیے اور اس میں بچوں اور خواتین کے لیے زیادہ سے زیادہ تفریحی سہولیات میسر ہونی چاہئیں۔ اس وقت جناح بیراج پارک میں باتھ روم کی سہولت بھی میسر نہیں۔ تحصیل بھر میں کم از کم ایک ماڈل پارک تو ہونا چاہیے جہاں فیملیز مثبت تفریحی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کالاباغ ایک اچھا تفریحی سینٹر بن سکتا ہے مگر ہر حکومت اسے نظرانداز کررہی ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے ٹرانسپورٹ کے من مانے کے کرائے عائد کر رکھے ہیں۔ کرایوں میں ہر روز نیا اضافہ ہوجاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کرایہ نامہ بھی نہیں ہے۔ اس کا متعلقہ حکام اور ڈی سی صاحب نوٹس لیں اور باقاعدہ سرکاری کرائے مقرر کرکے ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

